قبض کا علاج1

بشکریہ الفضل

قبض

قبض کی تعریف

پا خانہ کا مکمل طور پر خارج نہ ہونا ۔بلکہ اس کے کچھ حصہ کا اندر رہ جانا طبی اصطلاح میں قبض کہلاتا ہے ۔
قبض کا تعلق غذا کی کیفیت وماہیت سے ہے ۔ پیٹ میں داخل ہونے والا ہر کھانا اپنے سے پہلے کھائی ہوئی خوراک کو آگے دھکیل کر اپنے لیے جگہ پیدا کرتا ہے ۔اس طرح ہر چار چھ گھنٹہ کے بعد غذا کی منا سبت سے آنتوں میں خاص قسم کی حرکات کی مدد سے پہلی غذا کو آگے دھکیلتے ہوئے اسے مقام اخراج (مبرز)کے قریب لے جاتا ہے ۔اس سے پاخانہ کی حاجت کا احساس ہوتا ہے ۔اگر غذا ایسے اجزاء پر مشتمل ہو جو تمام ہضم ہو جاتے ہوں تو انتڑیوں کے لیے باہر نکالنے کو کچھ نہیں بچتا ۔جیسے دودھ اور گوشت کا بیشتر حصہ ہضم ہو کر جسم کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور براہ مبرز باہر نکالنے کو بہت ہی کم باقی بچتا ہے ۔جبکہ پھل اور سبزیاں ایسے اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں جو مکمل طور پر جزوبدن نہیں بنتے اور اس طرح انتڑیوں کے لیے پھو ک کی معقول مقدار بچ جاتی ہے اور فراغت واجابت کا عمل بڑے اطمینان سے انجام پاتا ہے ۔
پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ سبزیاں اور پھل ہمیں معدنیات اور وٹامنز کے علاوہ کوئی خاص چیز مہیا نہیں کرتے مگر اب تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے پھوک میں موجود ریشے غیر ضروری نمکیات کے اخراج کا باعث بن کر مواد فاسد کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں ریشہ دار غذائیں مواد فاسد کو خارج کر کے تمام امراض خصوصاً امراض قلب سے بچاتی ہیں ۔

قبض کی اقسام

قبض کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔
1۔ اتفاقی یا عارضی ۔
2۔ دائمی ،عادتی یا پُرانی قبض ۔
بعض اوقات قبض اس قدر خفیف ہوتی ہے کہ ایک شخص کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ قبض میں مبتلا ہے ۔

صحت مند انسان کی اجابت

چونکہ اکثر لوگ صحت مند انسان کی اجابت وفراغت سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا وہ نہیں جانتے کہ ان کے اندر مادہ فاسد موجود ہے یا بالفاظ دیگروہ تندرستی یا بیماری کے کس قدر قریب ہیں؟
معیار تندرستی جانچنے کے لیے معیاری فراغت کا صحیح علم ہونا از بس ضروری ہے ۔
جرمن محقق وہائیڈروپیتھی کے موجد ڈاکٹر مسٹر لوئی کوہنی کے نظریات وطریق علاج آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ انہوں نے ایک مختصر رسالہ بعنوان ‘‘کیا میں تندرست ہوں یا بیمار ؟’’شائع کیا ۔اس کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی روسے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آپ تندرست ہیں یا بیمار ؟
ہم معیار تندرستی جانچنے کے لئے کسی ایک عضو کے فعل کا امتحان کر سکتے ہیں۔ اس کا سب سے عمدہ طریق یہ ہے کہ ہم اپنے انہی اعضاء کو دیکھیں جن کے افعال کی جانچ بخوبی اور بآسانی ہو سکتی ہے اور ایسے اعضاء وہ ہیں جن کو آلات ہضم کہا جاتا ہے۔ عمدہ ہاضمہ عمدہ تندرستی کی پہچان ہے جب ہاضمہ عمدہ ہو تو جسم بھی بلا شبہ پوری طرح تندرست ہوتا ہے۔ اخراج فضلہ سے ہم اس بات کو بخوبی جانچ سکتے ہیں کہ ہاضمہ کی حالت کیسی ہے۔ فضلہ جسم سے ایسی شکل میں خارج ہونا چاہئے کہ جسم کا وہ مخصوص حصہ جسے مقعد یا مبرز کہتے ہیں اخراج فضلہ کے وقت بالکل صاف رہے ۔ پاخانہ کے مقام کا آخری سرا ایسے نادر طریقے سے بنا ہے کہ اگر پاخا نہ کا قوام اس مقام تک پہنچنے پر صحیح ہو تو پاخانہ بلا دِقت بغیر جسم کو میلا کئے خارج ہو جاتا ہے۔ مقعد یا مبرز کو صاف کرنے یا دھونے کی ضرورت بیمار انسانوں کو ہے۔ صحیح طور پر تندرست انسانوں کو اس کی ضرورت نہیں تاہم اس سے ہرگز مراد یہ نہیں کہ اس مقام کو دھویا یا صاف نہ کیا جائے۔ مذکورہ طریق سے ہر شخص اپنے ہاضمہ کی حالت جانچ سکتا ہے۔ کہ وہ تندرست ہے یا بیمار۔ تندرستی جا نچنے کا معیار بہت ہی ضروری ہے۔ یہ وہ بات ہے (جسے بعض لوگوں کے تمسخر کی پرواہ کئے بغیر)بے شمار تجربات ومشاہدات کے بعد بڑے ہی دعویٰ کے ساتھ کہا گیا ہے ۔فضلہ کی کیفیت و ماہیت کے بارہ میں مزید وضاحت یہ ہے کہ تندرست آدمی کا فضلہ بیلن (لکڑی کا وہ مد ور اوزارجس سے روٹی بیلتے ہیں)کی شکل کا ہونا چاہئے اور پختہ ہو مگر سخت نہ ہو ۔بدن کو خراب کئے بغیر اس سے الگ ہو جائے اور اس کا رنگ بھورا ہو نہ سبز نہ سلیٹی مائل نہ سفید ۔ فضلہ پتلا نہ ہو اور نہ خون آلودہ ، اس میں کیڑے نہ ہوں پتلے مواد کا اخراج ایسے ہی مرض کی علامت ہے جیسے کروی (خمیدہ یا مڑا ہوا) شکل کا سیاہ رنگ کا سخت فضلہ یہ کہ پاخانہ کس قدر اور کتنی مرتبہ ہوا فضول بات ہے ۔اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔
ڈاکٹر موصوف ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ براز یعنی پاخانہ خفیف بھورے رنگ کا ملائم اور بستہ ہو ۔ اس پر ایک لیس دار تہہ پائی جائے تو جاننا چاہئے کہ ہاضمہ درست ہے۔ پاخانہ کیلے کے گودے کی شکل کا ہونا چاہئے ۔ خارج ہوتے وقت جسم کو نہ لگے تو یہ تندرست آدمی کے فراغت کی دلیل ہے اور یہی تند رست جانور کی نشانی ہے۔ انسان کے جسم میں پاخانہ کرنے کا جو مقام ہے اس کا کنار ا ایسا مناسب بنا ہوا ہے کہ اگر ہضم اپنی اصلی حالت پر ہو تو پاخانہ جسم کو گندہ اور آلودہ کئے بغیر خارج ہو جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں پاخانہ میں کوئی نا پسند یدہ و ناگوار اور مضرت رساں بو کبھی نہ نکلنی چاہئے ۔
اگر ایسی بو ہو تو ہضم کے خمیر میں کوئی غیر معمولی حالت پیدا ہو گئی ہے اس لئے خشکی یا قبض ہوئی ہے۔

قبض کی وجوہات

آج کل قبض کا مرض بہت عام ہو چکا ہے ۔ جس کی بالعموم درج ذیل وجوہات ہیں :
1۔چھلکا اتری ہوئی بے ریشہ اغذیہ کا کثرت سے استعمال ۔مثلاً میدہ کی مصنوعات ۔میدہ کی روٹی ، نان، ڈبل روٹی، بند ،کیک، بسکٹ، سموسے، پیسٹریاں وغیرہ ۔یاد رکھئے میدہ انتڑیوں میں چپک جاتا ہے اور قبض کا باعث بنتا ہے۔
2۔پھلوں سبزیوں کی بجائے ان کے جوسز کا استعمال۔
3۔چائے کا بکثرت استعمال ۔
4۔تمباکو نوشی ۔
5۔ذہنی کثرت کار (ا س سے دورانِ خون کا رخ نظامِ ہضم کے اعضاء کی بجائے دماغ کی طرف زیادہ ہو جاتا ہے اور خرابیِ ،ہاضمہ کے نتیجہ میں قبض پیدا ہو جاتی ہے ۔)
6۔مسلسل زیادہ بیٹھنا ورزش وجسمانی نقل و حرکت کا فقدان ۔
7۔بعض اعصابی و ذہنی اور نفسیاتی عوامل مثلاً ذہنی تفکرات و پریشانیاں وغیرہ۔
8۔مخرش قسم کی قبض کشا ادویات کا مسلسل و عرصہ دراز تک استعمال انسان کو قبض کا دائمی مریض بنا دیتا ہے ۔

قبض کے نتائج

انتڑیوں کے اندر متعفن اور بدبودار برازی مادہ کے رُک جانے سے ریاح کثر ت سے پیدا ہوتی ہیں حتیٰ کہ ریاح کل جسم میں پھیل جاتی ہیں اور سارے جسم کو متاثر کرتی ہیں اور جسم کو طرح طرح کے عوارض میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔یہی برازی زہر خون کو بھی فاسد اور زہریلا بنا دیتی ہے جس کے نتیجہ میں قوت مدافعت مرض کمزور پڑ جاتی ہے اور مرض و بیماری کا حملہ قبول کرنے کی صلاحیت واستعداد بڑھ جاتی ہے ۔

قبض کا مفید علاج

• ان چھنے موٹے آٹے کی خشک روٹی ۔
• اناج وغلہ جات و دالیں بمعہ چھلکا استعمال کی جائیں ۔ریشہ دار پھلوں اور سبزیوں کو بکثرت استعمال کیا جائے ۔نیز دیگراسباب جواوپربیان ہوئے ہیںان سے پرہیز کیا جائے ۔
قبض کے ازالہ کیلئے ہم ایک طبی ونباتاتی دوا کا ذکر کرتے ہیں جس کا طبی نام اسپغول ہے اس کی درج ذیل خصوصیات ہیں ۔
• یہ ہر جگہ دستیاب ہے ۔
• سستا وار زاں ہو نے کے سبب غرباء کی دسترس سے باہرنہیں۔
• یہ بعض دیگر قبض کشا ادویات کی طرح امعاء میں سوزش وخراش پیدا نہیں کرتا بلکہ اپنی لعابیت کی وجہ سے پھسلن پیدا کر کے قبض کشائی کے ساتھ ساتھ انتڑیوں کی سوزش ورم وزخم کو ٹھیک کرتا ہے ۔
• یہ کوئی ایسی ادویاتی تاثیر نہیں رکھتا جو بعض مزاجوں کے لیے نقصان کا باعث ہو بلکہ تھوڑے بہت ردوبدل سے اسے ہر طبیعت ومزاج کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے ۔
• تھوڑی بہت تبدیلی کے ذریعہ ہر موسم میں استعمال کرایا جا سکتا ہے ۔
• بے ذائقہ ہونے کی وجہ سے اسے خوش مزہ بنا کر بچوں کو بآسانی استعمال کرایا جا سکتا ہے۔چونکہ یہ اپنی لعابیت کی وجہ سے انتڑیوں کو صاف کرتا ہے لہٰذا اسے حاملہ عورتوں کو بھی استعمال کراسکتے ہیں ۔
• کسی بھی دوسرے طریق علاج مثلاً بائیوکیمک ہو میو پیتھک ایلوپیتھک علاج بالماء کے دوران اسے استعمال کرایا جا سکتا ہے ۔
س: قبض کا ہومیو پیتھی میں پیٹنٹ علاج کیا ہے ؟
ج: قبض کے ازالہ کے لیے ہمارے تجربہ میں M7اور M37بہت مفید ثابت ہوئے ہیں باہم ملاکر استعمال کریں ان کے نسخہ جات درج ذیل ہیں۔
نسخہ M7:پتہ و جگر کی اکثر بیماریاں پتہ کی پتھری، صفرا کی پیدائش میں نقص، جگر کی سوزش و سوجن، پیٹ بڑھنا ،تھوڑاسا کھانے سے بھوک کاختم ہو جانا، بھوک کی کمی، منہ کا ذائقہ کڑوا ،پیٹ میں گیس یا اپھارہ یا اجابت کا کھل کر نہ ہونا، مزاج کا چڑچڑا پن اور پسلیوںکے نیچے کساؤ کااحساس ۔
Nux vomica, Lycopodium, Colocynthis, Cholesterinum, China, ChelidoniumCarduus mar, (Each 30)
کسی ہومیو سٹور سے لیکوئیڈ فارم میں 30 طاقت میں 20ایم ایل کی ایک ہی شیشی میں مرکب کروالیں اور ساتھ100گرام خالی ہو میو گولیاں خرید لیںاور گولیوں کے اوپر یہ لیکوئڈ اس قدر چھڑکیں کہ گولیاں قدرے تر ہو جائیں پانچ ،سات گولیاں دن میں تین مرتبہ خالی معدہ چوس لیں اگر خود دوا ء تیار کرنے میں دقت محسوس کریں تو مظہر فارما رجسٹرڈ پاکستان کا تیار کردہ M7منگوا کر استعمال کریں ۔
نسخہ M37:پیٹ اور آنتوں کے ہر قسم کے درد مروڑ پیٹ کی ریاحی تکالیف بد ہضمی وغیرہ میں مفید ہے اسی طرح جگر کی خرابی جگر کا سکڑ کر سخت ہو جانا (سروسس) پتے کا درد عورتوں میں ماہواری کا درد اپینڈکس کا درد گردے کا درد قبض کی پرانی شکایت قبض میں اس دوا کے استعمال سے دست نہیں آتے بلکہ قبض کی شکایت آہستہ آہستہ دور ہو جاتی ہے اور اجابت قدرتی طور پر کھل کر ہوتی ہے ۔
Sulfur, Plumbum acetic, Nux Vomica, Mercur subl corr, Lycopodium, Lachesis Colocynthis, Bryonia, Alumina, (Each 30)
کسی ہومیو سٹور سے لیکوئیڈ فارم میں 30طاقت میں 20ایم ایل کی ایک ہی شیشی میں مرکب کروالیں اور ساتھ100گرام خالی ہو میو گولیاں خرید لیںاور گولیوں کے اوپر یہ لیکوئڈ اس قدر چھڑکیں کہ گولیاں قدرے تر ہو جائیں پانچ ، سات گولیاں دن میں تین مرتبہ خالی معدہ چوس لیں۔اگر خود دوا ء تیار کرنے میں دقت محسوس کریں تو مظہر فارما رجسٹرڈ پاکستان کا تیار کردہ M37منگوا کر استعمال کریں ۔
س: قبض کا بائیو کیمک علاج کیا ہے ؟
ج: بائیو پلاسیجن نمبر 4کا استعمال کریں۔
اجزاء نسخہ :
Cacl.fluor., Kali., mur., Natr. mur., Silicea
تما م 6X
4 گولیاں بڑوں کے لیے 2گولیاں بچوں کے لیے ہر تین گھنٹہ کے بعد استعمال کرائیں ۔
اس نسخہ میں دس گناشوگر آف ملک ملا کر گرائنڈر میں 20منٹ تک گرائینڈ کریں اور 5 گرین تین گھنٹہ کے بعد استعمال کریں ۔
فوائد:ہر قسم کی قبض کیلئے مفید و مؤثر ہے ۔
س: کیا کثرت کے ساتھ پانی پینے سے قبض کو فائدہ ہوتا ہے ؟
ج: کثرت کے ساتھ پانی پینے سے تمام امراض کو فائدہ ہوتا ہے ۔قبض کا مکمل طور پر ازالہ ہوجاتا ہے۔اگر قبض زا ئل ہو جائے تو گویا تمام امراض رفع دفع ہو جاتی ہیں۔تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں ہمارا مضمون انسانی صحت کیلئے پانی کی ضرورت واہمیت۔
س: کیا یوگا میں قبض کا علاج موجود ہے ؟
ج: جی ہاں ،یوگا میں قبض کا موثر علاج موجود ہے ہربل وہومیو پانی سے علاج اور یوگا کی موجودگی میں قبض کا کوئی اور علاج کرنا درست نہیں ان میں بفضلِ خدا قبض کا شفاء بخش علاج موجود ہے ۔

(ڈاکڑنذیراحمدمظہر۔ کینیڈا)

Similar Posts