0

موہکے اوردیگر تکالیف ، علامات اور ان کا ہومیو پیتھی طریقہ علاج

ترتیب و تحقیق: خالد محمود اعوان

موہکے اوردیگر تکالیف ، علامات اور ان کا ہومیو پیتھی طریقہ علاج

چند ادویات کا مختصر سا تعارف
٭-اینٹی مونی کروڈ = ایسے موہکے پائے جاتے ہیں جو سخت ہوں اور ان میں ہڈی کی طرح کا ابھار پایا جاتا ہو۔
٭-کلکیریا کارب= موہکوں کی اس وقت دوا ہوتی ہے جب اس میں نوچنے والی خارش ہو،جس سے آسانی سے خون نکل آئے۔ نرم اوراسپنج کی طرح کے ہوں اور ان میں ڈنگ لگنے کا احسا س پایا جاتا ہے۔
٭-”کاسٹی کم “=موہکوں میں اس وقت مﺅ ثر دوا ہوتی ہے جب اس کے موہکے ٹھوس اورچوڑے ہوں۔ ان کی مرغوب جگہ گردن کی سطح ،چہرے پر ،پپوٹوں پر ،ناک کی چو نچ پر اورانگلیاں ہوتی ہیں۔
٭-ڈلکامارا= اس وقت مفید ثابت ہوتی ہے جب موہکے ہاتھوں کی پشت پر ہوں سائز میں لمبے،موٹے گوشت والے اور چھونے سے ہموار اور صاف ہوں۔
٭-نٹرم کارب “= کے موہکے بہنے والے ،چھیلے ہوئے جو پاﺅں کے انگوٹھوں کی نوک پر نکلتے ہیں۔
٭-فیرم پکرم =ان موہکوں کو شفا دیتی ہے جو ہاتھ کی ہتھیلی پر ظاہر ہوں اور درد کرنے والے ہوں یاپاﺅں کے تلووں میں نکلتے ہیں جن کو ’کارنز‘(یہ سخت ہوتے ہیں اور وہ ایریا جہاں نکلتے ہیں موٹا ہوتا ہے ۔ یہ اکثرپاﺅں کے تلووں پر نکلتے ہیں۔ ان کی مشابہت لیکس کی سی ہوتی ہے لیکن یہ ان کی نسبت سخت ہوتے ہیں۔سائز میں چھوٹے اور شدید درد کرتے ہیں۔لیکن یہ خطرناک نہیں ہوتے اور اری ٹیشن کا سبب بھی نہیں بنتے۔ یہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتے ہیں) کہتے ہیں۔ان کا رنگ پیلا ہوتا ہے جیسے نیچے پس پڑی ہو لیکن وہ پس نہیں ہوتی۔
٭-”نٹرم میور“=کے موہکے ہتھیلیوں پر پائے جاتے ہیں جب ان میں پسینہ آنے کی رغبت پائی جاتی ہو۔
٭-نائٹرک ایسڈ=کے موہکے بڑی سائز میں پنڈولیم کی طرح لٹکتے ہوئے جن سے خون آسانی سے بہے اور ان میں درد پائی جائے۔
٭-”سیپیا“= کے موہکے لمبے کالے ہوتے ہیں۔ ان کی پیدائش بالوں میں ہوتی ہے۔
٭-”تھوجا“= کے موہکوں کے انتخاب کے لئے اس کے موہکے گوبھی کی طرح کے۔فصل کی پیداوار کی طرح کے ،نمدار ہوتے ہیں ۔ان کوچھونے سے آسانی سے خون نکل آتا ہے۔

ادویات کا تعارف ذرا تفصیل کے ساتھ

ANTIMONIUM CRUDUM
٭-”اینٹی مونیم کروڈ“= اس کے موہکے سخت ، ہموار اور اکثر گروپ کی صورت میں نکلتے ہیں۔ یہ سینگ دار ہوتے ہیں۔ ہاتھوں اورپاوں کے تلو وں پر نکلتے ہیں۔اس میں چنڈیاں (رگڑیا کام کرنے سے جلد کا سخت ہو جانا )جیسے ہاتھ یا پاوں کی ہوتی ہیں۔۔ سخت اور پُر دردگٹے، موٹے اور سینگ دار ہوتے ہیں۔ ناخنوں کی نشو ونما کمزور ہوتی ہے ۔ان جسمانی علامات کے ساتھ مریض کا مزاج جھگڑالو ،بد مزاج ،ناراض اور بغیر کسی وجہ کے ناخوش رہتا ہے۔ تنہائی پسند، کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا۔اگراس کا مریض بچہ ہو تو چھوا جانابلکہ اپنی طرف دیکھنا تک برداشت نہیں کرتا ۔ اس میں بڑھی ہوئی زود حسی اور چڑچڑا پن کے ساتھ زبان پر سفید موٹی تہ پائی جاتی ہے ۔ تمام تکالیف گرمی اور ٹھنڈے پانی میں نہانے سے بڑھتی ہیں ۔مریض سورج کی گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔اس کی مریضہ بے حس ، پتھر دل،اور اپنے آپ کوبہت مصروف اور کچھ نہ کچھ کرنا چاہتی ہے۔ کھانا اس وقت کھائے گی جب اسے کہا جائے۔ نظام ہضم کی خرابیاں ساتھ زبان پر موٹی سفید تہ پائی جاتی ہے۔
BELLADONA
٭-بیلاڈونا=موہکوں میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتی ہے جب ان میں سوزش اور جلن دار دردیں پائی جائیں۔چھونے سے بے اطمینانی محسوس ہوساتھ دھڑکن دار دردیں پائی جائیں۔صفرا ءکے مریض ،سست مزاج، پھولی ہوئی ساخت والے ایسے مریض جب اچھے ہوں تو اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں ،لیکن بیماری کی حالت میں ان میں شدت آ تی اور اکثرہذیان (بد حواس) ہو جاتے ہیں۔اس میں سرخ پھوڑے ، مہاسے ،کیلیں نکلتی ہیں ، زخموں میں پیپ ،جلد خشک و گرم ،پھولی ہوئی ہوتی ہے ۔نہایت ذکی الحس ، جلن ہو ،سرخ ،چکنی چکنی ،سرخ دانوں جیسی پھنسیاں جو یکایک پھیل جائیں ۔سرخ داغ ،چہرے پر پھنسیاں نکلیں ۔ غدود متورم۔جلد کا رنگ باری باری لال پیلا ہوتا رہے۔ سوزش کے بعد سختی آ تی ہے۔سرخبادہ۔ یہ دوا اعصاب کے ہر حصہ پر اثر کرتی ہے۔ چنانچہ مقامی طور پر اجتماع خون ۔جلد اور غدود پر بھی اس دوا کا خاص اثر ہے ۔جہاں کہیں بیلاڈونا کامیابی کے ساتھ کام کرے گی وہاں جلد سرخ و گرم ،چہرہ تمتمایا ہوا ہوتا ہے۔
CALCAREA CARBONICA
٭-کلکیریا کارب=کے موہکے چہرے پر،گردن پر اور اوپر والے اعضاءکے آخری حصوں پر،مردوں کے اعضائے تناسلی پر،آنکھ کے کونوں پر، انگلیوں پر پائے جاتے ہیں۔یہ موہکے کالے اور گوشت والے،سخت اور سینگ دارہوتے ہیں ۔ بعض دفعہ ان میں سوزش اور درد پائی جاتی ہے ۔ موہکوں میں مواد کے پھٹ جانے کا رجحان ،جس سے باسی پنیر جیسی بو آئے۔جلد چھونے سے برف کی طرح ٹھنڈی محسوس ہوساتھ ٹھنڈے پسینے آتے ہوں۔ یہ موہکے ان مریضوں کو نکلتے ہیں جن کے اندرسیکریشن (مواد) یا پسینہ دب گیا ہو۔یہ موہکے ایسے لوگوں میں جوسکریفولس(خنازیر کنٹھ مالا ۔دق کی ایک قسم)کا مزاج رکھتے ہوں ،ساتھ ہڈیوں کی گروتھ ناقص ہو۔اس کے مریض مخصوص ساخت کے ہوتے ہیں جن میں چربی چڑھی ہوئی ،پلپلے،عمدہ،پسینے میں شرابور ٹھنڈے اور جلد نمدار اور کھٹی بو والے ہوتے ہیں۔اس کے موہکے گول،بنیاد سے نرم،ایسے جیسے جلد کی رنگت ہوتی ہے ۔ اوپر والی سطح سخت،کھردری،سفیدی مائل، ان میں خارش ہوتی ہے۔خون نکلتا ہے اور غائب ہو جاتے ہیں۔ان موہکوں میں سوزش ، ڈنگ لگنے والی دردیں، زخموں سے بہنے کا رجحان ، موہکے موٹے ۔ کلکیریا ان لوگوں میں مفید ہے جو بلغمی مزاج ہوں ، سر اور خدوخال بڑے ،جلد پیلی اور چاک کی طرح نظر آتی ہے۔ اس کا مریض صحت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔اس میں بہتری خشک موسم میں ، چھوئے جانے سے آتی ہے۔ تکلیف میں اضافہ دودھ کے، پسینہ کے دب جانے سے آتی ہے۔اس کے مریض بلغمی مزاج، رنگ گورا، بال سنہرے،چہرہ بشرہ عمدہ،نیلی آنکھیں،عمدہ جلد،نوجوانوں میں موٹاپے کا رجحان، ۔سورک کی ساخت ،پیلے ،کمزور،بزدل چلنے کے دوران جلدی تھک جانے والے ۔ چربی چڑھے ، فربہ جسم، مشکل سے حرکت دیا جا سکے ہوتے ہیں۔
CAUSTICUM
٭-”کاسٹی کم“= کے مریضوں کی جلد گندی ، سفید جو زرد پڑ جائے ساتھ موہکے ،خاص طور پر چہرے پرناک کے ارد گرد،اور پپوٹوں اور بھنوﺅں پرپائے جاتے ہیں۔پاﺅں کے تلوﺅں کے موہکے ، کنارے دندانے دار، کھردرے ،کٹے پھٹے ،جن سے خون جلدی بہہ نکلے ،جلد میں کریک اور درد خاص طور پرجہاں جلد فولڈ ہوتی ہے۔ ان میں جلن ،کچاپن اور لگاتار درد ہوتا ہے ۔ مزمن موہکے جو لمبے ہوتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ناک پر، ناخنوں کے نیچے یا فنگرز ٹپس پر نکلتے ہیں۔ ان سے خون آسانی سے نکل آتا ہے۔ سخت ہونے کا رجحان،سوزش اور درد ہوتا ہے۔موہکے ان لوگوں میں نکلتے ہیں جن کے اخراجات دب جاتے ہیں۔موہکے دندانے دار، کھردرے اور اکثر شاخ دار ہوتے ہیں ۔ موہکوں سے نمی اور خون آسانی سے بہ نکلے۔اس کے موہکے چھوٹے اورشاخ دار نہیں ہوتے۔ تمام جسم پر اندرونی اور بیرونی طورپر اور پپوٹوں پر نکلتے ہیں۔ایسی چوٹیں جو ٹھیک ہو چکی ہوں ان میں درد دوبارہ شروع ہو جائے۔اس کے مریض بچے بستر پر اکیلا جانا نہیں چاہتے ۔چھوٹی سی بات پر چیخنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ناامید ،غمگین ،دوسروں سے شدت سے ہمدردی کرنے والے ۔ گہرے دکھوں سے پیدا ہونے والی علامات ،اس کے مریض خوفزدہ رہتے ہیں کہ کچھ ہونے والا ہے۔اچانک جذباتی ہوجانے والے ۔اس کے مریض کے مزاج میں حکام بالاکے خلاف نفرت،حکمرانوں کو پسند نہیں کرتا ، نامنصفانہ نظام کے خلاف بغاوت پائی جاتی ہے۔حکومتی مخالفت کا خبط اور جنون پایا جاتا ہے۔سیاست ،سماجی کاموں میں ملوث ہوتا ہے ۔اور نظام کے خلاف رنجیدہ اور غصہ میں رہتا ہے۔ رسم و رواج کے پابند ہوتے ہیں ۔ اس کے مریض ٹھنڈ اور ٹھنڈے مشروبات سے حساس ہوتے ہیں ۔بارش والے موسم میں بہتر محسوس کرتے ہیں ۔
CINNABARIS
٭-”سنابیرس“ میں مقعد پر آتشکی چھالہ پایا جاتا ہے ۔ اس میں خونی پاخانہ ، حشفہ پر پنکھے کی طرح کے آتشکی چھالے پائے جاتے ہیں۔ ان کو ذرا سا چھونے سے خون نکل آتا ہے۔اس میں ”سنابیرس“ ’تھوجا“ سے بہترکام کرتی ہے۔ایسے موہکے جو حشفہ پرپائے جائیں جس سے حشفہ سوجا ہواہو،ان سے خون آسانی سے بہے ۔خصیے بڑھے ہوئے۔غدودوں کی سوجن،آتشک کے خوفناک زخم،آتشک کے دانے جن سے چھلکے اُتریں اور آبلے پائے جائیں۔
DULCAMARA
٭-”ڈلکامارا“ میں موہکے ہاتھوں کی پشت پر اور چہرے پر پائے جاتے ہیں۔اس کے اندر براﺅن رنگ سے کالے رنگ کے جن سے روغن کی طرح کے اخراجات پائے جائیں۔یہ موہکے کمر میں پائے جاتے ہیں۔ ان موہکوں کے ساتھ روماٹک کی شکایا ت پائی جاتی ہیں جن میں ٹھنڈے، نمدار موسم میں یا ایسے موسم جہاں نمی کا تناسب زیادہ ہو میں اضافہ پایا جاتا ہے۔ اس کے اندر ہرپیز زوسٹر،چھالے،گلینڈز میں سوجن اور سختی ٹھنڈ ک سے پائی جاتی ہے۔چھالوں والی خارش ۔ خون بہنے والے حساس زخم ۔ چھوٹے پھوڑے ، سرخ جگہیں،پتی کا اچھلنا،جو ٹھنڈ میں گھومنے سے ہویا معدے میں تیزابیت سے ہو۔ چہرے پر،اعضائے تناسلی پر ، ہاتھوں پر نمدار خارش پائی جاتی ہے۔اس کے اندر موہکے لمبے ،ہموار،چہرے پر اور ہاتھ کی ہتھیلیوں کی سطح پر پائے جاتے ہیں۔اس کے اندر ٹانگوں ،کمر اور جنسی اعضاءکاسوج جانا ۔اس کے اندر موٹے بھورے ،پیلے چھلکے پائے جاتے ہیں۔ جب ان کو کھرچا جائے تو ان سے خون بہتا ہے۔ان موہکوں کے ساتھ گٹھیا کی شکایات جن میں اضافہ ٹھنڈے، نمدار موسم میں یا ایسے موسم میں جہاں نمی کا تناسب زیادہ ہو ہوتا ہے۔
FERRUM PICRICUM
٭-”فیرم پکرم“میں چوڑے یا سادہ موہکے جومحدود جگہ پر گروپ کی صورت میں ظاہرہوتے ہیں ۔یہ چہرہ پر ،گردن پر، کلائیوں پر ،ہاتھوں پر اورگھٹنوں پر ظاہر ہوتے ہیں ۔مردوں میں اس کے ساتھ بڑھے ہوئے پروسٹیٹ گلینڈزبھی پائے جاتے ہیں۔”فیرم پکرم“ چنڈیوں میں موہکوں اور ایسے موہکے جو ہاتھوں پر نکلتے ہیں جن کی شاخیں ہوتی ہیں یا شاخ دار ہوتے ہیں ۔ چہرے پر لیوپس کی طرح کے موہکوں میں بہترین کام کرتی ہے۔ اس کے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ انگوٹھے پر موہکے پیدا ہو رہے ہیں۔اس کی چنڈیوں کی رنگت پیلی دیکھنے میں ایسا لگے کہ ان کے اندر پس ہے لیکن پس نہیں ہوتی پائے جاتے ہیں۔
GRAPHITES
٭-”گریفائٹس“ کے موہکے خاص طور پرانگلی کے ناخن پریا مکئی کی طرح کے موہکے ہتھیلیوں یا پاوں کے تلووں پر پائے جاتے ہیں۔ان کی رنگت ہلکی پیلی ہوتی ہے۔یہ نہ صرف موہکوں کی دوا ہے بلکہ یہ ایگزیما کی طرح کی جلدی علامات پائی جاتی ہیں۔
LYCOPODIUM CLAVATUM
٭-لائیکوپوڈیم =کے موہکے ایسے لوگوں میں جو بد ہضمی میں ،جگر اور پیشاب کرنے کی خرابیوں میں مبتلا ہوں ۔اس کے موہکے شاخ دار، ان پر کریک ہوں ۔ ساتھ چھلکے،پستان کی بھٹنی کے گرد کا گہرے رنگ کے حلقہ یا ہالہ میں تپکن پائی جائے،نم داراس میں سوزش پائی جائے۔مریض گرمی برداشت نہیں کرتا اورگرم خوراک پسند کرتا ہے۔
NATRIUM MURIATICUM
٭-”نٹرم میور“میں بھی موہکے پائے جاتے ہیں۔ اس کے موہکے ہاتھوں پر، ہتھیلیوں پر اور انگلیوں کے جوڑوں پر پائے جاتے ہیں۔ان موہکوں میں کاٹنے کی طرح کی دردیں ہوتی ہیں اس کی جلد دیکھنے میں تیل والی،خشک،کھردری غیر صحت مند یا پیلی ہوتی ہے۔ موہکے پیدا ہونے کا رجحان ایسے لوگوں میں جو جلد کو سلور نائٹریٹ(کیمیائی مادہ جس سے جلایا جائے) سے جلاتے ہیں۔کمی خون کے مریض جن میں ضعف کے آثار ۔جب کہ مادہ حیات کے ضائع ہونے سے،کھل کر ماہواری آنے سے، مادہ منویہ کے ضائع ہونے سے۔ یا دماغی بیماریوں کے نتیجے میں۔شدید کمزوری ،گوشت پوست کم ہو رہا ہو جب کہ کھانا پینا اچھا ہو۔ گلے اور گردن لگاتار دبلی ہوتی ہے گرمی کی شکایات سے ۔ ٹھنڈلگ جانے کی شدید اہلیت۔اس میں چڑچڑا پن پایا جاتا ہے۔اس کے بچے بات کاٹ دیتے ہیں جب ان سے بات کی جائے۔معمولی سی وجہ سے چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے جھگڑے کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے جب اسے تسلی دینے کی کوشش کی جائے ۔احمق،جلدی میں اعصابی کمزوری کی وجہ سے چیزیں ہاتھوں سے گر جائیں۔رونے کا رجحان،اداس رونے والا۔ موڈی بغیر کسی وجہ کے ۔ دوسروں کے سمجھانے سے تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
NITRIC ACID
٭-نائٹرک ایسڈ= کے موہکے نکلتے ہیں زنانہ اعضائے تناسلی پر ،مقعد پر،گردن کے مہروں پر،ناک کے اندر کی طرف،بیرونی گلے پرپائے جاتے ہیں۔ سینے کی ہڈی پر،پپوٹوں پر،آنکھ کے کونوں پر۔یہ عام طور پر مرکری کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ذیل میں اس کی خصوصیات میں،گوبھی کے پھول کی طرح کے ،سخت،شگاف دار ، لمبے ، دندانے دار،ان میں سوزش پائی جاتی ہے۔چبھن والی دردیں جن میں اضافہ رات کو ہو۔اس کے اخراجات بدبودار ہوتے ہیں۔چھونے سے خون نکل آتا ہے۔موہکوں پر،چھرا گھونپنے والی اور نوچنے والی دردیں ہوتی ہیں۔ اوپر والے ہونٹ پردھونے پر مسلسل درداور خون نکل آتا ہے ۔ چھونے پر درد کرتے ہیں۔جلد کی بیرونی پرت نرم ،پتلی اور نمدارہوتی ہے۔ یہ لمبے دندانے داراوراکثر شاخ دار ،ان سے نمی خارج ہو اور آسانی سے خون نکلنے لگے ۔ ”نائٹرک ایسڈ“ میں چھلی ہوئی اندام نہانی اور آتشکی چھالہ جنسی اعضاءپر پیدا ہوتے ہیں۔حساس ٹیومر جو جنسی ہیجان کے باعث تن جاتا ہے،یوریتھرا کے دخول پرمسہ دارابھار پایا جاتا ہے۔جسم کے کسی بھی حصے میں کھپچی کا احساس ۔تکالیف میں اضافہ چھونے سے ،رات کی ٹھنڈک سے ہوتا ہے۔
RUTA GRAVEOLENS
٭-”روٹا گریولینس“ایسے موہکے جو ”پلانٹر وارٹس“ میں استعمال ہونے والی ادویات میں اس کا مقام سب سے اوپر ہے۔یہ موہکے جس کے ساتھ مسلسل دردیں ہوتی ہیں۔یہ چوڑے، ہموارہوتے ہیں۔خاص طور پر ہاتھوں کی اندرونی طرف ہوتے ہیں۔روٹا میں ٹنڈونز اور ہڈیوں کی پیر ی اوسٹم کے زخموں میں بھی ضرورت پیش آتی۔
SABINA
٭-(سبائنا)= میں انجیر نما مسے جس کے ساتھ ناقابل برداشت خارش اور جلن پائی جائے جو امراض خبیثہ کا نتیجہ ہوں۔ ایسے موہکے جو حشفہ (سپاری) پر پھوٹتے ہیں۔اس کا تعلق تھوجا اور فاسفورک ایسڈ سے ہے جگہ کے حساب سے۔دانے بکثرت نکلیں ( تھوجا ، نائٹرک ایسڈ)،جلد کے مسام سیاہ پڑ جاتے ہیں۔اس کے اندر مسّے بھی پائے جاتے ہیں۔جن سے خون بہنے کا رجحان اور جلن پائی جاتی ہے۔یہ مسے خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ان کا زیادہ تعلق رانوں اور پیٹھ کے درمیان والے حصے سے ہوتا ہے۔”سبائنا“کا مخصوص اثر رحم پر،رطوبتی اور ریشہ دارجھلیوں پر ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس کا استعمال نقرس میں ہوتا ہے۔اس کی دردیں تکونیہ ہڈی سے لے کرپیڑو(ناف سے نیچے وہ جگہ جہاں بال اُگتے ہیں) تک ہوتا ہے۔اسقاط کا رجحان ،خاص طور پر تیسرے ماہ میں پایا جاتا ہے۔نبض کی دھڑکن شدید تیز ہوتی ہے،مریضہ کھڑکیاں کھلی رکھنی چاہتی ہے۔
SEMPERVIVUM TECTORUM
٭-سمپر وائیوم ٹکٹورم=میں سینگ کی طرح مسے ہوتے ہیں یہ اس وقت ہوتے ہیں جب کسی کیڑے نے کاٹا ہو یا کوئی زخم متاثر ہو۔یہ دوا کینسر سے پہلے اور کینسر کی حالت میں ایک بہت بڑی زہر کو چوسنے والی دوا ہے۔کیڑے مکوڑوں کے ڈنگ ،زہریلے زخموں اور مسوں پر اس کے ٹنکچر کی پٹی کی جاتی ہے۔
SEPIA
٭-سیپیا=موہکوں کے علاج کی ایک مﺅثر دوا ہے ۔ اس کے موہکے لمبے ،سخت اوررنگ دار ہوتے ہیں۔ اس کو 30 طاقت میں استعمال کریں۔
SILICEA TERRA
٭-”سلیشیا ٹیرا“=کے موہکے گلے پر ،اوپر والے اعضاءپر،کمر اور کہنی سے کلائی تک نکلتے ہیں۔یہ موہکے لمبے ،گوشت والے جن سے مواد پھٹ کر بہہ نکلے۔چھونے سے حساس ہوتے ہیں۔یہ موہکے ایسے لوگوں کو نکلتے ہیں جو سکریفولیس کا مزاج رکھتے ہوں۔ اس کے مریض شور سے ، درد ، اور ٹھنڈک سے حساس ہوتے ہیں۔اس کے مریض اعصابیت کا شکار، چڑچڑے،دموی مزاج،سورک کا مزاج رکھنے والے۔ہلکے رنگ والے ، عمدہ خشک جلد،پیلا چہرہ ، کمزور ڈھیلے مسلز والے۔ایسے مریض جو نیوٹریشن کی کمی کے شکار ہوں۔یہ خوراک کی کمی اس کی کوالٹی کی خرابی کے نتیجے میں نہیں بلکہ جسم کا وہ نظام جس سے وہ ہضم شدہ خوراک کو جذب کر کے اسے استعمال میں لاتا ہے کی خرابی کے نتیجے میں ہو۔اس کے مریض میں جسمانی طور پر اور دماغی طور پر بڑھی ہوئی حساسیت پائی جاتی ہے۔اس بات کایہاں ذکر کرنا ضروری ہے تا کہ مریض اس فرق کو سمجھ سکیں کہ سلیشیا اور نائٹرک ایسڈ میں کیا فرق ہے اور دھوکا نہ کھائیں۔علم التشخیص کے مطابق سلیشیا اور نائٹرک ایسڈ میں مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے۔دونوں میں جذباتی کیفیت ایک جیسی ہے۔دونوں پتلے اور ٹھنڈے مریض ہوتے ہیں۔دونوں میں تیزابی پسینہ آتا ہے۔دونوں میں ٹیومرز ،موہکے اور فشرز پائے جاتے ہیں ۔ دونوں کے ناخنوں پر سفید دھبے۔بنیادی علامت جس سے فرق کیا جاسکتا ہے وہ نمک اور چربی ہے۔نائٹرک ایسڈ کامریض نمک اور چربی کی خواہش کرتا ہے۔جب کہ سلیشیا کا مریض نمک اور چربی سے نفرت کرتا ہے ۔ سلیشیا میں نمک سے نفرت اور چربی برداشت نہیں ہوتی۔جذباتی علامات میں فرق نائٹرک ایسڈ کا مریض تشویس میں مبتلا،دوسروں پر انحصار کرنے والا اور اس کی خواہش کرتا ہے۔جب کہ سلیشیا کے مریض دوسروں کا خیال رکھنے والے،اور نرم رویہ رکھنے والا ہوتا ہے۔
STAPHYSAGRIA
٭-سٹیفی سیگیریا=کے موہکے انجیر نما جو شاخ در شاخ کی طرح پھوٹیں ،ان میں درد ہوتا ہے۔نائٹرک ایسڈ،تھوجا کی طرح گوبھی کے پھول کی طرح کے ہوتے ہیں اور چھونے سے حساس ہوتے ہیں۔ ویجائنہ میں دانے دار افزائش کے نتیجے میں جماع کے دوران عورت کو تکلیف یا درد ہوتا ہے۔ اس کے موہکے خشک ، اعضائے تناسلی کے موہکے۔ان میں حساسیت پائی جاتی ہے۔ یہ موہکے سائیکوسس کے نتیجے میں یا پارہ کے ناجائز استعمال سے پانی کی سی پیدائشیں ہوتی ہیں۔یہ موہکے نمدار سرخ ناگوار بو والے جن کا تعلق تھوجا سے ہو۔اس میں ایک چھوٹا ساموہکہ (گندم کے دانے کے برابر) جنسی اعضاءپر اور مقعد پرظاہر ہوتا ہے ۔ چھوٹے سے زائد گوشت کی طرح کی پیدائش کے طور پرجس کو تعلق پیشاب کی وہ نالی جو مثانے میں پیشاب لاتی ہے اور اندام نہانی سے ہوتا ہے۔ اس میں حساسیت بڑھی ہوئی ہوتی ہے ۔ اگردو انگلیوں کے درمیان رکھ کر زور سے کاٹا جائے تومریض تشنج میں چلا جائے ۔خاص طور پر اگر عورت ہو۔
SULPHUR
٭- سلفر کے موہکے چہرے پر،پپوٹوں کے قریب ، اوپر والے ہونٹ پر ہوتے ہیں۔موہکے ڈھکے ہوئے ساتھ پتلی جلد کی بیرونی پرت پر ہوتے ہیں ۔اس کی جلددیکھنے میں خشک،کھردری ان میں جھریاں پڑی ہوئی اور چھلکے دار ہوتی ہے۔موہکے اور دوسری شکایات ادل بدل کر آتی ہیں ۔ موہکوں کے دب جانے سے دمہ کا پیدا ہونا ۔پتھرکی طرح کے موہکے،یہ خاص طور پر انگلیوں کے ارد گرد نکلتے ہیں۔خارش اور پھوٹ کر بہنے والی خارش یا جلدی خارش ۔جس کو کھرچنے سے بہتری آتی ہے۔غیر حقیقی وہم میں مبتلا،پرانی چیزیں،پرانے کپڑے یا چھڑی ہر چیز خوبصورت نظرآتی ہے،اور ان کو سنبھال کر رکھتا ہے۔مقعد میں سرخی،پپوٹوں میں سرخی ، جسم کے واحد اعضاءپر پسینہ ،جسم کے پچھلے حصوں پر ۔ گرمی کے کوندے آئیں۔بھاری پن، پیٹ جیسے کسی پٹی سے باندھا گیا ہے یا اس کو سپورٹ دی گئی ہے۔اس کے مریض کو بعض اوقات چیزیں چھوٹی اور بعض اوقات بڑی نظر آتی ہیں۔ایسے مریض جو سکریفولیس کا مزاج رکھتے ہوں۔رگوں میں اجتماع خون ،خاص طور پرورید جگری کے نظام میں۔ اعصابیت کے شکار ،جلدی حرکت میں آنے والے جلدی غصے میں آ نے والے،پھولے ہوئے ۔ جلدموسمیاتی تبدیلیوں سے حساس۔ ”سلفر“کا مریض انتہائی گرم خون والا،ہاتھ اور پیرگرم جن کو ہمیشہ کمبل سے باہر نکال دے۔اعصابیت کا شکار،دبلا پتلا ، اس کے مریض کے ،کندھے جھکے ہوئے وہ جھک کر چلے اور بیٹھے۔غذائیت کی کمی ،کندھے جھکے ہوئے۔اس کے مریض ایسے اٹھتے بیٹھتے ہیں جیسے بوڑھے لوگ۔ سلفر کے مریض کے لئے کھڑا رہنا،کھڑے رہنے کے لئے اس کی کوئی بھی حالت ہومشکل پیش آتی ہے۔گندا ،بدبو سے بھرا ہو جلدی بیماریوں میں مبتلا۔دھونے سے نفرت ، ہر نہانے کے بعد تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔نیند سے بیداری میں سست ،زندگی سے بیزار ہوتا ہے۔
THUJA OCCIDENTALIS
٭-تھوجا آکسی ڈینٹلس= کے موہکے کمر پر،سر کے پیچھے گردن والے حصے میں اوپر والے اعضاءپر،چہرہ ، ناک بھنوﺅں پر،آنکھوں پر ، پپوٹوں پر ،بیرونی گلے پر نکلتے ہیں۔دیکھنے میںوہ چوڑے،مخروطی شکل کے چوڑے شاخ دار،دندانہ دار پنکھے کی شکل کے نظر آتے ہیں۔تھوجا کے موہکے جسم کے کسی بھی حصے پر ہو سکتے ہیں۔ اس کے موہکے انجیر نما ،نلی نما،لمبے موہکے ایک ہی سائزکے۔ہاتھوں کی پشت پربد گوشت کی طرح کے ۔ تھوڑی پراور دوسری جگہ پرموہکے اور آتشکی چھالے ، لمبے،بیج بھرے(ایسے پھول جن کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور بیج بھر جاتے ہیں) اور شاخ دار،رسنے والے ،جن سے آسانی سے خون بہہ نکلے۔ہائیڈروجی نائیڈ ساخت کے مریض (جن کے جسم میں پانی کی مقدار زیادہ ہو اور ان کی تکالیف نمدار یا ایسے موسم میں جس میں نمی کا تناسب زیادہ ہو بڑھتی ہیں۔ نتیجے میں استسقاءاور ’ اناسارکا‘پیدا ہوتا ہے ۔ ایسی بے ضرر بیماری بے ضرر افزائیش ایسی بیماری جو سنجیدہ قسم کی نہیں ہوتی اور کوئی نقصان نہیں دیتی فلو کی طرح کی بیماری جس میں غنودگی پٹھوں میں تھکاوٹ اور تشنج ہوتا ہے ۔ ) ہوتے ہیں ۔ ایسے مریض سست الوجود جن پر گوشت چڑھاہوا ہو بال سیاہ چہرے کی رنگت سیاہ اور جلد صحت مند نہ ہو۔ اس کے اندرویکسی نیشن (چیچک سے محفوظ رہنے کے لئے ٹیکہ لگانے کا عمل ) کے بد اثرات کے نتیجے میں شگاف،مسہ یا گومڑجو مرد میں سر ذکر پر اورعورت کی فرج پریا دونوں جنسوں کے مقعد کے ارد گرد پایا جاتا ہے(ان علامات کے لئے انٹی مونیم کروڈ،گریفائٹس اور سلیشیا کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے) ۔ اعضائے تناسلی ،مقعد اور سیون کی میوکس کی سطح پر موہکے یا کنڈائی لوماٹا(آتشکی آبلہ) پائے جاتے ہیں ۔ عورتوں کے اعضائے تناسلی پر پھول گوبھی کی طرح کے بد گوشت پائے جائیں ۔گنوریا کے دب جانے سے آئی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔اس کا مریض اپنے نظریات پر بضد ہوتا ہے۔اس کے احساسات بڑے عجیب و غریب ہوتے ہیں”تھوجا“ میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ناخن دماغ میں گھسیڑے جا رہے ہیں۔مقعد میں ایسا احساس اُبلتا ہوا سکہ گزر رہا ہے۔ایسا احساس دورانِ پاخانہ مقعد ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔ ٹانگیں لکڑی کی بنی ہوئی ہیں۔جسم شیشے کا بنا ہوا ہے اور ٹوٹ جائے گا۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی زندہ چیزجسم میں چھلانگیں ماررہی ہے۔اس کا مریض سمجھتا ہے کہ وہ کمزور ہے اور وہ ٹوٹ جائے گا اور وہ ہاتھ ملاتے وقت تھوڑا سا ہاتھ ملائے گا۔ چلتے وقت بڑا سنبھل کر چلتا ہے۔ایسے جیسے ایک اجنبی شخص اس کے ساتھ لیٹا ہوا ہے۔روح اور جسم علیحدہ علیحدہ ہیں۔ایسے جیسے وہ کسی سپر طاقت کے زیر اثر ہے۔مر جانے کی خوابیں ،گرنے والا ۔ گاڑھا سبزی مائل لیکوریا ،جوڑوں سے متعلق روماٹزم یا پروسٹیٹ کی سوزش جیسی تکالیف سوزاک کے دبنے کے نتیجے میں آ تی ہیں۔ یہ دوا بطور کرانک کے کام کرتی ہے جب میڈورائینم اپنا کام کر چکا ہو ۔

ترتیب و تحقیق:
خالد محمود اعوان
فون نمبرز0332-2556942 ,
0308-2486085

اپنا تبصرہ بھیجیں