ابراٹینم Abrotanum

ابراٹینم ایک ایسی دوا ہے جس کا نام سنتے ہی انتقال مرض کا مضمون
ذہن میں ابھرتاہے.
انتقال مرض کا انگریزی میں Metastasis کہتے ہیں.
بیماری ایک عضو چھوڑ کر دوسرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے.
کن پیٹروں کی بیماری میں‌یہ عادت پائی جاتی ہےکہ گلےپر اور کان کے پیچھے
جو ابھار پیدا ہوتاہے وہ وہاں سے دب جاتاہے اور اعضائے تناسل کیطرف منتقل ہو جاتاہے.
-دبنے کی مختلف وجوہات ہیں، مثلا جراثیم کش دواؤں کا استعمال سے یا مقامی طور پر لیپ
وغیرہ کرنے کے نتیجہ میں بھی ایساہوتاہے اور بعض اوقات بخارکی حالت میں سردی لگ جانا وجہ
بن جاتاہے.
وہ سب دوائیں جو انتقال مرض میں کام آتی ہیں اور اسے واپس اپنی پہلی جگہ کی طرف لوٹا دیتی ہیں
ان میں ابراٹینم کو نمایان مقام حاصل ہے.
بعض اوقات اسہال کے دب جانے کے نتیجہ میں اچانک جوڑوں کے درد شروع ہوجاتے ہیں اور کبھی دل پر
شدید حملہ ہو جاتاہے.
اسی طرح بعض دفعہ عورتوں‌کے ایام حیض کا خون اچانک بند ہوجانے پران کوذہنی یا دوسرے عوارض لاحق
ہوجاتے ہیں.
– اگر کسی مریض کو جووڑوں میں درد کی بیماری ہو مثلا گاؤٹ Gout یا وجع المفاصل اور ساتھ ہی دل میں‌کچھ بے چینی کا
احساس پایا جائےجیسے دل کو چھیلتا ہو گزرتاہو، نیز ایسے مریضوں کو اگر نکسیر اور پیشاب میں خون آنے کی تکلیف بھی ہو
تواس بات کا بھاری امکان ہے کہ یہ مریض ابراٹینم سے شفا پاے گا.
-مزاجی لحاظ سے ابراٹیم کا مریض‌اسہال سے آرام پاتاہےکیونکہ وہ فاسدے مادے جو جوڑوں میں تکلیف پیدا کرتے تھے
اسہال کے ذریعہ خارج ہوتے رہتے ہیں.
ایسے مریضوں کا اگر اسہال کے ذریعہ علاج کیا جائے تورفتہ رفتہ اسہال بھی دور ہو جا ئیں گے اور جوڑوں میں درد کی
شکایت بھی ختم ہو جائے گی.
اگر جوڑوں‌کے درد کسی دوا یا مقامی علاج مثلا ٹکور وغیرہ سے ٹھیک ہو جائیں اور اسہال لگنے کی بجائے پلوریسی
pleurisy یعنی ذاب الجنب کی تکلیف شروع ہو جائےجو ملتی جلتی دواؤں سے ٹھیک نہ ہو تو ہومیو پیتھ کو فرض ہے
کہ وہ تحقیق کرے کہ ذات الجنب کی تکلیف شروع کیسے ہوئی تھی.اگر اس سے پہلے جوڑوں کے درد پائے جاتے تھے
جن کے ٹھیک ہونے کے بعد پلوریسی شروع ہوئی تو لازما ابراٹینم ہی اس مریض کی دوا ہو گی.
پلوریسی ٹھیک ہونے پر کسی نہ کسی جوڑ میں تکلیف دوبارہ شروع ہو جائے گی. اس کا علاج مسلسل ابراٹیم سے ہی جاری
رکھنا چاہیے. اللہ تعالی نے چاہا تو اسی سے جوڑ درد بھی ٹھیک ہو جائیں‌گے.
یہ دوا بچوں کے سوکھے پن میں‌بھی بہت مفیدہے. کلکریا کارب کا سوکھا پن صرف ٹانگوں‌سے تعلق
رکھتا ہے جبکہ ابراٹینم کا سوکھا پن بھی گوٹانگوں‌سے شروع ہوتاہے مگر ٹانگوں‌تک محدود نہیں
رہتااور اوپر کے بدن کی طرف منتقل ہونے لگتاہے.صرف اسی ایک علامت کا پایا جانا ہی کافی ہے.
اگر30 طاقت میں دن میں‌تین بار دوا شروع کروائی جائے تو اللہ کے فضل سے یہ مکمل شفا
کا موجب ہو سکتی ہے.

اگر جوڑوں کے دردوں کے عوارض بظاہر ٹھیک ہو جائیں لیکن مریض کا دل بیمار پر جائے تو متعلقہ دواؤں کی تلاش میں
ابراٹینم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے.
اسہال اچانک بند ہوجانے کے نتیجہ میں بعض اوقات جوڑوں کے درد کے علاوہ خونی بواسیر کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔
اس کا علاج بھی ابراٹینم سے ہی کیا جائے ۔ ایسے مریضوں کا عمومی مزاج سردی بہت محسوس کرتاہےاور تکلیفیں
ٹھنڈے اور بھیگے موسم میں بڑھ جاتی ہیں۔ایسے مریض کو اکثر کمر درد رہتی ہے جو ہمیشہ رات کو بڑھ جاتی ہے۔
کمر کا دردجو رات کو پچھلے پہر یعنی تین چار بجے بڑھے اور ابراٹینم کی نہیں بلکہ کالی کارب کی نشان دہی کرتاہے

اسہال سے بہتری محسوس کرنے کی علامت کسی حد تک نیٹرم سلف اور زنک میں بھی پائی جاتی ہے
لیکن ان دوسری امتیازی علامتیں بغیردقت کے شناخت کی جا سکتی ہے۔

ابراٹینم کے درد بعض اوقات تیز اور کاٹنے والے ہوتے ہیں جو جوڑوں کے علاوہ خواتین کی بیضہ دانیوں Ovaries
پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں.ایسی مریضہ جس کی بیضہ دانی میں‌اس قسم کے کاٹنے والے درد ہوں اور وہ جوڑوں
کے درد کی بھی شاکی رہے یا رات کو بڑھےوالا کمر درد ابراٹینم کے مشابہ ہو اور اسے اسہال سے آرام آتاہو تو اس کے بانچھ پن
کا ابراٹینم ہی بہترین علاج ثابت ہو گا.
ماخوذعلاج بالمثل از حضرت مرزا طاہر احمد صاحب
www.allahshafi.com

Similar Posts