0

(باڈی لینگویج ۔ (ڈاکٹر بنارس خان اعوان

زبان سے ادا کیے گئے الفاظ اگرچہ واقعہ بیان کرتے ہیں لیکن باڈی لینگویج مکمل واقعہ بیان کرتی ہے۔ باڈی لینگویج دراصل وہ دور بین ہے جو انسانی دل و دماغ میں جھانک کر دور کی خبر لاتی ہے۔ باڈی لینگویج سے ایسے قفل کھولنے میں مدد ملتی ہے جنہیں زبان کھولنے سے قاصر ہوتی ہے۔ مریض کی شخصیت کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے
لہذا کیس ٹیکنگ کے دوران جب مریض کی زبان سے ادا کئے گئے الفاظ کو غور سے سنتے ہیں۔ بلکہ اس کے لب و لہجہ پر بھی دھیان دیتے ہیں۔
مثلاً اناکارڈیم کے سرد ،سپاٹ اور خشک لہجہ پر غور کریں اگر وہ کسی قتل کا واقعہ بھی سنا رہا ہوگا تو یوں جیسے ریڑھی والے سے پیاز خرید رہا ہے۔سنگدلی کی انتہا ہے۔
جیلسیمیم کا مریض ہو گا تو نقاہت اس کے انگ انگ سے عیاں ہو گی۔شکایت کوئی بھی ہو اگر علامات میں نقاہت نمایاں ہو تو جیلسیمیم کو کبھی نہ بھولیں۔
نکس وامیکا کا بیوروکریٹک رویہ ، آپ محسوس کریں گے۔کہ یہ علامات بیان کرے گا تو انتہائی نفاست اور تر تیب سے ، لائیکو، نکس اور اورم میٹ کا اندازِ حکمرانی نمایاں ہوتا ہے۔بیورو کریٹک رویہ جن دواؤں میں پایا جاتا ہے نکس وامیکا، اورم میٹ ،پلاٹینا، لائیکو پوڈیم اس میں شامل ہیں ۔
آپ نے دیکھا ہو گا بعض مریض کلینک میں آ کر بیٹھ جائیں گے اور جب تک آپ ان سے مخاطب نہ ہو ں وہ بات چیت میں پہل نہیں کرتے۔مثلاً نیٹرم میور، اورم میٹ، برائٹا کارب، برائی اونیا، سیپیا، سلیشیاوغیرہ۔ نیٹرم میور کیا ہے۔ جذبات کا ایک گہرا سمندر ہے جس کے اوپر لہریں نہیں اٹھتیں۔ اگر نیٹرم میور کو سمجھنا ہے تو انگریزی فلم Titanic کو ضرور دیکھئے۔
میرے آرٹیکل باڈی لینگویج سے انتخاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔Dr Banaras khan

اپنا تبصرہ بھیجیں