0

ہومیوپیتھی کا تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہومیو پیتھی کتاب

اصل بات یہ ہے کہ ہومیوپیتھی کو سمجھا جاسکتا ہے رٹّا نہیں لگایا جاسکتا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ لمبی چوڑی تفاصیل کی بجائے دوا کی اصلیت سمجھی اور سمجھائی جائے اور دلائل سے بات کی جائے۔ خاکسار نے اپنی دعوت عام میں یہی اصلوب اختیارکرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشک ضروری تفصیل سے گریز نہیں کیا لیکن ساتھ ساتھ اصل بات کو خلاصۃً بھی بیان کر دیا ہے۔ ہر قاری کو دعوتِ فکر بھی ہے اور اظہارِ رائے کا حق بھی ہے۔ ہومیوپیتھی زبانِ حال سے آپ سے کچھ مطالبات کر رہی ہے۔للہ اس پر غور کیجئے۔

یوں تو خاکسار نے British institute of Homoeopathy Englnd/Canadaسے ہومیوپیتھی میں ڈپلومہ حاصل کیا ہے لیکن خاکسار نے حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ (جماعت احمدیہ عالمگیر کے چوتھے سربراہ) سے ہومیوپیتھی میں خصوصی استفادہ کیا اور عمومی طور پر بعض اَور دوسرے ہومیوپیتھ ڈاکٹروں سے بھی مستفید ہوا۔افادۂ عام کیلئے کچھ تحریر بھی کیاجو حاضر خدمت ہے۔

نوٹ:خاکسار کے اس مضمون میں کچھ باتیں عام سمجھدار لوگوں کیلئے بھی ہیں اور کچھ باتیں ہومیوپیتھ ڈاکٹرز کیلئے بھی ہیں۔کیونکہ عام باتیں تو پڑھے لکھے حضرات کو سمجھ آ ہی جائیں گی لیکن کچھ باتوں کو سمجھنے کیلئے ہومیوپیتھی کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔

نوٹ:علم پھیلانا ایک بہت بڑی نیکی ہے اس لئے ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور طلباء کا یہ فرض ہے کہ وہ ہومیوپیتھی سیکھیں اور سکھائیں۔ اُنہیں اگر کسی نئی بات کا پتہ چلے تو دوسروں کو بھی بتائیں آپس میں تبادلہ بھی خیالات کریں تاکہ ہومیوپیتھی کی سائنس عام ہو جائے۔عوام و خواص اس میں دلچسپی لینے لگیں۔ جس طرح ایلوپیتھک سسٹم میں بہت Researchہوئی ہے اسی طرح ہومیوپیتھی میں بھی Researchہونی چاہئے تاکہ عوام و خواص ایلوپیتھی کی طرح ہومیوپیتھی کی بھی سرپرستی کریں۔ اگلے صفحات میں میرے دعویٰ کا ثبوت حاضر خدمت ہے۔ امید ہے میری یہ کاوش پسند آئے گی۔آپ کی رائے سر آنکھوں پر!

نوٹ:ہومیوپیتھی طریقہ علاج کا مطلب ہے کہ زہریلی چیزوں، زہروں یا دھاتوں وغیرہ کو ویسی ہی ملتی جلتی یا اسی طرح کی بیماری دور کرنے کیلئے استعمال کیا جائے جس طرح کی بیماری یہ زہریلی اشیاء خود پیدا کر سکتی ہیں اسی لئے اس طریقہ علاج کو ہومیوپیتھی یا علاج بالمثل کہتے ہیں۔ ہومیوپیتھک دوا Potency کی شکل میں دیتے ہیں Crude حالت یا زہر کی شکل میں نہیں دیتے۔

نوٹ:قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ بیماری کی تمام علامات بعینہٖ دوا کی تمام علامات سے ہوبہو ملتی ہوئی نظر آئیں تو دوا دیں گے بلکہ زہروں کی پیدا کردہ بیماریوں سے ملتی جلتی بیماریوں کا علاج ہومیوپیتھک دواؤں سے کیا جاتا ہے کیونکہ ہومیوپیتھی میں Treat Like with Likes کا اصول کار فرما ہے۔ انگلش میں اس بات کو یوں کہہ لیں

Homoeopathy means "The basic concept of treating like with likes, that is using remedies which are capable of producing SIMILAR SYMPTOMS (not the same symptom) in a healthy person to those experienced in the patient”.

نوٹ:(V.Imp) :قارئین کی توجہ کے لئے یہ بات بھی گوش گذار ہے کہ میری اس دعوت عام کا مقصدِ اعلیٰ ہومیوپیتھی سیکھنا اور سکھانا ہے۔ امید ہے کہ قاری کو وہ بات ضرور سمجھ آ جائے گی جو میں کہنی چاہتا ہوں۔

نوٹ:(V.Imp)اگر ایک طالب علم کو ابتداء ہی سے بعض آگے آنے والی مشکلات کا علم ہو جائے تو وہ بڑی گہری نظر سے مطالعہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا اور جلد بازی سے باز رہے گا۔ اس سلسلے میں اگلے صفحات میں چند مزید گذارشات بھی پیش خدمت ہیں تاکہ حقائق کی تفصیل جاننے سے پہلے مختصراً بھی ان کا تعارف ہو جائے۔

نوٹ:ایک نئے ہومیوپیتھ ڈاکٹر کیلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے پیچیدہ امراض کی بجائے آسان امراض سے علاج شروع کرے۔

نوٹ:نئے آنے والوں کیلئے آسان علاج کی پہچان اور ہومیوپیتھی پریقین بڑھانے کیلئے چند مثالیں بطور نمونہ پیش خدمت ہیں۔مثلاً سردرد کے مریض کا اگر سر بہت گرم ہو اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوں تو بیلاڈونا 200یا 1000طاقت کی ایک ہی خوراک عموماً ایسا سردرد ٹھیک کر دیتی ہے قریباً چار پانچ منٹ میں۔ دراصل خون کا دوران سر کی طرف بڑھ جائے کسی بھی وجہ سے تو شدید سردرد ہوتا ہے اور ہاتھ پاؤں اس لئے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں کہ اگر خون کا دباؤ سر کی طرف یا کسی اور حصہ جسم کی طرف ہو جائے تو باقی جسم کی طرف دورانِ خون کم ہو جاتا ہے۔

نوٹ:ایک اور مثال قابل توجہ ہے۔ خاکسار کوایک مریض کا فون آیا کہ ایک پانچ چھ سال کا بچہ سخت بیمار اور سخت تکلیف میں ہے کبھی جسم شدید گرم ہو جاتا ہے اور کبھی سخت سرد ہوجاتا ہے اسے بچوں کا بخار اتارنے والی دوااسپرووغیرہ بھی دی گئی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ میں نے Camphor 30طاقت میں دو تین خوراکیں پندرہ پندرہ منٹ بعد دلوائیں اسے شدید بخار ہو گیا۔تو پھر اسے ایک خوراک Aconite 1000طاقتکی دی گئی اور بچہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہو گیا۔

نوٹ:بچے کے والدین کو میں نے پہلے ہی سے بتا دیاتھا کہ Camphorدینے کے بعد یا بچہ ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ یا اُسے شدید بخار ہو جائے گا۔اور ایکونائٹ دینی پڑے گی جب میرے کہنے کے مطابق نتیجہ نکلا تو والدین بہت خوش ہوئے ہومیوپیتھی سسٹم پر۔

نوٹ:تحدیث نعمت کے طور پر ایک ایمان افروز واقعہ لکھتا ہوں۔ ایک مریض کو میں نے بیلاڈونا کی علامات دیکھ کر 200طاقت کی ایک خوراک دی اور کہا کہ پانچ منٹ صبر کریں۔ ٹھیک چار پانچ منٹ بعد اس کا سردرد جو کرانک تھا بالکل ٹھیک ہو گیا۔ اس مریض کو بار بار سردرد کے دورے پڑتے تھے اور وہ انگریزی دوائیں کھا کھا کر تنگ آ گیا تھا۔وہ اتنا خوش ہوا کہ اس نے مجھے Air Canada Serviceکے دو Free Pass دیئے اور کہا کہ آپ میاں بیوی جرمنی کی سیرکر کے آئیں۔دراصل Air Canadaمیں Flight Engineerہونے کی وجہ سے وہ رات کی ڈیوٹی سے تنگ آیا ہوا تھا اور نتیجتاً اسے سردرد کے دورے پڑتے تھے پھر میں نے اسے پاؤں میں Fungus کا نسخہ بھی دیا نتیجتاً اس کے دانتوں کا Infection بھی دور ہو گیا۔ اللہ اکبر بے ساختہ کہنا پڑے گا کہ ہومیوپیتھی زندہ باد۔

نوٹ:طبّی اصطلاحات یعنی Medical Terminology کا سمجھنا بھی ضروری ہے مثلاً Inflamation یا Infectionیا Septic حالت کا کیا مطلب ہے اور کیا پہچان ہے۔ Acuteحالت کیا ہے Chronic بیماری کیا ہے۔ دماغی عوارض ہیں یا جسمانی۔چوٹ لگی ہے یا کسی زہر کاحملہ ہے۔ کھانا زہریلا تھا یا کسی زہریلے جانور نے کاٹا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ:(V.Imp): دراصل بنیادِ علاج تو مریض کی علامات ہی ہیں یعنی کہ کسی بھی زہر نے کیا اثر پیدا کیا ہے۔ مریض میں کیا بیماری پیدا ہوئی ہے یا بیماری کی علامات کیا کیا ہیں یا بیماری اپنی پہچان کن کن علامات سے کراتی ہے۔ مثلاً ایک مریض یا مریضہ کو شدید چوٹ لگی ہے۔ اس کا ہاتھ کچلا گیا اور نیلا ہو گیا ہے اور ہاتھ فوراً سوج گیا ہے نتیجتاً اسے نہ صرف درد ہے اور درد سے موت واقع ہونے کا خطرہ ہے بلکہ مریضہ کا دل ڈوب رہا ہے یا مریض کا دل بند ہو کر موت کا خطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب کیا اس مریض کو چوٹ کی دوا پہلے دی جائے یا دل کی؟ ظاہر ہے دل اہم ہے۔ دل گیا تو مریض گیا۔ اسے پہلے Crataegus Q اور Aconite Q دیں گے اور وہ اس طرح کہ کریٹیگس مدرٹنکچر کے 15قطرے اور ایکونائٹ مدرٹنکچر کے ایک یا دو قطرے پانی میں اکٹھے ملا کر دیں گے تاکہ خوف کا پہلو بھی دور ہو جائے کیونکہ شدید چوٹ کا Shock یا خوف بھی ہوتا ہے دماغ پر۔ اورایک سمجھدار انسان کو مریض کی شکل و صورت یہ سب کچھ بتا دیتی ہے ۔ کریٹیگس فوراً دل کو سنبھالتا ہے اور ایکونائٹ خوف دور کرتا ہے۔ نتیجتاً فورا فائدہ ہوتا ہے۔ ایکونائٹ دل کی بھی دوا ہے فوراً دل کو Tone Upکرتی ہے۔ جب دل قابو میں آ جائے اور دماغ سے خوف دور ہو جائے تو چوٹ کی برداشت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اب آپ چند منٹ کے بعد چوٹ کا نسخہ یا دوا دیں گے۔

نوٹ:علامات کو مدّنظر رکھ کر دوا دینا ہی اصل ہومیوپیتھی ہے کیونکہ دواؤں میں بھی علاماتِ مرض کا بیان ہوتا ہے۔ مثلاً ایک مریضہ کو Radiology کے بعد بہت تکلیف ہوتی تھی۔ اس کا بیان تھا کہ جب میں ریڈیولوجی کروا کر باہر آتی ہوں تو چند منٹ کے لئے مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہزاروں مکھیاں مجھے دماغ میں ڈنگ مار رہی ہیں اور مجھے اس تکلیف سے یہ لگتا ہے کہ میں پاگل ہو جاؤں گی۔(اس نے Radiology کروانے سے انکار کر دیا۔اور کہا کہ اگر مرنا ہی ہے تو مجھے موت تو منظور ہے لیکن اس تکلیف سے مرنازیادہ تکلیف دہ ہے)۔ میں نے اسے 200طاقت میں Apis کی ایک خوراک دی۔ کجا یہ کہ مریضہ چیخ رہی تھی۔ اور ڈاکٹروں کو کوستی تھی کہ چند منٹ میں اسے مکمل سکون آ گیا۔

نوٹ:ایک اور مثال ملاحظہ کریں۔ ایک لڑکی کو ڈاکٹر نے کہا کہ تمہیں کوئی خوفناک بیماری ہے او راس کا وائرس Virusدوسروں کوبھی نقصان دے سکتا ہے اس لئے تم اسکول نہیں جا سکتیں۔ یہ احمدی بچی بڑی پریشان ہوئی۔ ڈاکٹر نے اسکول کے پرنسپل کو بھی فون کر دیا کہ یہ بچی اسکول نہیں آ سکتی اور لڑکی کیلئے دوا تجویز کر دی۔ لیکن بچی کے والدین نے ہومیوپیتھی علاج کو ترجیح دی ۔میں نے اسے یہ نسخہ تجویز کیا

Calc Flour+Calc Phos+Kali Mur+Ferr Phos+Siliceaاور Kali Phos۔ یہ تمام دوائیں بائیوکیمک6x میں دیں۔

میرے دماغ میں فلسفہ یہ تھا کہ چونکہ سلیشیا (Silicea) انسان کے دفاع سے کام لے کر بیماریوں پر قبضہ کرتا ہے اورقریباً ہرقسم کے وائرس، بیکٹیریا یا جراثیم کو ماربھگاتا ہے خواہ یہ جراثیم اندرونی ہوں یا بیرونی۔ اس لئے اصل دوا اس نسخے میں سلیشیا ہی تھی جس نے کا م کیا باقی دوائیں بطور ٹانک تھیں۔ نتیجتاً خون دوبارہ ٹیسٹ ہوا دس دن بعد تو اس بیماری کا نام و نشان نہ تھا۔ میں نے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور باقی سب نے بھی۔ اللہ اکبر

نوٹ:اب تک جو میں نے عرض کیا ہے اس کے معنی اور مطلب یہ ہے کہ ہومیوپیتھی میں گہری بصیرت کی ضرورت ہے۔ نسخہ بازی سے کام نہیں چلتا۔ ڈاکٹر کینٹ ( جس کی حضور بھی عزت کرتے ہیں اور دیگر بڑے بڑے ڈاکٹر بھی) لکھتے ہیں کہ ہومیوپیتھک طریقِ علاج سمجھا جا سکتا ہے رٹّا نہیں جاسکتا اور ان کی یہ بات قابل فہم بھی ہے۔اس لئے میں نے بھی یہ اصول سمجھ کر دوائیں دیں۔ ورنہ کسی کتاب میں یہ طریقِ علاج بطور نسخہ درج نہیں جس طرح میں نے کیا۔ میں نے ہومیوپیتھی کی وضاحت کرنے کے لئے اپنی تجربہ شدہ مثالیں دی ہیں ورنہ ہومیوپیتھی کی دنیائے علاج میں شفاکے معجزات کے ہیرے اپنی چمک سے دنیائے طب کے اعلیٰ ترین تجربہ کاروں کی آنکھیں پہلے بھی خیرہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی کرتے رہیں گے۔ اور خود ہمارے حضور نے ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں وہ کچھ اضافہ کیا ہے کہ اس کی مثال ملنا محال ہے۔ آپ نے شفا کے وہ شاندار نظارے دکھائے ہیں کہ خدا تعالیٰ سامنے کھڑا نظر آتا ہے اس لئے حضور نے ہومیوپیتھی کو ’’روحانی علاج‘‘ کا نام بھی دیا ہے یعنی ہومیوپیتھی طریقہ علاج انسان کی روح کی گہرائیوں میں اتر کر شفا لانے والا سسٹم ہے۔

نوٹ:بعض اوقات فوری فائدہ یا وقتی فائدہ کے لئے بھی دوا دینی پڑتی ہے۔ مثلاً میرے پاس ایک 80سالہ عورت لائی گئی جو آرسینک کی مکمل تصویر تھی اور کرانک مریضہ تھی اور اسے طرح طرح کی بیماریاں تھیں۔ میں نے اسے دیکھتے ہی آرسینک 100 0طاقت میں دی تو وہ فوراً سنبھل گئی (وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ میرا آخری وقت آ گیا ہے) پھر باقی علاج تجویز کیا۔ساتھ فوری طور پر Crataegus Qبھی دیا کیونکہ دل پر بُرا اثر تھا۔ اسی طرح نمونیہ کا مریض Lungs Hepatizationکے وقت Arsenic کا مطالبہ کر سکتا ہے اس پر آرسینک کی علامات چھا جاتی ہیں۔ پہلے آرسینک دیں پھر اگر Lycopodiumیا Antimonium Tart یا Phosphorusیا Sulfurکی علامات ہوں تو وہی دوا دیں جس کی علامات بیماری کے مطابق ہوں۔

نوٹ: اگلے صفحات میں آپ کو دوا یا بیماری کی واضح علامات کا ذکر ملے گا جس سے علاج میں آسانی پیدا ہوگی۔ مثلاً متلی کا ایک مریض آتا ہے وہ کہتا ہے کہ صرف متلی ہو رہی ہے اُلٹی نہیں آتی۔ اسے آپ Ipecac دیں انشاء اللہ فوراً فائدہ ہو گا وجہ کچھ بھی ہولیکن اگر مریض کہے کہ ساتھ بڑی بے چینی بھی ہے اور یہ بے چینی ڈاکٹر کو نظر بھی آتی ہے۔کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں تو اسے ساتھ آرسینک بھی ملا کر دیں یعنی Arsenic+Ipecac 30طاقت میں دیں دو یا تین خوراکیں پندرہ پندرہ منٹ بعد فوری فائدہ کے لئے۔ بعد میں ضرورت ہو تو دوسرا علاج کریں۔

اگر مریض کی حالت یہ ہے کہ اُلٹی بھی کر رہا ہے اور ساتھ بار بار ٹھنڈا پانی بھی پی رہا ہے اور چند منٹ بھی نہیں گذرتے پانی پی کر کہ اُلٹی آجاتی ہے تو اسے Phosphorus 30طاقت میں دیں فوری فائدہ ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ اگر مریض یا مریضہ مر رہی ہے اُلٹیوں کی وجہ سے اور کوئی دوا کام نہیں کر رہی بری حالت ہے معدہ کا بریک ڈاؤن ہو چکا ہے اور مردہ کی طرح پڑی ہے تو اسے Cadmium Sulf 30طاقت یا 200میں دیں۔ انشاء اللہ فوری فائدہ ہو گا۔

نوٹ:بعض اوقات دوسرے سسٹم ایسے مریضوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

نوٹ:(V.Imp) اس مندرجہ بالا بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ ہومیوپیتھی میں اُلٹی یا متلی کے نام کی بیماری کی دوا ہرگز ہرگز نہیں ہوتی بلکہ مریض کی بیماری کی علامات کی دوا دی جاتی ہے اسلئے عمومی نسخے بازی غلط ہے۔ ہاں حضور کے مجرّب نسخہ جات بھی اگر عقل سے استعمال نہ کریں تو فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ حضور بھی نسخہ جات تبدیل کرتے رہتے تھے۔ ہاں بعض نسخے عموماً فائدہ دے جاتے ہیں ۔ خصوصاًروزمرہ کی بیماریوں میں یہ عمومی نسخہ جات بہت کام کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہومیوپیتھی سسٹم کا گہرا علم ہو تو انہی نسخہ جات سے بہت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ لیکن جہاں ایک دوا ضروری ہے وہاں ایک نسخہ کام نہیں کرتا۔اگلے ابواب میں اس پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔

اب تک میں نے جو عرض کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے کچھ اصول اور قوانین ہیں صرف بیماری کے نام کی دوا نہیں ہوتی۔کہ یہ سردرد کی دوا ہے۔ یہ اُلٹی کی ہے۔ یہ متلی کی ہے اور یہ اسہال کی ہے بلکہ ہر دوا کی الگ الگ علامات ہیں کیونکہ ہر بیماری کی بھی جدا جدا علامات ہوتی ہیں۔مثلاً کسی مریض کے سر میں دائیں طرف درد ہے کسی کے بائیں اور کسی کے سارے کے سارے سرمیں درد ہے۔ کسی کے سر میں ایک نقطہ پر یعنی چھوٹی سی جگہ پر درد ہے۔ کسی کو ساتھ بھوک ہے اور کسی کا سردرد کھانے سے کم ہوتا ہے،کسی کا بڑھتا ہے۔ کسی کے سردرد میں ساتھ شدید پیاس ہے کسی میں بالکل پیاس نہیں۔وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے دوا کے مزاج اور مریض کے مزاج یا دوا او ربیماری کی علامات پر نظر رکھنا ازحد اہم ہے۔کہیں بیماری میں سردی سے افاقہ ہو رہا ہے اور کہیں گرمی سے، اس لئے ہر طرف نظر رکھنا ایک ضروری امر ہے۔

نوٹ:(V.Imp):اب میں ایک اہم بات کی طرف دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ یہ بھی ضروری ہے کہ کتابوں میں ہر بیماری کی مخصوص علامات کا ذکر کر کے اس کی دوا لکھی جائے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہر دوا کی صرف بنیادی علامات علیحدہ لکھی جائیں (اور تفصیل علیحدہ لکھی جائے)تاکہ فوری طور پر دوا کی اصلیت سمجھ آ جائے اور استعمال میں آسانی ہو۔بیشک ہر دوا کی تفصیلی علامات بھی پڑھنی چاہئیں تاکہ مزید یقین پیدا ہو اور دیگر اونچ نیچ سمجھ آ سکے۔ تاحال ہومیوپیتھک کتابوں میں اس سلسلہ میں بہت تشنگی ہے۔ زیادہ جامع و مانع تفصیلات سے بیماری اور دوا کی اصلی پہچان کروانی چاہیئے۔

نوٹ:مریض بھی طرح طرح کے ہوتے ہیں کسی کو زیادہ سردی لگتی ہے اور کسی کو زیادہ گرمی لگتی ہے۔

گرم مزاج مریض کا مطلب ہے کہ جسے گرمی سے تکلیف ہو یاگرمی سے تکالیف بڑھ جائیں

سرد مزاج مریض کا مطلب ہے کہ جسے سردی بری لگے اور سردی سے تکلیف ہو یا سردی سے بیماریاں بڑھیں

’’جلن، گرمی، ٹھنڈ‘‘

نوٹ:ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں چونکہ علامات بہت اہمیت رکھتی ہیں اس لئے ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور خود مریض کا یہ نوٹ کرنا از حد ضروری ہے کہ اس کی کیا کیا علامات ہیں۔اس لئے جلن یا گرمی اور ٹھنڈ وغیرہ بڑی اہمیت رکھتی ہیں دوا تجویز کرنے کیلئے۔(جب تک مریض پوری توجہ سے اپنی علامات نوٹ نہ کرے بڑے سے بڑے ڈاکٹر کو دوا تجویز کرنے میں دقت ہوتی ہے۔ اگلے ابواب میں مریض کو اپنی علامات بیان کرنے کے سلسلے میں بھی ہدایات دی جائیں گی)

نوٹ:بعض دواؤں /بیماریوں میں امراض کے دوران تمام جسم میں شدید گرمی لگتی ہے یا جلن ہوتی ہے یوں لگتا ہے کہ آگ لگی ہوئی ہے اور کسی میں شدید سردی لگتی ہے اور مریض کہتا ہے کہ میرا جسم برف ہو گیا ہے۔ کسی دوا میں صرف بعض اعضاء میں شدید ٹھنڈ یا گرمی لگتی ہے۔ ساتھ کچھ اور تفریق کرنے والی علامات بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے معیّن دوا ڈھونڈنے میں آسانی ہو جاتی ہے مثلاً ایک دوا میں مرض میں گرمی بھی لگتی ہے اور ساتھ پیاس بھی بہت ہوتی ہے اور دوسرے مرض یا دوا میں گرمی تو لگتی ہے لیکن پیاس نہیں ہوتی حالانکہ منہ خشک ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کسی دوا میں حرکت کرنے سے افاقہ ہوتا ہے کسی میں حرکت کرنے سے تکلیف بڑھتی ہے۔

نوٹ:اسی طرح مختلف امراض میں مختلف علامات ہوتی ہیں حالانکہ بظاہر بیماری کا ایک ہی نام ہوتا ہے مثلاً سردرد میں بہت سی علامات ہوتی ہیں۔ کسی کو سردی اچھی لگتی ہے۔ کسی کو گرمی سے افاقہ ہوتا ہے درد میں۔کسی کا سر بہت ٹھنڈا ہوتا ہے کسی کا گرم۔ کسی کو لیٹ کر افاقہ ہوتا ہے تکلیف میں حالانکہ اس کا بھی سرگرم ہے کسی کو بیٹھ کر افاقہ ہوتا ہے حالانکہ اس کا بھی سرگرم ہے حالانکہ بیماری کانام سر دردہی ہے۔

نوٹ:(V.Imp) اس لئے آئندہ جب مختلف دوائیں یا امراض سامنے آئیں گی تو تفریق کرنے والی علامات پر خصوصاً توجہ دینا ازحد ضروری ہوگا۔ صرف بیماری کے نام پر ہومیوپیتھک سسٹم میں کوئی دوا نہیں دی جاتی اور نہ دی جاسکتی ہے۔

نوٹ:(V.Imp) جب تفریق کرنے والی علامات کی پہچان کرنا آ جائے گا تو ہومیوپیتھی سمجھنا اور علاج کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔

نوٹ:بیماری بڑھنے اور کم ہونے کی وجوہات بھی مدّنظر رکھنی پڑتی ہیں مثلاً گیلے موسم یا گیلا ہونے سے تکالیف کا بڑھنا، آرام سے تکالیف کا بڑھنا یا آرام سے افاقہ ہونا یا حرکت اور چلنے پھرنے سے افاقہ ہو نا وغیرہ وغیرہ۔ ان بڑھنے گھٹنے والی علامات کو Modalitiesکہتے ہیں۔ بظاہر بیماری کا ایک ہی نام ہوتا ہے۔ لیکن بیماری کے گھٹنے اور بڑھنے کی علامات پر بھی دوا تجویز کی جاتی ہے۔

نوٹ: Phosphorusکے مریض میں جسم کے اندر جلن ہوتی ہے جگہ جگہ مثلاً معدہ، سینہ، کندھوں کے درمیان، ہتھیلیوں وغیرہ میں۔ لیکن چونکہ صرف جسم کے اندر خون کا دوران تیز ہوتا ہے نتیجتاً بیرون جسم ٹھنڈ لگتی ہے اس لئے بیرونی گرمی سے افاقہ ہوتا ہے سوائے سر اور معدہ کی تکالیف کے کہ وہاں سردی سے افاقہ ہوتا ہے جبکہ سلفر میں گرمی سے تکلیف بڑھتی ہے Mercurious Solکی طرح جبکہ Arsenic، Magnesia Phosاور Calc Phosمیں گرمی سے افاقہ ہوتا ہے دردوں کو اور دوسری تکالیف کو بھی۔لیکن ان دواؤں میں تفریقی علامات بہرحال موجود ہوتی ہیں۔

نوٹ:Phosphorusمیں یہ جلن یا گرمی کرانک ہے یعنی مریض میں یہ علامات لگاتار رہتی ہیں بار بار یہ جلن اور گرمی کی حالت آتی رہتی ہے یعنی بیماریوں میں مریض اس جلن کی شکایت کرتا ہے لیکن یہ جلن بہت زیادہ نہیں ہوتی جبکہ Cantharisمیں بھی یہ جلن ہے لیکن بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح بیلاڈونا Belladonnaمیں بھی شدید جلن ہے لیکن Acuteحالتوں میں۔ یعنی بیماری آئی اور گئی۔ دورانِ خون بڑھا یا خون کا Rushکسی عضو کی طرف وقتی طور پر بڑھ کر شدید تپکن اور گرمی پیدا کرتا ہے مثلاً بخاروں میں سر کی طرف خون کا Rushہو کر سر شدید گرم ہو جاتا ہے جبکہ Phosphorusمیں مستقل بیماری ہے۔ Opium، Gelsemium،Lachesis، Kali Carb، Pulsatillaاور Sulfurوغیرہ میں بھی جلن اور گرمی ہے۔ لیکن ساتھ امتیازی علامات/تفریقی علامات بھی ہیں جن سے یہ تمام دوائیں علیحدہ علیحدہ پہچانی جاتی ہیں Calcarea Carbمیں کبھی جسم ٹھنڈا اور کبھی گرم ہو جاتا ہے پاؤں کبھی ٹھنڈے کبھی گرم بھی ہوجاتے ہیں اندر سردی محسوس ہوتی ہے لیکن بعض اوقات ہاتھ پاؤں جلتے ہیں۔

نوٹ:ثابت ہوا کہ صرف جلن کے نام پر کوئی دوا نہیں دی جاسکتی کیونکہ جلن بہت ساری دواؤں میں ہے۔

Sulfur میں اکثر ہاتھ پاؤں اور سر کی چوٹی میں نمایاں گرمی ہوتی ہے لیکن جلد صاف ستھری نہیں ہوتی۔ عموماً جلدی بیماریاں خواہ معمولی ہوں ضرور ہوتی ہیں مثلاً جلد خشک، کھردری، کھجلی، خارش وغیرہ بلکہ سلفر میں تو ہر طرح کی جلدی بیماریاں ملتی ہیں تفصیل دیکھیں سب دواؤں کی جبکہ Phosphorusکے مریض کی جلد صاف ستھری ہوتی ہے۔اور جلن فاسفورس میں بڑی نمایاں علامت ہے۔

نوٹ:(V.Imp) :اسی لئے دوا تجویز کرنے کیلئے علامات یا بیماریوں کا ایک گروپ ہوتا ہے اگر دوا کی چند بنیادی علامات مل جائیں بیماری کی علامات سے تو دوا لازماً کام کرتی ہے۔

نوٹ:جب تک ملتی جلتی علامات یا بیماریوں میں ’علامات‘ کا فرق کر کے دوا نہ دیں گے شفا نہ ہوگی مثلاً کسی دوا میں سردی سے افاقہ ہوتا ہے کسی میں گرمی سے اور تکلیف دونوں میں ایک ہی ہے مثلاً جوڑوں کا درد اگر گرمی سے ٹھیک ہو تو دوا اورہو گی اگر سردی سے افاقہ ہو تو دوا دوسری ہو گی۔ Pulsatillaمیں بھی گرمی اور جلن ہے اور سلفر سے ملتی ہے۔ لیکن Pulsatillaمیں بیماریوں کے دوران عموماً پیاس نہیں ہوتی جبکہ سلفر میں پیاس ہے اور Pulsatillaمیں سلفر والی بھوک کی علامت نہیں۔

Kali Carbمیں ایک Spotپر گرمی اور جلن ہے باقی جسم ٹھنڈا ہوتا ہے ویسے تمام Kaliesمیں جلن ہے مثلاً Kali Bichمیں ایک انچ کے لگ بھگ Spotمیں درد اور گرمی ہے کچا پن ہے جبکہ Kali Carbمیں درد یا تکلیف کے دائرے بڑے ہیں یعنی بڑی جگہ پر جلن ہوتی ہے مثلاً چھ سات انچ کے دائرے میں تکلیف ہوتی ہے۔ Arsenicمیں بیمار جگہ پر یعنی ماؤف حصہ پر جسم میں آگ لگی ہوتی ہے اور گرمی سے ہی فائدہ ہوتا ہے ویسے Arsenic کا مریض سر دی محسوس کرتا ہے اور گرمی سے افاقہ ہوتاہے جبکہ Secale Corمیں بھی آگ لگی ہوتی ہے جسم میں لیکن مریض کو گرمی پہنچانے سے سخت تکلیف ہوتی ہے Apisمیں یہی علامت ہے کہ گرمی سے تکلیف بڑھتی ہے لیکن ساتھ تفریقی علامات بھی ہیں۔

نوٹ:Arsenic میں صرف بیمار حصہ میں آگ لگی ہوتی ہے جبکہ Secale Corمیں سارے جسم میں شدید گرمی لگتی ہے Iodumکی طرح، لیکن آئیوڈم میں ساتھ بھوک بہت زیادہ ہوتی ہے جو سیکیل میں نہیں۔ Iodum میں چونکہ غدود سوجے ہوتے ہیں جوآئیوڈم کی نمایاں علامت بن جاتی ہے۔

Lachesisمیں جو بھی تکلیف ہو سر کی طرف خون Rushکرتا ہے اور پاؤں برف ہو جاتے ہیں۔ Psorinumمیں نہ صرف پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں بلکہ سارا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے Kali Carbمیں بھی پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی ۔لیکن تینوں دواؤں میں ساتھ فرق کرنے والی علامات بھی ہیں۔ ان فرق کرنے والی علامات کو سامنے رکھ کر دوا تجویز ہوتی ہے۔

نوٹ:جو بھی دوا پڑھیں اس میں سے تفریق کرنے والی علامات پر نظر رکھیں کیونکہ بیماریاں اور دوائیں ملتی جلتی نظر آتی ہیں لیکن تفریقی اور ممتاز علامات دواؤں کو علیحدہ علیحدہ کردیتی ہیں۔

اصولِ ہومیوپیتھی

نوٹ:شفا کے لئے ہر طریقہ علاج (خواہ ایلوپیتھی ہو یاہومیوپیتھی یا کوئی بھی پیتھی ہو) مسلّمہ قاعدے کلیے ہی استعمال میں لاتا ہے لیکن طریقہ کار کا بہت فرق ہے۔ علاج کے لئے کوئی تو زہر کا استعمال اس کی شکل بدل کر کرتا ہے مثلاً زہریلی گولیوں کے اوپر کوٹنگ ہوتی ہے اور کوئی زہروں کا کشتہ بناتا ہے اور کوئی فسد کھول کر یعنی خون نکال کر انسانی سسٹم کو صاف کرتا ہے کوئی جلاب آور اشیاء سے اندرونی زہریں نکالتا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن ان سب مروجہ علاجوں کے نتیجہ میں انسانی دفاع گھاٹے میں رہتا ہے یا نفع میں اس کا فیصلہ ہر ذی ہوش انسان خود کر سکتا ہے۔ ہومیوپیتھک سسٹم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے سوفیصد نفع ہی نفع حاصل ہوتا ہے جس کی کچھ تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

ہومیوپیتھی اور جسم کا دفاع یعنی Immune System

نوٹ: ہمارا یہ بھی روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ اگر ہم جسم کے دفاع کی حفاظت کریں اور صحت کے اصول اپنائے رکھیں تو عموماً صحت برقرار رہتی ہے اور لمبی چوڑی مصیبتوں اور بیماریوں سے بچے رہتے ہیں مثلاً ترقی یافتہ دور کی خوراکیں، بودوباش کے اصلوب، طرح طرح کے بظاہر ذائقہ دار کھانے، غیرضروری محنت، کام کاج کے مصنوعی اوقات، اسلحہ کی دوڑ، جھوٹی عزت کے اصول، یا یوں کہہ لیں کہ حقیقی انسانیت کا فقدان یعنی خدا تعالیٰ کے سکھائے ہوئے طریق سے لاپرواہی کا نتیجہ بیماریاں ہی بیماریاں ہیں۔ مندرجہ بالا بیان کا ثبوت جنگل کے جانوروں کی پہلی زندگی ہے(آجکل تو ساری فضا گندی ہے) تازہ ہوا صاف و شیریں پانی صحت مندغذا نتیجتاً صحت مند جانور ہر جنگل میں دستیاب تھے یعنی سادہ زندگی کا نظارہ جنگل تھے۔ کیونکہ جانوروں کا دفاع مضبوط تھا۔ ظاہر ہے جانورتو بظاہر مہذب انسانوں کی طرح انٹی بائیوٹک اورDrugs وغیرہ کا استعمال نہیں کرتے اپنی صحت برقرار رکھنے کے لئے۔

دراصل ہومیوپیتھک طریق کاردفاع کو مضبوط بناتا ہے دفاع سے ہی کام لے کر بیماریوں کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور صرف جسم کے دفاع کو کام میں لا کراور اسے ہوشیار کرکے بیماریوں کے خلاف قدرتی اور فطرتی مقابلہ کے لئے تیار کر دیتا ہے ۔ جس جس قسم کی اور جو جو انٹی باڈیز درکار ہوں جسم خود فیصلہ کر کے وہ انٹی باڈیز تیار کر کے بیماری کو مغلوب کرتا ہے۔ جب جسم نے خود ہی اپنی بیماری کا علاج کیا (جو کہ تسلیم شدہ سائنس اور طبی حقیقت ہے کہ جسم کا دفاع بڑی سے بڑی بیماری پر قبضہ کر سکتا ہے) تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی بداثر باقی رہ جائے اور آئندہ کیلئے دفاعِ جسمِ انسانی مضبوط ترین نہ ہوتا چلا جائے اللہ اکبر، سبحان اللہ۔ یہی وہ سسٹم ہے صحت برقرار رکھنے کا جسے ہومیوپیتھی کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ خدا تعالیٰ اسے نظربد سے بچائے۔ آمین

جس طرح ہم نے ایلوپیتھی نقطہ نظر سے ثابت کیا کہ Vaccinationایک معقول طریق ہے انسانی دفاع کونہ صرف مضبوط کرنے کا بلکہ بیماریوں پر غلبہ پانے کا بھی سائنسی طریق ہے۔ اسی طرح ہومیوپیتھی طریق بھی صرف اور صرف مختلف زہروں کو کمزور ترین کر کے ہر طرح کی بیماریوں کے خلاف جسم کے دفاع کو صرف اور صرف پیغام دے کر ہوشیار کرتا ہے یعنی جگاتا ہے اور بیماریوں کے خلاف مقابلہ کیلئے تیار کرتا ہے حتٰی کہ کینسر تک کو مغلوب کر سکتا ہے بغیر کسی علاج اور دوا کے ۔ جسم کا دفاع خود مہلک ترین امراض کو عرصہ دراز تک دبائے رکھتا ہے یعنی غیر مؤثر رکھتا ہے۔اور یہ ہمارا دن رات کا مشاہدہ ہے۔ نہ جانے انسانی جسم میں کیا کیا موذی امراض چھپے ہوئے اورسوئے ہوئے ہوتے ہیں۔اور موقع ملنے پر طرح طرح کے امراض Activateہو جاتے ہیں جو پہلے Dormentتھے۔اللہ اکبر اللہ اکبر۔ یہ ہمارا قادر و توانا حکیم و خبیر اور رحمٰن خدا ہے جس نے ہماری جسمانی اور روحانی حفاظت کا اتنا شاندار و معزز انتظام فرمایا ہے کہ ایک حقیقی انسان ہر وقت خدا تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتا ہے خدا تعالیٰ کے احسانات کو مدنظر رکھ کر اور اس کے دل و دماغ سے یہ آواز آتی ہے ربِّی ربِّی انت ولیّ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر زندگی کا فلسفہ جینامرنا ، اٹھنا بیٹھنا نہایت آسان پیرائے میں بیان فرمایا ہے اور پھر یہ بڑا احسان کیا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روحانی و جسمانی صحت کو قائم رکھنے کے تفصیلی احکامات بھی دئے۔ کتنا خوش قسمت ہے فرمانبردار مسلمان( نام کامسلمان نہیں)۔

نوٹ:پچھلے صفحات میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہومیوپیتھک سسٹم میں جب تک کچھ اصول اور قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کی جائے مکمل شفا کی امید نہیں کی جاسکتی ہاں جزوی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ایک دوا سے یا نسخہ جات سے۔کیونکہ دوا میں طاقت ہے اثر دکھانے کی۔ اس لئے دوا کا استعمال اور دوران علاج اونچ نیچ پر پورا عبور ہونا بھی ضروری ہے۔

نوٹ :دراصل ہومیوپیتھک دوائیں اس لئے بھی انسان پر مؤثر ہیں کہ کائنات کا خلاصہ انسان ہے اور کائنات کی ہر چیز کا کچھ نہ کچھ حصہ انسان کی تخلیق پر ضرور خرچ ہوا ہے اسی لئے ان چیزوں کی تاثیر انسان میں ضرور ہے اور ہومیوپیتھی Potentisationکے عمل کے ذریعہانہی چیزوں سے دوائیں بناتی ہے ۔ اسی لئے ہومیوپیتھک دوائیں بڑی مؤثر ہیں۔

نوٹ : ہومیوپیتھک دوا میں اصل زہر کا نام و نشان تک نہیں ہوتا اور پھر بھی کام کرتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا کے اندر جوایک لطیف ترین اثر ہے وہ اتنا لطیف ہے کہ اسے بیان تو نہیں کیا جاسکتا بلکہ سمجھا جاسکتا ہے لطیف ترین احساس اور باریک بین عقل کے ذریعہ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ہمارے کثیف ترین جسم کے اندر ایک ہی لطیف ترین چیز ہے جسے روح یا Spirtکہتے ہیں جو ہومیوپیتھی دوا کا پیغام سمجھ کر ردعمل دکھاتی ہے اور ہمارا Immune Systemکام کرنے لگتا ہے یا Defence Systemکہہ لیں۔

نوٹ:بعض اوقات ایک دوا دینے سے دوسری دوا کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔ یعنی بعض بیماریاں ٹھیک ہو جائیں گی علاج سے اور بقیہ چھپی ہوئی بیماریاں نظر آتی جائیں گی۔ کیونکہ انسانی جسم کی مشینری بڑی پیچیدہ ہے جسم کے اندر کیا کچھ ہو رہا ہے کیا کیا چھپا ہوا ہے اس کی تفاصیل کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ اس لئے ہومیوپیتھک دوائیں کئی طرح سے کام کرتی ہیں۔ بیماریاں نہ صرف ٹھیک کرتی ہیں بلکہ چھپی ہوئی بیماریاں ظاہر بھی کرتی ہیں۔

نوٹ V.Imp:چونکہ ہومیوپیتھی میں Treat like with likesکا اصول کارفرما ہے اس لئے علاج کا بڑا وسیع دروازہ کھل جاتا ہے۔ اسی لئے ہومیوپیتھی کی دنیا میں یہ کہاجاتا ہے کہ ہر ہومیوپیتھ اپنا اپنا اور علیحدہ علیحدہ مٹیریا میڈیکا بنا رہا ہے یہ بات نہ صرف غور طلب ہے بلکہ اسے مثالوں سے واضح کرنا بھی ضروری ہے۔پچھلے صفحات میں اس کی چند مثالیں دی جا چکی ہیں کچھ مثالیں آئندہ صفحات میں بھی لکھی جا رہی ہیں۔

نوٹ:ہومیوپیتھک دوائیں کیوں اور کیسے کام کرتی ہیں اس اصول کو واضح اور نہایت عام فہم کرنے کیلئے ایک مثال کو لیتے ہیں۔ ایک مریض جس میں Active Aidsتھی اسے دوا دی گئی CM طاقت میں ڈاکٹروں نے لکھ کر Certifyکیا کہ ایڈز کے جراثیم جسم میں موجود ہیں مگر مفلوج ہیں غیر ضرر رساں ہیں ایڈز کے کوئی بداثرات نہ مریض میں نہ اس کی اولاد میں جانے کا کوئی خطرہ باقی ہے اور پھر اس مریض کی اولاد بھی ہوئی جس میں کوئی بداثر ایڈز کا نہ تھا۔

نوٹ:مندرجہ بالا مثال کے تعلق میں اب تحقیق طلب کام یہ ہے کہ کیا کولسٹرول،شوگر، وجع المفاصل کی بیماریوں سے بھی دوا کا یہی سلوک ہے؟ سائنٹفیک جواب تو یہی ہے کہ ہاں۔

نوٹ:مندرجہ بالا مثال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہومیوپیتھک پوٹینسی جس میں اصل دوا یا زہر کا سایہ تک بھی نہیں ہوتا کس طرح کامیاب حملہ کرتی ہے اپنے دشمن پر۔ اس کا نمبر 1جواب یہ ہے کہ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ جو چیز وجود میں آ جائے ایک دفعہ اسے خواہ کیسے بھی مٹانے کی کوشش کی جائے وہ کبھی بھی ختم نہیں ہوتی کلیتاً بلکہ اس کی ایک موہوم سی یاد ضرور رہ جاتی ہے کائنات میں۔ ایک آواز کی ہی مثال لے لیں وہ مدھم تو ہوتی چلی جائے گی لیکن ختم نہیں ہوتی اور اگر کوئی اعلیٰ Recicverہو تو ایسی مدھم آواز پکڑ سکتا ہے وغیرہ وغیرہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہومیوپیتھک دوا یا پوٹینسی خواہ کتنی بھی ہلکی ہو اس میں اصل اثر کچھ نہ کچھ ہوتا ضرور ہے جو محض ایک پیغام کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ نمبر2سوال یہ ہے کہ اس پیغام یا ہلکے ترین اثر یا لطیف ترین Remedyکا اثر کونسا آلہ یا مشین سمجھ سکتی ہے یا قبول کر سکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی لطیف ترین مشین یا وجود یا حساس ترین وجود ہی اس لطیف ترین اثر یا پیغام کو سمجھ سکتا ہے اور وہ انسان کا اپنا لطیف ترین اور حساس ترین نظام دفاع یا Auto Immune Systemہی ہے ۔

V.Imp: ہومیوپیتھک دوائیں معلوم نامعلوم وجوہات دونوں کو Cover کرتی ہیں یعنی علامات جو نظر آ رہی ہیں اور جو بیماریاں نظر نہیں آ رہیں دونوں کا علاج کرتی ہیں۔

نوٹ :ہومیوپیتھک Potencyیا ہومیوپیتھک Potentised Remediesچونکہ مادی وجود ہی نہیں رکھتیں اسلئے اسے کوئی مادی چیز یا وجود سمجھ ہی نہیں سکتی (اور جب اس دوا میں اصل زہر یا اصل زہر کاکوئی شائبہ تک ہی نہیں ہوتا تو اس کا کوئی اچھا یابُرا اثر مرتب کرنا انسانی جسم پر بعید از قیاس ہے یعنی Side Effectsیا Bad Effectsہو ہی نہیں سکتے دوسری دواؤں کی طرح۔ کیونکہ دوسری تمام دواؤں میں اصل زہر یا اصل دوا مادی طور پر یا Crudeحالت میں موجود ہوتی ہے اور پھر ان کے اچھے بُرے اثرات ہم روزمرہ زندگی میں محسوس بھی کرتے ہیں۔ کتابیں بھری پڑی ہیں ان تفاصیل سے۔ جہاں تک ہومیوپیتھی Potentised Remediesکا تعلق ہے تو وہ صرف Auto Immune Systemیعنی انسانی خود کار نظام کو پیغام دے دیتی ہیں کہ کچھ کرو کیونکہ جسم پر کوئی حملہ ہوا ہے اندرونی یا بیرونی اسلئے اسے سمجھو اور ضرورت کے مطابق Anti Bodiesتیار کرو( اور یہ صلاحیت چونکہ موجود ہے پہلے ہی سے جسم میں) نتیجتاً دفاع کا نظام خود بخود قدرتی طور پر وہی کرتا ہے جو ضروری ہے اپنے دفاع کیلئے (جیسے جانوروں کا مضبوط دفاع خود بخودطرح طرح کی بیماریوں پر بغیر دوا کے قابو پا لیتا ہے) وہ لطیف ترین نظام جسے یہ صلاحیت ہے کہ وہ لطیف ترین پیغام یا ہومیوپوٹینسی کا اثر قبول کرے وہ پہلے ہی سے انسانی جسم میں موجود ہے جس کا ایک نام روح ہے(جسے طبی دنیا میں نظام دفاع یا Vital Forceوغیرہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے) اسی لئے ہومیوپیتھی کو روحانی نظامِ شفا کا نام بھی دیا جاتا ہے اور دیا جاسکتا ہے۔ ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں یا کینسر جیسی مہلک بیماریوں میں جب شفا ہوتی ہے تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ضرور ہومیوپیتھی کا لطیف ترین اثر یہ صلاحیت اپنے اندر لازماً رکھتا ہے کہ روح جیسی لطیف ترین چیز تک بھی پہنچ سکے اور اگلا ثبوت یہ ہے کہ روح اس پیغام کو سمجھ کر ضرور حرکت میں آتی ہے اور شفا کے مراحل تیزی سے طے کرواتی ہے بغیر کسی نقصان کے۔

نوٹ: ہومیوپیتھی یادداشت کانام ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ایک دفعہ ہوجائے اس کو کوئی کالعدم نہیں کر سکتا جو تم نے دنیا میں کیا ہے اس کی گواہیاں تمہارا جسم چمڑا، ہاتھ وغیرہ دیں گے۔ انسان بھی Finger Printلیتا ہے۔ ہومیوپیتھک دوا میں بھی اصل کی ایک یادداشت رہ جاتی ہے یا Printکا نشان رہ جاتا ہے جو صرف جسم کا دفاع محسوس کرتا ہے یعنی روح کی لطافت ہومیوپیتھی کے پیغام کو سمجھتی ہے اللہ اکبر۔ ثابت ہوا کہ لطیف سے لطیف تر چیز زیادہ طاقتور ہوتی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کی لطافت کا تصور ہی ناممکن ہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس لئے ہومیوپیتھی روحانی نظام ہے جو Geneticتبدیلی کر سکتا ہے۔

نوٹ :اصل بات یہ ہے کہ اگر روح کو صحیح پیغام ملے گا تو وہ ضرور کاروائی کرے گی ورنہ جتنی چاہیں Potentised Remediesدیتے چلے جائیں کوئی فائدہ نہ ہوگا خواہ اونچی طاقت میں دیں یا نیچی طاقت میں۔

نوٹ :قرآن کریم بھی ہومیوپتھی کی اسی طرح تائید کرتا ہے کہ قیامت کے دن جلد ، ہاتھ پاؤں، آنکھیں، زبان ہر چیز گواہی دے گی بول پڑے گی کہ فلاں فلاں وقت اس شخص نے یہ یہ کام کیا تھا یعنی جو ایک دفعہ ہو گیا اس کی چھاپ نقش ہو گئی وجود انسانی پر ، خدا تعالیٰ اس نقش کو ابھار کر یا طاقت دے کر کھڑا کر دے گا کہ گواہی دو او رمجرم حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا ’’مَا لِھٰذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصاھا۔ حٰم سجدہ 22 اوردوسری آیات بھی اس مضمون پرروشنی ڈالتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ جس نے پیدا کیا ہے اس نے ہر طرح کے ثبوت مہیا کرنے کے پہلے ہی سے سارے بندوبست کررکھے ہیں ۔ ہومیوپیتھی اسی بندوبست سے فائدہ اٹھاتی ہے اسی خدا کے اصول کے مطابق ہومیوپیتھک دوا کی Potentised طاقتیں اپنے اندر جو موہوم سا اثر رکھتی ہیں (بظاہر اثر مٹ چکا ہوتا ہے دوا کا لیکن ایک یاد سی رہ جاتی ہے دوا کی۔ طبی اصطلاح میں اسے Memory Printکہتے ہیں) اور روح انسانی اسے سمجھ جاتی ہے یعنی اسے ابھارکر اور طاقت دے کر ساری بات سمجھ جاتی ہے (جس طرح Receiverکے Amplifierکام کرتے ہیں)کہ یہ کیاپیغام ہے اور پھر اسی کے مطابق عمل کرتے ہوئے شفا مہیا کر کے ہومیوپیتھی سسٹم کی سچائی پر مہر لگا دیتی ہے۔ ہومیوپیتھی کا نظام شفا اسی لئے روحانی نظام کہلاتا ہے ۔

نوٹ :انسانی جسم کو جب عام ڈاکٹر دیکھتا ہے چیک کرتاہے تو اس کی رسائی مادی اعضاء تک ہی ہو سکتی ہے اس لئے وہ مادی ذرائع استعمال کر کے تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے کہ اس مرض کاعلاج نہیں جبکہ یہ ماننے کے سوا چارہ ہی نہیں کہ روح ایک بالا ہستی ہے جو اس مادی نظام پر غالب ہے جو غیر مادی پیغام بھی سمجھ سکتی ہے اور ہومیوپیتھی کے نظام نے یہ بات ثابت کر دی ہے۔

نوٹ:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ ہمارے دفاع اور ہر حرکت پر روح کا پہرہ ہے اور کوئی حرکت روح کی مرضی کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ اللہ اکبر

اگر دفاعِ جسم ہر چیز کا ردعمل دکھائے تو خواہ وہ Crudeہو یا Potentisedحالت تو جسم جھٹکے کھا کھا کر ختم ہو جائے یا عذاب ہی محسوس کرتا رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے جسم کی حفاظت کا انتظام کیا ہوا ہے کہ بے وجہ روح Exciteنہ ہو اللہ اکبر ۔ اور وہ اس طرح بھی کہ فضا میں بے شمار زہریں ہیں جو ہم سانس کے ذریعہ اندر لیتے ہیں نمک کھا رہے میٹھا کھا رہے جراثیم اند رجا رہے دنیا جہان کی چیزیں کھاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ Crudeحالت میں ہوتا ہے اسی لئے جسم ردعمل نہیں دکھاتا(جب تک کہ پوٹینسی کی شکل میں اسے پیغام نہ دیا جائے) حالانکہ جوکچھ ہم کھا رہے ہیں یا سانس کے ذریعہ اندر جا رہا ہے وہ سب پیغام ہی توہیں جسم کو لیکن چونکہ طاقتور اور Potentizedپیغام نہیں ہیں اور لطیف پیغام بھی نہیں ہیں اس لئے جسم ردعمل نہیں دکھاتااور نہ دکھا سکتا ہے مثلاً نمک (Table Salt) ہم دن رات کھاتے ہیں لیکن جسم کو کوئی پیغام نہیں ملتا اور نہ ہی جسم کوئی ردعمل دکھاتا ہے اور اگر یہی نمک مریض کو Potentiseکر کے دیا جائے تو پاگل پن کی شفا کا بھی موجب ہوجاتا ہے۔ یہ ہے فرق Potencyکا اور عام دواؤں کا جو Crudeہیں

نوٹ :دراصل ہومیوپیتھی مادی نظام شفا ہے ہی نہیں۔ اسی لئے اس کو روحانی نظام شفا کہتے ہیں۔ کیونکہ جب ہم ہومیوپیتھی پوٹینسی تیار کرتے ہیں تو صرف 15طاقت بلکہ اس سے بھی کم طاقت میں اصل زہرکا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ اگر ہم لاکھ طاقت (CM) پر غور کریں تو اس کی مثال یوں بنے گی کہ ایک قطرہ ساری کائنات کے ذروں میں پہلے گھول دیں یا ملا دیں اور پھر ایک قطرہ یا ذرہ اٹھا لیں تو وہ ہومیوپیتھی CMطاقت کی دوا بنے گی اور اس لطیف ترین شے کو صرف انسانی روح ہی سمجھ سکتی ہے جسم کے بس کا روگ نہیں۔روح کومادی شے نہیں بلکہ مادے سے متعلق ہے۔

نوٹ:دماغی Computerمیں جب خرابیاں پیدا ہوں تو ان کی وجہ کچھ زہر ہوتے ہیں اور ہومیوپیتھک دوائیں صرف ایک Message ہیں دماغ کو کہ تمہار ے اس نظام میں فلاں جگہ خرابی معلوم ہورہی ہے اور اگر ہومیوپیتھی واقعتا کوئی پیغام ہو (اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہومیوپیتھک دوا حقیقتاً ایک بہت طاقتور پیغام ہوتا ہے جسے دماغ فوراً سمجھ لیتا ہے) تو دماغ کے Computerکے اندر چونکہ Self Repairکا نظام موجود ہے اس لئے دماغ یہ تمام خرابیاں خودبخود ٹھیک کرتا ہے(آجکل تو جاپان میں بھی ایسے Computerایجاد ہو چکے ہیں جن کے اندر Self Repairکا خود کار نظام موجود ہے بے شک ابھی زیادہ وسیع طور پر نہیں (جبکہ امریکہ اس کے قریب تک بھی نہیں پہنچا ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کے Computerمیں ہر طرح کی Repairکا انتظام رکھا ہے جس کی تفصیل Mind Bogglingہے۔ ہر دوا جس کی جسم کو ضرورت ہو وہ ہومیوپیتھک پیغام کے جواب میں خود بخود نظامِ دفاع بناتا ہے۔

نوٹ:Defence Systemاور Auto Immune Systemوغیرہ کو اچھی طرح سے سمجھنا اسلئے ضروری ہے تاکہ ایک ہومیوپیتھ ڈاکٹر کو جب پتہ چل جائے کہ ہمارے جسم میں Self Repairکا بندوبست پہلے سے ہی موجود ہے تو اب ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر منطقی طور پر مجبور ہے کہ وہ دوا کے ذریعے صحیح پیغام پہنچانے کی پوری پوری کوشش کرے۔اورصرف نسخے بازی سے حتی المقدور پرہیز کرے۔ اور اگر نسخہ بھی دے تو گہری سوچ کے بعد دے۔ (ہاں لاپرواہ اور غیر ذمے دار لوگ پھر بھی موجود رہیں گے ہومیوپیتھک دنیا میں جو من مانی کرتے رہیں گے)

نوٹ: ہومیوپیتھی خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے مثلاً اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جویہ فرماتا ہے کہ کیا پودے تم اگاتے ہو(انسان تو مٹی میں بیج ڈالتا ہے اور باقی سارا کام خدا تعالیٰ کا قانون کرتا ہے) اسی طرح ہومیوپیتھی کا کام صرف پیغام دینا ہے سوچ سمجھ کر باقی کام خدا تعالیٰ کا نظام کرتا ہے۔ اللہ اکبر

نوٹ: اور جس دفاعی نظام یعنی ردعمل سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں ہومیوپیتھی کی ادویہ سے اس Immune Systemکے بعض پہلوؤں کی بڑے بڑے ماہرین کو (جو دفاعی نظام کے چوٹی کے ماہر ہیں) بھی سمجھ نہیں آئی آج تک۔ مثلاً اتنا مکمل ، گہرا اور مضبوط اور مربوط دفاعی نظام کیسے کام کرتا ہے اس لحاظ سے کہ انسان پر اندرونی اور بیرونی لاکھوں حملے ہو رہے ہیں دن رات اور دفاع بعینہٖ ہر حملہ کے خلاف مطلوبہ Anti Bodiesعین وقت پر تیار کرتا ہے اور بیماری پر قابو پالیتا ہے ان انٹی باڈیز کے ذریعہ۔ اگلی بات ان ماہرین کے لئے یہ حیران کن ہے کہ وہ بے شمار کارخانے جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں جسم انسانی میں کس طرح جب ضرورت ہو تو متحرک ہو جاتے ہیں اور عموماً خاموش رہتے ہیں کیونکہ اگر ہر وقت یہ کارخانے حرکت میں رہیں تو جسم انسانی کی انرجی اتنا بوجھ برداشت کر ہی نہیں سکتی وغیرہ وغیرہ (اگر دفاعِ جسمِ انسانی کا گہرا مطالعہ کیا جائے موجودہ اعلیٰ سائنسی حوالوں سے تو انسانی عقل کی کم مائیگی اور انسانی سوچ کی خامیاں زبان زدعام ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مشینری کا معلوم علم صرف حروف ابجد تک ہی نظر آئے گا۔ اللہ اللہ )

نوٹ:اسی لئے ہومیوپیتھی میں بظاہر کسی ایک نظر آنے والی بیماری یا بیماریوں کا علاج نہیں ہوتا بلکہ مجموعی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مریض کی مجموعی طورپر کیا حالت ہے مثلاً میرے پاس ایک ایسا ہی مریض لایا گیا میں بہت پریشان ہوا کہ اس کی کیا دوا ہو سکتی ہے اللہ تعالی سے دعابھی کی اور غور بھی کیا تو پہلی بات جو نظر آئی اور سمجھ بھی آئی کہ یہ جسمانی لحاظ سے بہت گندا مریض ہے اور بدبوبھی نمایاں تھی وغیرہ وغیرہ سو میں نے اسے Infectionکاعمومی نسخہ دیاجو یہ ہے Ferr Phos+Calc Flour+Kali Mur+Kali Phos+Silicea 6xبائیوکیمک میں تو چند دن میں ہی اس کی کایا پلٹ گئی ۔پھردوسری علامات کے مطابق دوا دی تو بہت نمایاں فائدہ ہوا۔

اصول شفا اور جسم کا دفاع

نوٹ : اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو اپنے دفاع کی زبردست طاقت دے رکھی ہے دن رات طرح طرح کے وائرس، فضا میں پھیلے ہوئے زہریلے اثرات (مثلاً تابکاری یعنی ریڈیائی اثرات وغیرہ) انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں لیکن انسانی دفاع خودبخود محترک ہو کر ان کا اثر زائل کر دیتا ہے۔ اصولاً تو ہر بیرونی چیز کا مقابلہ کرتا ہے انسانی جسم چاہے خوراک ہو یا کوئی زہر(ابارشن کا مضمون پر غور کریں)لیکن اگر حملہ بہت بڑا ہو تو پھر دفاعِ انسانی مغلوب ہو جاتا ہے اور اگر دفاع کو کسی ذریعہ سے متحرک کر دیا جائے تو بڑے سے بڑے حملہ آور( یعنی بیماری کو) کو شکست دینے کی اہلیت رکھتا ہے مثلاً اصولاً انسانی جسم کو کھانے کابھی مقابلہ کرنا چاہیئے اسے قبول نہیں کرنا چاہیئے قے کر دینی چاہیئے (اسی لئے جب جسم خوراک قبول نہیں کرتا تو اُلٹی وغیرہ کر دیتا ہے ) لیکن چونکہ کھانا پینا بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے جسم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اسی لئے کھانا جسم میں ٹھہر جاتا ہے حالانکہ اصولاً جسم ہر کھانے کو بیرونی حملہ ہی تصور کرتا ہے لیکن مقابلہ کی سکت نہیں رکھتا۔ اس کو واضح کرنے کیلئے ایلوپیتھی کے نظامِ Vaccination کی مثال لیں مثلاً چیچک کے طاقتور جراثیم اگر کسی کے جسم میں چلے جائیں تو وہ انسان بیمار ہو جاتا ہے جسم مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ بہت طاقتور اور بہت بڑا حملہ ہوا ہے جسم پر اور جسم آناً فاناً مغلوب ہو کر رہ گیا ہے لیکن اگر Vaccinationکے طریقہ کار کے ذریعہ ان چیچک کے جراثیم کو نہایت کمزور کر کے جسم میں داخل کیا جائے تو دفاعِ انسانی فوراً اس پیغام یا حملہ کا مقابلہ کرتا ہے اور اگر جسم میں پہلے سے ہی چیچک کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو تو اسے بھی ختم کر دیتا ہے( یعنی جب ایک دفعہ دفاع مقابلہ کیلئے اٹھ کھڑا ہو تو پھر بڑی بیماری کو زیر کر لیتا ہے یہ مانا ہوا اصول ہے)اور جسم کے اندر چیچک کے خلاف ایک مضبوط دفاع بھی قائم کر دیتا ہے اسی کو آپ Immunisationکہتے ہیں یعنی Freedom from risk of Infection اللہ اکبر۔

نوٹ:بیماریوں کو اکھیڑ پھینکنا علاج نہیں مثلاً آپریشن سے ٹانسلز گلے کے غدود نکال دینا، پتہ کی پتھری نکال دینا، رحم کے غدود وغیرہ۔ جب تک جسم کے ردعمل سے کام لے کربیماری کو جڑھ سے نہ اُکھیڑا جائے بیماری دور نہیں ہوتی۔

نوٹ: اس لئے لوگوں کے تجربہ پر بھی غور کریں اس سے فائدہ اٹھائیں لیکن خود غور کرنے کی عادت ڈالیں اور نئے نئے تجربات کریں قطع نظر اس کے کہ بڑے بڑے ڈاکٹر کیا کہتے ہیں بڑوں کی ضرور سنیں لیکن اپنا ذہن بند کر کے نہیں بلکہ کھول کے ۔ تمام سمجھدار لوگ اکثر تجربات کرتے ہیں اور نئے نئے فوائد بھی دریافت کرتے ہیں لیکن خوامخواہ ضد نہیں کرتے کہ ضرور کامیابی ہو گی اس لئے مریض کو لٹکائے نہیں رکھتے بلکہ کوشش کرتے ہیں اور پھر اپنی ہار ماننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے بلکہ دوسرے ڈاکٹروں کو موقع دیتے ہیں خواہ ایلوپیتھک ہو یا ہومیوپیتھک۔

نوٹ: Carbovegدیکھیں دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے۔ Siliceaدیکھیں ردعمل کو سمجھنے کیلئے ۔

دواؤں کی پروونگ Proving Of Medicines

نوٹ : Provingاگر چھوٹی طاقت مثلاً 6-7پوٹینسی میں ہو تو اس کا اثر جلدی ختم ہو جاتا ہے اونچی طاقت کا اثر لمبا ہوتا ہے جو خطرناک ہے۔

نوٹ :انسانی جسم کا قدرتی نظام ہومیوپیتھک پوٹینسی کانہایت لطیف پیغام سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے مثلاً 6xطاقت ایک گرین کادس لاکھواں حصہ ہے ۔

نوٹ : ہومیوپیتھی کیسے کام کرتی ہے یہ سوال بڑا اہم ہے۔ اسے سمجھے بغیر نہ تو معالج مطمئن رہ سکتا ہے اور نہ ہی مریض تسلی پاسکتا ہے۔ ہومیوپیتھک طریق علاج میں بھی وہ سب دوائیں یا زہریں استعمال ہوتی ہیں جو دوسری طب میں ہوتی ہیں( دوا کو زہر اسلئے کہنا پڑتا ہے کہ دوسرے طریقہ ہائے علاج میں وہ تمام زہریں جو دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہیں بے شک نہایت تھوڑی مقدار ہی میں دیتے ہیں مریض کو لیکن دیتے اصل زہر کی صورت میں ہی ہیں یعنی Crudeشکل میں استعمال ہوتی ہیں یہ زہریں جن کو دوا کا نام دیا جاتا ہے مثلاً Sulfurکا زہر یا سلفر کو اپنی قدرتی حالت میں بعض انٹی بائیوٹک دواؤں میں استعمال کیا جاتا ہے جن کو Sulfur Baseدوائیں کہا جاتا ہے۔ نتیجتاً اس کے بہت سے بداثرات ظاہر ہوتے ہیں مثلاً جگر پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے اسی طرح گردے وغیرہ پر بھی بداثر پڑتے ہیں) لیکن انہی زہروں کوہومیوپیتھی میں اتناہلکا کر دیا جاتا ہے کہ ہومیوپیتھک دوا یا پوٹینسی میں اصل زہر کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ نتیجتاً یہ ہلکا زہر شفا کا پیغام تو لاتا ہے لیکن بداثر کا کوئی شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ ہومیوپیتھی میں اس شفا کے نظام کو یقینی بنانے کے لئے Provingکے نظام کو کام میں لایا گیا ہے پہلے Provingکا طریق کار سمجھ لیں پھر دوسری تفاصیل سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

نوٹ : ہمیں معلوم ہے کہ جب کوئی زہر ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے تو اس کے بداثرات مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں مثلاً چیچک کا زہر یا جراثیم چیچک کی بیماری پیدا کر دیتے ہیں صحت مند جسم میں وغیرہ وغیرہ اور جسم کا دفاع کچھ بھی نہیں کر سکتا( تفصیلات کے لئے دیکھیں جسم کا دفاع یعنی Immune System)

نوٹ : بعض دواؤں کے پروونگ کے بعد بداثرات مستقل بھی رہ گئے تھے مثلاً Lachesisاور Lycopodiumکی پروونگ کے بداثرات لیکن جان لیوا ثابت نہیں ہوئے۔جبکہ اگر اصل زہر دیا جائے تو Fatal ہو سکتا ہے۔

نوٹ : ایک طرف تو ہومیوپیتھی کا اصول یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں بداثرات نہیں دوسری طرف اگر Kali Phos 6xکو با ربار لمبا عرصہ دیں تو موت تک واقع ہو جاتی ہے پتہ چلا کہ ہومیوپیتھی کا غلط استعمال بہرحال نقصان دہ ہے۔ اور یہ جاننا ضروری ہے کہ کیوں کالی فاس 6xمیں اتنی خطرناک ہے (بلکہ یہی اصول ہر دوا کیلئے کارفرما ہے)

نوٹ: یہ بالکل ضروری نہیں کہ ہر دوا کی تمام علامات ایک ہی مریض میں ملیں ساری کی ساری دوا کا مریض نہیں بنتا عموماً کوئی انسان لیکن جو بھی علامات کسی دوا کی کسی مریض میں ملتی ہیں وہ بعینہٖ اسی طرح ملتی ہیں جس طرح Proversنے بیان کی ہوتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ Proversنے بڑی دیانت داری سے اپنے اوپر Provingکروائی تھی اور بڑی سچائی سے وہ سب کچھ بیان کیا جو انہوں نے دوا کھانے کے بعد اپنے اندر محسوس کیا جس سے ہمارے ایمان کو ہومیوپیتھی کے متعلق تقویت ملتی ہے کہ ہومیوپیتھی ایک حقیقی سائنس ہے۔

نوٹ:Kali Phos 6xکا مطلب یہ ہے کہ ایک گرین کالی فاس کا دس لاکھواں حصہ۔ اب اگر کالی فاس 6x سو سال تک بھی دی جائے تو جسم میں کالی فاس بڑھ نہیں سکتی بظاہر اصولاً عقلاً۔ آخر ہوا کیا ہے کہ کالی فاس موت کا پیغام لا سکتی ہے اس کو سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل نقاط ذہن نشین کرنا ضروری ہیں اور بنیادی طور پر Provingکا سسٹم ہی ہماری مدد کرے گا۔

Proving :پروونگ کا طریق اس لئے ایجاد ہوا ہومیوپیتھی میں کہ زہروں کے اصل اثرات معلوم کئے جائیں(ویسے زہروں کے مضر اثرات انسان کو پہلے سے بھی معلوم تھے) لیکن محدود طریق سے۔

نوٹ:یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ جب کوئی زہر جسم میں داخل ہو تو اپنا مثبت اثر ظاہر کرتا ہے مثلاً چیچک کا زہر چیچک کی بیماری(یعنی چیچک کی علامات) ہی لائے گا صحت مند جسم میں۔ ہیضہ ہیضہ پیدا کرے گا اور سل کا زہر سل کی بیماری پیدا کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ اور وہ اس طرح کہ جسم میں مثلاً چیچک کی علامات بھی ظاہر ہو ں گی اور نمبر 2چیچک کا زہر بھی جسم میں پھیل جائے گا یا بڑھ جائے گا۔ Kali Phosکا زہر دیں گے تو جسم میں اس زہر کی بیماری کی علامات کے علاوہ Kali Phos (جو ایک نمک ہے Saltہے) کی مقدار بھی بڑھ جائے گی۔ زہر کے مثبت اثر کی وجہ سے۔

نوٹ : اس مندرجہ بالا سائنسی طریق کی روشنی میں اب ہم ہومیوپیتھی طریقِ پروونگ کو سمجھتے ہیں تاکہ ہومیوپیتھک دواؤں کے فوائد بھی واضح ہو جائیں (ہومیوپیتھک دواؤں کے صحیح استعمال کی وجہ سے) اور ہومیوپیتھک دواؤں کے غلط استعمال کی وجہ سے جو نقصان ہو سکتا ہے اس کی وجہ بھی سمجھ آ جائے صرف نقصان ہی کا نہ پتہ چلے۔

نوٹ :جن زہروں کو پروونگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ان زہروں کے معلوم اثرات پہلے ہی سے ریکارڈ میں ہیں۔ مثلاً Aconiteزہر کا اثر یہ ریکارڈ تھا کہ اس کے زہر سے خوف پیدا ہوتا ہے اچانک۔ جب پروونگ کی گئی تو خوف کی علامت ثابت ہو گئی بلکہ کچھ اور علامات بھی ثابت ہوئیں۔

نوٹ : ہومیوپیتھک دواؤں کے فوائد یا نقصان کو سمجھنے کیلئے Provingسمجھیں مثلاً ہر دھات جو جسم کے اندر باہر چھوتی ہے اس کا کچھ نہ کچھ لطیف اثر جسم میں جذب ہوتا رہتا ہے جو جدید ترین آلات سے بھی معلوم نہیں کیا جاسکتا مثلاً انڈے سے الرجی والی مثال۔

Proving:کا مطلب یہ ہے کہ کسی زہر کو نہایت ہلکا کر کے (جس میں اصل زہر کی شدت اور بُرا اثر باقی نہ ہو) کسی صحت مند انسان کو بار باد دینا مثلاً ہر پانچ دس منٹ کے بعد بار بار دینا یہاں تک کہ اس صحت مند شخص پر اس زہر کا اثر ظاہر ہو جائے وقتی طور پر (اس کا اثر مستقل نہیں رہتا۔ کیونکہ جب اثر ظاہر ہو جائے تو دوا دینا بند کر دی جاتی ہے)نتیجتاً معلوم ہوجاتا ہے کہ اس زہر میں کیا کیا علامات یا بیماریاں ہیں پھر اسی زہر کو پوٹینسی کی صورت میں متعلقہ امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جو شفا کاموجب ہوتا ہے یہ طریق صرف دعویٰ نہیں بلکہ سائنٹیفیک طریق پر تجربہ مشاہدہ کی شکل میں آیا ہوا طریق ہے اور سائنس کے بھی یہی معنی ہیں کہ جو بات مشاہدہ اور پھرتجربہ میں آئے وہ مسلّم ہے۔

نوٹ:دراصل Kali Phos 6xزہر ہے یعنی اصل زہر کے کچھ قریب ہے۔ جب اسے بہت لمبا عرصہ بار بار دیا گیا تو اس نے Provingشروع کر دی نتیجتاً کالی فاس کی مقدار جسم میں بڑھ گئی کیونکہ جسم میں نہ صرف بیرونی زہر کی علامات پیدا ہوتی ہیں بلکہ اس کی مقدار بھی بڑھتی ہے یہ ہم پہلے بھی ثابت کر چکے ہیں۔(چیچک کی Vaccinationکی مثال پر غور کریں)

نوٹ:ہم Immune Systemمیں پڑھ چکے ہیں کہ جسم کے دفاع پر اگر ہلکا یا ہلکی طاقت سے بیماری کا حملہ ہو تو جسم کا نظام دفاع اس کو مغلوب کر سکتا ہے اور نظام دفاع متحرک اور مضبوط ہو کرنہ صرف اندرونی یا بیرونی بیماری کے حملہ کو پسپا کرسکتا ہے اور خواہ جسم کے اندر کتنی بڑی بیماری ہو تو جسم اس پر غالب ہو جاتا ہے کیونکہ جب ایک دفعہ جسم کا دفاع ہوشیار ہو جائے تو پھر بڑی سے بڑی بیماری کو قبضہ میں کرلیتا ہے بیشک کینسر بھی ہو۔ اور یہ ایسا اصول ہے جسے سب ہی مانتے ہیں۔ ہومیوپیتھی سسٹم بھی اسی اصول کے تحت جسم کو پیغام دے کر اس کے نظام دفاع سے انٹی باڈیز تیار کر وا کے شفالاتا ہے۔

دوا کی پہچان اور استعمال

نوٹ:بعض دواؤں میں جس جگہ Inflamationیعنی سوزش ہو تو وہاں Indurationیعنی سختی پیدا ہوجاتی ہے۔ کہیں اس Indurationمیں جلن ہوتی ہے کہیں گرمی سردی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کہیں صرف چھونے سے درد ہوتا ہے اور کہیں زور سے دبانے سے درد ہوتا ہے۔ کہیں سوزش کی جگہ جلدی پیپ پڑ جاتی ہے۔ کہیں بہت دیر کے بعد Suppurationہوتی ہے یعنی پیپ پڑتی ہے۔ کہیں Infectionجلدی جلدی بڑھتا ہے کہیں آہستہ آہستہ۔ غرض ہومیوپیتھک دواؤں میں بہت سی باتوں کو مدّنظر رکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً کسی سوزش میں اچانک ابتداء میں ہی شدید تکلیف ہوتی ہے اگر فوراً ہی دوا مل جائے اس Inflamationیا Infectionکو تو فائدہ بھی فوراً ہوتا ہے۔مریض حیران ہو جاتا ہے اور ڈاکٹر بھی ہومیوپیتھک دوا کااتنا تیز اور تیر بہدف اثر دیکھ کراور خدا تعالیٰ کا شکر بجالاتا ہے۔

توازن بگڑنے کانام بیماری ہے خواہ Calciumکا توازن بگڑے یا Nat Murکا۔ Balanceنام ہے صحت کا۔ دیکھیں Calc Carb

نوٹ: نسخے بازی یا ٹکسالی کے نسخے کامیاب نہیں ہوتے۔

نوٹ:حسب حالات دوا اور نسخہ جات دینے پڑتے ہیں ٹکسالی کے نسخہ جات نہیں چلتے مثلاً موچ میں اگر شروع میں Arnicaدیں تو ٹھیک ہے کرانک ہو تواکیلا Arnicaکام نہیں کرتا بلکہ بطور مددگار Rhustoxبھی دینی پڑتی ہے اگر پھر بھی فائدہ نہ ہو تو RhustoxکیساتھRuta ملانی پڑتی ہے اگر یہ نسخہ بھی مکمل فائدہ نہ دے تو Calc Carbکام آتی ہے۔ جو Muscular & Bonesسسٹم دونوں پر حاوی ہے۔

ٹکسالی کے نسخہ جات

نوٹ:ہومیوپیتھی میں ٹکسالی کے نسخہ جات یا دوا ئیں ہرگز ہرگز کام نہیں کرتیں کہ یہ دوا پیٹ درد کی ہے یہ بال گرنے کی ہے یہ بال گرانے کی ہے یا یہ جوڑوں کے درد کی ہے یا یہ دوا B.P High کی ہے یا B.P Low کی ہے یا یہ دوا بیٹے پیدا کرتی ہے یا بیٹی۔

نوٹ:مثال کے طور پر جن عورتوں کے چہرہ یا جلد پر بال تھے انہیں Natrum Murدیا گیا CM طاقت میں اور بڑا فائدہ ہوا بعض کو ذرہ بھر بھی فائدہ نہ ہوا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بال مزید بڑھ جائیں Nat Murدینے سے۔

نوٹ :اب سوال یہ ہے کہ جن کو فائدہ ہوا ان کو کیوں فائدہ ہوا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن کو فائدہ ہوا ان کو نسخہ بازی سے فائدہ نہیں ہوا اور نہ ٹکسالی کی دوا نے فائدہ دیا کہ یونہی دوا دی گئی کہ یہ بال گراتی ہے اس لئے لے لو بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ چونکہ ہومیوپیتھک دوائیں اس وقت تک ہرگز کام نہیں کرتیں جب تک مریض کی بیماری سے دواؤں یا دوا کا مزاج نہ ملے یعنی جب تک دوا کے اندر جو علامات ہیں وہ علامات مریض کی بیماری سے کافی حد تک مطابق نہ ہوں (بے شک سو فیصد مطابق نہ ہو اس مطابق ہونے کا ذکر دوسرے ابواب میں آئے گا جو کافی مشکل مرحلہ ہے اور جس کے لئے بڑی فراست کی ضرورت ہے) دوا کام نہیں کرتی۔ جن عورتوں کو Natrum Murدینے سے فائدہ ہوا ان کا مزاج دراصل Natrum Murکا مزاج تھااور ان کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اتفاقاً ان کیلئے یہ دوا تجویز بھی ہو گئی۔ اس لئے اتفاقاً ہی فائدہ ہوا ہے۔اندازے سے دوا دی گئی (اب یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ CMطاقت دینا خطرناک ہے کہ نہیں کیونکہ ہرہومیوپیتھک دوا CM طاقت دینا ٹھیک نہیں بلکہ نہایت خطرناک ہے اس کا ذکر دوسرے ابواب میں دیکھیں)۔

نوٹ:اصول ہومیوپیتھی سمجھنے کیلئے ایک مثال حاضر خدمت ہے مثلاً Sulfurدینے سے Calc Carbکی علامات پیدا ہوں گی ظاہر ہے Calc Carbدینا لازمی ہوجائے گا اور Calc Carbدینے سے Lycopodiumکی علامات پیدا ہونگیں اور پھر Lycopodiumدینے سے Sulfurکی علامات پیدا ہوں گی۔

نوٹ:بعض دوائیں دوسری دواؤں کی علامات پیدا کرتی ہیں جو دینی لازمی ہیں یہ چھٹّا نہیں مثلاً Lachesisدیں تو Sulfurکی علامات پیدا ہوں گی اور Sulfurدینے سے Lachesisکی علامات پیدا ہونگیں اسی طرح Sulfurدینے سے Causticumکی علامات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

نوٹ:بعض ڈاکٹر اونچی طاقت میں بھی دوائیں ملا کر دیتے ہیں جو مناسب نہیں اور تجربۃً خطرناک بھی ہے۔ لیکن بعض دفعہ نوسوڈ CMمیں بھی دیا جا سکتا ہے مثلاً Medorrhinumاور Syphilinumقد بڑھانے کے لئے ملا کر دیتے ہیں۔

نوٹ :گرم اور سرد مزاج دواؤں کو نہ ملائیں ۔ لیکن ملتی جلتی علامات والی دوائیں ملائی جاسکتی ہیں۔ مثلاً Arnicaاور Lachesisدونوں خون پتلا کرنے کی دوائیں ہیں۔ لیکن مقابل کی دوائیں نہ ملائیں مثلاً حرکت سے تکلیف یعنی برائیونیا اور حرکت سے افاقہ یعنی رسٹاکس ان دونوں کو نہ ملائیں بلکہ Bryoniaوالی علامات والی دوائیں نوٹ کریں اور Rhustoxوالی بھی اور ایک ناکام ہو تو دوسری دیں مثلاً برائی اونیا ناکام ہو تو رسٹاکس دیں اور وہ اس طرح کہ برائی اونیا کی علامت کہ حرکت سے تکلیف ہونا خودبخود برائی اونیا دینے سے کچھ عرصہ بعد رسٹاکس میں تبدیل ہو جائے گی کہ حرکت سے افاقہ ہوتا ہے۔ کئی دفعہ ان کو بار بار بدلنا پڑتا ہے کیونکہ علامات بدلتی رہتی ہیں۔

نوٹ:نسخہ جات میں بھی Calc Carbکے بعد Sulfurنہ دیں خطرناک ہے۔ درمیان میں Lycopodiumضرور دیں۔

نوٹ:اصل علاج اکیلی دوا ہی ہے۔

نوٹ :بعض اوقات جب نسخہ نے فائدہ نہیں دیا۔ تو نسخہ میں سے صرف ایک دوا جس کی علامات بیمار ی سے زیادہ قریب تھیں دی گئی تو مکمل شفا ہو گئی مثلاً نسخہ میں Nuxبھی شامل تھا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ جب صرف Nux Vomicaدیا گیا تو فائدہ ہوا۔

نوٹ :دراصل چند دوائیں مل کر ایک نئی دوا بن جاتی ہے اور ہر دوا کا انفرادی اثر قائم نہیں رہتا اسے Resultentاثر کہتے ہیں۔ بہرحال ٹکسالی کے نسخے روز مرہ کے طور پر کچھ فائدہ دے بھی دیتے ہیں بعض اوقات نسخہ جات سے بہت فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن یہ طریق ہومیوپیتھی نہیں یہ نسخہ بازی ہے اور مکمل شفا کیلئے بڑی کوشش کی ضرورت ہے کیونکہ بار بار دوا بدلنی بھی پڑتی ہے کبھی ایک دوا کام کرتی ہے کبھی نسخہ بھی بدلنا پڑتا ہے کبھی دواؤں کا ادل بدل بھی کرنا ہوتا ہے صرف ایک ہی دوا کافی نہیں۔ بیماریا ں کتابوں سے دواؤں کی علامات پڑھ کر نہیں آتیں کہ ڈاکٹر کوعلاج کرنے میں آسانی ہو۔ اورایک ہی مریض میں مختلف علامات بھی ہو سکتی ہیں جو کئی دواؤں کا مطالبہ کرتی ہیں۔

نوٹ :تشخیص کیلئے بہت لمبا چوڑا تجربہ چاہیئے اوروقت بھی چاہیئے چونکہ ان دونوں چیزوں کا عموماً فقدان ہے اسلئے نسخہ بازی کرنی ہی پڑتی ہے لیکن اصل علاج اکیلی اکیلی دوا ہی ہے۔

نوٹ :نئے ہومیوپیتھ نسخے استعمال کر سکتے ہیں۔

نوٹ:اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر دوا کا ایک مزاج ہے کہ یہ زیادہ فائدہ اس مریض کو دے گی جس کے اندر اس کی مزاجی علامات ہونگی مثلاً Pulsatillaنرم مزاج لوگوں کی دوا ہے۔ Arsenicنفیس مزاج لوگوں کی دوا ہے Chamomillaغصیلے لوگوں کی دوا ہے لیکن یہ تمام دوائیں کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچا دیتی ہیں ان لوگوں کو بھی جن کا مزاج بعینہٖ دوا سے اگر نہ بھی ملتا ہو بلکہ کچھ نہ کچھ ملتا ہو تو بھی دوا کام کرتی ہے کسی حد تک ۔ کیونکہ مزاج پہچاننے اوربتانے پر بھی مکمل عبور مشکل ہے۔

نوٹ V.Imp:Psorinumان لوگوں کی دوا ہے خصوصاً جن کو سردی بہت لگتی ہواور ساتھ طرح طرح کی جلدی بیماریاں بھی ہوں ۔ حقیقتاً یہ بڑی خوفناک بیماریوں کی دوا ہے۔ لیکن جانوروں کے سینگ کے کینسر میں ازحد مفید ہے جبکہ جانوروں میں سورائینم کی دوسری علامات نہیں ہوتیں۔اور اسی طرح Psorinumبال سفید ہو جائیں تو کام آتی ہے قطع نظر اس کے کہ مریض کو سردی لگتی ہے کہ نہیں۔اس سے معلوم ہوا ہے کہ بعض دوائیں مزاج سے قطعاً ہٹ کر بھی کام کرتی ہیں۔اس سلسلہ میں نئے تجربات بھی ہونے چاہئیں۔

بیماری کی اقسام

حادمزمن

Chronic Acute

نوٹ:بعض بیماریاں اچانک آتی ہیں اور اچانک اور جلدی چلی جاتی ہیں۔ بعض بیماریاں آہستہ آہستہ اندر ہی اندر بڑھتی رہتی ہیں اور پتہ بھی نہیں چلتااور اس وقت پتہ چلتا ہے جب نہایت خطرناک صورت اختیار کر جاتی ہیں ان کو آرام بھی دیر بعد آئے گا۔بعض بیماریاں بگڑنے کی وجہ سے کرانک یعنی پرانی ہو جاتی ہیں۔

(V.Imp) : حاد اور مزمن بیماریوں سے نپٹنے کے لئے Sarsaprillaدیکھیں

نوٹ:کرانک بیماریاں زیادہ وقت لیتی ہیں ٹھیک ہونے میں۔ مثلاً جوڑوں کا درد کرانک بیماری ہے درد وغیرہ تو جلدی جا سکتا ہے لیکن بیماری کا رجحان اور وجوہات ٹھیک ہونے میں وقت درکار ہے اگر کوئی کرانک تکالیف کو اونچی طاقتوں سے جلدی ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا تو مریض کو سخت نقصان ہو سکتا ہے اسلئے احتیاط لازمی ہے۔

نوٹ:بعض بیماریوں کی دوائیں ابھی تک دریافت بھی نہیں ہو سکیں۔ ان غیرمعلوم دواؤں تک ہماری رسائی نہ ہو توبھی مشکلات ہیں اس لئے ان مزید دواؤں کی دریافت کرنا ضروری ہے۔دیکھیں شفا کے اصول۔

حاد اور مزمن

Chronic Acute

نوٹ:کتابوں میں بار بار ذکر ملتا ہے کہ فلاں دوا حاد (Acute) ہے اور فلاں مزمن (Chronic) ہے۔ لیکن آنکھیں بند کر کے اس اصطلاح پر عمل کرنا غلط ہے دراصل یہ معلوم کرنا از حد ضروری ہے کہ حاد اور مزمن کا جوڑ کیا ہے کیوں یہ تعلق ضروری ہے۔ اور اصل سبب کیا ہے اس کی تشریح یہ ہے۔

کہ مثلاً Aconiteکی خون میں افراتفری Termoil in the Bloodہمیں Sulfurمیں بھی ملتی ہے اس لئے بیماری کے شروع میں Aconiteدیتے ہیں مثلاً بخار میں۔ اگر پوری شفا نہ ہو تو باقی کام Sulfurکر دیتی ہے کیونکہ یہ اپنے کام میں بڑی گہری ہے اور لمبا اثر رکھتی ہے۔

نوٹ: حاد اور مزمن دوائیں خود دریافت کریں اور انکے آپس کے جوڑ بمعہ ثبوت پہچانیں سنی سنائی لکھی لکھائی بات نہ مانیں

نوٹ: Acuteاور Chronicدوا خود تلاش کریں یہ تحقیقاتی کام ہے لکیر کے فقیر نہ بنیں

نوٹ:ایک اور مثال لیں Bryoniaمیں دماغی علامات ہیں مثلاً اخراجات دبنے سے سرمیں شدیددرد ہوتا ہے لیکن اگر برائیونیا سے فائدہ نہ ہو اور مریض سردرد کے بعد پاگل پن تک پہنچ جائے تو Natrum Murچونکہ دماغی علامات کی بڑی گہری دوا ہے اس لئے نیٹرم میور اس جوڑ کی وجہ سے برائیونیا کی Chronicکہلائے گی نیٹرم میور پاگل پن تک کو دور کر دیتی ہے۔

نوٹ:ایک اور انداز سے دیکھیں Apisاور Siliceaبالکل مخالف دوائیں ہیں Apisگرم مزاج ہے اور Siliceaسرد مزاج۔ لیکن Hydrocephalusمیں Apisمریض کی دردناک تکلیف کو وقتی فائدہ دیتی ہے لیکن سر کے اندر رکا ہوا پانی نہیں نکال سکتی جبکہ Siliceaیہ پانی نکال دیتی ہے ظاہر ہے Siliceaخودبخود Apisکی Chronicبن گئی ثبوت مہیا کر کے کہ جہاں Apisنے Hydrocephalusکو ادھوری شفادی اس کے بعد Siliceaنے یہ شفامکمل کر دی ۔

نوٹ :حاد اور مزمن کو ایک اور مثال سے سمجھیں Belladonnaوقتی اور اچانک دردوں کی دوا ہے اور Acuteکہلاتی ہے اور Apisبھی دردوں کی دوا ہے لیکن اس کا اثر تھوڑی دیر کے لئے نہیں ہوتا یعنی کافی پرانی بیماری کے لئے بھی مفید ہے۔جبکہ Belladonnaمیں درد چند منٹ یا چند گھنٹے رہتا ہے کبھی کبھی، لیکن Apisمیں بار بار یہ درد ہوتے رہتے ہیں لمبا عرصہ چلتی ہے یہ بیماری جان نہیں چھوڑتی جب تک Apisنہ دیں تکلیف جاری رہتی ہے مثلاً گردہ کی بیماریاں، انتڑیوں کی بیماریاں جبکہ Opiumبہت ہی پرانی بیماریوں کی دوا ہے اس کی بیماریاں بڑی گہری ہوتی ہیں سالوں پر پھیلی ہوئی یعنی سالوں پرانی بیماریوں کے لئے بھی اوپیم مفید ہے۔تینوں دواؤں میں گرمی سے تکلیف بڑھتی ہے اور سردی سے افاقہ ہوتا ہے لیکن دائرہ کار مختلف ہے اس لئے مریض سے پوچھنا پڑے گا کہ کتنی پرانی تکلیف ہے، کب ہوئی، بار بار ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ: حاد اور مزمن دواکا تعلق ایک اور مثال سے سمجھیں۔ Apisکی تکالیف گرمی سے بڑھتی ہیں اور Siliceaکی سردی سے۔ لیکن Siliceaکرانک ہے Apisکا۔ وہ اس طرح کہ کچھ عرصہ Apis دینے سے مریض کی گرم مزاجی سرد مزاجی میں بدل جاتی ہے تو Siliceaدینا پڑتا ہے اور یہی حال Pulsatillaکا ہے گرمی سے تکالیف بڑھتی ہیں لیکن کچھ عرصہ دیں تو مریض ٹھنڈا ہو جاتا ہے توپھر Siliceaدیتے ہیں۔

نوٹ:کرانک بیماریوں کا علاج آہستہ آہستہ کریں یعنی اونچی طاقت سے اور 15-20دن کے وقفے سے دوا دہرائیں چندماہ۔ لیکن پھیپھڑوں کی بیماریوں میں اونچی طاقت نہ دیں چھوٹی طاقت سے شروع کریں۔

Chronic: دوائیں شروع میں آہستہ آہستہ اثرکرتی ہیں اور فائدہ کا بظاہر پتہ نہیں چلتا لیکن آخری مراحل تیزی سے طے کرواتی ہیں اور مکمل شفا ہو جاتی ہے ۔

Chronic:بیماریوں میں مریض کی حالت بگڑ چکی ہوتی ہے نہ کھانے کا مزا نہ پینے کا، ہر چیز بُری لگتی ہے لیکن جب کرانک دوا دیں گے تو اچانک کوئی اثر نہ ہو گا بظاہر کوئی تبدیلی نظر نہ آئے گی لیکن فائدہ ضرور بہ ضرور نظر آئے گا دوا کا اور وہ یوں کہ مریض کی حالت میں کچھ کچھ تبدیلی نظر آ ئے گی مثلاً کھانے پینے میں مزا شروع ہو گا کچھ زندگی سے بیزاری کم ہو گی شخصیت بدلنے لگتی ہے اس سے اندازہ ہو گا کہ دوا اثر کررہی ہے اب 5-6ماہ دوا دے سکتے ہیں اگر یہ تبدیلیاں نظر نہ آئیں تو دوا بند کر دیں ورنہ مریض کو سخت نقصان ہو گا۔

نوٹ:کرانک بیماریوں میں چونکہTissuesتک تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں اسلئے وہ صحت کی طرف آنے میں بہت وقت لیتے ہیں لیکن دوا دینے کے کچھ عرصہ بعد شفاکے آثار شروع ہو جاتے ہیں مریض کہتا ہے کہ دوا میں اثرہے کچھ افاقہ ہے باوجودیکہ ابھی شفا کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔

اصول شفا

نوٹ : دراصل جسم کے نظام دفاع کی ایک عجیب کیفیت اور Natureہے کہ اس کے اندر بے شک طرح طرح کی بیماریاں یا علامات یا خطرات مضمر ہیں موجود ہیں لیکن دفاع خاموش ہے آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے خودبخود مقابلہ کیلئے اٹھ کھڑا نہیں ہوتا۔ لیکن جو بیماری یا خطرہ اندر موجود ہے اگر اسی قسم کا کوئی بیرونی حملہ اس پر ہو لیکن خفیف ہو ہلکا ہو تو دفاع فوراً خبردار ہو جاتا ہے کیونکہ خفیف حملہ ہے اور نہ صرف بیرونی حملہ کو زیر کر لیتا ہے ردعمل دکھا کر بلکہ بیرونی حملہ سے ملتے جلتے اندرونی خطرات یا علامایات یا بیماریوں پر بھی قبضہ کر لیتا ہے۔

نوٹ :اگرچہ ہر ہومیوپیتھک دوا ایک لطیف چیز ہے ایک یادداشت ہے لیکن ہر جسم پر اثر نہیں کرے گی کیونکہ اس دوا سے ملتی جلتی کوئی بیماری اندر موجود نہیں جسم میں۔ جسم کا دفاع صرف اور صرف بیرونی حملہ کو پہچان کر اس وقت اثر دکھائے گا جب بیرونی حملہ جیسی کوئی چیز جسم کے اندر بھی موجود ہو۔ اور اگر کوئی ایسی دوا دی جائے جس کی ضرورت نہیں تو جسم یہ پیغام سن کر سمجھ کر کوئی ردعمل نہیں دکھا تا کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ردعمل بے ضرورت ہے۔ لیکن اگر صحیح پیغام مل جائے تو جسم بہت کامیاب ردعمل دکھاتا ہے۔

نوٹ :لیکن اگرایک پیغام (بذریعہ دوا) مثلاً کالی فاس بار بار دیا جائے تو جسم مغلوب ہو کر اس پیغام کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے اور کالی فاس کی علامات پیدا کر دے گا جسم میں کالی فاس کا نمک بڑھ جائے گا اور کالی فاس کا زہر پیدا ہو گا ۔

نوٹ :اللہ تعالیٰ نے جسم کو ایسا ہی بنایا ہے کہ بیماری کے اندرونی یا بیرونی چھوٹے حملے سے جسم کا دفاع ہوشیار ہوجاتا ہے اور بیماری پر قابو پا لیتا ہے اور اگر کوئی بڑا حملہ ہو کسی بیماری یا زہر کا تو جسم فوراً مغلوب ہو جاتا ہے یعنی بیمار ہوجاتا ہے اور یہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے جسے کوئی معقول انسان ردنہیں کر سکتا۔

نوٹ (Imp):حاد اور مزمن کے سلسلے میں شفا کا اصول بھی ذہن نشین کرنا ازبس ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بیماری آہستہ آہستہ جسم پر قبضہ کرتی ہے (یعنی کرانک بیماری ہے) تو اس میں شفابھی آہستہ آہستہ ہو گی لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز ہرگز نہیں کہ دس پندرہ سال پرانی بیماری دس پندرہ سال ہی لے گی ٹھیک ہونے میں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکمل شفا ہونے میں چند ماہ یا چند ہفتے لگیں گے لیکن شفا کے کچھ نہ کچھ آثار ہفتہ دس دن میں ظاہر ہو جاتے ہیں مثلاً Apisدینے سے 15-10دن میں گردے زیادہ پیشاب بنانے لگیں گے جو پہلے بہت کم بناتے تھے اور اگر دماغ میں اچانک ڈنگ دار درد پیدا ہوجائیں اورApisکی علامات ہوں تو چند منٹ میں شفا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہ Acuteحالت ہے۔

نوٹ(Imp):بعض اوقات کرانک بیماریوں میں شفا کے آثار شروع میں نظر نہیں آتے اور چند ہفتوں کے بعد ایک دم نمایاں فائدہ نظر آتا ہے مثلاً جوڑوں کے دردوں میں یہی بات بار بار مشاہدہ میں آئی ہے۔ لیکن ہرکیس میں یہ بات نہیں نوٹ کی گئی بلکہ اکثراوقات چند دنوں میں ہی فائدہ شروع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ہر مریض مختلف ہوتا ہے۔

نوٹ:Acuteبیماری میں دوا بدل سکتے ہیں کہ دوا ٹھیک نہیں یا اسلئے بدل سکتے ہیں کہ بیماری کی علامات بدل گئیں۔ کیونکہ Acuteحالتوں میں بعض اوقات تیزی سے علامات بدلتی ہیں اور دوا بدلنی پڑتی ہے۔

نوٹ:Chronicبیماریوں میں سوچ سمجھ کر دوا دیں خوب جانچ پڑتال کر کے اور صبر سے لمبا عرصہ علاج جاری رکھیں کیونکہ شفا کے پہلے مراحل آہستہ آہستہ طے ہوتے ہیں پھر آخر میں شفا کے نمایاں آثار ظاہر ہوتے ہیں۔

نوٹ: کرانک اورخطرناک بیماریوں میں سوچ سمجھ کر نسخہ یا دوا دیں اور بار بار دوا یا نسخہ نہ بدلیں اگر دوا بدلنے کی ضرورت ہو تو پہلے سابقہ دوا کو انٹی ڈوٹ کریں۔

نوٹ:جسم کے دفاع یعنی Auto Immune Systemکو ہر بیماری کے خلاف لڑنے کی قوت ہے اور شفا دینے کی صلاحیت ہے ۔ اور ہومیوپیتھی اپنی دواؤں کے پیغامات کے ذریعے اسی Auto Immune Systemکو استعمال کرتی ہے ۔

نوٹ :کوئی دوا بھی یقینی طور پر مؤثر نہیں کہلا سکتی۔ بعض اوقات ایک مجرب دوا بالکل کچھ بھی نہیں کرتی یا بعض موسم یا بعض ملکوں میں مؤثر ہوتی ہے اور بعض میں نہیں مثلاً Pulsatillaکی ایک دو خوراکوں سے الٹا بچہ Normalہو جاتا ہے یعنی سر نیچے کی طرف آجاتا ہے اگر اوپر ہو لیکن کبھی بالکل ناکام ہو جاتی ہے اسی طرح ستاروں کے اثرات، اجرام فلکی کے اثرات مؤثر ہو کر دوا کو کامیاب یا ناکام بنا دیتے ہیں اور اسی طرح کئی دوسرے عوامل دواؤں پر اثرانداز ہوتے ہیں مثلاً Cosmicلہریں وغیرہ جو بڑی لطیف ہوتی ہیں اسی طرح کائنات کی بے شمار دوسری چیزیں اور اثرات ہومیوپیتھک دواؤں کا فائدہ وقتی طور پر روک دیتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ: ہومیوپیتھی میں جراثیم کے ناموں کی بحث نہیں کہ اندرونی جراثیم کیا تھے اور جب جلد پر بیماری آئی تو ان جراثیم کا کیا نام ہوگیا یا کن جراثیم نے اندرونی اعضاء کو متاثر کیا اور کن جراثیم نے بیرونی جلد کو نقصان پہنچایا بلکہ ہومیوپیتھی میں یہ اصول ہے کہ جلد کو جو دفاع کی طاقت تھی اس میں کمزوری واقع ہوئی اور جلد پر جلدی بیماری ظاہر ہو گئی( جراثیم وغیرہ سے) مثلاً ایک ہی گھر میں چند افراد کو ایگزیما ہوا باقی کو نہ ہوا حالانکہ گھر میں جراثیم موجود تھے یعنی معلوم ہوا کہ جن کی جلد کا دفا ع کمزور واقع ہوا ان کو بیماری کے جراثیم نے آلیا لیکن جن کا جلدی دفاع مضبوط تھا وہ ان جراثیم کے حملہ کا شکار نہ ہوئے حالانکہ حملہ سب پر یکساں ہوتا ہے اگر اس جلدی بیماری (یعنی جلدی کمزوری کو )اندر دبا دیں تو یہ جلدی بیماری یا جلدی دفاع کی کمزوری اندرونی اعضاء پر حملہ کرے گی مثلاً انتڑیاں، گردے، جگرہ وغیرہ پر۔ اس لئے ثابت ہوا کہ بعض کا دفاع مضبوط ہوتا ہے بعض کاکمزور ہوتا ہے۔اس لئے ہومیوپیتھک دوا شفا کے لئے نہ صرف دفاع سے کام لیتی ہے بلکہ اسے مضبوط بھی بناتی چلی جاتی ہے کیونکہ جب ایک دفعہ ہومیوپیتھک دوا نے شفا دی تو ساتھ دفاع کو بھی مضبوط کیا اسی لئے بیماری کا اگلا حملہ دیر بعد ہوتا ہے۔ اور بار بار ایسا ہو کر دفاع طاقتور ہوتا چلاجائے گا۔

نوٹ:ہومیوپیتھی میں یہ اصول ثابت شدہ ہے کہ اندرونی بیماریاں جلد پر لائی جا سکتی ہیں مثلاً Merc Solدیکھیں اور اندرونی بیماریوں کو جلد پر لا کر ان کا علاج آسان ہو جاتا ہے Sulfurدیکھیں۔

نوٹ:مندرجہ بالا بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی دوا کی بنیادی علامات کسی مریض میں پائی جائیں تو بہت سی دیگر بیماریاں بھی ٹھیک ہو جائیں گی اس کی مزید وضاحت کیلئےa Spongeدیکھیں

نوٹ:بعض اوقات کسی بیماری میں پہلی خوراک شدید Aggravationپیدا کردیتی ہے اور دوسری خوراک دیں تو یہ شدید ردّعمل بہت کم ہو جاتا ہے حتٰی کہ اگلی خوراکوں سے بیماری کی شدت میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صحیح دوا دی گئی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ غلط دوا ہے۔

نوٹ:گہری بیماریوں میں یا لمبی چلنے والی بیماریوں میں بظاہر آرام آنے کے بعد بھی دوا بند نہ کریں۔کیونکہ بیماری کی جڑ اندر ہوتی ہے اس لئے بظاہر شفا کے باوجود بھی دوا جاری رکھیں لیکن وقفہ بڑھا دیں Off & Onدیں۔

نوٹ :عام بیماریوں میں اگر شفا ہو جائے تو دوا بند کر دیں۔ یعنی روزمرہ آنے جانے والی بیماریوں میں شفا کے بعددوا کی دوہرائی نہ کریں۔

نوٹ:کرانک اور پرانی بیماریوں میں ابتدائی حالتوں کاپتہ لگائیں کہکن حالات میں بیماری شروع ہوئی کیا بیماری تھی کیا علاج ہوا اور پھر کیا نئی بیماری شروع ہوئی۔اور پھر ہومیوپیتھک دوا دیں۔

نوٹ:سردی گرمی کے موسم کو مدنظر رکھ کر سوچیں کیونکہ بعض بیماریاں سردی کی ہیں بعض گرمی کی مثلاً سردی لگتے ہی فالج ہو جائے یا فالجی حالت ہو جائے یعنی سن ہو جائے کوئی حصہ جسم جو ٹھنڈ کھا گیا تھا تو Aconiteدوا ہے اگر ذرا چند گھنٹے دیر ہو جائے تو Causticumدوا ہے کاسٹیکم دیکھیں (Imp)۔

نوٹ :ہومیوپیتھی دوا چونکہ جسم کے ردّعمل سے کام لے کرشفادیتی ہے اسلئے آئندہ وہی ردّعمل جو پہلے کمزور تھا ہومیوپیتھک دواؤں کے استعمال سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہو گا اور اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلے گا کہ امراض کے حملوں میں درمیانی وقفہ لمبا ہوتا جائے گا اور ہر حملہ پہلے سے کمزور ہو تا جائے گا اور شفا بھی آسان ہو گی۔سوائے اس کے کہ انسان خود پرہیزنہ کرے اور بیماری کو دعوت دیتا رہے۔

نوٹ:کوئی بھی دوا کام بند کر دے یا مزید فائدہ نہ پہنچائے تو سلفر200کی چند خوراکیں Inter Doseکریں تو دوا کام کرنا شروع کر دے گی۔ اور اگر نئی علامات اُبھریں تو ان کا علاج کریں۔

نوٹ:Lachesisکی بیماری بائیں سے دائیں جاتی ہے اور Lycopodiumکی بیماریاں صرف دائیں ہی نہیں رہتیں Bryoniaکی طرح بلکہ دائیں سے بائیں جاتی ہیں۔

نوٹ:Bryoniaکی بیماریاں خصوصاً دائیں طرف کی ہیں Belladonnaکی طرح۔اسی طرح Causticumکی بیماریاں بھی دیر تک ایک ہی جگہ رہتی ہیں خصوصاً دائیں طرف یعنی بیماریوں کی علامات ایک جگہ بھی رہتی ہیں اور جگہ بدلتی بھی ہیں اسلئے یہ فرق دوا تجویز کرنے کی بنیاد بن جاتے ہیں۔

Aggravation:اگر صحیح دوا کے نتیجہ میں ہو تو ٹھیک ہے بشرطیکہ 2-3دن رہے۔

نوٹ: بعض اوقات دوا دینے سے اندرونی دبی ہوئی بیماری جلد پر آ جاتی ہے مریض کو پہلے سے ہی بتادیں ۔تفصیل کیلئے سلفر دیکھیں۔

ٹُنڈ:یعنی اگر پاؤں کاٹ دیا جائے یا کٹ جائے تو پاؤں کی تکلیف دماغ میں نقش رہتی ہے مثلاً پاؤں پرایگزیما تھا یاشدید خارش تھی تو باوجود کہ اب یہ پاؤں موجود نہیں لیکن مریض کو یہ احساس رہتا ہے کہ مجھے خارش ہے ابھی بھی اور وہ بے خیالی میں ہاتھ اس ٹنڈ کی طرف بڑھاتا ہے حالانکہ پاؤں وہاں نہیں۔ دراصل اس کے دماغ نے یاد رکھا ہے کہ یہاں کبھی خارش تھی۔ اور جب دماغ اسے یاد کراتا ہے وہ بے اختیار اس طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔ او ر یہMemory System انسانی دماغ کی بہت بڑی خوبی ہے ہومیوپیتھک دوا اسی یادداشت کی چھاپ کو کام میں لا کر شفاکی کوشش کرتی ہے۔

اس ٹُنڈ: کا علاج بھی ہومیوپیتھی میں اُسی یادداشت کی چھاپ کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں مثلاً وہ عضو جو اب نہیں ہے اس کی بیماری کا پتہ کرتی ہے ہومیوپیتھی ۔ مثلاً پاؤں پر ایگزیما تھا تو ہومیوپیتھی میں اسے ایگزیما ہی کی دوا دی جاتی ہے اور شفا بھی ہوجاتی ہے اللہ اکبر۔ یعنی ہومیوپیتھی روح کو پیغام دے کر علاج کرتی ہے۔ دوسری دوائیں بھی اسی اصول پر کام کرتی ہیں۔

نوٹ:یہ ٹنڈ کی بیماری کا اصول ہومیوپیتھی میں ہی نہیں بلکہ دوسری میڈیکل سائنس یا دوسری سائنس اس بات سے اصولاً متفق ہے کہ ہاں کٹے ہوئے عضو کی بیماری کی یادداشت دماغ میں رہتی ہے اور وہ تکلیف جو اس کٹے ہوئے عضو پر تھی ہمیشہ مریض کے دماغ میں محفوظ رہتی ہے لیکن ہومیوپیتھی کے علاوہ دوسروں کے پاس اس کا علاج نہیں اسے Phantom Limbکہتے ہیں۔

نوٹ :اگر مریض کمزور ہوتو پہلے اس کو Build Upکریں یعنی ٹانک دے کر اس کے جسم میں خون وغیرہ بڑھائیں ۔

نوٹ:ایک مریض الٹی پلٹی دوائیں کھاتے کھاتے اتنا بیمار ہوا کہ نیند غائب ہو گئی۔ پتہ چلا کہ نفسیاتی وجوہات کی بنا پر دماغ پر خوف مسلّط ہے اس لئے نیند نہیں آتی۔ اسے Placebo دی گئی اور کہاگیا کہ آدھے گھنٹہ تک ہرگز سونا نہیں ورنہ میں ذمہ وار نہیں۔ وہ نفسیاتی مریض تھا اس لئے دماغ پر یہ اثر ہوا کہ گویا نیند آ رہی ہے کہنے لگا کہ نیند برداشت نہیں ہورہی سخت نیند آ رہی ہے یعنی آدھے گھنٹے سے پہلے ہی نیند کا غلبہ ہو گیا اصل میں نفسیاتی حربہ کام کرگیا۔ اسی طرح اسے دوائی کے ساتھ بھی یہی کہاجاتا رہا کہ ایک گھنٹہ دو گھنٹہ سے پہلے ہرگزسونا نہیں لیکن اس پر یہ اثر ہوتا کہ نیند سے بے حال ہوجاتا۔ اسی اسی طرح کرتے کرتے وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔

نوٹ :آم کا بُور ہاتھوں پر مَل لینے سے ساری عمراس کا اثر نہیں جاتا ۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انگلی جس پر آم کا بور مَلا ہو اگر کسی ایسے شخص کو Touchکر دی جائے یا رگڑ دی جائے جہاں شہد کی مکھی نے ڈنگ مارا ہو تو اسے آہستہ آہستہ درد کو آرام آجائے گا چند منٹوں میں۔ اب قابل توجہ بات یہ ہے کہ آم کے بور میں کیا خوبی ہے کہ اسے بار بار دھونے کے باوجود بھی یہ اثر زائل نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ آم کے بور کے اثر کی ایک یادداشت ایک Printہے جو دماغ نے محفوظ کر لیا ہے اور یہی ہومیوپیتھی Potencyکا رویہ ہے کہ Memory Systemسے فائدہ اٹھاتی ہے کہ دوا کو کتنا بھی پتلا کیا جائے اس کااصل اثر مٹتا ہی نہیں اور جب بھی یہ دوا استعمال کی جائے اپنا بنیادی اثر دکھاتی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ جسم ردّعمل دکھاتا ہے۔

نوٹ :دراصل ہومیوپیتھک دوائیں باوجود لاعلمی کے ہمیں فائدہ پہنچا دیتی ہیں۔ کیونکہ اس کا Principleیہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو نظام حیات بنایا ہے وہ خود ہر چیز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایک حد تک۔ کیونکہ اس حد کے بعد موت ہے اور مو ت کا کوئی علاج نہیں۔اس لئے موت سے پہلے نظام حیات میں جو جو صلاحیتیں ہیں جن کا ہمیں پورا علم نہیں کہ کیا ہیں اور کیسے ہوتی ہیں او رجب ہومیوپیتھک دوا ایک واضح Threat Creatکرتی ہے یعنی ایک ڈراوا دیتی ہے جسم کے دفاع کو کہ تمہیں یہ ہونے والا ہے اس اس قسم کی بیماری حملہ کرنے والی ہے تو جسم کا نظام جب اس ڈراوے کو محسوس کر کے اس ڈراوے کے خلاف ایک ردّعمل دکھاتا ہے تو اسی ردعمل میں ہومیوپیتھک دوا کی شفا پنہاں ہے جو اپنے وقت پر روزروشن کی طرح ظاہر ہو جاتی ہے اور کوئی جاہل سے جاہل بھی اس شفا کا انکار نہیں کرسکتا۔ اگر پیغام غلط ہو گیا تو جسم کوئی ردّعمل نہیں دکھائے گا یا ہو گا تو ایسی جگہ ہو گا جہاں ضرورت نہیں اور معمولی سا ردعمل ہو کر آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔

نوٹ :اسی لئے ہومیوپیتھی میں علامات کو بہت باریکی سے سمجھنا اور صحیح دوا کا فوری انتخاب ازحد ضروری ہے بعض اوقات ایک ہی خوراک شفا بخش ہو جاتی ہے۔ تو ثابت ہوا کہ جسم اپنے آپ کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ہاں ڈاکٹر بھی اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ ٹھیک دوا دے۔

نوٹ:مزید وضاحت کیلئے Suppression دیکھیں۔

تشخیص کے اصول

نوٹ : Arsenicکے کمپاؤنڈز، Calcareaکے کمپاؤنڈز اور Carbonکے کمپاؤنڈز کو سمجھ لیں تو اکثر بیماریاں قابو میں آ جائیں گی۔بڑی بڑی بیماریاں اصل میں Constitutionalیعنی مزاجی ہیں جب تک Carbonاور Calciumپر گہری نظر نہ ہو علاج نہیں ہو سکتا۔ دوسری دوائیں صرف کھرچتی ہیں بیماری کو مکمل علاج نہیں۔ہاں ان دواؤں کے ساتھ دوسری دوائیں بھی دیں۔

نوٹ:مریضوں سے شروع کی علامات پوچھیں کہ بیماری کیسے شروع ہوئی اس لئے کہ اگر شروع ہی میں صحیح دوا دی جاتی تو بیماری کرانک نہ ہوتی اب Acuteدواکی بجائے Chronicدوادیں گے لیکن اُسی بنیاد پر دوا دیں جس بنیاد پر بیماری شروع ہوئی تھی۔

نوٹ:بیماری کی اصلیت معلوم کریں مثلاً Cicutaمیں اعصاب کی زودحسی کی وجہ سے Spasmیعنی کھجلی سے لے کر Catalapsyتک ہو جاتی ہے۔

نوٹ:(کینٹ241 V.Impدیکھیں) بیماریاں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر جاتی ہیں۔ گیلاہونے سے پیدا ہوتی ہیں سرد گرم ہونے بھی، اس لئے ہومیوپیتھی میں ہر مریض کی علیحدہ علیحدہ دوا ہو گی بلحاظ اس کی بیماری کی وجوہات کے کہ کیسے بیماری بڑھتی ہے۔

نوٹ : ہر بات کتابوں میں نہیں لکھی ہوتی۔خود غور کر کے بعض بڑی اہم باتیں دریافت کرنی پڑتی ہیں اور دریافت ہو بھی جاتی ہیں صرف Provingپر بھروسہ کرنا کافی نہیں Clinicalشہادتیں اور اپنا ذاتی تجربہ بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے ہومیوپیتھی سمجھنے اور سمجھانے میں اور اس طرح علاج کے نت نئے طریق بھی دریافت ہوتے رہتے ہیں۔ (فی زمانہ آسانی سےProver بھی نہیں ملتے کیونکہ خالی الذہن ہو کر یہ کام کرنا ہوتا ہے جو بڑا مشکل ہے)۔

نوٹ:اسی لئے یہ مقولہ مشہور ہے کہ ہر ہومیوپیتھ اپنا ایک علیحدہ مٹیریا میڈیکا تیار کرتا ہے۔

نوٹ:مریضوں سے یہ پوچھیں کہ بیماریوں کی ابتدا میں آپ کی کیا علامات ہوتی تھیں توکوئی بیلاڈونا کا مریض نکلے گا اور کوئی ہیپر سلف کا،اور اگر بگڑ کر کرانک ہوئی ہوں تو ان کا علاج آسان ہو جائے گا مثلاً پہلے بیلاڈونا کی علامات تھیں تو اب اگر بیلاڈونا دیں تو ایک آدھ دفعہ فائدہ ہو گا ورنہ ہیپر سلف، کلکیریا کارب وغیرہ دینا پڑے گااور حاد بیماریوں میں یہ پوچھیں کہ کیا ہوا تھا کیا سردی لگ گئی تھی یا گرمی۔ ڈر گئے تھے کوئی Shockپہنچا یا Accident ہوا وغیرہ ، غم پہنچا یا کوئی بُری خبر آئی یاکسی عزیز کی وفات ہو گئی؟(کیونکہ خود مریض یہ ساری وجوہات نہیں بتائے گا وہ تو صرف اپنی تکلیف بتائے گا)

نوٹ : Reffered Painsکا مطلب ہے کہ اصل ماؤف حصہ کی بجائے دوسری جگہ بھی درد اور بے چینی ہونا مثلاً ٹخنے کی موچ کی دردیں اوپرگھٹنوں یا کولہوں میں ہونا اور ٹخنوں میں بھی ہونا۔ مثلاً ٹخنہ میں موچ آئی اور اس کا صحیح علاج نہیں ہوا دردیں دوسری جگہ بھی چلی گئیں اب اگر ٹخنہ کی موچ کا ہی علاج ہو گا تو پہلے اِدھر اُدھر کی دردیں واپس ٹخنہ میں آئیں گی اور پھر نتیجتاً دوسری اوپر نیچے کی دردیں بھی ٹھیک ہو جائیں گی اسلئے پتہ کرنا از حد ضروری ہے کہ تکلیف کب اور کیسے شروع ہوئی۔ اسی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہوں پر منتقل ایگزیما بھی علاج کے بعد واپس اپنی اصل جگہ پر آ کر ٹھیک ہوتا ہے۔

نوٹ :اگر آپ Reffered Painsکا علاج کریں گے جو اصل ماؤف مقام کے علاوہ دوسری جگہ ہو رہی ہوتی ہیں تو کبھی فائدہ نہیں ہوگا اس لئے جہاں سے تکلیف کی ابتداء ہوئی ہے اس کا ہی علاج کرنا ضروری ہے مثلاً اگر ٹخنہ ٹھیک ہو جائے اور دردیں دوسری جگہ چلی جائیں تو یہ غلط ہے بلکہ اصل بات یہ ہونی چاہیئے کہ ابتدائی ماؤف مقام بھی ٹھیک ہو اور دردیں دوسری جگہ بھی نہ جائیں۔ کیونکہ پورا جسم ایک ہے اگر ایک حصہ متاثر ہوتا ہے تو دوسرے حصے پر بھی اثر ہونا قابلِ فہم ہے اسی لئے دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں بیماری جا سکتی ہے اورعملاً جاتی بھی ہے۔

نوٹ:بعض بیماریاں تیزی سے جگہ بدلتی ہیں بعض بیماریاں کچھ دیر پہلے ایک طرف رہتی ہیں پھر دوسری طرف منتقل ہوتی ہیں اور دواؤں میں بھی یہ علامات واضح طور پر موجود ہوتی ہیں اس لئے یہی باریک فرق ذہن میں رکھ کر علاج ہوتا ہے۔

نوٹ:دواؤں کا مزاج سمجھ کر نئے نئے علاج سیکھیں جو عام کتابوں میں نہیں ملتے۔ بیماری کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں بلکہ بیماری کی علامات سمجھیں پھر وہ علامات دوا میں دیکھیں یہ اصل علاج ہے۔

نوٹ:بیماری کی وجہ پر نظر رکھیں مثلاً ورزش حد سے بڑھے تو نہ صرف دل کی تکلیف بلکہ رحم کا Prolapseتک بھی ہو سکتا ہے۔یہاں سادہ سی دوا آرنیکا کام کرے گی۔

نوٹ:سلفر، رسٹاکس ، مرکسال وغیرہ اندرونی بیماریاں نکالتی ہیں اس لئے جو بعد میں علامات ہوں ان کا علاج کریں۔

Carboveg:کاربوویج دوران خون ٹھیک کر دیتی ہے نتیجتاً دوسری دوائیں اچھا کام کرتی ہیں۔ غور کریں۔

نوٹ:بیماریوں کی ابتدائی کیفیت اور انتہائی کیفیت پر غور کریں مثلاً سلفر کے مریض کی جلد شروع میں خشک ہو سکتی ہے آخر میں جھری دار گندی بودار اور طرح طرح کی ضدی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے لیکن جلن والی علامت شروع اور آخر میں ضرور ہوگی۔

نوٹ (کینٹ955):عام روزمرہ کی بیماریوں کے بعد مریض جلدی صحت مند نہیں ہوتاکیونکہ اندرونی کمزوریاں رہ جاتی ہیں۔ اندرونی سوزش اور Infiltrationوغیرہ کی وجہ سے۔اسی طرح سورک (PSoric) حالتوں کی وجہ سے۔ اورIndurationsکی وجہ سے مریض بعد میں بھی کمزوری محسوس کرتارہتا ہے (بظاہر حملہ آور بیماری ٹھیک ہو چکی ہے) Sulfurان بقیہ حالتوں کا علاج ہے۔ بشرطیکہ مریض گرم مزاج ہو چکا ہو اگر سرد مزاج ہو تو سورائینم دیں۔بعض اوقات برائٹاکارب کی ضرورت پڑتی ہے۔

نوٹ:اگرآپ کسی کی مزاجی دوا ڈھونڈ لیں یعنی (Constitutional Medicine) تو قریباًاس کی ہر مرض کا علاج ہو جائے گا۔ خواہ اس دوا میں ان امراض کا ذکر تک بھی نہ ہو جن میں مریض مبتلا ہے اس لئے ہر ہومیوپیتھ اتنا قابل ہونا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنے مریضوں کی Constitutional Remediesڈھونڈ سکے۔اس کی چوٹی کی ایک مثال Staphysagriaہے۔

نوٹ:پرانی علامات سب سے بعد میں ٹھیک ہوتی ہیں کیونکہ پہلے بیماری سمٹ کر اپنے اصل مقام پر آئے گی پھر اصل بیماری ٹھیک ہو گی(کینٹ مٹیریامیڈیکا صفحہ 966)۔ Arsenicاور Calc Phos کا فرق نوٹ کریں بواسیر میں جلن دونوں میں ہے لیکن شدید اور کم۔

نوٹ:محض جلن کے نام پر دوائی دینا کافی نہیں کسی دوا میں جلن زیادہ ہے کسی میں کم۔ دیکھیں آرسنک، کلکیریا فاس، سیکیل ، کینتھرس وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ :ضروری نہیں ہوتا کہ ایک دوا کی تمام علامات کسی مریض میں ملیں۔ تفصیل کیلئے دیکھیں Acid Murاور Calcarea Carb۔

نوٹ V.Imp: Partsمیں بھی اصل دوا کی بنیادی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں اس لئے سارے مریض میں ساری علامات آجانے کا انتظار نہ کریں بلکہ جزوی علامات اور جزوی شفا پر بھی نظر رکھیں۔تفصیل کیلئے دیکھیں کلکیریا کارب،میوریٹک ایسڈوغیرہ وغیرہ۔

نوٹ :بعض مریض بہت زودحس ہوتے ہیں کہ کسی بھی دوا کا ردعمل ظاہر نہیں کرتے بلکہ جو دوا دیں اس کی ہی علامات ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔Belladonna، Nux Vomica، Zincum Met یہ زودحسی ختم کر دیتے ہیں۔ زنکم میٹ سب سے زیادہ مؤثر ہے۔

نوٹ : بعض بیماریوں کے دوران جسم میں دردیں ہوتی ہیں Rumexدیکھیں (Imp)۔ اسی طرح Arnica، Pyrogenum، Lycopodium، Pulsatillaوغیرہ بھی دیکھیں۔ مثلاً Arnicaمیں سارا جسم دکھتا ہے اور Pyrogenumمیں بھی Infectionsسارے خون میں شامل ہو کر دردیں پیدا کرتے ہیں۔ بے شک Arnicaبھی Infectionsاور Septicکی دوا ہے لیکن Pyroginumزیادہ گہری ہے۔

نوٹ :ایک ایک بیماری کی دوا نہ دیں ہاں زیادہ سے زیادہ علامات کو مدنظر رکھ کر دوا دیں۔تلاش کرنے سے زیادہ علامات نظر آ سکتی ہیں۔

نوٹ :بعض اوقات کسی بیماری کی ایک ہی بنیادی علامت کسی دوا کی بنیادی علامت سے ملتی جلتی ہوتی ہے مثلاً پیشاب کی بدبو کیلئے Benzoic Acidیا Nitric Acidسے فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن جسم میں کہیں بھی یا رحم میں Infectionہو تو بھی بدبودار پیشاب آتا ہے۔ اس لئے ایک دوا سے ایک بیماری یا علامت ٹھیک ہو جاتی ہے خواہ وہ پورے مریض کی دوا ہو یا نہ ہو۔بشرطیکہ وہ علامت دوسری بیماریوں سے متعلقہ نہ ہو مثلاً اگررحم کے Infectionکی وجہ سے پیشاب بدبودار ہے تو Benzoic Acidوغیرہ فائدہ نہ دے گی جب تک رحم کا Infectionدور نہ کیا جائے۔ ہاں اگر پیشاب کی بو کا تعلق کسی خاص بیماری سے نہ ہو تو پھر کوئی ایک دوا جو پیشاب کی بو سے بھی تعلق رکھتی ہو مفید ہو گی۔ کیونکہ بعض اوقات بعض گندے مادوں یا زہروں کے خون میں شامل ہونے سے بدبوپیدا ہوتی ہے پیشاب پسینہ وغیرہ سے لیکن ساتھ Infectionکی علامات نہیں ہوتیں اسلئے دواؤں میں تفریق ہو جاتی ہے۔

نوٹ:اس لئے پورے مریض کی تمام بیماریوں میں سے ایک بیماری دور کرنا کوئی کامیابی نہیں نہ ہومیوپیتھی طریقہ علاج ہے مریض کو بھی دھوکہ دینا ہے اور خود کو بھی۔ کیونکہ ہومیوپیتھی میں تمام مریض کو مدنظر رکھ کر علاج کرنا ہوتا ہے اور اس کی مکمل صحت مدنظر ہوتی ہے ورنہ اصل بیماری موجود رہے گی اور پھر کسی اور جگہ سے سر نکالے گی اور کئی شکلیں بدلے گی اسلئے مریض کیTotalityدیکھنا ازبس ضروری ہے۔

نوٹ:اسی طرح گردے کی کسی بیماری سے جس کا Nitric Acidیا Benzoiz Acidسے کوئی تعلق نہیں پیشاب سے بدبو آ سکتی ہے چونکہ Syphiliticاثرات سے بھی پیشاب میں بدبو آسکتی ہے اور اس بیماری کا تعلق Nitric Acidسے ہے اسلئے اب Nitric Acidہی مناسب دوا ہے پورے مریض کی۔

نوٹ:ایک ایک علامت کی دوا دینے سے بعض اوقات تمام علامات گڈمڈ ہو جاتی ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ اصل مرض کیا ہے اس کے لئے Nux Vomicaاور Sulfurوغیرہ جیسی دوائیں دے کر مریض کی اصل حالت سامنے لائیں۔ Sulfurدیکھیں۔

نوٹ:ہر ہومیوپیتھ اپنی گہر ی سوچ و فراست سے ایک نیا Materia Medica بناتا ہے ۔ لیکن دواؤں کی اصل حقیقت کو جاننا ضروری ہے صرف کتابوں کی علامات کافی نہیں۔ اندر کی بات سمجھیں لکیر کے فقیر نہ بنیں۔ مزید وضاحت کیلئےActaea دیکھیں۔

سب سے پہلے Kaliesکے مرکبات: اور Calcareaکے مرکبات اور بعض اہم زہروں مثلاً آرسینک، لیکسس، وغیرہ کی خوب پہچان کریں اورروزمرہ کی دوائیں بھی ازبر ہونی چاہئیں اور دیگر چیدہ چیدہ باتیں مثلاً سردی گرمی سے بیماریاں کم یا زیادہ ہونا اور بدبودار اخراجات، بھوک کی کمی یا زیادتی بیماریوں کے بڑھنے گھٹنے کے اوقات وغیرہ نوٹ کریں۔MRIاور دوسرے ٹیسٹ وغیرہ کا پوچھیں X-Rayبھی کروائیں تاکہ علامات کھل کر سامنے آ جائیں وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح دوران خون کا سر کی طرف رہنا اور دوران خون میں خرابیاں نوٹ کریں۔

V.Imp:زودحسی عام ہے اس لئے سب سے پہلے مریضوں کے Central Nervous Systemپر توجہ دیں۔

نوٹ:صرف درد کے نام کی دوا نہیں ہوتی ہومیوپیتھی میں بلکہ دردوں کی پہچان ضروری ہے کہ اعصابی درد ہے یا رومیٹک در د ہے یا دوران خون کی زیادتی کی وجہ سے درد ہے یا Infectiousدرد ہے وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ :اپنی ناکامیوں پر غور کریں کہ کیوں صحیح دوا تک رسائی نہ ہوسکی اس طرح کامیابی کی رفتار بڑھتی جائے گی۔

نوٹ:فی زمانہ نت نئی بیماریوں کا بہت چرچا ہے جن کا ذمے دار کوئی نہ کوئی بیکٹیریا بتایا جاتا ہے یا کسی وائرس کا نام لیا جاتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں کسی وائرس یا بیکٹیریا کی کوئی اہمیت ہی نہیں بلکہ بیماری کی علامات دیکھی جاتی ہیں۔ویسے بہت سارے Infectionsکیلئے عمومی دوائیں بھی ہیں مثلاً گرم مزاج مریض ہو تو سلفر کام کرتی ہے سرد مزاج ہو تو سورائینم اور سلیشیا ، پائروجینم وغیرہ کام آتی ہیں۔شرط وہی ہے کہ دوا کی علامات ہونا ضروری ہے۔مثلاً آجکل کھانے پینے میں طرح طرح کی بدپرہیزیاں بھی بیماریوں کی ذمے وار ہیں بچوں میں میٹھا کھانے کی عادت پوری دنیا میں عام ہے اس کیلئے شکر سے بنی ہوئی دوا Saccharm Offمفید ہے ۔ولیم بورک صفحہ نمبر 805دیکھیں۔

نوٹ:عورتوں کی بہت ساری بیماریوں کا تعلق رحم کی بیماریوں سے بھی ہوتا ہے اس لئے ان کا ماہواری وغیرہ کی خرابیوں کا علاج کریں۔ دیکھیں Cimicifuga۔

خاص اوقات پر: تکالیف کا بڑھنا یا کم ہونا بڑی اہم علامت ہے بعض دواؤں کی Kali Carb، Arsenicاور Nat Murوغیرہ دیکھیں۔

بیماریوں کاادل بدل (Metastasis)بھی ہومیوپیتھی میں ایک اہم باب ہے۔ تفصیل کیلئے ابراٹینم دیکھیں۔

نوٹ:علامات کے گروپ ہوتے ہیں یعنی چند علامات مل کر کسی دوا کی پہچان بنتی ہیں ایک ایک علامت پر دوا دینا بالکل غیر مناسب ہے۔ تفصیل کیلئے سلفر دیکھیں

V.Impملتی جلتی دوائیں استعمال کریں اگر ایک کام نہ کرے تو دوسری دیں یعنی مشابہ دوائیں اد ل بدل کریں۔

تشخیص کے اصول اور علاج

نوٹ :بعض اوقات بیماری سے ملتی جلتی دوائیں اثر نہیں دکھاتیں بہت کوشش کے باوجود بھی فائدہ نہیں ہوتا ایسے حالات میں علامات سے ملتی جلتی جتنی بھی دوائیں مریض کے قریب ترین ہوں وہ باری باری استعمال کریں۔بعض اوقات یہ طریق بھی کام آجاتا ہے۔

نوٹ :سوال یہ ہے آخر مندرجہ بالا طریق کیوں مفید ہوتا ہے بعض اوقات۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایلوپیتھی دوائیں بہت استعمال ہو رہی ہیں آجکل۔ ان کا فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی کیونکہ ایلوپیتھک دوائیں نئی نئی بیماریاں پیدا کررہی ہیں۔ اور علامات کو خراب کرتی ہیں ملا جلا دیتی ہیں یعنی علامات مشتبہ ہو جاتی ہیں وقتی اور مصنوعی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔اصل علامات نظر بھی نہیں آتیں۔ اس لحاظ سے تک بندی سے کام لینا پڑتا ہے۔ مثلاً میرے پاس ایک Herpy Genitalکا مریض لایا گیاجسے Pencilineکی بڑی بڑی خوراکیں دی گئی تھیں ایلوپیتھک سسٹم سے اور دیگر دوائیں بھی دی گئیں۔ اس کی حالت موت کو دستک دے رہی تھی اس کا گلا متورم تھا ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پی سکتا تھا فوراً اُلٹی کر دیتا پینے کے بعد ، ٹھوس چیز نگل نہیں سکتا تھا ایلوپیتھک دواؤں نے اس کا بُرا حال کر دیاتھا۔ (میں بڑا پریشان ہوا کہ کیا کروں) دعا کرتا رہا تو سمجھ آئی کہ سب سے پہلے الٹی کا بندوبست کرو علامات Phosphorusکی تھیں فوری فائدہ ہوا پھر ہرپی کا علاج کیا تو مکمل صحت ہو گئی کیونکہ فوری طور پر ہومیوپیتھک علاج ہو گیا ورنہ یہ بیماری جلدی جان نہیں چھوڑتی۔

نوٹ:یہ مریض نوجوان ایک فاحشہ عورت سے جنسی تعلقات قائم کر بیٹھا اور دو تین دن کے اندر ہی اس کے جنسی اعضاء چھالوں سے بھر گئے شدید جلن اور درد ہوتا تھا۔ ایلوپیتھک علاج سے بیماری بڑھتی جارہی تھی لیکن ہومیوپیتھک طریقہ علاج بڑا مؤثر ثابت ہوا۔فوری دواؤں کے علاوہ میں نے اُسے لیڈم،آرنیکااورآرسینک 200طاقت میں ملا کر دن میں تین دفعہ استعمال کروائیں۔ساتھ گلے کی انفیکشن کا بھی علاج کیا۔

نوٹ:بعض اوقات ہم کامیابی سے مزاج ملائے بغیر بھی دوائیں دیتے ہیں مثلاً بخار کی کیفیت کیلئے یا بخار کیلئے عموماً Aconite+Rhustoxاور Arnica+Bryonia 200طاقت میں ملا کر ادل بدل کرتے ہیں تو عموماً بہت فائدہ ہوتا ہے۔اسی طرح چوٹوں وغیرہ کا علاج بھی ہم اسی بنیاد پر کرتے ہیں کچھ اور دوائیں بھی اپنے عمومی فوائد کے لحاظ سے تیربہدف اور زبانِ زدِعام ہیں ۔

Chamomillaدے کر مزاج درست کریں تاکہ دوسری دوائیں کام کریں۔ آجکل قسما قسم کی دوائی دوائیں اور طرح طرح کے ہارمون استعمال کرائے جاتے ہیں علاج سے پہلے ان کو انٹی ڈوٹ کریں۔

نوٹ:جسم کا ردعمل کمزور ہوتو دوائیں کام نہیں کرتیں Kali PhosاورSiliceaوغیرہ دے کر جسم کا دفاع مضبوط کریں۔

نوٹ:اکثر اوقات مریض کی دوا کے انتخاب میں دقت کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ مریض بیشمار علامات بتاتا ہے اور ڈاکٹرحیران ہو جاتا ہے ۔ اس کا حل یہ ہے کہ مریض کا مزاجی علاج کریں مثلاً اگر سلفر، مرکسال وغیرہ کا مزاج ہو تو ان کے استعمال سے مریض کی بیماریاں کھل کر سامنے آ جائیں گی ۔

نوٹ:ایک دوا کئی حالتوں میں کام آتی ہے مثلاً رسٹاکس اور برائیونیا بخاروں میں بھی مفید ہیں اوربطور مسلز کا ٹانک بھی استعمال ہوتی ہیں۔ برائیونیا دیکھیں

نوٹ:بعض دواؤں کی بعض بیماریوں سے Affinityہوتی ہے اس لئے ایسی دوائیں بغیر مزاج کے بھی دی جا سکتی ہیں مثلاً گردے کی بیماریوں کے لئے Berberis Vulgarisبڑی معروف دوا ہے۔اسی طرح کسی دوا کا پھیپھڑوں سے خاص تعلق ہے کسی کا گردے سے، کسی کادل سے کسی کا سوزاک سے، کوئی دوا ہڈیوں Bones کی ہے کوئی کرّی Cartilagesہڈیوں کی، کسی کا تعلق اعصاب سے ہے تو کسی کا مسلز اور بندھوں یعنی Tendonsسے ہے کوئی دوا جان بچانے والی ہے کہ انتہائی خطرناک حالتوں کی دوا ہے کوئی نسخہ چوٹوں سے غیر معمولی تعلق رکھتا ہے کوئی موچ پر مؤثر ہے اورکوئی زہر زخم پیدا کرتاہے اورکوئی زہر نزلہ زکام پیدا کرتا ہے وغیرہ وغیرہ اور یہ بھی ازحد ضروری ہے کہ ہر بیماری کی حقیقت کو سمجھا جائے مثلاً چوٹ لگے تو کیا ہوتا ہے ماؤف حصوں میں اور اسی طرح Sprainیا موچ یا پٹھا کھنچ جانے کا کیا مطلب ہے یعنی بیماریوں کی وجہ سے جسم میں کیا تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں بخار ہو تو اسکے کیا معنی ہیں سردی اور گرمی کا کیا بھید ہے جسم کیوں کانپتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ:مثلاً کتابوں میں لکھا ہے کہ Kali Carbکا مریض ٹھنڈ بہت محسوس کرتا ہے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ سردی گرمی دونوں سے زودحسی ہے ۔ میں نے ایک مریض سے یہ سب کچھ نہ پوچھا اور کالی کارب30طاقت دی نتیجتاً کمر درد میں فوری فائدہ ہوا۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کچھ خاص مریض ہوتے ہیں جن میں کتابوں کی علامات نظر آتی ہیں کیونکہ بیماری بہت بڑھ چکی ہوتی ہے کچھ عمومی مریض ہوتے ہیں جن کی بیماری ابتدائی Stageپر ہوتی ہے جن میں کتابوں کی لکھی ہوئی علامات بعینہٖ نظر نہیں آتیں اس لئے ابتدائی حالتوں میں ہی دوا دے دینا ٹھیک ہے اس بات کا انتظار نہ کریں مرض اپنی انتہائی علامات ظاہر کرے یعنی کتابوں میں لکھی ہوئی علامات سے مریض کی علامات ہوبہو مل جائیں۔

نوٹ:یاد رکھیں کہ کرانک بیماریوں میں بھی اگر Acuteحملہ ہو یعنی بیماری اچانک Aggravateکرے تو Chronicیعنی گہری دوا نہ دیں بلکہ فوری اثر کرنے والی یعنی Acuteدوا دیں ورنہ کرانک دوا دینے سے بیماری بگڑ سکتی ہے بجائے ٹھیک ہونے کے اور جب وقتی طور پر بیماری کا فوری حملہ رک جائے تو بے شک کرانک یعنی گہرا اثر کرنے والی دوائیں دیں مثلاً Sabadilla چھینکوں کیAcute دوا ہے لیکن اگر بیماری کرانک ہو تو Sabadillaوقتی طورپر تو فائدہ دے گی لیکن مستقل شفا نہ دے گی یعنی بیماری کو جڑ سے نہ ختم کرے گی بلکہ مکمل شفا کیلئے Lachesisدیں گے کیونکہ یہ بڑی طاقتور اور گہری دوا ہے ۔

نوٹ :مندرجہ بالا بیان سے یہ نتیجہ نکلا کہ جب وقتی طور پر کرانک بیماری کا زور ٹوٹ جائے کسی Acuteدوا سے تو پھر وقت ہے کہ اصل علاج شروع کریں مکمل شفا کے لئے۔

نوٹ : اگر کرانک بیماریوں میں Acuteحملہ ہو اور Acuteدوا کام نہ کرے اور کچھ بھی فائدہ نہ ہو تو پھر اصول یہ ہو گا کہ Chronicدوا ہی دیں تو پھر فائدہ اور شفا کی امید بھی رکھیں۔

نوٹ :چونکہ بیماریاں شکلیں بدلتی رہتی ہیں اسلئے پہلے جو جو علامات ظاہر ہو ں سب سے پہلے ان کا ہی علاج کریں خصوصاً نزلہ زکام کا Virusبڑی تیزی سے شکلیں بدلتا ہے اس لئے دوا بھی اسی لحاظ سے جلدی جلدی بدلنی پڑتی ہے جس طرح علامات بدلتی رہیں۔

نوٹ : بیماری کی وجہ دیکھنا ضروری ہے مثلاً بیلاڈونا میں بھی اچانک آواز بیٹھ جاتی ہے اور کاسٹیکم میں بھی لیکن بیلاڈونا میں تو اچانک خون کا Rushہو جاتا ہے اور کاسٹیکم میں اچانک سردی لگنا اورVocal Cordکا فالج ہونا وجہ ہے۔ دراصل اچانک سردی کھاجانا بیلاڈونا میں بھی ہے لیکن ساتھ اجتماع خون اورInflamation والی علامت ضرور ہوتی ہے ہے جبکہ کاسٹیکم میں اجتماع خون والی علامت نہیں بلکہ فالجی حالت ہے۔

نوٹ :ہر مریض اپنی ذات میں ایک الگ جہان ہے مریض آپ کو کتابوں میں لکھی ہوئی علامات کے عین مطابق بیماری ہرگز نہ بتائے گا طرح طرح کی باتیں کرے گا اور آپ کے دماغ میں طرح طرح کی دوائیں بھی آتی چلی جائیں گی آپ میں یہ صلاحیت ہو نی چاہیئے کہ ان دماغ میں آنے والی دواؤں میں سے وہ دوا دیں جو مریض کے مطابق ہو یعنی مرض اور دوا کی خاص علامات ملا لیں مثلاً بخار ہے تو کیا پورا بدن آگ کی طرح جل رہا ہے؟ کیا اچانک بخار ہوا ہے؟ اور کیا مریض کپڑا لینا پسند کرتا ہے؟ اگرجواب ہاں میں ہے تو Belladonnaدوا ہے اور اگریہی بخار کرانک ہو گیا ہے اور مریض گرم ہے یعنی پورا جسم گرم رہتا ہے تو Sulfurدیں اسی طرح اگر نزلہ زکام کھانسی ہے تو اس کی بھی کئی دوائیں ہیں مثلاً اگرمریض کہتا ہے کہ سخت سردی لگ رہی ہے کہ لحاف ہٹانے کو دل نہیں چاہتا تو Hepar Sulfدوا ہے پسینہ وغیرہ کی علامات مزید مددگار ہونگیں یعنی چند دواؤں میں سے علامات ملائیں کسی بھی بیماری میں جو مریض کی علامات اور دوا کی خاص علامات سے ملتی جلتی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مثلاً نزلہ زکام میں ناک سے جلندار پانی آ رہا ہے تو Allium Cepaدوا ہے اگر آنکھوں سے تیز پانی آتا ہے تو Eupharasiaدیں ساتھ کچھ اور علامات بھی توجہ کے لائق ہوتی ہیں۔

نوٹ :ضروری نہیں کہ کسی دوا کی پوری علامات مریض میں ظاہر ہو جائیں تو دوا دیں گے بلکہ اصول یہ ہے کہ کسی دوا کی غالب علامات اگر کسی مریض میں ہوں تو دوا کام کرے گی مثلاً اگر کسی مریض میں پیاس نہیں، منہ خشک ہے تو پہلا خیال Gelsemiumکی طرف جاسکتا ہے لیکن اگر علامات Arsenicوالی ہوں کہ شدید ٹھنڈ اور جلن ہے اور جلن کو گرمی سے افاقہ ہوتا ہے اور ساتھ بے چینی ہے تو اب بے شک پیاس نہ ہو Arsenicہی دوا ہے کیونکہ بعض اوقات Arsenicمیں بھی پیاس غائب ہو جاتی ہے ہاں Arsenicمیں عموماً شدید پیاس ہوتی ہے گھونٹ گھونٹ کی۔ ویسے Belladonnaمیں بھی کبھی شدید پیاس ہوتی ہے اور کبھی گھونٹ گھونٹ کی لیکن ساتھ بیلاڈونا کی پہچان یہ ہے کہ بیماری میں شدت ہوتی ہے لیکن صرف یہ شدت بیلاڈونا کی پہچان نہیں بلکہ بیلاڈونا کی شدت اچانک آتی ہے اور ساتھ سوزش لازماً ہوتی ہے (سوائے اس کے کہ اعصاب متاثر ہوں)اور اگر بیماری کی یہی شدت اچانک نہ آئے بلکہ چند دن کے بعد آئے تو پھر برائی اونیا کا حال بھی بیلا ڈونا والا ہو جاتا ہے۔ اب اگر پیاس بہت زیادہ ہے تو برائیونیا دوا ہے اور اگر پیاس نہیں ہے تو جیلسیمم دوا ہے۔ اس پر مزید غور کریں۔

نوٹ:Arsenic، Belladonnaاور Bryoniaمیں بعض علامات ملتی جلتی بھی ہیں مثلاً جلن، خشکی، پیاس، شدت، بے چینی وغیرہ وغیرہ لیکن ساتھ تفریق کرنے والی علامات لازماً ہوتی ہیں مثلاً Bryoniaمیں بھی بیماری کے آخر میں Belladonnaوالی تپش حدت اور شدت پیدا ہوجاتی ہے خون کا Rushہو جاتا ہے ماؤف حصوں میں لیکن فرق کرنے والی علامت یہ ہے کہ Belladonnaمیں شدت بیماری کی ابتدا ہی سے ہو گی جبکہ Bryoniaمیں یہ شدت آخر میں ہو گی شروع میں بالکل شدت نہیں ہوتی بلکہ بیماری کی ابتدا میں سستی اور غنودگی ہوتی ہے ۔اسی طرح Arsenicمیں سب علامات ہو سکتی ہیں لیکن فرق کرنے والی علامت یہ ہو گی کہ بے چینی بڑی واضح ہو گی پیاس شدید لیکن گھونٹ گھونٹ کی ہو گی۔مریض سخت تکلیف میں ہو گا لیکن شدت اور Voilenceنہیں ہوگی اسے اپنی تکلیف کا شدید احساس تو ہو گا دوسروں کو بھی اس پر رحم آئے گا نہ مریض دوسروں پر غصہ کرے گا نہ دوسرے اس پر غصہ کریں گے جبکہ Belladonnaکا مریض توڑ پھوڑ کر سکتا ہے اگر بیماری کی شدت زیادہ بڑھ جائے اور Bryoniaکا مریض بیماری کے آخر میں غصہ سے بھرا ہوا نظر آئے گا ہر ایک پر غصہ کرے گا تمیز سے بات تک نہیں کرے گا وغیرہ وغیرہ لیکن انتہائی علامات شروع میں نہیں ہوتیں۔

نوٹ : جو شدید بیماریاں ہیں مثلاً بخار، کھانسی یا سوزشی بیماریاں ان کا علاج فوری ہونا ضروری ہے دو چار دن میں افاقہ ضروری ہے اگر افاقہ نہیں ہو رہا تو علاج غلط ہو رہا ہے۔ Acuteحالت فوری طور پر کنٹرول ہونا ضروری ہے ورنہ شدید نقصان ہو سکتا ہے۔

نوٹ :چھوت کی بیماریوں میں میل جول سے مکمل پرہیز ضروری ہے ورنہ دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔

نوٹ:بیماریوں کی علامات واضح کرنے کیلئے نکس وامیکا، سلفر،مرکسال وغیرہ کام آتی ہیں لیکن بیماریوں کے بعد مکمل صحت کیلئے کاربوویج اور برائٹاکارب اور ٹانک کام آتے ہیں۔

نوٹ :اصولِ ہومیوپیتھی یہ ہے خواہ جسم میں کوئی چیز کم ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں دوا ایک ہی ہو گی۔ مثلاً کیلشیم اگر بڑھ جائے جسم میں تو کمی اور بیشی دونوں طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ کہیں تو ہڈیاں کمزور بھربھری ہونگی کمی کی وجہ سے کہیں زیادتی کی وجہ سے ہڈیوں پر پھوڑے ابھار Tumorوغیرہ ظاہر ہوں گے یعنی ہڈیوں پر ہڈیاں اگیں گی اور کہیں کمی کی وجہ سے ہڈیوں میں لچک نہ رہے گی ٹیڑھی ہوں گی وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ کمی بیشی کیلشیم کے توازن بگڑنے کا ثبوت ہے۔ ہومیوپیتھی میں Calcarea Carbاور Calc Phosوغیرہ کیلشیم کا توازن بحال کر دیتی ہیں (ایلوپیتھی وغیرہ میں Calcium دیتے ہیں Crudeشکل میں نتیجتاًکیلشیم کا توازن بگڑتا ہے)

نوٹ :بعض اوقات مریض ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے مشورہ کے بعد بتاتے ہیں کہ ڈاکٹراور Test Reportsکے مطابق اُسے کوئی تکلیف نہیں جبکہ میرا تو بُرا حال ہے۔ دراصل ایسے مریضوں میں Subjective Symptomsہوتے ہیں جوٹیسٹ وغیرہ میں نظر نہیں آتیں۔ جب ان کا ہومیوپیتھک علاج کیاجائے تو ٹھیک ہو جاتے ہیں مریض کو تو اپنی بیماری تنگ کر رہی ہوتی ہے صرف ڈاکٹراور رپورٹوں کے ذریعہ تسلی کافی نہیں ہو سکتی اسے تو شفا چاہیئے۔

نوٹ :ثابت ہوا کہ اصل بات جسم میں کسی چیز کا توازن بگڑنا ہی بیماری ہے خواہ وہ چیز زیادہ کھا لی جائے یا جسم میں کیمیکل تبدیلیاں ہو کر اس چیز کی کمی بیشی ہو جائے اور یہی اصول ہومیوپیتھک دواؤں کا ہے کہ اگر ہومیوپیتھک دوا ضرورت سے زیادہ دے دی جائے تو دونوں طرح کی علامات ہو ں گی کہیں وہ چیز کم ہو گی کہیں زیادہ۔ مثلاً Calcarea Carbخواہ ہومیوپیتھی پوٹینسی میں ضرورت سے زیادہ دی جائے یا ایلوپیتھی وغیرہ میں بطور Crudeدی جائے تو بھی Calcarea Carbکا توازن بگر جائے گا۔اور اسی طرح فاسفورس بے ضرورت اوربے تحاشہ دینے سے (خصوصاً چھوٹی پوٹینسی میں)خون گاڑھا ہو جائے گا لیکن اگر کسی مریض میں فاسفورس کی علامات یعنی بیماریاں ہوں گی تو پھر فاسفورس نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اور یہی اصول کیلشیم وغیرہ کا بھی ہے۔کہ بے ضرورت اور لمبا عرصہ دینے سے نقصان ہوتا ہے۔مثلاً بچوں کو اگر Five Phosesبطور Tonicدیتے ہی چلے جائیں تو موت تک واقع ہو سکتی ہے۔ کیونکہ شروع میں اس سے فائدہ ہوتا ہے اور کم علم ڈاکٹریا لالچی والدین مریض میں کالی فاس وغیرہ کا توازن بگاڑ دیتے ہیں خصوصاً بائیوکیمک6x میں۔ لیکن بڑی طاقت جو کہ لمبے وقفے کے بعد دی جائے اتنی نقصان دہ نہیں ہے۔ کیونکہ چھوٹی طاقتیں اصل زہر کے قریب ہوتی ہیں او ران کا لمبا استعمال پروونگ کر دیتا ہے۔ جبکہ اونچی طاقت اس لئے زیادہ نقصان دہ نہیں ہوتی کہ مریض میں اگر بیماری کی علامات نہ ہوں تو جسم ردعمل پیدا ہی نہیں کرتا۔ ہاں اگر تھوڑی بہت علامات ملتی ہوں تو پھر خطرے کا امکان ہے۔ کیونکہ اگر مریض کی Economyتھوڑی ہے تو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دوا میں بہت طاقت ہے کمزور جسم ردعمل دکھائے گا اور شفا کے لئے تیزی سے کام کرے گا جو مریض کی برداشت سے باہر ہو جائے گا۔ اور وہ مثال صادق آئے گی کہ باز سے ممولا لڑایا جا رہا ہے۔یا جیسے دل کے مریض کو کہا جائے کہ گاڑی چھوٹ رہی ہے اس لئے تیز چلو ، اگر مریض یہ حکم مان لے تو گاڑی میں جائے نہ جائے موت کے منہ میں چلا جائے گا۔

نوٹ :نیم حکیم خطرۂ جان کی طرح نہ بنیں بلکہProfessional Homoeopathبنیں مکمل اور گہرائی میں اتر کرمطالعہ کریں۔اسی طرح Anatomyاور Pathologyپر بھی کافی نظر ہونی چاہیئے ویسے تو ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں علامات اتنی واضح ہوتی ہیں کہ اناٹومی وغیرہ کا بہت زیادہ علم ضروری نہیں رہتا لیکن بنیادی علم لازمی ہے اور اگر ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر علم الامراض اور علم الابدان دونوں پر بھی حاوی ہو تو سونے پر سہاگہ ہے۔

نوٹ : پڑھے لکھے لوگ اور ڈاکٹر زیادہ اچھی ہومیوپیتھی سیکھ سکتے ہیں اہل علم لوگ ان پڑھ لوگوں سے زیادہ اچھے ڈاکٹر بن سکتے ہیں ۔

نوٹ:ہومیوپیتھی میں چونکہ علامات ہی بنیاد ہیں علاج کی (جیسا کہ ہم پہلے بھی اس بات کا ذکر کرچکے ہیں)اور اگر Medical Terminology کی لمبی چوڑی اور مشکل اصلاحات کا نہ بھی پتہ ہوتو بھی ایک ہومیوپیتھ ڈاکٹر اکثر بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔مثلاً ایک مریضہ جسے Carpusal Tunnel Syndrome کی بیماری تھی اس کو میگنیشیا فاس اور کالی فاس 6xبائیوکیمک سے آرام آ گیاجبکہ بقول سپیشلسٹ اس کی Wristکے Tendonsکاٹنا ضروری تھے۔

نوٹ :اگر مزاج پر عبور حاصل نہیں تو مختلف دوائیں جو متعلقہ حالتوں میں کام کرتی ہیں ۔مثلاً بار بار کھانسی کرنے سے سردرد ہو جائے توچونکہ رگڑ سے اندر چوٹ والی حالت ہو جاتی ہے اسلئے Arnicaدیں۔ بے چینی بہت شدید ہو جائے کسی بیماری کے دوران تو Arsenicدیں۔ اسی طرح اگر دوسری دواؤں مثلاً Bryonia، Gelsemiumکی علامات ظاہر ہو گئی ہیں تو پہلے وہ دیں تاکہ مریض Emergencyسے نکل آئے نتیجتاً ڈاکٹر کا Coffidenceبھی بڑھے گا اور مریض کا بھی۔

نوٹ:اگر ہومیوپیتھک دوا کے بعد اچھی نیند آئے یاکھل کر پیشاب آ جائے تو اس بات کا ثبوت ہے کہ دوا ٹھیک تھی۔

نوٹ:بیماری کو سمجھنا ازحد ضروری ہے بیماری کا تعین کرنا بڑا اہم ہے مثلاً Cicutaدیکھیں V.Imp

نوٹ:کئی ایک بیماریاں ہو سکتی ہیں ایک ہی مریض میں۔ اسلئے پہلے ہنگامی حالت دور کریں پھر مستقل شفا کی کوشش کریں۔

نوٹ:یوں تو ہومیوپیتھی میں ایسے قواعد وضوابط واضح طور پر موجود ہیں کہ جن کو سامنے رکھ کر تشخیص اور علاج کافی آسان ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ سب اصول وضوابط ہر وقت ڈاکٹر کے دماغ میں ہر طرح کے مریض کے علاج کے وقت مستحضر رہیں لیکن ایسے کہنہ مشق ڈاکٹر تھوڑے ہیں کیونکہ انسان کمزور ہے اسلئے فوری طور پر ہر بات ذہن میں نہیں رہتی خصوصاً شروع میں اور پھر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے ۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ بہت سے اہم نکات متعلقہ ابواب میں درج کر دیئے جائیں اور جہاں ڈاکٹر کو کوئی وضاحت درکار ہوتو وہ اس باب میں ان کو دوبارہ دیکھ لے۔ بار بار دیکھنے سے آہستہ آہستہ یادداشت پر اچھا اثر پڑے گا ۔

نوٹ:خاکسار کی یہ کوشش ہو گی کہ آئندہ بھی حضور کی مندرجہ بالا نصیحت کے مطابق لکھوں۔ اسی انداز سے سب کو کوشش کرنی چاہیئے۔تاکہ ہومیوپیتھی سمجھنا سمجھانا آسان ہو جائے۔

نوٹ:ایک مثال یہ بھی ہے کہ مثلاً مریض کے اندر آگ لگی ہو اسے شدید گرمی کا احساس اندرونی طور پرہو تو اگر اسے Secale 200طاقت یا 1000طاقت میں دیں جب بھی بیماری بھڑکے تو فائدہ جلدی ہوتا ہے وجہ یہ ہے کہ ابھی Acuteحالت ہے اسلئے جب بیماری زور مارے اسے بڑی طاقت کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے مثلاً Hepar Sulf 1000طاقت میں ایک خوراک دانت وغیرہ کا انفیکشن فوراً دور کرتی ہے۔

نوٹ:دوا کی دوہرائی بڑی اہم چیز ہے مثلاً گلا میں درد تھا اسے کالی فاس 6xاور فیرم فاس6xکی تین خوراکیں 4/3گھنٹہ کے وقفہ سے دی گئیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ خاکسار نے کہا کہ آدھ گھنٹہ کے وقفہ سے 5خوراکیں کھا کر بتائیں۔ نتیجتاً مکمل آرام آ گیا۔ ایک مریض کو بائیں طرف کرانک لقوہ تھا اور شدید درد ہورہا تھا خاکسار نے آرنیکا، لیکسس اور لیڈم 200طاقت میں ملا کر ایک ایک گھنٹہ کے وقفہ سے 3خوراکیں دیں درد کو مکمل آرام آ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ فالج ٹھیک ہو گیا یہ فالج دو سال پرانا تھا۔ ایک مریض کو بائیں طرف گلے کے ورم کا شدید حملہ ہوا اس کا دس دن تک انٹی بائیوٹک دواؤں سے علاج ہوا، نتیجتاًمزید خرابی ہوئی اُسے ہومیوپیتھک نسخہ کی پہلی ایک دو خوراکوں سے بہت افاقہ ہوا۔چونکہ بائیں طرف بیماری کی ابتدا ہوئی تھی اس لئے اسے آرنیکا، لیکسس اور لیڈم 200طاقت میں ملا کر دیاگیا۔

Provers:نے جب Provingکروائی تو ایک Proverنے ایک Set fo Symptomsدیا اور دوسرے نے دوسرا دیا۔ کینٹ 156۔ اس مثال میں بھی ہمارے لئے دعوتِ فکر ہے۔

نوٹ :مریض کی تشخیص بڑا مشکل اور اہم مسئلہ ہے اسلئے بڑے غور و فکر کے ساتھ دوا تجویز کریں۔

کرانک :امراض میں مبتلامریضوں مثلاً دمہ، مرگی، جوڑوں کے درد وغیرہ میں مبتلا مریضوں کو سر سری نسخہ دینا مناسب نہیں۔ ان سے پورا انٹرویو لیں اور پہلے جو باتیں مریض بتا سکتا ہے وہ نوٹ کریں پھرعلامات کی وضاحت کیلئے ضروری سوالات بھی کریں مثلاً مرگی کی علامات پر دوا دیں مرگی کے نام پردوا نہ دیں یعنی ہر مریض کا دورہ الگ الگ ہے علامات الگ الگ ہیں اگر کتابوں میں دوائیں ڈھونڈیں مرگی کے نام پر تو مشکل امرہے اور جو نمایاں علامات نظر آئیں ان کی دوا دیں مثلاً ایک مرگی نما بیماری کے مریض کو ایک ایسی دوا نے فائدہ دیا جس کا ذکر کتابوں میں بطور مرگی کی دوا کے طور پرنہیں ملتا اور وہ ہے Cactus۔ اور Cactusکی ایک علامت یہ ہے کہ ذرا سا شور مریض کو سر پر یوں اثر کرتا ہے کہ جیسے کسی نے پتھر مار دیا ہو ایسے مریض سو نہیں سکتے اور پاگل ہو جاتے ہیں ان کو دورے پڑتے ہیں کوئی کہہ سکتا ہے یہ مرگی ہے اس مریض کو Cactusسے حیرت انگیز شفا ہوئی۔اسی طرح ایک بچی کو ڈاکٹروں نے مرگی بتائی میں نے اس کیلئے Cicutaتجویز کی جس سے فوری فائدہ ہوا۔اس طرح کی اور مثالیں بھی ہیں۔

نوٹ:ایسے مندرجہ بالا مریضوں کو صرف ایک ہی دوا سے فائدہ نہیں ہو سکتا پہلے Emergencyسے نکال کر اس کی حالت کا مجموعی جائزہ لے کر دوسری متعلقہ دوائیں دینا ضروری ہے اور ایسے مریضوں کو اپنی خاص نگرانی میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً دوران علاج اگر سر کی طرف خون کاRushہو جائے اور چہرہ تمتماجائے توایمرجنسی دور کرنے کیلئے Glonine دے سکتے ہیں۔

مثلاً:ایک مریض کو گرمی کا احساس ہے (وجہ کچھ بھی ہو) وہ کم کپڑے پہنے گا نہائے گا ٹھنڈی چیزیں استعمال کرے گا پنکھا استعمال کرے گا وغیرہ وغیرہ نتیجتاً ٹھنڈ کھا جائے گا اور اس کا جسم بخار کی کیفیت میں آ جائے گا۔ کچا پن پیدا ہو جائے گا ہلکی ہلکی دکھن سی ہو گی یا تھکاوٹ کا احساس ہو گا اسے کمزوری سی کہہ لیں یاطبیعت خراب کہہ لیں۔ (اور مریض طبی اصطلاحات میں اپنی بیماری بیان نہیں کر سکتا)لیکن ایک سمجھدار ڈاکٹر اصل بات بھانپ لے گا کہ ایک ٹھیک ٹھاک انسان اچانک طبیعت خراب یا تھکاوٹ کا اظہار کررہا ہے تواسے ہومیوپیتھی Asprinدیں یعنی Aconite+Rhustoxاور Bryonia+Arnica 200طاقت میں ملا کردو دو گھنٹے کے وقفہ سے انشاء اللہ عموماً فوری فائدہ ہو گا(مزیدتفصیل کیلئے ملیریا بخار دیکھیں)

پتہ:کی بیماری کے لئے بھی علامات کے مطابق دوائیں دیں اگر درد ہو توپہلے درد دور کریں پھر مستقل علاج کی کوشش کریں مثلاً پتھریاں گھلانے کیلئےColocynth+Cholestrinum+Dioscorea+Nat Sulfدیں ساتھ علامات کے مطابق سلفر وغیرہ بھی دے سکتے ہیں ۔ کولسٹرینم نہ صرف پتہ کی درد کیلئے مفید ہے بلکہ پتھریوں وغیرہ کے لئے بھی اچھی ہے لیکن بعض اوقات پورا فائدہ نہیں دیتی اسلئے علامات کا جائزہ لے کر ساتھ دوسری دوائیں بھی دیں مثلاً ایک مریض نے بتایا کہگھر کے حالات کی وجہ سے اس کا Nervous Break Downہو چکا ہے جب اسے Sepiaدی گئی تو حیرت انگیز فائدہ ہوا جبکہ Cholestrinumسے وقتی افاقہ ہوتاتھا۔

نوٹ:بعض مریض اپنی بیماری بھی بیان نہیں کر سکتے اچھی تربیت کی کمی اور جہالت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسی لئے ڈاکٹرکینٹ کہتے ہیں کہ مریض کو ایسے دوا دو جیسے گھوڑے/جانور کو دی جاتی ہے۔ یعنی دوا اور علاج معالجہ پر عبور ہونا چاہیئے۔

نوٹ :جس طرح انٹی بائیوٹک اور Strong Drugsکے خطرناک بداثرات ہوتے ہیں اسی طرح بعض بیماریاں بظاہر معمولی نظر آتی ہیں لیکن اگر ان کا وقت پر علاج نہ کیا جائے تو بڑی خطرناک بیماریوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

مثلاًنزلہ زکام:بظاہر معمولی بیماری ہے لیکن اس کے بداثرات گہری بیماریاں پیدا کردیتے ہیں مثلاً دمہ اور Lungsکی بیماریاں، دماغی تکالیف اور کان کی تکالیف بھی حتٰی کہ دانتوں تک پر بھی بُرا اثرپڑتا ہے۔ اسلئے وقت پر دوا دیں اور ٹھیک ہونے پر بھی کچھ عرصہ علاج جاری رکھیں۔ اگر نزلہ زکام ٹھیک ہو جائے تو مریض کی کایا پلٹ جائے گی۔

نسخہ جات اور اکیلی دوا

نوٹ :بعض اوقات اگر کوئی دوا فائدہ دے رہی ہو اور اسے وقت سے پہلے چھوڑ دیں (وقتی فائدہ کے بعد) تو کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ دیں گے تو فائدہ نہیں دے گی بلکہ بعض اوقات دوا چھوڑنے کے بعد بیماری کا اگلا حملہ بڑا شدید ہوتا ہے اسلئے جب تک مکمل شفا نہ ہو علاج ختم نہ کریں۔ بعض اوقاتOff+Onیعنی لمبے وقفوں سے بھی دوا دوہرانی پڑتی ہے۔

مثلاً پیٹ درد کا ایک نسخہ اس بنیاد پر بنائیں کہ گرمی سے فائدہ ہوتا ہو دوسرا سردی سے فائدہ ہو تا ہو۔یعنی ایک نسخہ برائے گرم مزاج دوسرا نسخہ برائے سرد مزاج۔

نوٹ :Oppositeاثر والی دوائیں ملانے سے ایک دوسرے کے اثر کو مضبوط کرنے کی بجائے گہرا نقصان ہو سکتا ہے۔ مثلاً Siliceaاور Merc Solیا Phosphorusاور Causticumوغیرہ وغیرہ۔

نوٹ:جتنی زیادہ دوائیں ملائیں گے اتنا زیادہ اثر کم ہوتا چلاجائے گا مجموعی طور پر۔ اس لئے احتیاط کریں ایک دوا دوسری کو انٹی ڈوٹ بھی کر سکتی ہے۔

نوٹ:مثلاً ایک کرانک سردرد کی مریضہ کو Aconite+Arnica+Belladonna 1000طاقت نے چند منٹ میں فائدہ دینے کی بجائے ایک گھنٹہ بعد فائدہ دیا،یہ قابل غور بات ہے حالانکہ عموماً یہ نسخہ فوراً فائدہ دیتا ہے اگر اس کی علامات ہوں۔ہو سکتا ہے کہ دائیں طرف سردرد میں اکیلا Belladonnaکافی ہوتا۔ آرنیکا اور ایکونائٹ فالتو تھا اس لئے نتیجتاًدونوں دواؤں نے مل کر بیلاڈونا کا اثر کم کر دیاہو اور دیر سے فائدہ ہوا۔

نوٹ:Bryoniaاور Causticumاسلئے ملا سکتے ہیں کہ ان کی بیماریاں اوپر سے نیچے حرکت کرتی ہیں جبکہ Ledumکی بیماری نیچے سے اوپر حرکت کرتی ہے اس لئے یہ Bryoniaکے ساتھ نہیں ملا سکتے۔ ٹکراؤ ہے ان میں اوپر نیچے اور نیچے اوپر کا۔

نوٹ:Arnicaاور Lachesisدونوں Clot کو گھُلاتی ہیں اور مل کر بہت اچھا کام کرتی ہیں لیکن اگر ان کا ادل بدل کیا جائے کہ علیحدہ علیحدہ دیں کچھ وقفہ کے بعد تو برعکس کام کر سکتی ہیں۔ مثلاً Arnicaنے Clot گھلانا شروع کیا اور چند گھنٹہ بعد Lachesisلی تو تجربہ میں یہ آیا ہے کہ Lachesisبجائے اس کے کہClot گھلائے Clotبنانا شروع کر دیتی ہے اس لئے تحقیق کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ اس لئے دونوں دواؤں کو یا تو ملا کر دیں یا بالکل اکیلی اکیلی استعمال کریں۔

نوٹ : علامات دیکھ کر دوابدلنا ضروری ہے بعض اوقات صبح و شام دوا بدلنی پڑتی ہے۔

نوٹ:دراصل ملتی جلتی دواؤں کوملانے سے جو دوا مرض کے زیادہ قریب ہوتی ہے وہ تو کام کرتی ہے باقی دوائیں خاموش پڑی رہتی ہیں یعنی کام نہیں کرتیں۔

دوا کا استعمال

نوٹ:Acute اور عارضی آنی جانی بیماریوں میں اگر دوا دینے سے آرام آ جائے تو دوا فوراً بند کر دیں خواہ ایک دو خوراکوں سے آرام آ جائے لیکن چند گھنٹوں بعد یا اگلے دن پھر تکلیف ہو جائے تو دوبارہ دوا دیں لیکن آرام آنے کے بعد دوا خوامخواہ نہ دہرائیں مثلاً Nuxدی اور آرام آ گیا اگر آرام آنے کے بعد بھی دوا دیتے چلے جائیں گے تو دوا نقصان دے سکتی ہے مثلاً ایک مریضہ نے خوامخواہ نکس وامیکا 30طاقت میں کھاتی چلی گئی تو اسکی ٹانگوں میں شدید کمزوری شروع ہو گئی اسے Bryoniaدینے سے فائدہ ہوا۔ اس لئے فائدہ ہوا کہ برائیونیا مسلز کا ٹانک ہے۔

نوٹ:نکسوامیکا بطور زہر یعنی کُچلا ٹانگوں کا فالج پیدا کرتا ہے۔مثلاً بڑے بڑے شہروں میں کتے مار مہم میں کُچلا ہی استعمال ہوتا ہے۔

نوٹV.Imp:دراصل مریض کی حالت دیکھ کر فیصلہ کریں کہ کیا کرنا ہے آنکھیں بند کر کے کچھ نہ کریں نظر رکھیں مریض کی صحت پر۔ بعض اوقات 5-6ماہ بعدبھی دوا دہرانی پڑتی ہے۔ ظاہر ہے Potencyکا چناؤ بھی سوچ سمجھ کر ہی ہو گا۔

Acute:یعنی شدید اور خطرناک فوری نوعیت کی بیماری میں بعض اوقات اونچی طاقت بھی دینی پڑتی ہے بعض اوقات CMطاقت دن میں دو بار بھی دینی پڑتی ہے کیونکہ اچانک موت سامنے نظر آرہی ہوتی ہے ۔ جریان خون چھوٹی طاقت میں بند نہ ہو تو بہت اونچی طاقت بھی دینی پڑتی ہے وغیرہ ۔

نوٹ:مثلاً ایک مریضہ کے ناک سے بہت زیادہ خون آ رہا تھا وہ کمزوری سے ڈوب رہی تھی اسے 1000طاقت سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا مجبوراً Phosphorusدینی پڑی CMطاقت میں، نتیجتاً فوری فائدہ ہوا ساتھ Millifoliumبھی دیCMمیں غالباً دو خوراکیں دینی پڑیں 15منٹ کے وقفہ سے۔ کچھ سا ل بعد پھر حملہ ہوا اس بیماری کا تو پہلے والے طریق سے ہی فائدہ ہوا۔ یہ خاص ہنگامی حالت تھی مریضہ کی جان بچانے کا سوال تھا اس لئے یہ قدم اٹھانا پڑا اور اس مثال سے بہت سے سبق ملتے ہیں۔ غور کرنا چاہیئے کہ ہومیوپیتھی کیا چیز ہے۔

نوٹ:اس مریضہ کا جریان خون تو فوراً بند ہو گیا لیکن چونکہ خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا اب وہ مریضہ خون کی کمی سے مرنے لگی اس کے کانوں میں گھنٹیاں بجنے لگیں سر بالکل خالی ہو گیا بولتی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ مردہ بول رہا ہے اسے China Offچھوٹی طاقت میں بار بار دیا تو چند خوراکوں سے ہوش میں آ گئی۔ غالباً جسم نے خون کی کمی پوری کرنی شروع کر دی فوری طور پر۔ خون کی سپلائی بھی بحال ہو گئی دماغ کو وغیرہ وغیرہ۔ الغرض چند دن میں مریضہ قریباً Normal ہو گئی۔ اللہ اکبر

نوٹ:ایک مریض کو ایگزیما کی شکایت تھی اسے یہ ایگزیما قریباً 50سال سے تھا ایک جگہ سے شروع ہو کر دوسری جگہ پھیلتا تھا بڑی شدید تکلیف کاسامنا تھا ہر طرح کے علاج کے بعد اسے Secaleدیا گیا Rising Potencyمیں تو آہستہ آہستہ ہر طرف پھیلتا ہوا ایگزیما واپس اسی جگہ /گردن پر آ گیا اور زخم کا ہلکا سا نشان رہ گیا جو نظر بھی نہ آتا تھا۔ اس مثال میں بھی بڑی گہرائی اور دعوتِ فکر ہے۔

نوٹ:انیمک بچے کی ایک مثال سنیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق خون معمولی ترین مقدار میں بن رہا ہے بچہ مر رہا تھا کھانا پینا بھی معمولی تھا پیلا زرد ہو چکا تھا سست اورشدید کمزورتھا۔ ناواقفیت کی وجہ سے Ferr Phos 200روزانہ ایک خوراک تقریباً پندرہ دن تک دی گئی۔اور روزانہ دینے کی طرف توجہ اس لئے پیدا ہوئی کہ دوا دیتے ہی بچہ ٹھیک ٹھاک ہو جاتا اور کھانا بھی کھالیتا اگر نہ دیتے تو بچہ پھر ڈوبنا شروع ہو جاتا اس طرح پندرہ دن کے بعد بچہ قریباً نارمل ہو گیا اور ڈاکٹروں نے بھی کہا کہ خون بننا شروع ہو گیا ہے۔

نوٹ:بعض دوائیں جسم سے سلی مادے اور طرح طرح کی زہریں چونکہ تیزی سے نکالتی ہیں بذریعہ پیشاب، پسینہ اور اسہال وغیرہ ۔اور چونکہ یہ مادے خون میں شامل ہوتے ہیں اس لئے دل پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں مریض کو پانی زیادہ پلانا چاہیئے اور ساتھ دل کا ٹانک یعنی Crataegus Qبھی استعمال کرانا چاہیئے۔

نوٹ:چند بنیادی علامات بھی ملیں تو اتنے حصہ میں دوا جزوی فائدہ دے گی مثلاً سرد مزاج مریض کو Psorinumدیں تو گرم کر دے گی اور اگر وہ رات کو بھوک محسوس کرتا ہے تو یہ بیماری بھی ٹھیک ہو جائے گی باقی بیماریوں کا گرم دوا سے علاج کریں کیونکہ اب گرم مزاج ہے۔

نوٹ:بعض اوقات بظاہر نظر آنے والی علامات پر دوادینے سے وہ علامات یا تکالیف فوراً دور ہو جاتی ہیں اور اصل بیماری سامنے آ جاتی ہے مثلاً ایک مریضہ کو بہت سی تکالیف تھیں اور ساتھ شدید سردی لگتی تھی اسے Hepar Sulf 1000دیا گیا ہر تکلیف فوراً دور ہو گئی 2-3خوراکوں سے اور پورے دائیں طرف درد ظاہر ہو گیا سردرد سمیت۔ اس نے بتایا کہ بیماری ماہواری Suppressہونے سے شروع ہوئی 15-16سال پہلے۔ علاج جاری رکھنے پر اس کی ماہواری کی تکلیف بھی ٹھیک ہو گئی۔

نوٹ:اگر Mother Tinctureمیں کوئی دوا ضرورت سے زیادہ دی جائے تو Provingہو سکتی ہے۔

نوٹ :ایک مریض کے پاؤں پر ناسور تھا اور اسے Anti Bioticدوا سے ٹھیک کر دیاگیا نتیجتاً دل پربیماری کا شدید حملہ ہوا اور چلناپھرنادوبھر ہو گیا یعنی انٹی بائیوٹک کا برا اثردل کی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوا۔اسے Sulfur CMطاقتمیں دیا گیا تو ناسور دوبارہ واپس آ گیا لیکن مریض کا دل ٹھیک ہو گیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ انٹی بائیوٹک کا Antidoteہومیوپیتھی میں Sulfurہے۔ ناسور کیلئے ان کو Kali Iodide دیا گیا اور ناسور بھی ٹھیک ہو گیا۔

نوٹ :بعض اوقات دوا دینے سے کسی اور جگہ بیمار ی ظاہر ہو جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کا مرکز مل گیا۔

نوٹ :بغیر ضرورت کے اگر لمبا عرصہ کوئی دوا دوہرائیں تو Provingہو سکتی ہے یعنی اصل دوا یا زہر کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

نوٹ :یہ بات بڑی اہم اور قابل توجہ ہے کہ مشابہتیں چونکہ جزوی بھی ہوتی ہیں اس لئے اصول یہ بنا کہ ایک دوا اگر کسی ایک علامت یا چند علامتوں میں مشابہ ہے تو جن علامات یا جس علامت میں مشابہت ہے وہاں ہی وہ مشابہ دوا استعمال ہو گی۔

نوٹ : Aluminaمیں ایک خاص علامت یہ ہے کہ مریضہ کو صرف حمل کے دوران ہی قبض ہوتی ہے عام طور پر نہیں ہوتی۔ اب اگر اس مریضہ کو Aluminaدیں گے تو اس کی قریباً ہر بیماری کا علاج ایلومینا سے ہو گا۔اس لئے دوا کے استعمال کا یہ اصول ٹھہرا کہ اگر کوئی بنیادی اور اہم اور انوکھی علامت کسی دوا میں مل جائے کسی مریض کی تو اس کی قریباًساری بیماریوں کیلئے وہ دوا کام کرے گی۔

نوٹ (Imp): 200طاقت میں کسی دوا کے استعمال سے اگر Aggravationہو تویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جسم نے دوا کا پیغام سمجھ کر ردعمل دکھایا ہے لیکن جسم کمزور اور دوا کی طاقت زیادہ ہونے کی وجہ سے ردعمل برداشت سے باہر ہے۔اس لئے اس مریض کاچھوٹی طاقت سے علاج کریں۔

Potency:کے استعمال کا ایک اصول یہ ہے کہ اگر دوا کی علامات ہوں تو دوا ہر طاقت میں کام کرتی ہے سوائے بعض صورتوں میں اگر سطحی بیماری ہو تو بہت اونچی طاقت مفید نہ ہو گی۔بلکہ خطرناک ہو گی اوراگر مریض کمزور ہو گا تو پھر بھی نقصان ہو گا۔

چھوٹی طاقت :بار بار دوہرانی پڑتی ہے اثر پیدا کرنے کیلئے جبکہ بڑی طاقت ایک خوراک کافی ہو جاتی ہے کیونکہ اصل مقصد دفاع کو پیغام پہنچانا ہے جو بعض اوقات چھوٹی طاقت بار بار دینے سے بھی نہیں پہنچتا۔

نوٹ :دراصل سلی اور سفلسی مادے نسلاً بعد نسلاً اندر دبے رہتے ہیں خواہ کسی Testکے ذریعہ ان کا پتہ چلے یا نہ چلے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہومیوپیتھک دوائیں باوجود عین مرض کے مطابق ہوتی ہیں بعض اوقات کام نہیں کرتیں اگر سورک یا Syphileticیا سلی دوائیں اونچی طاقت میں دے کر متعلقہ دبی ہوئی مرض کا ازالہ کر دیا جائے تو جو دوائیں پہلے کام نہیں کر رہی ہوتیں وہ کام کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

نوٹ : دوا کے بہترین استعمال کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ جن عارضی بیماریوں /بیماری کا تعلق ایک مستقل بیماری سے ہے اس عارضی بیماری کے وقت نوٹ کریں کہ اسی عارضی بیماری کی دوا کا تعلق کسی مستقل یعنی کرانک دوا سے ہے یا نہیں۔ ہر دوا کا ایک کرانک بھی ہے مثلاً Allium Cepaکا کرانک Aluminaہے ۔ اب مندرجہ بالا اصول کے تحت جس مریض کے زکام یا Hay Feverکو Allium Cepaسے آرام آیا ہے عارضی طو رپر اس کی مستقل شفا کیلئے Aluminaدیں کیونکہ یہ وہ مریض ہے جسے بار بار نزلہ زکام یا Hay Feverہوتا رہا ہے۔ اسی اصول کے تحت آپ مختلف کرانک بیماریوں کا علاج کرسکیں گے یا کرانک بیماریوں کی دوا کا استعمال کریں گے۔

دوران علاج مشکلات

نوٹ:دوران علاج بھی طرح طرح کی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں مثلاً پسینہ آیا ہو اوربے احتیاطی سے ہو الگ جائے تو جسم میں درد، بے چینی ، اکڑاہٹ، بخار وغیرہ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔نسخہ نمبر1اور نمبر2سے فوری فائدہ ہوسکتا ہے۔ نمبر1سے مراد ایکونائٹ+رسٹاکس اور نمبر2سے مراد آرنیکا+برائی اونیا ہے ۔

اعصابی زودحسی:خوف وغیرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ Spasmشروع ہو جاتے ہیں علاج کیلئے Cicutaدیکھیں۔

نوٹ:Belladonnaایک Acuteدوا ہے لیکن Chronicبیماریوں میں بھی اس کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے Emergencyمیں اس کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔

نوٹ: دواؤں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی علاج بھی کریں

پوٹینسی کا استعمال

(Low & High)

نوٹ:دوا کی طاقت یعنی Potencyکا استعمال سب سے مشکل کام ہے۔ابھی تک کوئی راہنما اصول دریافت نہیں ہوا کہ کب کونسی طاقت استعمال کرنی چاہیئے( بعض ڈاکٹر اس راہنما اصول پر کاربند ہیں کہ اگر تشخیص درست ہو تو عموماً ہر طاقت کام کرتی ہے لیکن یہ اصول بھی ہر دفعہ اورہر جگہ کارگرنہیں ہوتااور نہ ہی ہم ہر وقت اونچی طاقتیں دے سکتے ہیں) بعض دفعہ ایک Potencyکام نہیں کرتی لیکن طاقت بدل کردینے سے کام کرتی ہے بعض دفعہ چھوٹی کام کرتی ہے اور بڑی نہیں کرتی اور یہی اس کے برعکس بھی دیکھا گیا ہے۔ جہاں بڑی طاقت کی ضرورت ہو وہاں چھوٹی بالکل بے معنی ہو جاتی ہے الغرض ہومیوپیتھی میں یہ حصہ (یعنی دوا کی طاقت سے استفادہ) صرفClinicalہے ۔

نوٹ:بعض طاقتیں بعض جگہوں پراثر کرتی ہیں اور بعض جگہوں پر نہیں کرتیں۔ دوا کی طاقت کا استعمال پورا جہان ہے تحقیق کا راہ کھلا ہے۔ احمدی ڈاکٹروں کو اس پر تجربہ کرنا چاہیئے نمبر1بعض دواؤں کی تمام طاقتوں کو بعض مریضوں پر استعمال کریں (لیکن بتا کر تاکہ ردعمل بتا سکیں) لیکن ان مریضوں کا مزاج نوٹ کریں۔اور مختلف بیماریوں پر تجربات کریں روزمرہ کی بیماریوں پر بھی اور خطرناک بیماریوں پر بھی، ذہنی اور جسمانی بیماریوں پربھی، غرض ہر طرح کی بیماریوں پر تجربات کریں خصوصاً ایگزیما پر کیونکہ بعض قسم کے ایگزیما پر چھوٹی طاقت نے کام کیا اور بڑی نے نہ کیا۔ اس لئے طاقتوں کے استعمال کا کوئی معین قانون ابھی تک نہیں بنا سوائے تجربہ کے۔

پوٹینسی کی پہچان

نوٹ: یہ ضروری ہے کہ ہومیوپیتھی کا پیغام بڑا لطیف ہو اور Accurateہو صحیح ہو اس لئے بہت سی دوائیں ملا کر نسخہ بنانا بیوقوفی ہے کیونکہ اس فضا میں تو ہر ہومیوپیتھک دوا موجود ہے ہم ہر سانس میں بہت سی ہومیوپیتھک پوٹینسیاں پھانک لیتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کیا ضرورت ہے کہ بہت سی دوا ئیں ملا کر دیں مثلاً پانی میں ہومیوپیتھی کاخلاصہ موجود ہے جتنا چاہیں صاف کر لیں دواؤں کا اثر رہے گا دراصل ہومیوپیتھک Potencyمادہ نہیں ہوتی اس لئے مادہ کے طور پر کام نہیں کرتی مثلاً Nat Mur 200کو نمک کے ساتھ ملا کر استعمال کرایا گیاتو بھی اثر کیا نیٹرم میور 200نے۔ کیونکہ نمک مادہ تھا اور کمزور تھا اس کا اثر طاقتور پوٹینسی پر نہ ہوا اللہ اکبر۔ اور پوٹینسی نے اس لئے کام کیا کہ اس کی لطافت کو لطیف روح انسانی نے پہچان کر ردعمل دکھایا اور کیسے ہوا اس کا علم خدا کی لطیف ترین ذات کو ہے۔

نوٹ:ردعمل پیدا کرنے کے لئے اونچی طاقت جلد بھی دے سکتے ہیں۔لیکن اونچی طاقت کے استعمال میں ایک خطرہ تو یہ ہوتا ہے کہ اگر مریض کمزور ہے تو نقصان ہو گا لیکن اگر Cancerجیسی بیماریوں میں دیں گے تو CMپوٹینسی بھی بڑی نرمی سے کام کرے گی جبکہ عموماً چھوٹی طاقت کوئی ردّعمل پیدا نہ کر سکے گی ہاں اگر کینسرابتدائی سٹیج میں ہوتو چھوٹی طاقت بھی کام کر جاتی ہے۔ اگر کمزور مریض کو CMطاقت میں دوا دیں بشرطیکہ دوا سے علامات ملتی ہوں تو شدید ردّعمل ہو کر مریض کو سخت نقصان پہنچائے گا اگر مریض صحت مند اور طاقتور ہے (یعنی ماؤف مقام شدید کمزور نہیں ہوچکاتو دوا نقصان نہ دے گی عموماً غلطی سے CMطاقت دیتے ہیں اور نقصان اس لئے نہیں ہوتا کہ دوا کی علامات ہی نہیں ملتیں مرض سے اس لئے کچھ بھی اچھا بُرا اثر نہیں ہوتا بہتر ہے کہ عمومی حالات میں دوا Rising Potencyمیں دینا بہتر ہے۔

نوٹ: اگر بیماری جسم میں بہت گہری چلی جائے تو اونچی طاقت اسے ہلا کر باہر لاسکتی ہے لیکن کیا شفا بھی دے گی یہ تجربہ میں آنا باقی ہے ہاں اگر بیماری ظاہر کر دے اونچی طاقت تو پھر علامات کے مطابق علاج کریں کیونکہ اصل علاج تو علامات کو دیکھ کر ہی ہوتا ہے اور بعض وجوہات کی بنا پر علامات اس طرح گڈمڈ ہوچکی ہوتی ہیں کہ اصل بیماری کا پتہ ہی نہیں چلتا اس لئے پہلے علامات کھولیں۔

نوٹ:اونچی طاقت کے استعمال کا تعلق دواؤں کی رفتار سے بھی ہے(کیونکہ کوئی دوا تیزی سے کام کرتی ہے اور کوئی آہستہ آہستہ) اس لئے بعض دفعہ اونچی طاقت نہایت نرمی سے بھی کام کرتی ہے کوئی خطرہ نہیں ہوتا مثلاً Calc Carbکسی کو CMطاقت میں دیں گے تو چونکہ اس کی رفتار آہستہ ہے اور اس کی بیماریاں آہستہ آہستہ بڑھتے بڑھتے جسم پر قبضہ کر لیتی ہیں اور ظاہر ہے شفابھی آہستہ آہستہ ہوتی ہے)اس لئے یہ دوا کوئی ہنگامہ نہیں کھڑا کرے گی Siliceaکی طرح۔

نوٹ:اگر مرض جو ش دکھا رہا ہو تو اونچی طاقت دن میں 2-3دفعہ بھی دے سکتے ہیں مثلاً Arsenic 1000طاقت میں دے سکتے ہیں دن میں 2-3دفعہ اگر بخار جا ن نہ چھوڑے یا ساتھ نزلہ زکام کھانسی بھی ہو حالانکہ عموماً 1000طاقت دس پندرہ دن کے وقفہ سے دوہرائی جاتی ہے لیکن جب فائدہ شروع ہو جائے تو روک دیں وقفہ بڑھا دیں انتظار کریں شفا کا۔

نوٹ:بیماری جب انتہا کو پہنچ جائے اور علامات تیزی سے بڑھنے لگیں موت نظر آ جائے تو CMطاقت بھی دوہرا سکتے ہیں۔ضروری نہیں کہ یہ بیماری کینسر ہی ہو بعض کرانک بیماریاں بظاہر کینسر نہیں ہوتیں لیکن کینسر سے کم بھی نہیں ہوتیں۔ اس لئے بیماری کے نام پر نہ جائیں بلکہ بیماری کی کیفیت پر جائیں(ایک لطیف بات حاضر خدمت ہے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں کہ عبادت کی کیفیت قیمتی ہے نہ کہ کمیت۔) اور ضرورت ہو تو CMطاقت میں دوا دے سکتے ہیں اور دوہرا بھی سکتے ہیں۔

نوٹ :اونچی ترین طاقتوں کا استعمال ہومیوپیتھی میں کیوں ضروری ہے اس کی ایک اور مثال یہ ہے Deep Seatedبیماریاں، زودحسی، خوف Irritationsوغیرہ جو انسانی مزاج کا حصہ بن چکا ہوتا ہے بے چینی انتہا کو پہنچ چکی ہوتی ہے اوراس کی فطرت میں داخل ہو چکی ہوتی ہے طرح طرح کی غلط دواؤں کے استعمال نشہ جات اور ڈرگز Drugsاور روح میں اتری ہوئی علامات اور برسوں کے روگ وغیرہ وغیرہ کا علاج چھوٹی طاقتوں کے بس کاروگ نہیں بہت اونچی طاقت کام کرتی ہے مندرجہ بالاحالات میں کیونکہ چھوٹی طاقت روح تک پیغام پہنچا نہیں پاتی۔ اس لئے لازم ہے کہ پیغام کو لطیف ترین کرتے چلے جائیں مثلاً Aidsمیں اونچی ترین طاقت اسی لئے دیتے ہیں۔

Causticumکے مریض کی زودحسی Irritatonبے انتہا ہوتی ہے اس کے مریض کو اونچی طاقتیں ضروری ہیں مثلاً اسرائیل میں چند بے انتہا زودحس مریضوں پر تجربات ہوئے ان کی تکالیف آسمانی بجلی یعنی طوفانی موسم میں ازحد بڑھتی تھیں (جس کا ایلوپیتھی میں نوٹس نہ لیا گیا تھا) سائنسدانوں نے موسم کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے حساس ترین برقی آلات بھی نصب کئے اور عام رائج برقی آلات بھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف نہایت حساس ترین برقی آلات نے طوفان کے آثار سے پہلے خبر دی بلکہ ان ازحدزودحس مریضوں نے بھی موسم کی خرابی کے آثار سے پہلے ہی متنبہ کر دیا یعنی مریضوں کی طبیعت طوفان کی آمد سے پہلے زیادہ بگڑنے لگی اس لئے ایسے مریضوں کو بہت اونچی طاقت کی دوائیں دیں گے۔

نوٹ :اونچی طاقت کے استعمال کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ جسم کو حکم دیا گیا ہے کہ بیماری کو جلد ٹھیک کرو لیکن اگر بیماری ایسی ہے جہاں اندر خلقی تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہیں اور آہستہ آہستہ لمبے عرصہ میں Tissuesاور خلیات کی ہیئت بدل چکی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چند دن میں وہ بدلے ہوئے خلیات اپنی اصلی حالت میں آ جائیں یعنی صحت ہو جائے۔( مثلاً گینگرین میں ماؤف حصے سڑ سڑ کر نیلے اور سیاہ ہو جاتے ہیں) جلدی اورجلد بازی میں مریض کو سخت تکلیف ہو گی موت تک ہو سکتی ہے اس لئے دوا کی مناسب طاقت دینی ضروری ہے تاکہ بغیرزیادہ تکلیف کے مریض صحت کی طرف لوٹے۔

نوٹ:اگر Aconite CMنہ ملے تو 1000یا کم دیں لیکن بار بار دوہرائیں۔

کرانک: بیماریوں میں اونچی طاقت دیں لیکن لمبے عرصہ کے بعد دیں 200طاقت میں ہفتہ وار دیں مثلاً سلفراور سلیشیا وغیرہ۔

نوٹ :اونچی طاقت کی دوائیں بہت گہری بیماریوں اور کرانک بیماریوں میں استعمال ہوتی ہیں مثلاً کینسر، مرگی، دماغی امراض وغیرہ وغیرہ اور الرجیز میں بھی ۔ چونکہ اونچی طاقت میں خطرہ بہرحال موجود ہے (کیونکہ ڈاکٹر کی تشخیص میں غلطی کا امکان ہوتا ہے)

نوٹ :اسلئے جب اونچی طاقت دیں تو پہلے اس کا Antidoteضرور سوچ لیں اور پاس اور بداثرات ہوتے ہی فوراً Antidoteدوا شروع کرا دیں یا مریض کو پہلے سے دیدیں کہ بُرا اثر محسوس ہوتے ہی انٹی ڈوٹ شروع کر لے۔ یہ ازحد ضروری ہے۔

نوٹ:چونکہ فی زمانہ Emergenciesکی حالتیں قدم قدم پر پیدا ہوتی ہیں اس لئے سب کے پاس بعض ہومیوپیتھک دوائیں بطور Emergencyاور Life Saving Drugsکے طور پہ ہر وقت موجود ہونی چاہئیں۔ بیشک انسان گھر میں ہو یا سفر کر رہا ہو۔اور ایسا انتظام ہو نا چاہیئے کہ لوگ ان دواؤں کے استعمال کیلئے ڈاکٹر سے فوری رابطہ کر سکیں۔ اور عام لوگ کم از کم ایمرجنسی دواؤں کا استعمال سیکھ لیں تو سونے پہ سہاگہ والا محاورہ اَور چمک جائے۔

نوٹ:اونچی طاقت کے خطرات کیلئے سل کی بیماری پر غور کریں۔

نوٹ :بعض اوقات وقتی اثر والی Short Livedدوائیں اگر بہت اونچی طاقت میں دیں (مثلاً CMطاقت میں) تو کرانک بیماریوں میں بھی مفید ہیں۔مثلاً ایکونائٹ وغیرہ وغیرہ

نوٹ: کچھ ڈاکٹر خواہ یورپ کے ہوں یا ایشیا کے چھوٹی پوٹینسی مثلاً 30طاقت سے نیچے نیچے استعمال میں لاتے ہیں 200طاقت الا ماشاء اللہ استعمال کرتے ہیں آخرکیوں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ایلوپیتھی کے قریب رہ کر کام کرناچاہتے ہیں۔ چھوٹی طاقتوں میں اصل زہر کا جزو ابھی باقی رہنے کے امکانات بہرحال باقی ہیں خصوصاً 20طاقت سے نیچے نیچے۔

نوٹ:اونچی طاقت اگر خوامخواہ اندھادھنداور بغیر کسی فلاسفی کے دیتے رہیں تو وہ مریض ٹھیک ہی نہیں ہوتے کیونکہ اونچی طاقت دے دے کر ردّعمل کو بعض خاص سمتوں میں اتنے زور سے چلا دیا جاتا ہے کہ پھرمریض چھوٹی طاقتوں کے قابو نہیں آتے ۔حتٰی کہ دوسری دواؤں کے استعمال سے بھی۔ بعض اونچی طاقت دینے والے ڈاکٹروں کے مریض بھی مر گئے اپنے ڈاکٹروں کے بعد کیونکہ دوسرے ڈاکٹر ان بگڑے مزاج لوگوں کا علاج نہ کر سکے جن کے مزاج (Constitution) ہی بگاڑ دئے تھے اونچی طاقتوں نے، دوسرے ڈاکٹروں کو سمجھ ہی نہیں آئی بعد میں کہ کیا دوا دیں۔ ویسے اونچی طاقت جادو کا اثر رکھتی ہے بشرطیکہ اسکے استعمال کا سلیقہ ہو مثلاً Septicبخاروں میں جو کسی دوا سے قابو ہی نہ آئیں وہاں Silicea 1000بھی کام نہ کرے تو CMطاقت کی ایک خوراک جادو کا اثر دکھاتی ہے اگر Emergencyنہ ہو تودوائیں Rising Potencyمیں دیں۔ اوراگرچھوٹی طاقت سے فائدہ ہو کر رک جائے یا فائدہ ہی نہ ہو تو طاقت بڑھانا لازماً ضروری ہو جائے گا اور ساتھ یہ بھی یقین ہو جائے گا کہ یہ طریق درست ہے اب CMتک جا سکتے ہیں۔

نوٹ :آئیں اب یہ عقدہ کھولیں کہ ہومیوپیتھی آخر کیوں پوٹینسی پر زور دیتی ہے اور کیوں اصل زہر کو معمولی ترین مقدارمیں استعمال کے خلاف ہے یا Crudeپیغام کے خلاف ہے جو دوسر ے Systems میں رائج ہے ۔

اصل بات یہ ہے کہ روح یا Mind جو خود نہایت لطیف ہے اس کے لئے جسم کا ردعمل جگانے کیلئے یا جسم کے ردعمل سے کام لینے کے لئے پیغام بھی نہایت لطیف ہو گا (ہم ہومیوپیتھک دوا اسی لئے دیتے ہیں کہ جسم کو پیغام دیں کہ اس اس قسم کا زہر یا بیماری ہے تمہارے اندر اس کے خلاف ردعمل دکھاؤ انٹی باڈیز پیدا کرو اور بیماری پر قبضہ کرلو اور عملاً ایسا ہی ہوتا ہے جبکہ دوسرے سسٹم دوا کو اصل زہر کی شکل میں یعنی Crudeحالت میں دیتے ہیں جس سے جسم کا ردّعمل تو نہیں جاگتا بلکہ دوا کی طاقت بیماری کے جراثیم کو ہلاک کر دیتی ہے بظاہر اور جسم کا اپنا نظام دفاع Immune Systemاس کاروائی میں حصہ نہیں لیتا اور آہستہ آہستہ بار بار طاقتور دواؤں کے استعمال سے کمزور ہو تا جاتا ہے) جب ثابت ہو گیا کہ دوسرے سسٹم ردّعمل سے کام نہیں لیتے۔

نوٹ:اگر تشخیص درست ہو تو پہلا اصول یہ ہے کہ اگر فائدہ نہ ہو تو جلدی سے دوا ردنہ کریں یا بدل نہ ڈالیں بلکہ پوٹینسی بڑھا یا گھٹا کر دیکھیں کہ دوا کا کیا اثر ہوتا ہے کیونکہ ہر مریض کا بعض وجوہات کی بنا پر اپنا اپنا ردعمل کمزور یا مضبوط ہوتا ہے۔

نوٹ :اگر CMطاقت غلط دیں تو اس کا بُرا اثر لمبا چلتا ہے اور اس کو Antidoteکرنا آسان نہیں رہتا۔اس لئےCMطاقت کا Antidoteپہلے ہی سوچ کر رکھیں اگر غلط اثر ہو تو فوراً Antidoteکریں۔

نوٹ:کسی دوا کوAntidoteکرنے کا ایک اصول یہ ہے کہ جو علامات اُبھریں ان کا علاج کریں۔یہ بھی ایک قسم کا Antidoteکرنا ہی ہے۔ مثلاً Arsenicکی علامتیں پیدا ہوں تو جس طاقت میں پہلی دوا دی گئی ہے اسی طاقت میں Antidoteکر دیں۔

نوٹ:اگر دفاعِ جسم ہر چیز کا ردعمل دکھائے تو خواہ وہ Crudeہو یا Potentisedحالت تو جسم جھٹکے کھا کھا کر ختم ہو جائے یا عذاب ہی محسوس کرتا رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے جسم کی حفاظت کا انتظام کیا ہوا ہے کہ بے وجہ روح Exciteنہ ہو اللہ اکبر ۔ اور وہ اس طرح بھی کہ فضا میں بے شمار زہریں ہیں جو ہم سانس کے ذریعہ اندر لیتے ہیں نمک کھا رہے میٹھا کھا رہے جراثیم اند رجا رہے دنیا جہان کی چیزیں کھاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ Crudeحالت میں ہوتا ہے اسی لئے جسم ردعمل نہیں دکھاتا(جب تک کہ پوٹینسی کی شکل میں اسے پیغام نہ دیا جائے) حالانکہ جوکچھ ہم کھا رہے ہیں یا سانس کے ذریعہ اندر جا رہا ہے وہ سب پیغام ہی توہیں جسم کو لیکن چونکہ طاقتور اور Potentizedپیغام نہیں ہیں اور لطیف پیغام بھی نہیں ہیں اس لئے جسم ردعمل نہیں دکھاتااور نہ دکھا سکتا ہے مثلاً نمک (Table Salt) ہم دن رات کھاتے ہیں لیکن جسم کو کوئی پیغام نہیں ملتا اور نہ ہی جسم کوئی ردعمل دکھاتا ہے اور اگر یہی نمک مریض کو Potentiseکر کے دیا جائے تو پاگل پن کی شفا کا بھی موجب ہوجاتا ہے۔ یہ ہے فرق Potencyکا اور عام دواؤں کا جو Crudeہیں۔

نوٹ:اگر دوا بیماری سے ملتی جلتی ہے تو پھر پہلے چھوٹی طاقت میں دیں اور دیکھیں کہ مفید ہے اگر مفید ہے تو رفتہ رفتہ طاقت بڑھائیں۔

نوٹ :حضور کا نظریہ اونچی طاقت کی دواؤں کو ملانے کے متعلق یہ ہے کہ حضور اونچی طاقت کی دواؤں کو ملانے کے قائل ہی نہیں۔ بڑے احتیاط کی ضرورت ہے دوائیں ملانے کے سلسلہ میں۔ کیونکہ اونچی طاقت میں بہت طاقت ہوتی ہے(اسی لئے تو شفابخش ہیں) اس لئے اگر غلط دوائیں ملا کر استعمال کریں گے تو شدید نقصان ہو سکتا ہے چھوٹی طاقت میں اگر غلط نسخہ بن جائے تو اس کے بداثرات بھی چھوٹے ہونگے ان کا سدباب آسانی سے ہو گا Antidote جلدی ہو سکتا ہے اور اگر اونچی طاقت ملائیں گے اور غلط ردّعمل ہو ا تو پھر Antidoteمشکل ہو گا یہ بھی پتہ نہیں چلے گاکہ کہاں کہا ں غلط اثر ہوا ہے اور بعض اوقات یہ بداثرات اگلی نسل تک بھی جائیں گے یا سالوں تک غلط اثر رہ جائیں گے کیونکہ ہومیوپیتھی بڑی طاقتور دوائیں رکھتی ہے کھلونا نہیں ہومیوپیتھی دوا (دیکھنے میں کھلونا لگتا ہے جاہلوں کو) حقیقت یہ ہے کہ جتنا اونچی طاقت کا استعمال کریں گے اتنا نقصان کا احتمال زیادہ ہے اگر غلط استعمال کریں۔ لیکن حفظ ماتقدم کے طور پر اونچی طاقت دیں توکوئی نقصان نہیں کیونکہ بغیر علامات کے دیتے ہیں مثلاً سفلس کی علامات نہیں بلکہ حفظ ماتقدم کے طورپر دیں تو نقصان نہیں۔

نوٹ :اونچی طاقت خوش قسمتی سے اس لئے عموماً نقصان نہیں پہنچاتی کہ علامات یا بیماری سے بالکل ہی ملتی جلتی نہیں ہوتی دوا۔ اور استعمال ہو جاتی ہے نتیجتاً یوں لگتا ہے کہ جیسے کچھ بھی نہیں کھایا۔ نہ فائدہ نہ نقصان کچھ بھی نہیں ہوتا کیونکہ دوا کا بیماری سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا(خدا جانے اتفاقاً کتنی زہریں فضا میں بہت زیادہ Potentiseہوتی رہتی ہیں اور ہم سانس کے ذریعہ انہیں استعمال کر لیتے ہیں اور اسی لئے نقصان نہیں ہوتا کہ ان کا کسی بیماری سے نقصان نہیں ہوتا) دوا صرف اس وقت شدید نقصان پہنچاتی ہے کہ جب دوا مرض سے ملتی جلتی ہو، دوا غلط ہو، کچھ تضادات بھی ہوں ،ساتھ دوا ہومیوپیتھی اصول کے خلاف دوا دی گئی ہو اور اگر بغیر علامات کے دوا دیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گولی چلی ہی نہیں۔ نہ گولی چلی نہ نقصان ہوا۔ غلط چلی تو نقصان ضرور ہو گا۔

نوٹ :بعض دوائیں اونچی طاقت میں شروع نہیں کرتے مثلاً Phosphorus،Silicea، Sulfur ، Rhustox۔

نوٹ :بعض بیماریوں میں بھی علاج کے شروع میں اونچی طاقت نہیں دیتے مثلاً سل، جوڑوں کی تکالیف وغیرہ

نوٹ :ڈاکٹر کینٹ نے لکھا ہے کہ جو بہت چھوٹی طاقت کا استعمال کرتے ہیں مثلاً 1x، 3Xوغیرہ وہ اصل میں مادی خوراکیں دیتے ہیں کیونکہ یہ طاقتیں اصل زہر کے قریب ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہومیوپیتھی پر ایمان نہیں رکھتے وہ زیادہ فائدہ بھی نہیں پہنچاتے اپنے مریضوں کو۔ وہ ایلوپیتھی کر رہے ہیں۔

نوٹ:خطرناک بیماریوں میں ٹکسالی کے نسخے نہ دیں بلکہ بڑے احتیاط سے جائزہ لے کر علاج کریں مثلاً کینسر۔ بعض اوقات کینسر کی وجہ یا کسی خطرناک بیماری کی وجہ کسی بیماری کے دبنے کے نتیجہ میں خطرناک بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ اس لئے اس دبی ہوئی بیماری کا علاج کریں۔ چوٹی کے ڈاکٹر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بیماریاں دب کر خواہ بچپن میں دبی ہوں خطرناک بیماریاں پیدا کرتی ہیں دبی ہوئی بیماری کا علاج کریں تو نئی اُبھری ہوئی بیماری ٹھیک ہو جاتی ہے۔ضروری نہیں کہ ہر سوال کا جواب کتابوں میں مل جائے اپنی عقل استعمال کریں۔

نوٹ : ڈاکٹر کینٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ جو ڈاکٹر بہت اونچی طاقت کا استعمال کرے وہ تماشہ دکھانے والے مداری ہیں شعبدہ بازی کرتے ہیں یہ دکھانے کے لئے کہ مریض کی یکدم کایا پلٹ گئی ہے۔ حالانکہ یہ طریق بعض اوقات شدید نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ اصل طریق کے خلاف ہے کہ صرف زیادہ طاقتور Potenciesہی استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقہ علاج کیلئے بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔

نوٹ:ایک مریض کے دانتوں میں Merc Solکی علامات ہوں تو 1000طاقت کی دو خوراکیں آدھ گھنٹہ کے وقفہ سے دینے پر بھی دردمیں افاقہ نہ ہوا پھر CMطاقت میں دی گئی اور رات کو درد بڑھ گیا اسے ساتھ Pain Killerدیا گیا ایلوپیتھی میں تو آدھ گھنٹہ میں درد چلا گیا۔ صبح تک پیپ بھی ختم ہو گئی ۔ چونکہ Acuteکیس تھا اس لئے اگر Merc Corدیتے خواہ چھوٹی طاقت میں تو ایلوپیتھی دوا کی مدد کے بغیر فائدہ ہونے کی توقع کی جاسکتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر پہلو پر نظر رکھیں کہ Acuteحالت ہے یا Chronic۔(اس کیس میں غلطی اس لئے لگی کہ اس مریض کو پہلے بھی دانتوں میں پیپ کی شکایت تھی جس کا مرکسال سے علاج کیاگیا تھا اور نتیجتاً مکمل آرام آ گیا۔ دوبارہ اس لئے مرکسال دی گئی کہ کہیں یہ کرانک حالت نہ ہو۔)

Emergencies:کی دوائیں مثلاً Carbovegوغیرہ مریض کو موت کے منہ سے نکال لاتی ہیں وقتی طور پر۔ بعد میں علامات دیکھ کر اصل علاج کریں ورنہ دوبارہ یہ دوائیں بھی کام نہیں کرتیں۔

نوٹ:چوٹوں میں اونچی طاقت دی جا سکتی ہے مثلاً Arnica 1000یا زیادہ بھی اور دوہرا بھی سکتے ہیں ضرورت ہو تو زیادہ بڑی طاقت بھی دے سکتے ہیں لیکن Acuteحالتوں میں ۔

نوٹ : ضرورت ہو تو CMطاقت میں 10-15منٹ کے وقفہ سے بھی 2-3خوراکیں دے سکتے ہیں لیکن ازحد عقل کی ضرورت ہے مثلاً کینسر جیسی خطرناک بیماریوں میں لیکن شدید حالتوں میں Acuteبیماریوں میں یا Pumping Doseکے طو رپر دیتے ہیں۔

نوٹ :اونچی طاقت صحت کی حالت میں دیناازحد ضروری ہے کرانک بیماریوں میں۔ دمہ کے علاج کیلئے جب ایمرجنسی دور ہو جائے اور مریض کی عمومی حالت بہتر ہو یعنی صحت کا ماحول ہو تو پھر جڑ سے بیماری کو اکھیڑنے کیلئے اونچی طاقت دینا لازمی ہے۔

نوٹ (V.Imp):Cancer, Aidsمیں اونچی طاقت یعنی CMبھی اس لئے دیتے ہیں کہ بیماری اندر روح تک اتر گئی ہوتی ہے چھوٹی طاقت کا پیغام کافی نہیں ہوتا۔ جسم کی Economyکا سوال نہیں بیماری کی گہرائی کا مسئلہ ہے ایسی حالتوں میں ردعمل جگانا چھوٹی طاقت کے بس کا کام نہیں ہوتا۔

مثلاً ایک مریض کی کرانک چھینکیں Silicea CM دینیسے ٹھیک ہو گئیں ناک کی حالت بگاڑنے میں الرجی اورانفیکشن کارفرما تھی۔جبکہ چھوٹی طاقت کی دوائیں کچھ بھی ردعمل پیدا نہ کر سکیں۔(اب غور طلب بات یہ بھی ہے کہ سلیشیا کیوں دی گئی۔ سلیشیا ہومیوپیتھی میں بہت بڑا انٹی بائیوٹک ہے اور سلیشیا کا بنیادی کردار بھی جسم کا ردعمل جگا کر بیماریوں پر قبضہ کرنا ہے) اسی طرح بعض اوقات Lachesis 1000طاقتمیں مفید نہیں ہوتی اونچا جانا پڑتا ہے۔

نوٹ:معدہ : کی بیماریو ں میں 30طاقت مفید ہے یعنی چھوٹی طاقت۔اعصابی تکالیف میں 200یا اونچی طاقت دیں۔گہری نفسیاتی یا دماغی:تکالیف میں 1000یا اونچی طاقت دیں۔کینسرمیں 200یا 1000معمولی فائدہ دیتی ہے بلکہ بہت اونچی دیں۔

نوٹ:دراصل یہ ایک حقیقت ہے کہ ہانیمن کے زمانہ میں تو تحقیقاتی کام ہوا اور سوچ کے انداز بدلتے گئے نئے تجربات بھی ہوئے لیکن بعد میں شاذ کے طور پر کوئی نیاکام یعنی تحقیق ہوئی۔ اس لئے ابھی ہومیوپیتھی میں بہت کچھ کرنا باقی ہے کہ کن کن حالات میں کون کونسی طاقت مفید ہے یا دوا کی دوہرائی کی کیا اصلیت ہے دوائیں ملانا کس حد تک کارگر ہے یا نقصان دہ ہے دواؤں کے آپس کے تعلقات کیسے دریافت کئے جا سکتے ہیں آب و ہوا سے دواؤں کے اثرات بدلتے ہیں یا نہیں۔ غرضیکہ بڑا لمبا چوڑا کام باقی ہے اس لئے ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کی نظر بڑی وسیع اور بہت Scientificہونی چاہیئے۔

نوٹ:ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کی یہ کمزوری ہے کہ اپنے تجربات دوسروں کو نہیں بتاتے(جیسے بعض حکماء سینہ در سینہ نسخے چلاتے ہیں) جس سے ہومیوپیتھک سسٹم اور پیشہ کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے ۔

نوٹ:اگر ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اپنی تحقیق اور نت نئے تجربات سے دوسروں کو مالا مال بھی کرتے رہیں تو ان کا فائدہ صرف ان کا فائدہ صرف ان ڈاکٹرز کو ہو گا جن کو ہومیوپیتھی سے عشق ہے۔ ہر کس و ناکس کے کچھ پلے نہ پڑے گاغافلوں کیلئے تو بڑے بڑے علماء اور صلحاء بھی کچھ نہ کر سکے۔

نوٹ :گوشت، مسلز وغیرہ کی تکالیف کیلئے عموماً30یا 200طاقت کافی ہونی چاہیئے اگر اعصاب سے تعلق ہو تو 200سے اونچا جائیں کیونکہ گوشت پوست میں اعصا ب بھی ہیں مثلاً معدہ کی تکالیف جو عمومی ہیں ان میں 30طاقت دیں اگر Suppressedحالت ہے تو اونچا جائیں یعنی گہری اتری ہوئی بیماریوں میں خواہ معدہ کا کینسر یا ناسور ہو یا کسی اور جگہ گہری اتری ہوئی بیماری ہو۔

اصول :یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک ہی اونچی طاقت کی خوراک سے بیماری ٹھیک ہو گئی اور اگر دوا ناکام ہوئی تو بھی جسم کے ردعمل نے بیماری کو اچھال کر نمایاں کر دیا۔اب علامات کے مطابق علاج کرنے کا راستہ کھل گیاہے۔

نوٹ: اس لئے ضروری نہیں کہ Cancerکو ضرور ہی اونچی طاقت سے ٹھیک کریں بلکہ 30اور 200طاقت میں بھی ٹھیک ہوتا ہے کینسر دراصل جب جسم ردعمل دکھادے تو مقصد پورا ہو گیا طاقت کوئی بھی ہو۔ ضرورتاً طاقت کو اونچا نیچا کرنا بھی پڑتا ہے۔

Supressionیعنی بیماریوں کا دب جانا یا دبادینا

نوٹ:ضروری نہیں کہ بیماریاں صرف غلط علاج یا طاقتور دواؤں سے دب جائیں بلکہ بعض اوقات ٹھنڈ وغیرہ لگنے سے بھی بیماری دب جاتی ہے۔مثلاً کن پیڑے خصوصاً سرد ہوا میں پھرنے اور بدپرہیزی سے دب جاتے ہیں اسی طرح ماہواری کے دنوں میں ٹھنڈ لگوانے سے بھی ماہواری دب کر بہت ساری تکالیف پیدا کر دیتی ہے وغیرہ وغیرہ

نوٹ: اگر طاقتور دواؤں سے علامات کو دبا دیا جائے تو اصل بیماری کی علامات تبدیل ہو جائیں گی اور جسم زچ ہو جائے گا چڑ کر دوسری دوائیں بھی قبول نہیں کرے گا یعنی ردعمل نہیں دکھائے گا۔

نوٹ:اگر علامات گڈمڈ ہوں اور بیماری کی اصل شکل سمجھ نہ آئے تو Sulfurیا Nux Vomicaیا Opiumیا Zinc Metوغیرہ دے کر اصل علامات کو کھولنا ضروری ہے یعنی جسم کااصل بیماری ظاہر کرنا ضروری ہے۔ پہلے Antidotesکے ذریعہ الٹی پلٹی علامات صاف کریں۔

نوٹ: اور اگر دبی ہوئی امراض میں دیر بعد دوا دینی ہو خواہ کیوپرم ہو یا کوئی اور تو حضور کا تجربہ یہ ہے کہ بہت اونچی طاقت میں دیں( اور یہ بات قابل فہم بھی ہے) چھوٹی طاقت کام نہیں آتی۔

نوٹ :غلط دواؤں کے غلط اثرات Antidoteکرنے کے بعد جو زیادہ نمایاں بیماری ہے اس کا علاج کریں نتیجتاً کئی اور علامات بھی صاف ہو جائیں گی اور کئی نئی علامات ظاہر ہوں گی پھر ان کا علاج کریں یعنی علامات کے پیچھے چلیں تو آہستہ آہستہ مکمل علاج ہو جائے گا۔

دوا کا مزاج

گرم سرد

نوٹ :گرم سرد دواؤں کو ملانا درست نہیں۔(لیکن اس اصول میں بھی استثناء ہے مثلاً سلفر اور سورائینم کو غلطی سے ملا کر استعمال کیا گیا تو بڑے خوشکن نتائج ظاہر ہوئے اس سے ثابت ہوا کہ ابھی ہومیوپیتھی میں بہت سارا علم چھپا ہوا ہے)

نوٹ : اصولاً ہومیوپیتھک دوائیں گرم اور سرد کے نام سے بھی یاد کی جاتی ہیں یعنی جس مریض کو سردی زیادہ لگے وہ سرد مزاج ہے اس کیلئے سرد مزاج دوامفید ہو گی گرم مزاج نہیں اسی طرح کسی کو گرمی بہت لگتی ہے وہ گرم مزاج مریض ہے اس کو گرم مزاج دوا ہی فائدہ دے گی دوسری نہیں۔

نوٹ :ایک مریضہ سرد مزاج تھی اسے سردمزاج دوا Psorinumدی گئی سوتے وقت۔ اسے ساری رات شدید گرمی لگی (دوا نے فوراً مزاج بدل دیا) اور اتفاقاً صبح پیٹ درد ہوا(اسے پہلے بھی پیٹ درد کے دورے ہوتے تھے چونکہ وہ پہلے سرد مزاج تھی اس لئے پیٹ درد کیلئے سرد مزاج دوا دی گئی جو پہلے مفید ہوتی تھی لیکن اب اس دوا نے فائدہ نہ دیا اسے گرم مزاج دوا دی گئی (کیونکہ اب گرمی لگنے لگی تھی) توفوری فائدہ ہوا ۔کیسے مریضہ کی کایا پلٹ گئی۔ اللہ اکبر۔ اس تجربہ میں بھی ایک سمجھدار ہومیوپیتھ ڈاکٹر کیلئے بہت بڑی دعوتِ فکر ہے۔

نوٹ:مندرجہ بالا مریضہ کے کیس میں فلسفہ یہ ہے کہPsorinumدینے سے صرف گرمی نہیں آئی بلکہ سورائینم نے یہ بھی بتادیا کہ پیٹ میں فلاں جگہ درد ہے جس کی مستقل شفا بھی گرم مزاج دوا میں ہے۔ (پہلے پیٹ درد کے دورے آتے تھے اور وقتی فائدہ ہوتا تھا ٹھنڈی دواؤں سے۔یعنی مریضہ کا مزاج بدل کر دوسری بیماریوں پر بھی قابو پا لیا گیا۔

دواؤں کا اثر

مقدار اور دواہرائی

مقدار دوا:دوا کی مقدار اہم نہیں بلکہ اس کی دوہرائی اہم ہے جتنی بار دوا دیں گے اتنی دفعہ ہی جسم ردعمل دکھائے گا یعنی اثر ہو گا دوا کا۔

نوٹ:دوا کی چند گولیاں یا ایک قطرہ ہی کافی ہے ایک خوراک کے طورپر۔

نوٹ :ایکونائٹ بطور Acuteدوا زبان زدِ عام ہے لیکن دل کی بیماریاں جو کرانک ہوں ان میں بھی مفید ہے مثلاً اچانک کسی وجہ سے مریض کا دل زور زور سے دھڑکنے لگے تو Aconiteمدرٹنکچر کی ایک خوراک بیماری پر قابو لیتی ہے۔یہاں ایکونائٹ نے کرانک بیماری میں بھی فوری اثر کیا۔اس کے برعکس کرانک دوائیں اگر بیماری کی شدت میں بھی دی جائیں تو فور ی اثر نہیں کرتیں ۔

نوٹ :ہومیوپیتھک دوا کسی مرض میں جب ایک دفعہ کام کرے تواس مرض میں بار بار وہی دوا دینے سے آہستہ آہستہ اس مرض کا رجحان ختم ہو جاتا ہے مثلاً زکام کا اگلا حملہ پہلے سے کم ہو گا۔اور پھر آہستہ آہستہ مستقل آرام آجاتا ہے سوائے اس کے کہ مریض بدپرہیزی کرتا رہے یہی اصول ہے۔

نوٹ :منہ میں Capillariesاسی لئے ہیں کہ یہ جلدی سے جذب کر لیتی ہیں لعاب وغیرہ کو اسی لئے ہومیوپیتھی دوا منہ میں دیتے ہیں کہ جلدی جذب ہو جائے۔

نوٹ : بیمار اور مریض حوصلہ ہار جاتا ہے آخر اور نفسیاتی طور پر بھی کمزور ہوتا ہے۔

مخالف یا دشمن دوائیں

نوٹ : مخالف یا دشمن دوائیں وہ ہیں جن کو اگر ایک دوسرے کے بعد دیا جائے تو عموماًاچھا کام نہیں کرتیں یہ دوائیں ہومیوپیتھی کی کتابوں میں لکھی ہوتی ہیں لیکن کچھ باتیں تجربہ بھی سکھاتا ہے۔عموماً مندرجہ ذیل دوائیں ایک دوسرے کے بعد نہ دیں۔ پہلے پہلی دوا کو Anti doteکریں یعنی پہلی دوا کا اثر ختم کریں۔

Phosphorus:کو Causticum کے ساتھ ملا کر نہ دیں یا ادل بدل نہ کریں دونوں دواؤں کا ازحد خطرناک ہے پہلے اگر Phosphorusدیا ہے تو کاسٹیکم دینے سے پہلے اسے انٹی ڈوٹ کریں۔

نوٹ : Phosphorus سے مراد Phosphorusکے تمام Compundsبھی ہیں مثلاً Kali Phos، Ferrum Phosوغیرہ Causticum اور Rhustox کو ادل بدل نہ کریں۔ انٹی ڈوٹ دیکھیں۔

Silicea کو Merc Sol کے ساتھ ادل بدل نہ کریں درمیان میں Hepar Sulf دیں چند خوراکیں کافی ہیں ۔

Calc Carb: کے بعد Sulfurنہ دیں اور Bryoniaبھی خطرناک ہے۔ Sulfurکے بعد Calc Carbدے سکتے ہیں۔

نوٹ : اسی طرح کچھ اور دوائیں ہیں مثلاً رسٹاکس اور فاسفورس نہ دیں Apisکے ساتھ،ادل بدل نہ کریں اور اسی طرح Baryta Carb کے ساتھ Calc Carb ادل بدل نہ کریں۔

نوٹ : اسی طرح بعض دواؤں کے بعد بعض دوائیں زیادہ اچھا کام کرتی ہیں ۔ Acuteاور Chronicکا جوڑ اور فلسفہ دیکھیں سمجھیں۔ جو دواؤں کی تفصیلات اور علاج کی تفصیلات میں وضاحت سے مذکور ہے۔

ایلوپیتھی او رہومیوپیتھی کا سنگم

عموماً ہومیوپیتھک دوا دوسری دواؤں مثلاً ایلوپیتھک یا آیورویدک وغیرہ کے ساتھ دے سکتے ہیں لیکن بعض اوقات ٹکراؤ کے نتیجہ میں نقصان ہوتا ہے مثلاً B.P اونچا ہو سکتا ہے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ اگر B.Pکی دوا ایلوپیتھی میں دے رہے ہوں تو ہومیوپیتھی میں بھی B.Pکی دوا دینے سے دونوں دواؤں کا ٹکراؤہو سکتا ہے اسلئے نوٹ کریں کہ دوسری دوا کیا اثر کرتی ہے یا کرے گی پھر سوچ سمجھ کر ہومیوپیتھک دوا دیں۔ورنہ بخاروں میں Paracetamolطرح کی دواؤں کیساتھ ہومیوپیتھک دوا بہت اچھا اثر کرتی ہے۔ اسی طرح اگر Pain Killerوغیرہ دے دی جائے تو ہومیوپیتھک دوا سے عموماً ٹکراؤ نہیں ہوتا ۔اس سے ثابت ہوا کہ ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی دونوں مل کر چل سکتے ہیں۔

نوٹ :اسپرین جھلیوں پر بُرا اثر ڈالتی ہے اس سے ہومیو دوا بننی چاہیئے۔ مگرمچھ کو چوٹ یا زخم لگے تو خودبخود ٹھیک ہو جاتی ہے اس سے بھی ہومیوپیتھک پوٹینسی بننی چاہیئے۔ الغرض جتنی بھی ایلوپیتھک دوائیں ہیں ان کی اگر پوٹینسی بنائی جائے تو بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں مثلاً Ventolin، Glycerin، Insulin وغیرہ سے ہومیوپیتھک پوٹینسی پہلے ہی کامیابی سے اسی اصول پر استعمال ہو رہی ہیں۔

نوٹ: ایلوپیتھی ٹیکے(Vaccine) جو طرح طرح کے گند ملا کر بناتے ہیں وہ ہومیوپیتھی ہی ہے قریباً۔ مثلاً نزلہ زکام کا گند۔چیچک وغیرہ کا گند(ہومیوپیتھی کے تعارف میں یہ بات ضرور نوٹ کریں) یعنی ایلوپیتھی کے نام پر ہومیوپیتھی کرتے ہیں۔

مزاج /تشخیص کا طریق

نوٹ:اگر مزاج سمجھ آ ئے تو پہلے مزاجی دوا دیں ساتھ ضرورتاًدوسری دوائیں بھی دے سکتے ہیں۔

نوٹ:ہومیوپیتھی میں مزاج کو بڑی اہمیت ہے مثلاً گرم مزاج، سرد مزاج، بلغمی مزاج، صفراوی مزاج وغیرہ (باقی طبوں میں بھی یہ چیزیں بڑی اہم ہیں) ہومیوپیتھی میں پتلا یا موٹا مریض کالا یا گورا رنگ وغیرہ بھی نوٹ کیاجاتا ہے۔ ایلوپیتھی میں بعض اوقات گورے کالے رنگ پر ایلوپیتھی دوائیں مختلف اثر کرتی ہیں مثلاً ایک ایلوپیتھی دوا جس کا نام VASERETICہے۔ اس کا دوسرا نام ACE (Angistension Converting Enzyme) ہے۔

اس مندرجہ بالا دوا کے بارے میں (CPS) Canadian Drug Reference for Health Professionals صفحہ 2002میں لکھا ہے کہ

"The incidence of angisedema during Angistension Converting Enzyme (ACE) Inhitor Therapy has been reported to be higher in Black than in No "Black patients.”

نوٹ:اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہومیوپیتھی میں جو باریک در باریک علامات پر نظر رکھی جاتی ہے وہ ایک حقیقت ہے اور جب ایک ہومیوپیتھ ان حقائق کو حقیقت جان کر دوا تجویز کرتا ہے تو حقیقی شفا کا لطف بھی اٹھاتا ہے ورنہ ادھوری شفا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نہ مریض مطمئن ہوتا ہے نہ معالج۔

نوٹ : مثلاً Chamomillaکا مزاج غصہ کا ہے۔ اور Pulsatillaکا نرم مزاج۔ اب اگر ایک مریضہ کی بیماری تو Pulsatillaکی لیکن مزاج غصہ والا ہے یعنی Chamomillaکا۔ تو ایسی مریضہ یا مریض کو پہلے Chamomillaدینے سے فوری اثر ہو گا اور غصیلے مزاج میں کچھ نرمی آ جائے گی اور اب اس مریضہ کو Pulsatillaدیں گے اس لئے کہ اس کی بیماری Pulsatillaکا مطالبہ کرتی ہے تو پھر فوری اثر ہو گا ۔

نوٹ :مثلاً Kali Carbچونکہ بڑی طاقتور دوا ہے اس لئے اس سے پہلے Carbovegدیتے ہیں کالی کارب دیکھیں۔

نوٹ : جن لوگوں پر پروونگ Provingکی گئی تھی ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے سمجھدار نہ ہوں کہ دواؤں کا باریک بینی سے نوٹس لیتے اس لئے ایسے لوگوں کی بعض رپورٹیں قابل اعتماد نہیں کیونکہ کتابوں میں لکھے ہوئے بعض Symptomsمتعلقہ دوا دینے سے ٹھیک نہیں ہوتے بلکہ Clinical Experienceہی کام آتا ہے اس لئے ہومیوپیتھی کی نئے سرے سے بھی Researchہونی چاہیئے یعنی نئی Provingبھی ضروری ہے۔

نوٹ (V.Imp): دوا کی پہچان پر عبور حاصل کرنے کے لئے دوا کے استعمال کے ساتھ ساتھ دوا کی تفصیلات ضرورپڑھیں اور سمجھیں۔

مثلاً نزلہ زکام میں اگر آنکھیں سرخ ہو رہی ہوں تیز پانی آتا ہو آنکھوں سے تو یہ یوفریزیا Eupharasia کی علامت ہے اور اگر ناک سے تیز پانی آ رہا ہواور ناک میں جلن، خراش کا احساس ہو اور ساتھ کھانسی آ رہی ہو تو یہ ایلیم سیپا Allium Cepaکی علامت ہے گویا ایک دوا کی پہچان یہ ہے کہ آنکھوں پر بُرا اثر ہوتا ہے زیادہ اور دوسری دوا کی پہچان یہ ہے کہ ناک اور گلے پر بُرا اثر ہوتا ہے زیادہ (اگر فوری طور پر Allium Cepaنہ دیں تو گلے کے نیچے پھیپھڑوں تک اثر پڑتا ہے بعد میں) اس لئے اگر بیماری شروع ہوتے ہی مناسب دوا دیں تو بیماری آگے بڑھے گی ہی نہیں۔ ورنہ اُلٹی پلٹی دوائیں دینے سے بیماری نہ صرف لمبی ہو گی بلکہ مزید پیچیدگی بھی پیدا ہو گی۔اس لئے ضروری ہے کہ بیماری کی ابتدا غور سے نوٹ کریں۔

مثلاًایسکیولس میں بواسیر کے مسے ابتدا ہی سے ڈھیلے اور نیلے ہوتے ہیں اور یہی علامت کلکیریا کارب کی ہے اس لئے اگر شروع ہی میں ایسکیولس دی جائے تو بیماری وہیں ختم ہوجائے گی۔لیکن اگر غلط علاج کی وجہ سے یہی بیماری پرانی ہو جائے تو کلکیریا کارب دوا ہو گی۔

نوٹ:Aesculusاور Calc Carbکے سنگم کے اصول سے ہر جگہ فائدہ اٹھائیں کہ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں پہنچی۔

نوٹ : دواؤں میں تفریق کرنا سیکھیں کہ کونسی امتیازی علامت دوسری میں نہیں پائی جاتی۔

نوٹ : چونکہ Belladonnaاور Aconiteکی علامات کافی ملتی ہیں اس لئے اگر دونوں کو ملا کر دیں تو بھی مفید ہوں گی اورچونکہ Gelsemiumمیں بھی کچھ علامات ان جیسی ہیں اس لئے کبھی یہ بھی ملا دیں اگر ضرورت ہو تو حرج نہیں (لیکن سوچ سمجھ کر ملائیں۔ دیکھیں اصول ہومیوپیتھی دوائیں ملانا) کبھی ساتھ Arsenicبھی ملایا جاسکتا ہے (دیکھیں دوائیں ملانا)

نوٹ : دراصل ایک ہی قسم کی علامات بہت سی دواؤں میں ملتی ہیں اس لئے ایک ہی جیسی کیفیات ایک ہی طرح کی بظاہر امراض اور علامات جب مختلف بیماریوں میں نظر آتی ہیں تو بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ لیکن ایک امتیاز ہے دواؤں میں ایک فرق ہے واضح علامات میں جو دواؤں کی پہچان اور تفریق آسان بنا دیتا ہے مثلاً Belladonnaمیں بھی اچانک بیماری آتی ہے اور خون کا Rushجسم کے کسی ایک عضو کی طرف ہو جاتا ہے اور ماؤف حصہ میں یا بیمار عضو میں شدید درد، گرمی، جلن، سرخی، سوجن ہوجاتی ہے یعنی Inflamationہو جاتی ہے اور یہ سب علامات بیلاڈونا والی Aconiteمیں بھی ہیں لیکن فرق اور امتیاز کرنے والی علامت یہ ہے کہ Aconiteکا مریض طوفان کھڑا کر دیتا ہے اور Belladonnaکا مریض باوجود سخت تکلیف کے زیادہ شور شرابا نہیں کرتا۔لیکن Arsenicکا مریض بھی بہت پریشان اور بے چین ہو کر اِدھر اُدھر پھرتا ہے اور پوچھو تو کہتا ہے کہ ٹھیک ٹھاک ہوں کوئی بات نہیں لیکن بے چینی اور سراسیمگی اس کے چہرے پر نہایت واضح ہوتی ہے۔فرق یہ ہے کہ آرسینک میں بیماریوں کے اخیر میں یہ کیفیت ہوتی ہے اور آرسینک کا مریض کرانک مریض ہوتا ہے جبکہ ایکونائٹ اور بیلاڈوناکا مریض کرانک نہیں ہوتا۔

نوٹ : اسی طرح ہر دوا کی اپنی اپنی پہچان ہے۔ جس کی وجہ سے مختلف تکالیف کی مختلف دوائیں ڈھونڈنا نسبتاً آسان ہو جاتاہے۔ مزید مثالیں بھی ملاحظہ فرمائیں

نوٹ:بعض اوقات علامات غیر واضح ہوتی ہیں یا ڈاکٹر کو پورا کیس سمجھ نہیں آتا بعض مریض اصل حقیقت بیان نہیں کرتے یا نہیں کر سکتے تو اندازاً دوا دی جاتی ہے یا سلفر، مرکسال وغیرہ دے کر علامات کھولی جاتی ہیں نتیجتاً 2-3دن میں بیماری کی علامات کھل کر سامنے آ جاتی ہیں مثلاً گلا درد 2-3دن میں دائیں طرف ٹھہر گیا اور لائیکوپوڈیم کی ایک خوراک سے افاقہ شروع ہو گیا۔

سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ مریض میں خون کی کمی تو نہیں (دوائیں کام نہیں کرتیں اگر مریض انیمک ہو) خون کی کمی بہت سی علامات پیدا کرتی ہے بلکہ ہر علامت ہوتی ہے انیمک مریضوں میں۔

نوٹ:مثلاً Merc Sol، Sulfur، Rhustoxاور Kali Murکی علامات ہیں ایک مریض میں تو بہتر یہ ہے کہ اب گہری دوا سے شروع کریں اگر مرکسال کی بدبو ہے تو اونچی سے اونچی طاقت ٹرائی کریں نتیجتاً آہستہ آہستہ علامات بدلیں گی یعنی پھردوسری دواؤں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

نوٹ:عموماً انیمک مریض زیادہ ہوتے ہیں فی زمانہ۔ اس لئے پہلے ان کی عمومی صحت Improveکریں کیونکہ خون کی کمی ہو تو دوائیں پوری طرح اثر نہیں کرتیں۔

نوٹ:Aesculusمیں عموماً شروع میں بلکہ کافی عرصہ تک Bleedingنہیں ہوتی اسلئے وریدوں کی بیماریوں میں Aesculusشروع میں اس وقت کام آئے گی جب صرف ورم اور نیلا پن ہو گا لیکن اگر جلد ہی جریان خون ہو تو Hamamelisدیں گے ۔ساتھ کچھ اور علامات بھی ہوں گی۔

نوٹ:حقیقت یہ ہے کہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو دواؤں کی علامات بڑی واضح ہوتی ہیں تفریق کرنا ڈاکٹر کاکام ہے مثلاً کمزوری کا نقشہ ذہن میں ہونا چاہیئے کہ دل کی ہے یا تیزابیت کی ہے وقتی ہے یا کرانک ہے اچانک آئی ہے یا لمبی بیماریوں کے بعد اور لمبی بیماریوں کے بعد کہاں کہاں بُرا اثر پڑا ہے اسی انداز سے تمام بدن پر نظر ہونی چاہیئے مثلاً Spigeliaبھی دل کے غلاف کی دوا ہے اور Arsenicبھی ، اسلئے دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔

نوٹ:Rhustoxاور Causticumمیں تکالیف کافی دیر تک محدود یعنی ماؤف حصہ تک رہتی ہیں جبکہ Ledumمیں درد نیچے سے اوپر جاتا ہے۔ Belladonnaمیں اوپر سے نیچے اور Pulsatillaمیں نیچے سے اوپر۔ Dulcamaraمیں سر دی گرمی کا ادل بدل بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ بعض دواؤں میں مخصوص اعضاء پر اثر ہوتا ہے بعض میں عمومی اثر ہے وغیرہ وغیرہ ۔

نوٹ:(Imp): طریقہ علاج یہ ہے کہ دواؤں کی پہچان ضروری ہے مثلاً اچانک پن Belladonnaمیں بھی ہے اور Phosphorusمیں بھی۔ ایک Acuteدوسری Chronicاو رDeep Acting،ایک کا اثرنظام خون پر ہے اور وہ بھی وقتی۔ دوسری کاتمام جسم پر اور جسم کی ہر ایک ساخت پر ہے۔

نوٹ:کرانک حالتوں میں Acuteحالت بھی ہو جاتی ہے جس کا مطلب یہ نہیں کہ Acueحالت ہے مثلاً Phosphorusمیں اور Calc Carbمیں اچانک خون Rushکرتا ہے کمزوری ہوتی ہے اچانک۔ اسی طرح Nuxمیں بھی اچانک Acid Debilityہوتی ہے اس لئے فرق کرنا ضروری ہے۔

نوٹ:بے شک یہ ضروری نہیں کہ ہر دوا کی تما م علامات کسی مریض میں ہوں (ہاں کوئی مریض ایسا ہو کہ جس میں کسی دوا کی تمام علامات ہوں یعنی تما م بیماریاں ملیں کسی دوا کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مریض بہت بیمار ہے جس کا ہر عضو متاثر ہوچکا ہے) لیکن جو جو حصے متاثر ہو چکے ہیں ان حصوں میں یا ان اعضاء میں امراض ضرور ہونگیں کسی دوا کی اس لئے اگر ایسا ہو تو دوا دیں مثلاً Rhustoxمیں پیشاب کا جلن سے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ رسٹاکس دوا ہے ساتھ یہ دیکھنا ہے کہ سرد مزاج ہو ورنہ اگر گرم مزاج ہے تو Sulfurدوا ہے وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ:بیماری کی تفاصیل سن کر یا بیماری کا رائج الوقت نام سن کر پریشان نہ ہوں ہومیوپیتھک دواؤں کو مدنظر رکھ کر مزاجی دوا ڈھونڈیں۔

جسم یا دواؤں کا ردعمل نہ دکھانا

نوٹ:علامات کو زبردستی Suppressکردیں تو جسم صحیح ردعمل نہیں دکھاتا مثلاً اسہال دبانے سے Lungs پر بُرا اثر ہو سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ:ہومیوپیتھک دواکے ذریعے ٹھیک ردعمل پیدا کرنا بہت ضروری ہے صرف ردعمل پیدا کرنا یعنی جسم میں ایک ہلچل پیدا کردینا کافی نہیں بلکہ نقصان دہ ہے۔دوا کچھ دیر طوفان برپا کرے گی لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ صحیح ردعمل بیماری ختم کر دیتا ہے۔

نوٹ:بعض اوقات اگر کوئی دوا دی جائے تو اس کا اثر نہیں ہوتا۔ دوا کا ردعمل ظاہر نہیں ہوتا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ نمبر1دوا کا اثر ہی نہیں ہوا۔ نمبر2جسم کے نظام نے دوا کے پیغام کو سمجھا ہی نہیں نمبر3 غلط دوا ہے اس لئے فائدہ ہی نہیں ہوا وغیرہ وغیرہ۔ بعض بیماریوں میں دوا دیر بعد اثرکرتی ہے مثلاً جوڑوں کی دردیں، دمہ وغیرہ۔

نوٹ: مندرجہ بالا حالت دراصل اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ بعض اوقات نمبر1جسم کا نظامِ دفاع اس لئے متحرک نہیں ہوتا کہ اس پر غنودگی کی حالت طاری ہو جاتی ہے فالجی سی حالت ہوتی ہے اس لئے اگر Opiumبہت چھوٹی طاقت میں مثلاً 1x-2x-3xمیں چند خوراکیں (2-3خوراکیں) 12گھنٹہ میں دے دی جائیں تو جسم ردعمل دکھانے لگے گا اور بیماری اصل شکل میں ظاہر ہو جائے گی اور جسم جو سویا پڑا تھا(اور پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کیوں دوا کا اثر ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ جسم کا ردعمل خاموش تھا) اب جاگ کر اپنی بیماری ظاہر کر دے گا اور علاج کرنے میں آسانی ہو گی یعنی دوسری دوائیں کام کرنے لگیں گی۔ Sulfurبھی یہی کام کرتا ہے کہ اگر جسم بے حس ہو تو اسے جگا دیتی ہے یعنی جن دواؤں کو کام کرنا چاہیئے وہ کام نہ کریں تو Sulfurدینے سے وہ کام کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

نوٹ: کبھی کبھی جسم میں بیماریاں اتنی زیادہ ہوجاتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتاکہ کیا کیا علامات ہیں۔ دراصل بیماریاں آپس میں خلط ملط ہو کر نئی نئی شکلیں اختیار کر لیتی ہیں۔ ڈاکٹر کبھی کچھ دیتا ہے کبھی کچھ ،اور مریض پر کوئی اثر نہیں ہوتا (مریض کی بجائے ڈاکٹر خود بیمار ہو جاتا ہے حیران وپریشان ہو جاتا ہے) ایسی صورت حال میں Nux Vomica 30طاقت میں ہفتہ دس یا زیادہ دن ضرورت کے مطابق دینے سے اول تو بہت سی بیماریاں ٹھیک ہوجاتی ہیں (کیونکہ نکس میں بہت سی دوائیں یا زہریں ہیں) اور جب بہت سی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں تو اصل بیماری یا باقی رہ جانے والی بیماریاں سامنے آ جاتی ہیں (ان بیماریوں کا علاج کرنے کا طریق یہ ہے کہ پہلے واضح علامات کو مدنظر رکھ کر علاج کریں نتیجتاً کئی اَور چھوٹی موٹی بیماریاں یا علامات ٹھیک ہو جائیں گی اسی طرح باقی رہ جانے والی بیماریوں کا علاج کریں۔

نوٹ:گہری بیماریوں کا تعلق چونکہ Auto Immune Systemسے ہوتا ہے مثلاً Lupus، Cancerاور Syphilisاور سوزاک T.Bوغیرہ اور Defence Systemاور Central Nervous Systemٹھیک سے کام نہیں کرتے اس لئے جسم ردعمل نہیں دکھاتا (تو کیوں نہ ان تمام گہری بیماریوں یا ایسی بیماریاں جن میں ردعمل کی کمزوری نظر آتی ہو وہ دوائیں دیں جو Defence Systemکو مضبوط کریں بیماری کا خواہ کوئی نام بھی کیوں نہ ہو)

نوٹ:ہومیوپیتھی میں یہ دعویٰ نہیں کہ ہربیماری کی دوا معلوم ہو چکی ہے آہستہ آہستہ ترقی ہو گی۔ لیکن تاحال بہت بڑا ذخیرہ ہے ہومیوپیتھک دواؤں کا جو اکثر بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے کوشش کریں تو سب بیماریوں کو Coverکرے گا۔ انشاء اللہ

نوٹ: Sulfurبہت بڑی دوا ہے اس کا نمبر1کام (نکس وامیکا کی طرح) ہے نمبر2سلفر جسم کا ردعمل جگا دیتی ہے وہ اس طرح کہ جسم کو طاقت دیتی ہے او رجسم کا ردعمل مضبوط ہو کر دواؤں کا اثر قبول کرتا ہے اور اس دوا کے خلاف یا اس زہر کے خلاف ردعمل دکھاتا ہے جس کی اسے عادت پڑ چکی تھی اور وہ خاموش رہتا تھا۔ سلفر ہر پوٹینسی میں کام کرتی ہے۔(دراصل بعض اوقات جسم کو عادت پڑ جاتی ہے کہ کسی زہر کو اپنے اندر پا کر خاموش رہے(جیسے بے غیرت انسان طرح طرح کی گندی حرکات کر کے یا دیکھ کر ردعمل نہیں دکھاتا نہ خود گندی حرکتیں چھوڑتا ہے اور نہ دوسروں کو منع کرتا ہے) مثلاً طبّی/انٹی بائیوٹک دوائیں تھوڑی مقدار میں اثر نہیں کرتیں۔ مثلاًپہلے 20 0mgدیتے ہیں اور فائدہ ہو جاتا ہے لیکن دوبارہ 20 0mgسے فائدہ نہیں ہوتا اور دوا کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے حتٰی کہ ڈاکٹر مقدار بڑھاتے بڑھاتے تنگ آ جاتا ہے اور مریض دوا کا اثر قبول نہیں کرتا، سن ہو جاتا ہے بے حس ہو جاتا ہے اسی طرح افیم کھانے والے افیم کی مقدار بڑھاتے رہتے ہیں یہی حال شرابیوں کا ہے اور دوسرے نشہ کرنے والوں کاہے) Sulfurجسم کی اس فالجی اور بے حسی کی حالت کو دور کر دیتی ہے نتیجتاً نشہ وغیرہ کے بداثرات کو مریض نوٹ کرتا ہے اور اسے بُرا لگتا ہے Drugsکا رویہ یا بداثر اور مریض یہ نشے وغیرہ خود بخود چھوڑدیتا ہے اسی لئے Sulfuric Acidشرابیوں کی شراب نوشی کا علاج ہے۔

نوٹ:ہومیوپیتھی میں بھی بعض اوقات جسم ایک پوٹینسی کو ردعمل نہیں دکھاتا(یعنی شفانہیں ہوتی) گویا جسم کو عادت پڑ جاتی ہے اس پوٹینسی کی۔ اس لئے اس کا یہی علاج ہے کہ پوٹینسی یعنی دوا کی طاقت بڑھائی جائے فائدہ ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ اگر پھر بار بار دینے سے فائدہ رک جائے تو پھر پوٹینسی اونچی کی جائے اور یہی طریق شفا دینے کا ہے۔کہ اگر فائدہ ہو کسی دوا سے اور پھر فائدہ رک جائے کچھ عرصہ بعد اس دوا سے تو اس کی طاقت بڑھاتے جائیں یا وقفہ بڑھائیں۔یا پوٹینسی کم کر کے بھی دیکھیں۔

نوٹ : بعض اوقات مختلف ہومیوپیتھک دوائیں دینے سے بھی مرض گڈمڈ ہو جاتا ہے سلفر دینے سے اصل علامات یا بیماری سامنے آ جاتی ہے اکثر (غلط ملط دوائیں دینے سے بھی امراض گڈمڈ ہو جاتے ہیں)

نوٹ: دوائیں ضروری اورغیر ضروری علامات سے بھری پڑی ہیں (تفصیل اس لئے لکھی ہوتی ہے کہ اصل بات سمجھ آ جائے لیکن کم فہم لوگ تفصیل میں جا کر اصل بنیادی علامات تو بھول جاتے ہیں اور تفصیل یاد رکھتے ہیں مثلاً Secale Corبڑی اہم بیماریوں کی دوا ہے جس کی بنیادی علامت یہ ہے کہ مریض گرمی بہت محسوس کرتا ہے کپڑا نہیں لینا چاہتا حالانکہ جسم گرم نہیں ہوتا بلکہ ٹھنڈا ہوتا ہے (اگرجریان خون ہو تو سیاہ پتلا بدبودار ہوتا ہے اب ہر بیماری میں تو جریان خون نہیں ہوتا اس لئے اس علامت کو ضروری ہونے کے باوجود ہر بیماری میں تلاش نہیں کیا جائے گا) اسلئے ہر دوا کی بنیادی علامات پر نظر رکھیں۔

اہم نکات

نوٹ:Radiology کی گئی سر پر نتیجتاً مریضہ کو یوں لگا کہ شدید ڈنگ لگنے کی کیفیت ہے دماغ میں سوئیاں چبھ رہی ہیں Apis 200طاقت میں دی گئی تو چند منٹ میں ٹھیک ہو گئی تکلیف۔ Radiologyسے دماغ کی جھلیوں میں Inflamationہو گئی تھی فوراً۔ جسے Apisسے فوراً Reverseکرایا۔ اللہ اکبر (یہ بھی میرا ذاتی تجربہ ہے)

نوٹ:شدید چوٹ لگی اور ماؤف مقام نیلا ہو گیا شدید درد ہے مریض کا دل ڈوب رہا ہے شدید دھڑک رہا ہے موت کا خوف ہے شدید درد ہے اب سوال یہ ہے کہ علاج کہاں سے شروع کریں ظاہر ہے دل بیٹھ رہا ہے دل فیل ہونے کا خطرہ ہے موت واقع ہو سکتی ہے یہاں شدید درد اہم نہیں بلکہ دل اہم ہے جو شدید درد نہ برداشت کرنے کے نتیجہ میں فیل ہو سکتا ہے اسے Aconite QاورCrataegu Qدیں دل قابو میں آ جائے گا چند منٹ بعد پھر چوٹ والی دوائیں دیں( یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے اور علاج کااصول بھی ہے)

نوٹ:مریضوں کا رویہ بھی علاج میں بڑا مددگار ثابت ہوتا ہے مثلاً دوا استعمال کرنے کے بعداس بات کا اظہار کرنا کہ کچھ نہ کچھ افاقہ ہوا ہے یا کوئی اثر نہیں ہوا ڈاکٹر کی بہت بڑی مدد ہے کچھ نہ کچھ افاقہ ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کو یہ تسلی ہوجاتی ہے کہ دوا صحیح ہے اور ردعمل شروع ہو گیا ہے۔کچھ بھی افاقہ نہ ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کی سوچ بدل سکتی ہے۔

تشنج: نام ہے ایک کیفیت کا اس سے متعلقہ بہت سی بیماریاں ہیں Cicutaدیکھیں۔

نوٹ: Sulfurکے سایہ میں دوسری دوائیں دیں تو اچھا کام کرتی ہیں کرانک بیماریوں اور الجھی ہوئی بیماریوں میں۔

ہر کرانک:بیماری میں Aluminaاستعمال کریں الیومینا دیکھیں

روزمرہ :کی دردوں کے لئے Arnicaدیں سستی ، کمزوری وغیرہ بے چینی وغیرہ کیلئے بھی۔

Abrotanum: کا عام استعمال کریں V.Imp

Potency:ہر مریض کو ہر پوٹینسی فائدہ نہیں دیتی۔ مثلاً حساس مریضوں کو جو زیادہ نازک مزاج ہوں ان کو Low Potencyدیں مثلاً نکس 30طاقت حساس مریضوں کو اچھی نیند لاتی ہے جبکہ 200 طاقت نیند اڑا دیتی ہے اور جو نسبتاً لاپرواہ سے ہوں ان کو 30طاقت اثر نہیں کرتی، 200طاقت میں مؤثر ہوتی ہے اسلئے ہومیوپیتھی پوٹینسی بڑا نازک معاملہ ہے اگر علامات ملتی ہوں تو پوٹینسی ضرور تبدیل کر کے دیکھیں۔ اور غور کریں کہ کسی مریض نے کونسی طاقت کو زیادہ قبول کیا اچھا ردعمل ہوا اور مزاج نوٹ کریں پھر اس مزاج کے مریض میں آئندہ یہی طاقت دیں۔

کان بہہ بہہ:کر بیماری اتنی بڑھی کہ پردہ پھٹ گیا اسے Silicea CMکی ایک ہی خوراک نے مکمل شفا دے دی۔ اس کیس میں بڑی دعوتِ فکر ہے۔

نوٹ:دواؤں کی دوہرائی بہت اہم ہے مثلاً ایک مریضہ نے لقوہ میں کاسٹیکم 200طاقت میں بار بار کھائی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا ۔پھر2-3خوراکیں 1000کی لے لیں تو مکمل شفا ہو گئی اور یہ ساری خوراکیں 24گھنٹے کے اندر لے لیں لیکن اس کے برعکس نیٹرم میور ایسی دوا ہے کہ اس کی بار بار دوہرائی بڑی خطرناک ہے۔ ہفتہ میں 2-3دفعہ کافی ہے۔

نوٹ:مندرجہ بالا کیس میں مریضہ نے لاعلمی میں عام اصول کے خلاف بار بار دوا کھائی اور اسے نقصان کی بجائے غیر معمولی فائدہ پہنچا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بعض دوائیں اونچی طاقت میں بھی بار بار دوہرائی جا سکتی ہیں اس کے بارہ میں تجربات کرنے چاہئیں تاکہ مزید باتیں سامنے آئیں۔

نوٹ: Ferr Phos کی سوزش یعنی Inflamationصرف سوزش رہتی ہے کسی مرحلہ پر بھی پیپ نہیں بنتی جبکہ Merc Solمیں تیزی سے پیپ بننے کا رجحان ہے اگرفیرم فاس وقت پر نہ دی گئی ہو تو پیپ کیلئے Siliceaیا Hepar Sulfیا Merc Solکام آئیں گی۔کیونکہ فیرم فاس کا مرحلہ گزر چکا ہے۔

نوٹ: نزلہ زکام میں بھی Acuteاور Chronicکا قانون چلتا ہے اگر وقت پر ابتدائی(Acute) دوائیں نہ دی گئی ہوں تو بعد میں جب نزلہ بگڑ جائے یہ دوائیں کام نہیں آسکتیں بلکہ گہری اورکرانک دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔

نوٹ:دواؤں کی Affinityہوتی ہے مثلاً پیشاب کے اعضاء سے، جنسی اعضاء سے، جھلیوں سے، جلد، گردوں سے، خون سے، اعصاب سے وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے اس تعلق کو مدنظر رکھ کر بھی دوا دیں۔

اسلئے:گہری دواؤں کے ساتھ Affinityوالی دوائیں دیں مثلاً Merc Solکے ساتھ اگر نزلہ زکام کی کرانک تکلیف ہے تو Dulcamaraدیں کیونکہ یہ نزلہ زکام کی دوا ہے اور خصوصاً جھلیوں سے متعلق ہے وغیرہ وغیرہ۔

کرانک: بیماریوں میں بے شک اونچی طاقت چاہیئے لیکن بعض جگہ مریض کو تکلیف سے بچانے کیلئے چھوٹی طاقت سے شروع کریں۔

Kali Carbاور Merc Sol دیکھیں۔

شروع میں بیماریاں کھل کر سامنے نہیں آتیں آخر میں خاص مریض بنتا ہے مثلاً Bryonia کا مریض بگڑتے بگڑتے Cadmium Sulfکی طرح ہو جاتا ہے ۔

Psorinum دینے سے بھی دوسری دوائیں بہتر کام کرنے لگتی ہیں۔

Kali Phos:دیں دوران علاج عموماً کالی فاس دیں ردعمل جگانے کیلئے۔

Alumina:اور Nat Murہر مریض کو دیں بطور Routineکوئی خطرہ نہیں۔ غور کریں کہ ایسا کیوں ہے۔

نوٹ: اصل بیماری یا اس کی بنیادی علامات کا گروپ تلاش کریں کیونکہ ہر دوا میں بیماری نہیں بلکہ بیماریوں/علامات کا ایک گروپ ہوتا ہے ایک آدھ علامت پر دوا نہیں دی جاسکتی بیماریوں کے اردوانگلش نام سے علاج نہیں ہو سکتا۔ مثلاً فوٹوفوبیا بہت سی دواوں میں ہے اور Nat Sulfمیں بھی ہے۔ اب نیٹرم سلف جگر کی دواہے بنیادی طور پر ۔ اب اگرفوٹوفوبیا میں نیٹرم سلف کی بنیادی علامات ہوں گی تو نہ صرف فوٹوفوبیا میں کام کرے گی بلکہ باقی تمام متعلقہ علامات میں بھی مفید ہو گی اور بعد میں اگر کوئی دوسری علامات ابھریں گی یا کچھ بیماریاں باقی رہ جائیں گی تو ان کا علاج کریں۔

کونین:خام حالت میں ہر بیماری کے دورہ کو دور کرتی ہے مثلاً دانت دردوغیرہ (بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام تذکرۃ المہدی صفحہ 10۔

جس طرح: Nat Sulfدماغی جھلیوں کی سوزش (سوزش کی وجہ کچھ بھی ہو) کے نتیجہ میں بہت سی بیماریاں ٹھیک کرتی ہے مثلاً گردن توڑبخار، سردرد، سرکی چوٹ کے بدترین بُرے اثرات وغیرہ اور اس دوا کو Stressمیں بھی استعمال کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کیوں نہ دوسری دواؤں کا اسی انداز سے استعمال کیا جائے۔ مثلاً Berberisویسے بھی چند دن دی جائے یعنی بہت ابتدائی علامات پر بھی دی جاسکتی ہے(میں اس کا صاحب تجربہ ہوں اورساتھ Pareira Bravaبھی ملاتا رہا ہوں )۔ یا قبل اس کے کہ دماغی جھلیاں اتنی Inflamedہو جائیں کہ سر کھنچنے لگے گدی پکڑی جائے یا فالجی اثرات ظاہر ہوں کیوں نہ صرف دماغی تھکاوٹ کی علامت پرنیٹرم سلف دیں تاکہ بیماری آگے نہ بڑھے یا حفظ ماتقدم کے طور پر دیں۔ اسی طرح Plumbumکی ابتدائی علامات پر ہی یہ دوا دیدیں مثلاً سستی پر یعنی جب جسم محسوس کرے کہ اب وہ پھرتی، تازگی اور Freshnessنہیں جو پہلے جوانی میں تھی وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ: ہومیوپیتھی پر یقین دراصل خدا تعالیٰ پر یقین ہے کہ اس پاک ذات نے ہمیں کیسا شاندار نظام دفاع مہیا کیا ہے کہ اگر ہم اس سے کام لیں تو ہزاروں بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں مثلاً ماہواری نہیں آر ہی اعصابی کمزوری کی وجہ سے تو Cocculusسے فائدہ ہوتا ہے اسی طرح اعصاب کی کمزوری دو ر کریں تو اور بیماریاں بھی ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

نوٹ: ایلوپیتھک دوائیں یک لخت بند نہ کریں ہاں آہستہ آہستہ کریں ساتھ ہومیوپیتھک دوائیں لیں حتٰی کہ صرف ہومیوپیتھک دوائیں ہی رہ جائیں۔

نوٹ: اگر ایلوپیتھک دوا کم کرنے سے اور ساتھ ہومیوپیتھک دوا کھانے سے فائدہ نہ ہو رہا ہو تو پھر نئی ہومیوپیتھک دوا ڈھونڈیں اور ایلوپیتھک دوا جاری رکھیں اپنے تجربہ سے مریض خود کم کر سکتا ہے ایلوپیتھک دوائیں۔ نوٹ کرے کہ کتنی کم کرنے سے گزارہ ہو سکتا ہے۔

نوٹ: جسم کے مختلف کیمیکل ہیں اگر ان کا توازن بگڑ جائے تو بیماری پیدا ہو جاتی ہے ہومیوپیتھک دوا جسم کو یہ پیغام دیتی ہے کہ غالباً فلاں زہر بیماری پیدا کر رہی ہے جبکہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا اثر ہے(بیشمار زہروں اور بیماریوں کا ابھی تک کسی کو بھی پتہ نہیں سوائے اللہ کے) اس زہر کا جو بیماری کا موجب ہے لیکن جسم کو پتہ ہے سب کچھ اور جب ہومیوپیتھک دوا غالباً فلاں زہر ہو گا کا پیغام جسم کو دیتی ہے تو جسم باقی کام سنبھال لیتا ہے۔

نوٹ: بعض دفعہ تشخیص اس لئے مشکل ہوتی ہے کہ بے شمار دوائیں ہیں کون کونسی یاد رکھیں لیکن کچھ اصول ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کو یاد رکھیں توہر دوا میں بیماریوں کا ایک گروپ نظر آئے گا ا س گروپ کے اندر رہتے ہوئے صحیح دوا تک پہنچنے کا زیادہ امکان ہے مثلاً آنکھ کی اندرونی بیماریوں میں اگر اعصاب کو مدنظر نہیں رکھیں گے تو اصل دوا نہیں ملے گی ہاں آنکھ کی بیرونی بیماریوں میں علامات کے لحاظ سے دوا دیں وہاں یہ قانون نہیں چلتا۔باقی بحث ہم آنکھوں کی بیماریوں میں کریں گے۔

نوٹ(V.Imp): جلدی بیماریوں کی بھی اقسام بنا لیں جیسے نزلہ زکام کھانسی کی ہیں بلحاظ علامات۔

قاعدہ : مثلاً زودحسی/بے چینی تو دور کریں Cicutaسے اور اعصاب کو طاقت دیں Kali Phosسے ۔

قاعدہ:مریض کوپہچانیں کہ یہ اعصابی ہے یا خونی بیماریوں کا ہے یا ہڈیوں کا وغیرہ وغیرہ۔

گرم سرد ہونا:مریض کا،ایسا حادثہ عموماً ہوتا ہے اس لئے Dulcamaraپہلے ذہن میں آنا چاہیئے۔

انیمک مریض:پہچانیں تو ہر بیماری کا علاج ہو سکتا ہے مثلاًChina Arsدیکھیں V.Imp۔

غصہ: اور ہر بیماری Chamomillaدیکھیں۔

غصہ دبانے یعنی غصے کا اظہار نہ کر سکنا اور ہر بیماری Staphisagriaدیکھیں۔آجکل Staphisagria کے بہت مریض ملیں گے۔

کمزوری ہر بیماری میں زیر نظر رہے فی زمانہ کمزوری بنیادی علامت ہے مریض شرم کے مارے بتاتا نہیں۔

نوٹ: بعض دفعہ ایک چھوٹی سی علامت سے دوا پہچانی جاتی ہے مثلاً پیشاب پر کنٹرول نہ ہو۔ جکڑن اور Constrictionکا احساس وغیرہ۔پیشاب پر کنٹرول نہ ہو تو کالی کارب، کالی فاس وغیرہ کی علامتیں ہوں تو تمام بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے۔۔ جکڑن کی علامت ہو تو یعنی جسم میں جگہ جگہ جکڑن کی علامت ہو تو کیکٹس بہت ساری بیماریوں کو ٹھیک کر دے گا۔

دوا اثر نہ کرے: تو غور کریں کہ کیا وجہ ہے مثلاً بعض اوقات اعصابی کمزوری کی وجہ سے جسم ردعمل نہیں دکھاتا اس لئے Kali Phos، Cocculusاور Zinc Metوغیرہ دے سکتے ہیں۔

نوٹ(V.Imp): چونکہ فی زمانہ اعصاب پر بہت بوجھ ہے اس لئے اعصاب کو طاقت پہلے دیں تاکہ جسم دوا کا ردعمل دکھائے۔

نوٹ:علاج شروع کرنے سے پہلے عموماً نکس وامیکا دیا جاتا ہے لیکن ہر مریض کوایکونائٹ CMطاقت میں دینا بھی بہت ضروری ہے ۔فلاسفی کیلئے الرجی دیکھیں۔

نوٹ: کسی دوا کی چار پانچ بنیادی علامات میں سے 2-3بھی ہوں تو دوا کام کر جاتی ہے اصولاً۔

نوٹ: اگر ایک دوا فائدہ دے کر رک جائے تو دو امکانات ہیں نمبر1پوٹینسی بڑھائیں اگر پھر فائدہ دے کر رک جائے تو پھر طاقت بڑھائیں اگر پھر بھی فائدہ نہ ہوپورا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گہری بیماری مثلاً سورا، سائیکوسس اس دواکے اثر کو کم کر رہی ہے اس لئے Sulfur، Syphilinum، Medorrhinum، Thuja وغیرہ دینے سے فائدہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے لیکن شروع میں نئے ڈاکٹر کیلئے یہ پہچان مشکل ہے پھر بھی حوصلہ نہیں ہارنا چاہیئے۔ (بعض اوقات پوٹینسی کم کرنے سے بھی فائدہ ہو جاتا ہے)

یادداشت: بہت عمدہ ہونی چاہیئے ہومیوپیتھ ڈاکٹر کی۔ ورنہ وقت پر دوا ڈھونڈنا نری سردردی ہے لوگوں کی سردردی دور کرنے کی کوشش میں خود کو سردرد ہو جائے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ تمام اہم باتیں مختلف عنوانات کے تحت لکھ لی جائیں(میری اگلی کوشش بھی یہی ہوگی لیکن مجھے سمجھدار ڈاکٹروں کی مدد کی ضرورت ہو گی)

High Potency:مثلاً CMاگر پہلی خوراک فائدہ نہ دے تو دوسری خوراک سے زیادہ نہ دیں۔ دیکھیں Lac Def V.Imp۔

Infections:تو عموماً ہر انسان میں ہوتے ہیں تھوڑے بہت اس لئے اگر علاج سے پہلے انفیکشن دور کیا جائے تو علاج آسان ہو گا 6xوالا نسخہ ٹرائی کریں عموماً سرد مزاجوں میں اور گرم کیلئے Sulfurوغیرہ دیں۔(6xمیں انفیکشن کا عمومی نسخہ یہ ہے۔ کلکیریا فاس+فیرم فاس+کلکیریا فلور+کالی میور+کالی فاس+سلیشیا)

نوٹ(V.Imp): Modalitiesپر عبور ہونا بھی ازبس ضروری ہے اس سے بھی پہچان آسان ہوجاتی ہے دوا کی اور بیماری کی۔

V.Impنیند:کی تکالیف کی بنیاد پر تشخیص آسان ہو سکتی ہے تفصیل کا پتہ کریں۔

ردعمل:زنکم میں بھی بیماریاں دب کر مستقل بیمار کر دیتی ہیں جبکہ Camphorاور Veratrum Alb وغیرہ میں فوری نوعیت کی یعنی Acute بیماریاں دب کرایمرجنسی کی حالتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔

ہڈی بڑھنے:کی بیماری میں دوا لمبا عرصہ کھانا پڑتی ہے لیکن دوا صحیح ہونا شرط ہے۔ دوا بدلنے سے نقصان ہو گا۔ ہڈی دیکھیں یعنی ہڈی بڑھنا۔

نوٹ: جان لیوا بیماریوں میں اونچی طاقت یعنی CMمیں بھی بعض ڈاکٹر دیتے چلے جاتے ہیں گھنٹہ دو گھنٹہ کے وقفہ سے اور جب اثر شروع ہو جائے یعنی ردعمل ہو جائے تو دوا کی دوہرائی ختم کرنا ضروری ہوجاتاہے۔

نوٹ:Nosodes ایسی مشکل اور اُلجھی بیماریوں میں دیں جن کا بظاہر کوئی حل نہ نظر آئے مثلاً SARوغیرہ قسم کی بیماریوں میں نوسوڈ سے کام لیں۔

نوٹ:بعض اوقات کسی ایک مرض کی دوا دی جاتی ہے لیکن مزید فوائد سامنے آ جاتے ہیں مثلاً گریفائٹس دیا گیا کسی بیماری کیلئے اور ساتھ پرانا گنجاپن ٹھیک ہو گیا دراصل یہ مریض Graphitesکا مزاجی مریض تھا۔

V.Impخوف:عام ہے ان دنوں فی زمانہ اس لئے خوف کی دوائیں دیں مثلاً Aconite، Aurum Met، Opiumہر بیماری کے لئے دیں اور دوران علاج دیں بار بار کیونکہ بیماریوں کا خوف بیماری ٹھیک نہیں ہونے دیتا CMطاقت میں دیں۔

نوٹ:ایک بچے کوبخار کی کرانک شکایت تھی کوئی دوا وقتی فائدے کے سوا کام نہیں کر رہی تھی۔ گہری چھان بین کے بعد پتہ چلا کہ آپریشن کے بعد ڈر گیا تھا وہ خوف اس کے رگ و ریشہ میں اتر گیا تھا اور بار بار بخار کے حملے ہوتے تھے اُسے اوپیمCMطاقت کی ایک ہی خوراک نے مکمل شفا بخش دی۔

نوٹ: ہومیوپیتھی میں بہت گہرے اثرات ہیں( کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ہر چیز مہیاکر دی ہے اپنے جسم کی حفاظت کیلئے) اور انسانی جسم کے نظام حیات یا نظام دفاع سے کام لینا ہومیوپیتھی ہے۔ہومیوپیتھی دوا صرف پیغام دیتی ہے جسم کو کہ اس چیز (بیماری یا علامت) کے خلاف ردعمل دکھاؤاورردعمل کے دوران ہر چیز ممکن ہے یعنی نہ صرف اس بیماری پر دفاع قبضہ کر لے گا بلکہ بہت سی دوسری تکالیف پر بھی قبضہ کر لے گا انسانی جسم کا نظام دفاع۔ لیکن جسم کے اندر دوران ردعمل کیا کیا حرکات یا Chemical Changesہوتی ہیں ان کا تاحال کسی سائنس کو علم نہیں ہو سکا کہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے مثلاً اگر جسم کے اندر سوئی چلی گئی ہو تو ہومیوپیتھی دوا کے دینے کے بعد جسم جو کاروائی کرتا ہے اس کے نتیجہ میں سوئی اندر ہی اندر سفر کر کے جسم کے کسی حصہ سے باہر آ جاتی ہے بغیر کوئی اندرونی نقصان کئے یا تکلیف پہنچائے۔ اللہ اکبر۔ اور اگر کوئی چیز نکل نہ سکے مثلاً گردہ پر کوئی Tumorبن جائے کسی چیز کا تو وہ ہومیوپیتھک دواسے پگھل کر بہہ جائے گااور یہ ایسے حقائق ہیں جو ہوتے ہیں دن رات ہومیوپیتھی کی دنیا میں۔ جو ہزاروں لاکھوں نے دیکھے ہیں۔

نوٹ:اس لئے مریضوں سے پوچھیں کہ کیا پہلے کوئی خطرناک بیماری ہوئی تھی جس کا علاج ایلوپیتھک دواؤں سے ہوا تھا یا کسی اور تیز دوا سے یا کسی وجہ سے وہ خطرناک بیماری خودبخود دب گئی تھی۔اور اگر کوئی بیماری دریافت ہوا تو وہی دوا جو پہلے دی جانی چاہیئے تھی اب دیں۔

نوٹ: خوف دور کر یں تو بہت سی بیماریاں ٹھیک ہونگیں یا دوسری دوائیں کام کرنے لگیں گی۔ خوف دور کریں V.Imp۔

نوٹ: اگر کوئی عضو کاٹ کر الگ بھی کر دیا گیا ہو کسی بیماری کی وجہ سے مثلاً رحم نکال دیا گیا ہو کینسر وغیرہ کی وجہ سے اور بیماری یا بیماری کی علامات باقی ہوں تو انہی علامات کی دوا دیں گے جو رحم نکالنے سے پہلے تھیں اور پہلے اس دوا سے علاج نہ کیا ہو۔ اسی طرح ٹائیفائیڈ کے پرانے بداثرات کے لئے Typhoidinumدیں گے خواہ پہلے یعنی شروع میں ٹائیفاٹیڈ کا علاج Typhoidinumسے نہ ہواہو۔اگر دیر ہو گئی ہو یعنی پرانا کیس ہو تو زیادہ اونچی طاقت دیں گے تو بداثرات ٹھیک ہو جائیں گے۔

نوٹ: ہومیوپیتھی چونکہ علامات کا علاج کرتی ہے بیماریوں کے مروجہ نام کا علاج نہیں کرتی اس لئے ہومیوپیتھی انہونی باتیں کر کے دکھا دیتی ہے مثلاً شدید کمزوری اور شدید بے چینی اگر کسی بھی بیماری میں ہو تو Arsenic+Pyroginum 200یا 1000طاقت میں دیں خواہ نزلہ زکام میں یہ علامات ہوں یا کسی اور مرض میں مریض کی یہ حالت ہو جائے۔ دوسرے ڈاکٹر اس مرض کا جو بھی نام رکھیں ہمیں پرواہ نہیں ہم تو مریض کی ذہنی اور نظر آنے والی علامات پر نظر رکھیں گے۔دراصل اس شدید کمزوری اور شدید بے چینی کی بنیاد بھی اندر چھپا ہوا انفیکشن ہے یہ انفیکشن کی کمزوری ہے یعنی Septic Weaknessہے۔اول تو شروع ہی میں بدبو کی علامات ہوں گی ورنہ کچھ دنوں بعد بدبو کی علامات کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ دراصل جسم کے اندر جگہ جگہ چھپی ہوئیSeptic Pocketsبنی ہوتی ہیں انہیں Subjective Symptomsبھی کہا جاتا ہے۔

نوٹ(V.Imp): کرانک اور گہری بیماریوں کی علامات گہر ی اور کرانک دواؤں میں ڈھونڈیں ۔ پائروجینم دیکھیں V.Impمثلاً پرسوتی بخار Septic Fever، Infections کے بعد گردہ متاثر ہو یا کوئی بیماری لگ جائے تو Pyroginumدیں اور دیکھیں۔

نوٹ: کسی ایلوپیتھک دوا یا کسی اور دوا سے اگر کوئی بیماری پیداہو تو اسی سے پوٹینسی بنا کر علاج کریں یعنی Isopathyکریں 3 0طاقت سے شروع کریں اور اونچا جائیں ۔ مریض کی حالت یعنی علامات کا علاج کریں یہ سب سے پہلا اور آخری اصول ہے۔

نوٹ: جب کوئی درد روزمرہ کی دواؤں سے قابو میں نہ آئے یا ایسی بیماری جو بعض دواؤں کی طرف راہنمائی کرتی ہو لیکن فائدہ نہ ہوتو اس صورت میں Infectionکی وہ دوائیں دیں جو بظاہر علامات سے نہ ملتی ہوں تو وہ بہت مؤثر ہوتی ہیں مثلاً دانت کے گہرے درد میں بعض اوقات ہڈی میں Infectionہوتا ہے اس کے لئے Sulfur چوٹی کی دوا ہے 1000طاقت میں دیں ساتھ پائروجینم ملا سکتے ہیں کبھی آرنیکا کبھی سورائینم ورنہ ہیپر سلف حالانکہ پہلے روٹین کی دوائیں مثلاً Kreosote، Kali Bich، Colocynthوغیرہ نے وقتی فائدہ دیا ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں فاسفورس بھی بڑی مفید ہے۔فاسفورس میں چونکہ ہڈی کا تعلق ہے اس لئے اس کی پہچان یہ ہے کہ کھانا کھانے سے درد بڑھ جاتا ہے۔اور کچھ دیر تک رہتا بھی ہے۔

کبھی دوا دینے سے:جو اصل بیماری کی تونہ تھی بلکہ ملتی جلتی تھی بیماری سے نتیجتاً اصل بیماری نظر آجاتی ہے مثلاً پیشاب زیادہ آنے لگتا ہے یا پیٹ درد ہوتا ہے یا کچھ اور بیماری اُبھرتی ہے اب اس نئی بیماری کی علامات دیکھ کر علاج کریں مثلاً Causticum دینے سے زیادہ پیشاب آنا شروع ہو گیا حالانکہ کاسٹیکم فالج کے لئے دیا گیا تھا فالج کو تو فائدہ نہ ہوا بلکہ گردہ کی بیماری کا پتہ چل گیا۔

نوٹ:اس کیس پر بھی غور کریں کہ مثلاً لمبی پریشانی سے آواز بند ہو گئی او رکوئی وجہ سمجھ نہ آئی نہ سردی لگی نہ خوف، اسے کاسٹیکم دیاگیا تو ایک بوڑھا مریض ٹھیک ہو گیا (پریشانیاں بھی خوف ہیں)

ابتدا: ہی میں دوا دیں مرض کا آخری حد تک جانا تلاش نہ کریں۔ Manganumدیکھیں

V.Impمزاج:بہت اہم ہے مرض کا یا دوا کا مثلاً Baptisia Septicحالتوں کی دوا ہے اب اگر یہ Septicحالت پرسوتی بخار کیوجہ سے یا زیادہ شراب پینے کی وجہ سے ہے یا انتڑیوں کا Infectionہے یا ٹائیفائیڈ بخار ہے یا کوئی بھی بخار ہے یا کوئی زہریلی گیس سونگھنا وجہ ہے یا زہر پینا وجہ ہے الغرض ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ مریض کی حالت اور علامات یا مزاج کیا ہے وجہ کچھ بھی ہو معلوم ہے یا نامعلوم۔ مریض نظر آ رہا ہے دوا کی علامات کے لحاظ سے تو وہی اس کی دوا ہے۔ Baptisiaدیکھیں Septicحالت کو سمجھنے کیلئے۔

اچانک بخار:ہر وہ بخار جو اچانک آتا ہے اور تیزی سے بڑھتا جاتا ہے اس کا علاج Aconiteہے اور قابل توجہ یہ بات ہے کہ اس بخار کی کوئی وجہ معلوم نہیں۔ایسے خطرناک اور اونچے بخار کیلئے بہتر یہ ہے Aconite CMطاقت میں دیں عموماًصرف ایکونائٹ کافی ہو گا اگر بیماری قبضہ نہ کر چکی ہو جسم پر اس لئے بخار شروع ہوتے ہی دیں( بعض اوقات اس قسم کے خطرناک بخار کی وبا پھیل جاتی ہے)۔

نوٹ:اگر Aconite CMنہ ملے تو 1000یا کم دیں لیکن بار بار دوہرائیں۔

نوٹ: Aconite CMبھی بار بار دوہرا سکتے ہیں بشرطیکہ بخار قابو نہ آ رہا ہو۔ ردعمل پیدا کرنے کے لئے شروع میں تھوڑے وقفہ سے بھی دوہرا سکتے ہیں مثلاً 2-3گھنٹہ بعد جب ردعمل پیدا ہو جائے اور بخار یا بیماری کم ہونے لگے تو پھر دوا دوہرانا غلط ہے کیونکہ پہلے سے پیدا شدہ ردعمل کے خلاف ایک اور ردعمل شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے اگر ایک دو خوراکوں کے بعد ردعمل ظاہر ہو جائے تو انتظار کرنا لازم ہے ( دواکی پہلی خوراک کے بعد 2-3گھنٹے انتظار کریں اگر فائدہ نظر نہ آئے تو CMطاقت میں ایک اور خوراک دیں )۔

امید ہے:Aconite CMکی دوخوراکیں 12-14گھنٹہ کے اندر کچھ اثر دکھائیں گی اس لئے اگر اثر نظر آ جائے تو پھر مزید خوراک نہ دیں ہاں اگر اثر رک جائے تو ایک اور تیسری خوراک دیں CMکی اگر پھر بھی پورااثر نہ ہو (یعنی بیماری/بخار قابو میں نہ آئے) تو Sulfur CMکی ایک خوراک دیں اور Aconite والا رویہ اختیار کریں۔

نوٹ:اگر پہلے مثلاً Aconite 1000طاقت میں دوہرائی گئی ہے تو پھر Sulfurبھی 1000طاقت میں دیں یا دوہرائیں اور اگر سلفر کام نہ کرے تو اونچاCMتک بھی جائیں ۔

نوٹ: اگر Sulfur CMبھی کام نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بخار Aconiteاور Sulfur کے دائرہ کار سے آگے جا چکا ہے۔ اس صورت میں خطرہ ہے کہ Infection/Septicچونکہ اتنازیادہ بڑھ چکا ہے کہ جریان خون ہو سکتا ہے (دراصل تعفن جو بیکٹیریا وغیرہ سے پیدا ہوتا ہے اس کے نتیجہ میں اندر بیماری آخری حدوں کو چھو کر اندرونی میوکس ممبرین کا بریک ڈاؤن کرا دیتی ہے اور نہ رکنے والا جریان خون ہو جاتا ہے)۔

اب:اگلی بات یہ ہے کہ ایسی (مندرجہ بالا) Infectionجو بہت بڑھ چکی ہو اور بہت گہری ہو اور معلوم بھی نہ ہو کہ کیا وجہ ہے اس کا علاج یا توڑ Siliceaہے CMطاقت میں دیں۔

نوٹ:اور لطف کی بات یہ ہے کہ Silicea CM/1000تیز بخار، نزلہ زکام، فلو میں بھی عموماً کام آتی ہے۔ تیز بخار جو کسی اور دوا سے قابو نہیں آتا دراصل اس بخار/انفلوئنزہ میں بھی گہرا Infectionہی ہوتا ہے اور Silicea CMکی ایک ہی خوراک 24گھنٹہ میں ایسے شدید Infectionکو ختم کر دیتی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ایک ایسے مریض کو جسے پہلے Silicea CMدیا گیا تھا فلو کے شدید Infectionمیں اور مکمل آرام آ گیا تھا جب دوبارہ حملہ ہوا تو پھر بھی دوسری دواؤں سے فائدہ نہ ہوا لیکن جب پھر Silicea CMکی ایک خوراک دی تو دیکھتے ہی دیکھتے بیماری جڑھ سے نکل گئی۔

نوٹ:اس لئے جہاں بہت تیز بخار(Infection) ہواور مریض موت کے کنارے کھڑا ہو ایک دو دوسری دوائیں دے کر جلد ہی Silicea CMدیں (مگر روزمرہ کے بخار میں Silicea CMنہ دیں ویسے Siliceaکا انٹی ڈوٹ ہر وقت تیار رکھنا چاہیئے کہ اگر سلیشیا زیادہ زور مارے تو Antidoteہو سکے) اکیلی سلیشیا بھی کافی ہو سکتی ہے۔ Aidsمیں بھی اسی لئے کام آتی ہے بعض اوقات دوہرانی بھی پڑتی ہے اگر کام کرے سلیشیا تو بہت گہرا اور بہت طاقتور اثر رکھتی ہے اور خطر ناک ترین Infectionکو سنبھال لیتی ہے ۔

نوٹ:بعض اوقات Infection اوربخار وغیرہ تو ٹھیک ہو جاتا ہے مثلاً دانت دردمیں اور پھر بھی تکلیف رہتی ہے لیکن یہ ثانوی تکلیف ہوتی ہے اب علامات دیکھیں مثلاً گرم پانی سے یا سرد پانی سے تکلیف بڑھتی ہے اس علامت کی دوا دیں گے کیونکہ بخار وغیرہ ختم ہو گیا ہے صرف درد باقی ہے ۔ دانت دیکھیں Impاسی طرح دوسری تکالیف پر غور کریں کہ انفیکشن کے بعد اب کیا باقی ہے۔

نوٹ:بعض اوقات Siliceaاکیلی کام نہیں بھی کرتی اس کا حل یہ ہے کہ اگر Silicea CMناکام ہو تو Sulfur CMدے کر دوبارہ Silicea CMدیدیں تو Siliceaکا م کرنا شروع کر دے گی۔Aidsدیکھیں

نوٹ: یہ کہنا ہے ہی غلط کہ ایک دوا سے سارے کام ہو سکتے ہیں مثلاً چوٹوں میں جو Arnicaکام کرتی ہے کوئی دوا نہیں کرتی۔ Infectionمیں اکیلی سلفر کام نہیں کرتی Siliceaیا Hepar Sulfدینی پڑتی ہے۔

نوٹ: سلفر سلیشیا کا یہ مندرجہ بالا جوڑ بڑا یقینی ہے کیونکہ Sulfurاندرونی روکیں دور کرنے کی چوٹی کی دوا ہے Silicea اس لئے کام نہیں کر سکتا کہ اندرون جسم کوئی گرہ ہے سلفر اس گرہ کو کھول دیتی ہے اور وہی سلیشیا جو کام نہیں کر رہا تھا سلفر کے بعد کام شروع کر دیتا ہے خواہ یہ Infectionایڈز کا ہو یا کسی اور بیماری کا۔ اگر Siliceaبھی ناکام ہو جائے تو Hepar Sulfدینی پڑتی ہے۔

نوٹ: اگر Siliceaاور Sulfurبھی کام نہ کرے تو اب پورا خطرہ ہے کہ جریان خون ہو گا اس لئے اب Ferr Phos CMمیں دیں (ملیریا بخار میں بھی Ferr Phosدی جاتی ہے) اور وہ اس طرح کہ اگر فیرم فاس چھوٹی طاقت میں کچھ فائدہ دے تو پھر CMمیں دی جاتی ہے)چونکہ Ferr Phosبخار اور جریان خون دونوں بیماریوں کی دوا ہے اس لئے امید ہے کہ بخار بھی کنٹرول ہو گا اور جریان خون بھی نہ ہو گا۔

نوٹ: Ferr Phosتو ویسے بھی آغاز بخار میں دی جاتی ہے Aconiteکی طرح۔ لیکن فیرم فاس بہت زیادہ گہرا اور لمبا اثر رکھنے والی دوا ہے بائیوکیمک شکل میں دی جاتی ہے۔

نوٹ: اگر Ferr Phos CMبھی کام نہ کرے تو پھر Phosphorusدیں گے جو بڑی گہری بیماریوں کی دوا ہے اور یہ بھی جریان خون کا رجحان رکھتی ہے (Siliceaاور Phosphorusکو ادل بدل بھی کرتے ہیں بعض اوقات) فاسفورس 30طاقت سے شروع کریں اور اونچا جائیں۔

نوٹ: اصولاً اگر Infectiousیا Septicبخاروں کے دوران یا اور بیماریوں میں بھی میں کسی اور دوا کی ضرورت پڑے بطور Emergency تو دیں کیونکہ مرض دوران علاج رخ بدل لیا کرتے ہیں۔اس لئے علامات کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی دوا دینی پڑتی ہے۔پھر اصل علاج کی طرف آ جائیں۔

نوٹ:نہایت خطرناک Infectionکی ایک مثال یہ ہے کہ ایک احمدی کو کسی بدبخت نے نہایت کمینگی سے ایک کیک میں طرح طرح کی نجاستیں ملا کر کھلادیا اس کو یہ نسخہ دیا گیاجس سے اسے مکمل شفا ہو گئی۔

Psorinum CM: (یہ دوا خود بھی گندے مادوں سے بنتی ہے) پہلے دیا گیا۔

Bacillinum CM: پھر اگلے ماہ دیاگیا یعنی ایک ماہ کے وقفہ سے۔

Pyroginum CM:اگلے ماہ دیا گیا۔

نوٹ: یہ تینوں دوائیں تعفنات کی دوائیں ہیں ان سے سب بداثرات مٹ گئے۔

نوٹ: دراصل مندرجہ بالا مریض کا تمام جسم متاثر ہوا تھا انتڑیاں، گردے، پھیپھڑے، تمام غدود بھی نتیجتاً وہ سوکھ کر کانٹا ہو گیا اور چلتی پھرتی لاش بن گیا۔

نوٹ: ہومیوپیتھک دوا دینے سے اگر پہلے ردعمل سے اگلا ردعمل کم نہ ہوتو یہ غلط دوا ہے اسلئے دوا بدلیں ۔

دوران خون :کمزور ہو تو جسم کے ہر حصہ پر بُرا اثر پڑتا ہے ہاضمہ کمزور ہوجاتا ہے ٹھنڈلگتی ہے ۔سب سے پہلے دوران خون ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک بیماری کے نام پر دوا نہیں ہوتی۔مریض کی مجموعی حالت پر نظر ہونی چاہیئے۔ اسی لئے اگر اعصابی کمزوری ہو تو اعصابی کمزور ی دور کریں کیونکہ اعصابی کمزوری سے بھی طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

نوٹ:ماہواری رک جانے سے درد معدہ، انتڑیوں وغیرہ کی سوزش ہوتی ہے اس سے پتہ چلا کہ صرف سرسری نظر سے مطالعہ کرکے دوا نہیں دی جاسکتی۔ مریض بھی توجہ سے اپنی علامات بتائیں مثلاً صرف یہ نہ بتائیں کہ پیٹ درد ہے یہ بھی بتائے مریضہ کے مجھے ماہواری ٹھیک نہیں آتی، کم ہے، زیادہ ہے تو ڈاکٹر کو بھی آسانی ہو گی ویسے ہوشیار ڈاکٹر ہر طرف نظر رکھے گا۔ اگر مریض بھی اپنی علامات پر غور کریں اور ڈاکٹر کو بتائیں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ بعض اوقات نہ تو ڈاکٹر زیادہ تجربہ کار ہوتا ہے اور نہ ہروقت اس کا ذہن ہر پہلو پر نظر رکھ سکتا ہے اس لئے مریض بھی حصہ دار بنیں علاج میں تو دونوں کو آسانی ہو گی مثلاً پھلپھلی ورم ہو جگہ جگہ ماہواری سے پہلے تو اصولاً Apocynumدیں گے پتہ چلا کہ بعض جگہ علامات واضح ہوتی ہیں وجہ کچھ بھی ہو دوا دینے سے وجہ سامنے آجائے گی مثلاًApocynumدینے سے اخراجات چل پڑیں گے اور ورم ٹھیک ہو جائے گا ماہواری کے راستہ پانی بھی نکل جائے گا۔

نوٹ: جب پہ در پہ دوائیں ناکام ہورہی ہوں تو جلد دو باتیں دل میں آنی چاہئیں نمبر1 ایسی دوائیں جو روکیں دور کرنے والی دوائیں یعنی گہرے اثر والی مثلاًSulfur، Psorinum، Merc Solاور Medorrhinum، Bacillinum، Syphilinumوغیرہ( مثلاً بونے بچوں پر کوئی دوا اثر نہیں کررہی تھی تو جب ان کو Syphilinumدی گئی تو دوسری دوائیں کام کرنے لگیں)۔ قد دیکھیں V.Imp۔

نوٹ: ہومیوپیتھک دوائیں جینزمیں بھی تبدیلیاں کرنے کی اہل ہیں مثلاً پیدائشی چھوٹے قد جن میں جینز کا بھی دخل ہوتا ہے اسے بھی ٹھیک کر دیا۔ جینز کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی میں کوئی جینز Dominentہے تو وہی بڑھے گا مثلاً خاوند کی آنکھیں براؤن ہیں اور براؤن جینز Dominentہے تو اگر بیوی میں نیلی آنکھیں ہیں اور نیلے جینز Dominentنہیں تو خاوند کا جینز غالب آ کر براؤن آنکھوں والا بچہ پیدا کرے گا نیلے جینز چونکہ کمزور ہیں یعنی Recessiveہیں اس لئے غالب نہیں آتے۔ ہومیوپیتھک دوائیں Recessiveجینز کو بھی طاقتور بنا کر Dominentکر دیتی ہیں تحقیق طلب امر ہے Testکروا کے علاج کریں۔مثلاً Diphtherinumدینے سے دماغی جینز پیدا ہو گیا جو تحقیق شدہ بات ہے ایڈز میں بھی یہ بات متحقق ہے۔ایڈز دیکھیں

نوٹ: ایک فرانس کے نوبل انعام یافتہ نے ( جو غالباً کیمسٹری میں نوبل لارئیٹ تھا) ایک ہومیوپیتھ ڈاکٹر سے مل کر جو تجربات کئے اس سے یہ بات ثابت ہوئی یقینی طور پر کہ ہومیوپیتھک دواؤں سے خون کے خلیوں پرنمایاں اثر پڑا ہے اور تبدیلی ہوئی ، صرف خیالی بات نہیں اس کے اس کام پر ایلوپیتھی دنیا میں بڑی مخالفت ہوئی لیکن وہ ڈاکٹر اپنے کام پر مطمئن رہا کیونکہ اس نے سائنسی طور پر ثابت کر دیا کہ خون کے خلیوں میں حقیقتاً تبدیلیاں ہوئی ہیں اسلئے ہومیوپیتھ ڈاکٹر اس پر سائنسی بنیادوں پرتجربات کریں ۔ بے شک فلسفہ سمجھ نہ آئے کہ کیوں یہ سب تبدیلیاں ہوتی ہیں تاکہ ایلوپیتھی بھی ہومیوپیتھی سے استفادہ کر سکے۔اس فرانسیسی ڈاکٹر نے یہ ثابت کیا کہ جسم کے نظامِ دفاع میں تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں قطعی طور پر ہومیوپیتھک دوا کے بعد جس کی اور کوئی وجہ نہیں صرف ہومیوپیتھک دوا سے یہ ہوا ہے۔

Dawn Syndrom:پیدائشی Geneticبیماری ہے۔ بچوں کا باب دیکھیں۔

نوٹ: ہومیوپیتھی یادداشت کانام ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ایک دفعہ ہوجائے اس کو کوئی کالعدم نہیں کر سکتا جو تم نے دنیا میں کیا ہے اس کی گواہیاں تمہارا جسم چمڑا، ہاتھ وغیرہ دیں گے۔ انسان بھی Finger Printلیتا ہے۔ ہومیوپیتھک دوا میں بھی اصل کی ایک یادداشت رہ جاتی ہے یا Printکا نشان رہ جاتا ہے جو صرف جسم کا دفاع محسوس کرتا ہے یعنی روح کی لطافت ہومیوپیتھی کے پیغام کو سمجھتی ہے اللہ اکبر۔ ثابت ہوا کہ لطیف سے لطیف تر چیز زیادہ طاقتور ہوتی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کی لطافت کا تصور ہی ناممکن ہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس لئے ہومیوپیتھی روحانی نظام ہے جو Geneticتبدیلی کر سکتا ہے۔

Hormones:اور Steroidsکے بداثرات یا بیماریوں کا علاج انہی سے ہومیوپیتھی پوٹینسی بنا کر کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ بچوں کا باب دیکھیں

نوٹ: ایک ہی بیماری کی کئی دوائیں ہیں اس لئے ذہن میں ہر دوا کی علامات مستحضر رکھیں کیونکہ زیادہ سوالات بھی نہیں کئے جاسکتے۔ اسلئے اپنے ذہن کی تربیت کرے ڈاکٹر مثلاً موٹا بچہ ہے تو اس سے سر پر پسینہ پوچھیں اگر آنکھوں کے نچلے حصے پھولے ہوں زردرنگ بُرا حال ہو تو China Arsدوا ہے اگر پیشاب کی علامت بتائے تو سارسپریلا ہے بعض اوقات موٹی موٹی علامات مریض خود بتا دیتا ہے۔

نوٹ:مریضوں کو یہ ہدایات بھی دینا ضروری ہیں کہ کن بنیادوں پر ہومیوپیتھک دوا لینا آسان ہے۔

(اس کیلئے ایک علیحدہ باب مختص کیا جا رہا ہے)۔

نوٹ: ہر بیماری کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ پروونگ سے اسکی دوا ڈھونڈی جائے بلکہ مٹیریا میڈیکا جو Developہو رہا ہے اس میں بہت دخل تجربات کا بھی ہے مثلاً Aurum Metکی Provingمیں یہ بات نوٹ نہیں کی گئی کہ فوطے اوپر چڑھ جانے کی دوا ہے یا آرم میٹ کے زہر سے یہ بیماری پیدا ہوئی۔ بلکہ ہوتا یہ ہے کہ مثلاً آرم میٹ کسی اور مرض کے لئے دیا گیا تو ساتھ فوطے اوپر چڑھنے کی بیماری بھی دور ہو گئی اور جب اس ڈاکٹر نے صرف اس ہی بیماری کے لئے دوا دی تو پھر بھی فائدہ ہوتا رہا بار بار نتیجتاً Aurum Metکی علامات میں یہ علامت بھی آ گئی مٹیریا میڈیکا میں کہ بچوں کے جنسی اعضاء اگر نیچے نہ اُتریں تو آرم میٹ مفید ہے وغیرہ وغیرہ اسی طرح اور بھی بہت سے علاج دریافت ہوئے اللہ اکبر۔ بے شک بعض امراض دراصل دوا کے دائرے میں ہوتے ہیں اور مریض ذکر نہیں کرتا جب ان امراض کا آرام آتا ہے تو بتاتا ہے کہ فلاں فلاں مرض بھی ٹھیک ہو گیا ہے۔مثلاً خاکسار نے ایک مریض کو معدے میں جلن کیلئے رسٹاکس دی تو اس کا ہرنیا بھی ٹھیک ہو گیا۔

مزاج:کا جہاں تک تعلق ہے کہ نرم مزاج ہے Pulsatilla۔ تو پروونگ میں یہ مزاج نوٹ نہیں ہوا بلکہ بعد میں دوران علاج یہ نوٹ کیا گیا بار بار کہ نرم مزاج مریضوں پر زیادہ مؤثر ہے اسلئے لکیر کے فقیر نہ بنیں۔ بعض اور بھی معروف اور مشہور دواؤں کے مزاج پروونگ میں نہیں آئے۔

نوٹ:بعض اوقات کتابوں کی علامات بڑی مشکلات پیداکرتی ہے اس کا ایک حل نسخہ دینا بھی ہے ایک نسخہ ناکام ہوتو دوسرا دیں کچھ ہنگامی دوائیں ذہن میں رکھیں مثلاً دمہ کی، پیٹ درد کی وغیرہ اور ذہن میں وجوہات پر نظر رکھیں اور پوچھیں مریض سے کچھ باتیں اور پھر نسخہ بنائیں خود احتیاط سے۔ٹھنڈے مریضوں کو ٹھنڈی دواؤں کے Combinationدیں اور گرم مریضوں کو گرم نسخہ جات دیں۔ ورنہ علامات خلط ملط ہو کر علاج میں مشکلات پیدا کر دیتی ہیں (۔ ایک انداز فکر یہ بھی ہے کہ کیوں نہ پہلے گرم مریض کو ٹھنڈا یاٹھنڈے کو گرم کر لیا جائے اور پھر علاج کیا جائے)

نوٹ: ایک اور نقطہ نوٹ کریں کہ مثلاً Kali Bichیا کسی بھی دوسری دوا کا مریض وقت پر اصل دوا نہ لے سکا اور آخر اس کی حالت Septicہو گئی مثلاKali Bichکا لیسدار نزلہ بگڑتے بگڑتے اتنا خطرناک ہوا کہ Merc Sol کی شدید بدبوپیدا ہو گئی۔ اب اگر لیسدار نزلہ ہی مدنظر رہے اور کوئی اناڑی سطحی نظر سے جائزہ لے کر صرف لیسدار رطوبات دیکھ کر Kali Bichدے تو کچھ فائدہ نہ ہوگا ہاں پہلے Merc Solدے کر شدید خطرناک Septicحالت دور کرے تو یہی Kali Bichتیر بہدف ہو گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ تھوڑی بہت بدبو کالی بائی میں بھی ہے۔(یہ خاکسار کا ذاتی تجربہ بھی ہے)۔

نوٹ: جب تک تکلیف یا بیماری موجود ہے دوا دوہرانے میں کوئی حرج نہیں ہاں افاقہ ہو تو کم کر دیں دوہرائی مثلاً 3دفعہ روزانہ کی بجائے 2دفعہ یا ایک دفعہ دیں یعنی علامات ہوں تو ضرور دوا دیں۔

نوٹ: بعض بیماریاں اس طرح کی ہوتی ہیں کہ جن میں لگاتار ماہ دو ماہ دوا دینی پڑتی ہے کیونکہ دوا جلدی اثر نہیں کرتی ڈاکٹر کو پتہ ہوتا ہے مثلاً جوڑوں کے درد، دمہ وغیرہ اور ان بیماریوں میں بھی جب اثر شروع ہو جائے تو دوا کم کر دیں یعنی کم مرتبہ دیں لیکن جب تک اثر نہ ہو افاقہ نہ ہو دوا کم نہ کریں مکمل آرام آنے پر کبھی کبھی دیں۔

نوٹ: لمبا عرصہ بلا وجہ دوا دینے سے یعنی بغیر بیماری کے دوا دینے سے اصل دوا کی(اصل زہر کی) علامات ظاہر ہو جاتی ہیں انسان بیمار ہو جاتاہے۔

نوٹ: چوٹی کے ڈاکٹروں کا بھی یہی تجربہ ہے کہ Constitutionalدوائیں صحت کی حالت میں اونچی طاقت میں دیں، وقتی تکالیف میں تو مزاجی دوا ہرگز نہ دیں مثلاً Kali Carb۔

نوٹ: ہومیوپیتھک دوا کے ذریعے ٹھیک ردعمل پیدا کرنا بہت ضروری ہے صرف ردعمل پیدا کرنا یعنی جسم میں ایک ہلچل پیدا کردینا کافی نہیں بلکہ نقصان دہ ہے دوا سے کچھ دیر طوفان تو آئے گالیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ صحیح ردعمل بیماری ختم کر دیتا ہے۔

نوٹ: Calc Phos+Ferr Phos+Kali Phosنہ صرف خون بڑھانے کا نسخہ ہے بلکہ خون بہنے کو روکنے کی بھی دوا ہے۔ دواؤں کے اندرونی خواص پر نظر رکھیں صرف نسخہ نہ پڑھیں۔

نوٹ:سر کی چوٹ کے نتیجہ میں اندھا پن، فالج اور نہ جانے کیا کیا خرابیاں رونما ہوتی ہیں ہم سر کی چوٹ کا نسخہ دیتے ہیں نتیجتاً ساتھ بہت سی خرابیاں دور ہوجاتی ہیں جو دراصل سر کی چوٹ کی وجہ سے تھیں اگر کوئی سر کی چوٹ کو جانتا ہو تو ایک ہی نسخہ سے بہت سی بیماریاں دور کر دے گا ایک ایک علامت کا علاج نہیں ہوتا۔ اصل بات پر نظر رکھیں۔

نوٹ: گلا کی تکلیف تھی جو مریض نے بتائی نہیں بلکہ یہ کہا کہ گانے یا بولنے سے کان کے اندر اپنی ہی آواز آتی ہے (غالباً ٹانسلز یا گلینڈ کی خرابی Infectionکی وجہ سے ورم کی وجہ سے گلا کی تکلیف عین کان میں جاتی تھی یہ اندازہ ہے۔ مریض عموماً گول مول بات کرتے ہیں ان کو بیماری کا پتہ نہیں ہوتا یہ ڈاکٹر کا کام ہے کہ اصل بات تک پہنچے۔) اس کو Causticum+Baryta Carb+Belladonna 30طاقت میں دیا گیا ایک ہفتہ میں ٹھیک ہو گیا اور ساتھ ہی کمردرد ٹھیک ہو گیا جو دس بارہ سال سے تھا دراصل اس مریض نے کوئی بھاری چیز اٹھائی تھی جس کی درد بیٹھ گئی۔ غالباًCausticumنے فائدہ پہنچایا دائیں طرف درد تھا۔

نوٹ:دواؤں کی کتابی اور سطحی پہچان کافی نہیں مثلاً Nat Sulfدماغی چوٹ کیلئے ہی نہیں بلکہ Medula Oblangataپر کسی طرح بھی بداثر پڑا ہو تو نیٹرم سلف دیں مثلاً شدید خوف کیلئے پہلے Aconiteدیں پھر Nat Sulfٹرائی کریں۔

Depression :کی ایک مثال یہ ہے کہ بچہ کی پیدائش کے بعد عورت گم سم ہو گئی بولتی نہیں تھی Ignatiaسے فوری فائدہ ہوا اگر رحم کی خرابیاں ہوں اور عورت کے دماغ پر بُرا اثر پڑے تو Ustilagoازحد مفید ہے (بیماری کی وجہ تلاش کریں)

دوائیں کام: نہ کریں تو Medorrhinumدیں فائدہ نہ ہوتو Syphilinumدیں اصولاً CMطاقت میں دیں یہ دوائیں گرہ کھول دیتی ہیں۔ اگر ان دونوں دواؤں کو ملا کر دیں CMطاقت میں تو کوئی حرج نہیں مثلاً بعض اوقات پرانے ایگزیمے جو عام دواؤں سے ٹھیک ہوتے ہیں یہ دونوں دوائیں کو ملا کر دینے سے دوسری دواؤں کو کام کرنے کے قابل بنادیتی ہیں اورچونکہ خود بھی مفید ہیں اس لئے دوہرا فائدہ ہو جاتا ہے۔

علامات:بدلتی رہیں کبھی کوئی بیماری کبھی کوئی تو Tuberculinumدیں اصل علامات نکھارنے کیلئے۔

نوٹ:اگر رحم کمزور ہے تو ساتھ متعلقہ بیماریاں ضرور ہوں گی مثلاً ماہواری کی خرابیاں، Prolapse، ابارشن کا رجحان وغیرہ وغیرہ Ustilago دیکھیں۔ اسی طرح اگر Lungsمیں پانی ہے Fluidہے تو دل پر بھی بُرا اثر پڑے گا سارے جسم میں پانی بڑھ جائے گا۔ Lungsکا ٹانک مثلاً فاسفورس، برائیونیا ادل بدل کریں گے تو نہ صرف پانی نکلے گا بلکہ ہر متعلقہ عضو پر جو فاسفورس اور برائیونیا کی بیماریوں کا مظہر ہے اس پر بھی اچھا اثر پڑے گا ۔ استسقاء دیکھیں V.Imp

نوٹ: ایلوپیتھی ٹیکے(Vaccine) جو طرح طرح کے گند ملا کر بناتے ہیں وہ ہومیوپیتھی ہی ہے قریباً۔ مثلاً نزلہ زکام کا گند۔چیچک وغیرہ کا گند(ہومیوپیتھی کے تعارف میں یہ بات ضرور نوٹ کریں) یعنی ایلوپیتھی کے نام پر ہومیوپیتھی کرتے ہیں۔

گہری بیماریوں:والے مریضوں کے پاس مزید امکانی دوائیں ضرور رکھیں تاکہ بوقت ضرورت ان کا فوری استعمال ہو سکے (اور ان دواؤں کے استعمال کے متعلق کچھ ہدایات بھی دیں )۔

مزاج پہچان: لیں تو ایسے مریضوں کو ہمیشہ وہی دوائیں کام آئیں گی الا ماشاء اللہ کوئی اور دوا بھی دینی پڑے گی۔

بدبو:صرف بدبو کے نام پر دوا نہ دیں بلکہ دیکھنا پڑے گا کہ بدبو کونسی Baptisiaوالی، Merc Solوالی، Psorinumوالی……علامات میں تفریق کریں۔صرف بدبو کی علامت پرسارے مریض کا علاج کرنا آسان ہے۔

Ant Crud+Ant Tart:ہر قسم کے چھالوں کے لئے نام کچھ بھی ہو بیماری کامفید ہیں۔(بعض دوائیں بعض بیماریوں میں علامات کے بغیر بھی کام کرتی ہیں)

نوٹ: ہومیوپیتھی علاج کے اصل گُر اور حقیقت کو سمجھنے کیلئے متعلقہ ابواب میں نزلہ زکام دیکھیں ۔

نوٹ: جب کسی مریض کو آپ کے ہاتھوں شفا ہوتی ہے توپھر آپ کو (یعنی ڈاکٹر کو) دواؤں کی حقیقت سمجھ آتی ہے اور یادداشت بھی پختہ ہوجاتی ہے ورنہ شروع میں بڑی مشکلات پیش آتی ہیں اور وقت پر دوا یاد نہیں آتی۔ تجربہ کے ساتھ ساتھ یادداشت پختہ ہو گی۔اس لئے نئے ڈاکٹر جلدی دل آزردہ نہ ہوں اور نہ ہی حوصلہ ہاریں۔

نوٹ: سہل ترین طریق تو یہ ہے کہ ہر بیماری میں ہر بار جو جو دوائیں استعمال ہوں ان کی مرکزی علامات ہر بار ساتھ ہی بیان ہوں لیکن یہ طریق بڑے کہنہ مشق ڈاکٹروں کیلئے بھی بڑا صبر آزما ہے اور محنت طلب ہے اس کا دوسرا حل یہ ہے کہ علاج کے ساتھ بیان کر دہ دواؤں کی مرکزی علامات متعلقہ دوا کے بیان میں درج ہو جائیں تاکہ ضرورت مند بھی اس کاوش میں حصے دار ہو۔اور یہی طریق قابل عمل ہے۔

تمام بیماریوں:کا علاج نزلہ زکام، کھانسی، مرگی اور دمہ کے بیان کردہ طریق پر کرنا ازبس ضروری ہے نزلہ زکام اور متعلقہ ابواب دیکھیں۔

نوٹ: بعض اوقات یکے بعد دیگرے بہت سی دوائیں لینی پڑتی ہیں یا لے لی جاتی ہیں جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بیماری بڑھتی نہیں سکڑ کر ایک دائرہ میں آ جاتی ہے۔

نوٹ: مثلاً Sepiaدیں CMطاقت میں اور اس کی یاد کو قائم رکھنے کے لئے 30طاقت میں یا 200طاقت میں کچھ عرصہ بعد دیتے رہیں تو بڑا فائدہ ہوتا ہے (اس لئے ہر دوا کا یہی استعمال ہونا چاہیئے یا اسی انداز کو ہر جگہ مدنظر رکھیں) مثلاً بانجھ پن میں ۔ کھانسی دیکھیں V.Imp

نوٹ:CMطاقتوں کی دوہرائی کا دوسرا انداز یہ ہے کہ ہر ماہ یا دو ماہ بعد دیں اور درمیان میں یادداشت کو قائم رکھنے کیلئے چھوٹی طاقتوں میں بھی دیتے رہیں۔ لیکنPumping Dose ضرور دیں۔

خوف:سے ہر بیماری لگتی ہے مثلاً گیس، Depressionاور Stressاور نہ جانے کیا کیا آفات ۔ اس لئے Aconiteکا استعمال بار بار ہونا چاہیئے سکولوں اور دفتروں وغیرہ میں۔اسی طرح Nat Murکا بھی زیادہ استعمال کریں /دیکھیں Imp

بعض مریض:اپنی مرضی سے دوا استعمال کرتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں مثلاً ایک مریض نے آنکھوں میں تیز دوا ڈال لی حالانکہ اسے ہلکی کر کے استعمال کرنے کے لئے کہا گیا تھا اس کی آنکھوں میں زخم ہو گئے اس کا خیال تھا کہ جلد فائدہ ہو یا بعض بڑی طاقت کا شوق رکھتے ہیں کہ جلدی فائدہ ہو جو سخت نقصان دہ ہے۔

دعاؤں کا محتاج۔

عبدالباسط شاہد(ایم اے)

DIH (British Institute of Homoeopathy, England/Canada

6 1Martinview Cres

NE Calagry, AB T3J 2S5,

Ph:4035905318 Canada

حال ربوہ ۔ فون نمبر 6213962

خاکسار کی طرف سے استفادہ عام کے لئے اس مضمون کی نقول تقسیم کرنے کی عمومی اجازت ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں