0

بپ ٹیشیا“ بطور پولی کرسٹ

اس کا مریض ذہنی طور پر جنگلی،بغیر مقصد،ضرورت اِدھر اُدھر گھومنا چاہتا ہے ۔
غور و فکر کی نااہلیت ۔دماغی فتور،خیالات تذبذب کا شکار۔خیالی خیالات کی بھرمار کی وجہ سے شخصیت منقسم۔
مریض سمجھتا ہے کہ اس کا جسم کئی حصوں میں ٹوٹا ہوا ہے یا ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ یا اس کا جسم ٹوٹ گیا ہے ۔ وہ ان بکھرے ہوئے حصوں کو جمع کرنے کے لئے بار بار کروٹیں بدلے(کاجوپٹم) ۔
ہذیانی کیفیت آوارہ گھومے ،بڑبڑائے،بالکل بے پرواہ ۔ بات سنتے سنتے سو جائے ۔مالیخولیا کے ساتھ خماری پائی جائے۔ان کا استعمال ان بیماریوں میں ہوتا ہے جن میں تعفن پایا جاتا ہو۔آنتوں میں تعفن پایا جاتا ہے۔
ٹائیفائیڈ کی بیماری میں ایسے اسہال آتے ہوں جن میں انتہائی خطرناک بد بو ہو تواس سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ایسے اسہال جن میں کھلے اسہال نہیں ہوتے،معمولی یا درمیانے درجے کے،لئی کی طرح کے اسہال ہوتے ہیں لیکن ان میں شدید بدبو ہوتی ہے کی اولین دواہے۔
٭-اگر گلے کی تکلیف میں درد نہ بھی ہو لیکن گلا متعفن ہو تو اس میں”بپ ٹیشیا“بہت موثر دوا ہے۔
٭-خون میں زہر پھیل جائے اور رحم یا جسم کے کسی دوسرے عضو میں زخم متعفن ہوں تو ان میں بھی ”بپ ٹیشیا“بہت اچھی ہے۔
٭-”بپ ٹیشیا“دانتوں کے لئے بھی مفید دوا ہے۔دانت اور مسوڑھے خراب ہوں ،بد بودار پیپ بننے لگے اور مسوڑھے دانت چھوڑ دیں توبھی دوا ہو سکتی ہے۔
٭-”بپ ٹیشیا“ کا مریض غنودگی اور نیم بے ہوشی کی کیفیت میں رہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اعضاءالگ الگ ہو گئے ہیں۔اس کی شخصیت اعضاءمیں بکھر جاتی ہے۔اس کی غنودگی الگ الگ اعضاءپر قبضہ کئے رکھتی ہے۔جب اسے مجبور کر کے اُٹھایا جائے تو پھر وہ غنودگی کے عالم میں ہی اٹھتا ہے اور بکھرے ہوئے اعضاءکو جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بعض دفعہ ان سے مخاطب بھی ہوتا ہے۔ بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ اس کی ایک ٹانگ اس کی دوسری ٹانگ سے باتیں کر رہی ہے ۔ اسے جھنجھوڑ کر کوئی سوال کیا جائے تو سوال کا جواب دیتے دیتے پھر سو جاتا ہے۔”بپ ٹیشیا“ ایسے ذہنی الجھاوطرح کے۔ کا بہترین علاج ہے بشرطیکہ اس کی کچھ دوسری علامتیں بھی پائی جاتی ہوں۔٭-اس کے اسہال مٹیالے یا ہلکے زرد رنگ کے بعض دفعہ سلیٹی رنگ کے لئی کی طرح کے ہوتے ہیں ۔بعض اوقات ماتھے پر پسینہ آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مریض کی تمام طاقتیں جواب دے رہی ہے۔جب یہ صورت حال ہو تو زبان چمڑے کی طرح اکڑ کر خشک ہو جاتی ہے اور دانتوں کے ارد گرد زخم بننے لگتے ہیں اور بد بو آتی ہے۔اگر اس کیفیت میں بروقت ”بپ ٹیشیا“ مل جائے تو مریض اکثر موت کے کناروں سے لوٹ آتے ہیں۔
٭-انتڑیوں میں فالجی کمزوریوں کی وجہ سے اپھارہ بڑھتا ہے۔اس میں پوری طرح فالج ظاہر نہیں بلکہ جو عضو ماوف ہو جاتا ہے اس کے زخموں کے ارد گردفالجی اثر ہوتا ہے۔اس میں احساس مدہم ہو جاتا ہے اور درد محسوس نہیں ہوتا۔
٭-اس کے بخار دوپہرسے پہلے گیارہ بجے سردی لگتی ہے۔نڈھال کر دینے والے بخار ،ٹائیفس بخار، سارے جسم پر گرمی اور کسی کسی وقت سردی لگتی ہے۔
سارے جسم میں گٹھیا کا درد پایا جاتا ہے۔
٭- اس کے اندر اسقاط کا خطرہ اگر مریض ذہنی ڈپریشن ،شاک ،کم درجے کے بخاروں میں مبتلا ہو کے نتیجے میں ہو تو دوا ہے۔عام حالتوں میں ماہواری جلدی،اور کھل کر آتی ہے۔نفاس تیزابی ،بدبودار ، پرسوتی بخار بھی پایا جاتا ہے۔اس دوا کا استعمال ٹائیفائیڈ کی مرض میں بطور احتیاطی تدبیر کے بھی ہوتا ہے۔

Baptisia (BAPT): کا کردار فلو میں
٭-فلو میں=بپٹیشیا کا مریض دیکھنے میں غنودگی میں اور ایسے جیسے شراب پی ہوئی ہو۔شدید نزلہ ساتھ تیز بخار اورتمام جسم کچلاہوا محسوس ہوتا ہے۔شدیداور اچانک آتا ہے۔
٭-تمام جسم میں یہ احساس کہ کچلا گیا ہے اور دکھن پائی جاتی ہے۔جسم اور اعضاءبکھرے ہوئے یا منتشر محسوس ہوتا ہے۔
٭-چہرہ ڈل اور سرخ دیکھنے میں دھندلا،سست اور کاہل کہ کسی وقت نیند میں چلا جائے گا۔بستر سخت محسوس ہوتا ہے۔(اس کا مقابلہ آرنیکا اور پائروجینیم کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔)
مدہوش کر دینے والے سر درد ہوتے ہیں۔جس کے ساتھ بوکھلاہٹ پائی جاتی ہے۔ایسا ہذیان جس کے ساتھ عجیب و غریب احساس پایا جاتا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ لیٹا ہوا ہے۔یا اس کے اعضاءبکھرے ہوئے ہیں۔مریض کو سونگھنے میں بو آتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں