Cough 0

کھانسی اور ہومیو پیتھی ادویات

کھانسی میں استعمال ہونے والی مختلف ہومیوپیتھی ادویات
قسط نمبر ۱
ترتیب و پیشکش: خالد محمود اعوان

خشک کھانسی میں استعمال ہونے والی ادویات میں ایکونائٹ ، بیلاڈونا ، برائی اونیا ، فاسفورس ،کاسٹی کم، سپونجیا وغیرہ وغیرہ ہیں۔
٭- بلغمی کھانسی جس کی بلغم سفید اور شفاف ہو، دوائیں آرسینی کم البم ،یا کالی میور ہے۔اگر بلغم پیلی اور سبز ہوتو اس کی دوا ہیپر سلف،کالی بائیکرام ہیں۔
٭-بلغمی کھانسی میں استعمال ہونے والی ادویات میں ڈروسرا،ہیپر سلف،کالی بائیکرام، سٹانم ، اینٹی مونیم ٹارٹ ہیں۔
٭-”ایکونائٹ“ میں لگاتار مختصر،خشک کھانسی ۔ کھردری آواز والی کھانسی ۔چھاتی میں خشکی۔ہرسانس کو اندر کی طرف کھینچتے وقت دم گھٹتا ہوا محسوس ہو۔رات کو انزائٹی ،بے چینی میں اضافہ جوٹھنڈی ہوا میں گھومنے کے بعدہو پائی جاتی ہے۔
٭-اگربستر سے اٹھنے کے ساتھ ہی چھینکیں آئیں تو”امونیم میور“ دواہے۔
٭- ”اینٹی مونیم کروڈ“ میں چکن پاکس کے بعد آنے والی کھانسی پائی جاتی ہے۔
٭-”اینٹی مونیم ٹارٹ “میں میوکس کی شدید خرخراہٹ ،لیکن میوکس کم نکلے ۔چھاتی میں جلن کا احساس ۔ پھیپھڑوں کو جانے والی ہوا کی نالیاں ضرورت سے زیادہ میوکس سے بھری ہوئیں۔کھانے کے ساتھ تکلیف میں اضافہ،دھڑکن اور چھاتی میں گرمی محسوس ہو۔بہتری اُٹھنے پر آتی ہے۔ اینٹی مونیم ٹارٹ کے مریض کی کھانسی کی آواز ڈھیلی لگتی ہے،اور مریض محسوس کرتا ہے کہ اگلی کھانسی میں میوکس باہر نکل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔اس میں غنودگی سانس کا پھولنا بڑھا ہوا ۔ اضافہ رات کو اور بسترمیں ہوتا ہے ۔اس کی بلغم لیموں کی طرح پیلی یا اس میں خون کی لکیر پائی جاتی ہے۔”اپی کاک“ کے اندر بھی ڈھیلی خرخراہٹ والی کھانسی جوہر سانس کے ساتھ پیدا ہو۔ ساتھ دمہ،متلی اور اُلٹیاں پائی جاتی ہیں ۔ ”سلیشیا“ میں بھی چھاتی میں خرخراہٹ پائی جاتی ہے۔مریض دیر تک کھانستا ہے اور تھوڑی سی میوکس نکلتی ہے جس سے اسے سکون ملتا ہے۔
٭-کالی کھانسی میںیکایک تشنج کا حملہ ہونے سے قبل بچہ چیخے ”آرنیکا “ 30دوا ہے۔
٭-”آرسینی کم البم“میں دموی کھانسی، ساتھ چھینکیں اور جھاگ دار اخراجات۔ان اخراجات میں جلن یا جلن کا احساس پایا جائے۔سانس کی نالی میں کھچاو جس سے سانس لینا مشکل ہو جائے۔ مریض ٹھنڈا،بے چین ، تشویش میں مبتلا،پسینے بھی آ سکتے ہیں۔ساتھ نمایاں تھکاوٹ پائی جائے۔تکالیف آدھی رات کے بعد زیادہ ہوں۔مریض ٹھنڈ سے حساس ہوتا ہے۔
٭-”بیلاڈونا“ بچوں کی کھانسی میں بچہ کھانسنے سے پہلے چیختا ہے۔کھانسی بہت شدید ہوتی ہے۔بخار کی صورت میں چہرہ سرخ ۔ کھانسی کے ساتھ نرخرہ میں خشکی ۔گلے میں سرخی ساتھ نرخرہ میں چھیلن۔ کھانسی مختصر جس میں بھونکنے والی آواز آئے ،تشنجی ،جلن دار اور سنسناہٹ والی کھانسی ۔شدید کالی کھانسی (کھوں کھوں کرنے والی)نرخرے میں تشنج جس سے کھوں کھوں کرنااور سانس لینا مشکل ہو ۔ چہرہ سرخ،پتلیاں پھیلی ہوئی۔بچہ کھانسے سے پہلے چیخے ۔ کھانسی کا اختتام چھینکوں کے ساتھ ہو تا ہے ۔ خشک،تشنجی،با ربار تنگ کرنے والی کھانسی جیسے گلے میں گرد رکھی ہو ،رات کو شدت ہو کہ مریض بستر پر اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔
٭- ”بریٹا کارب“ میںٹانسلز سوجے ہوئے ،ساتھ تیز بخار،زبان پر سفیدی کی تہ کوٹ کی ہوئی ،خشک کھانسی اور سانس بدبودار ۔اکثر بچوں میں عام بیماری ہے ۔ ان کو اس سے بچانے کے لئے 1000طاقت میں ہفتہ میں ایک بار ،تین ماہ تک استعمال کروائیں۔
٭-”بریٹا میور“میں کنٹھ مالائی (بلغمی مزاج) بچوں میں مزمن کھانسی پائی جاتی ہے۔
٭-گنوریا(سوزاک) کے دبنے کے نتیجے میں کھانسی آئے تو۔(بینزوک ایسڈ،سیلی نم) دوا ہے۔
٭-”برائی اونیا“کا مریض پیاسا ،چڑچڑا،کھانسی خشک ،چھاتی زخمی محسوس ہو، کھانستے وقت چھاتی کو تھامنا پڑے تا کہ تکلیف نہ ہو۔کھانسی تمام جسم کو ہلا کر رکھ دے ۔بچہ چھلانگ مار کر بستر سے اُٹھ جائے اورگہرا سانس لینے کی تگ ودو کرے۔ اس کا مریض زود حس ہوتا ہے، حرکت سے ،کھانے یا پینے سے،اس کے بعدتکلیف میں اضافہ ہو ۔ پیاسا ہوتا ہے ۔ٹھنڈے پانی کی طلب۔کھوں کھوں کی آواز سے ساتھ خشک کھانسی جو بالآخر الٹی پر ختم ہوپائی جاتی ہے۔
٭-”کلکیریا فاس“میں صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک کھانسی پائی جاتی ہے۔
٭-ایسی کھانسی جس میں نہانے کے بعد بہتری آئے تو کلکیریا سلف دوا ہے۔
٭-کوریلیم روب“کی کھانسی گہری آواز،کھردری ،بھاری آواز والی کھانسی جس میں اضافہ دن کے بارہ بجے کے بعد ہویا خسرہ کی تکلیف کے بعد ہو۔تشنجی کھانسی، ساتھ بطخ کی طرح ٹک ٹک کی آواز والی،الٹیاں کرتے وقت زور لگانے والی آواز اور الٹیاں پائی جاتی ہیں۔
٭-”سنا“ میں چھینکوں کے ساتھ خشک کھانسی یا تشنجی کھانسی جس میں صبح کے وقت اضافہ ہو۔مریض میں خوف پایا جاتا ہے کہ بولنے سے یاحرکت سے کھانسی نہ شروع ہو جائے۔کھانسی کا تعلق خون میں ایوسیینوفلز کی بڑھتی ہوئی مقدار سے ہوتا ہے جو پیٹ میں کیڑوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر لکھنے کے دوران کھانسی ہو تو”سنا “دوا ہے۔
٭-”کلکیریا کارب“میں کھانسی کا رجحان پایا جاتا ہے ۔اس کی کھانسی رات کو خشک اور صبح کوڈھیلی ہوتی ہے ۔بلغم کا اخراج آسانی سے ہوتا ہے۔مختلف مشاغل کے دوران ،جیسے کھانے کے دوران یا کھیل کے دوران کھانسی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کے مخصوص مریض پھولے ہوئے گول مٹول ،پسینے میں شرابور ہوتے ہیں ۔ایسی کھانسی میں مفید ہے۔
٭-ایسی مریضہ جس کے مینسز جلدی، وافر مقدار میں ہوں اور ساتھ دمہ کی تکلیف بھی ہو تو”کلکیریا “200میں ہر دس دن کے بعد صرف تین خوراکیں بعد میں ایک ہزار کی ایک خوراک۔
٭-”کاسٹی کم“کی کھانسی میں گلے میں کچاپن ، گلا کھردرا،بیٹھا ہوا اور خشک کھانسی۔ چھاتی ایسے لگے جیسے بلغم سے بھری ہوئی ہے۔معمولی ساکھانسے پر کم گہری میوکس باہر نکل جائے۔برف والے ٹھنڈے پانی سے بہتری آئے ۔گہری بلغم باہر نکالنے کی نااہلیت۔کھانسنے سے پیشاب نکل جائے۔ ” کاسٹی کم“ کا مریض لگا تا ر گلے کو صاف کرتا رہتا ہے۔میوکس باہر نکالنے کے لئے گہری کھانسی نہ کر سکے۔ٹھنڈا پانی پینے سے کھانسی میں ریلیف ملتا ہے۔ کھانسی کے دوران پیشاب کا خطاہو جاناپایا جاتا ہے۔
٭-”کیوپرم میٹ “ کی کھانسی میں ایسی آواز آئے جیسے بوتل سے پانی انڈیلا جارہا ہے۔ایسی کھانسی ٹھنڈے پانی پینے سے بہتر ہوتی ہے۔
٭-کالی کھانسی جس میں سانس میں دقت ہواور بعض اوقات بے ہوشی پر منتج ہو تو ”کیوپرم مٹیلی کم“30 دوا ہے۔
٭-کالی کھانسی جو صبح کو شدت اختیار کرے جس میں بلغم کااخراج سفیددھاگے دار ہو”کوکس کیکٹائی“ 30دوا ہے۔
٭-”ڈروسرا“میں تشنجی کھانسی پائی جاتی ہے جس کا اختتام الٹی پر ہو ۔ دورے رات کو ہوں، جیسے ہی آپ نے سر بستر پر رکھا کھانسی شروع یا آدھی رات کے بعدہو ۔ ناک کے نتھنوں کی سوزش میں جس کی بنیاد سلی مادہ ہو اس کی دوا”ڈروسرا“ ہے۔کھوں کھوں والی یا کالی کھانسی جس میں شدت آدھی رات کے بعد ہو اور جن میں ٹیوبرکولیس ہسٹری موجود ہوتو”ڈروسرا“ 30 کی ایک خوراک ایک ہفتے کے لئے کافی ہے۔”ڈروسرا“ کے بچے کی کھانسی رات کو شروع ہوتی ہے۔جیسے ہی اس نے سر تکیے پر رکھاکھانسی شروع ۔ ”ڈروسرا“ شدید تشنجی کھانسی کی بہترین دوا ہے۔اس کا دورہ کافی دیر تک رہتاہے اور آخر ابکائی پر ختم ہوتا ہے۔ بڑی مقدار میں میوکس خارج ہو۔ اس کی کھانسی میں اضافہ صبح چھ سے صبح سات بجے ہوتا ہے ۔ ”ڈروسرا“ میں تشنجی کھانسی چھاتی کی گہرائی میں ہوتی ہے۔کھانسی لانے کی شدید رغبت نرخرے میں پائی جاتی ہے۔ کھانسی کی تحریک اتنی شدید ہوتی ہے کہ سانس پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ووپنگ کف(کھوں کھوں والی کھانسی )کی بنیادی دوا ہے۔کھانستے وقت پسلیوں کے نیچے(کوکھ) کو تھامنا پڑے۔تکلیف میں اضافہ رات کو۔کھانسی خشک بھی ہو سکتی ہے اور اشتعال انگیز ہوتی ہے۔
٭-”ڈلکامارا“ میں موسم کی تبدیلی کے دنوں نزلہ بہت پھیلتا ہے ۔اگر مریض کی دیگر علامتیں واضح نہ ہوں لیکن ہر موسم کی تبدیلی پر بیمارپڑ جائےں تو اس کے لئے مفید ہے۔ڈلکامارا میں خشک زکام ہوتا ہے اور ناک مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔گاڑی زرد رطوبت ناک میں جم جاتی ہے۔ذرا سی سردی بھی لگ جائے تو نزلہ عود کر آتا ہے اور ناک سے خون بھی نکلتا ہے۔
٭-بخار کے بعد کھانسی پائی جائے تو”اریڈیکشن مدر ٹنکچر“استعمال کریں ۔ Eridiction Q
٭-”یوفریشا “میں ایسی کھانسی پائی جاتی ہے جو صبح بیدار ہونے پرہو اور اس وقت تک رہے جب تک کہ آپ دوبار لیٹ نہ جائےں۔
٭-”یوپیٹوریم پرفولیٹم“میں ملیریا بخار کے دبنے کے نتیجے میں شدید پُر جوش کھانسی پائی جاتی ہے۔
٭-”یوپیٹوریم پرفیولیٹم “ میں آگے جھکنے سے کھانسی میں بہتری آتی ہے۔
٭-”فیرم فاس“ میں ابتدائی سٹیج کی سانس کی نالیوں کے انفیکشن پائے جاتے ہیں۔یا سردی سے جو سر کو لگنے سے چھاتی میں اترے اورکان متاثر ہوں ۔سانس کی نالیوں کی سوزش یا کان کی سوزش پائی جائے۔بچوں کی کھانسی میں عام طور پر استعمال ہوتی ہے جو بخار سے شروع ہو ۔چہرہ دہکتا ہوا ہو۔سانس کی نالی میں پر درد کھانسی کا رجحان ۔بلغم میں خون کی لکیر یا ناک سے خون کا آنا ۔ اس کے اندر بھاری آواز والی کھانسی بھی پائی جاتی ہے۔
٭- ماہواری سے قبل ہونے والی کھانسی میں ”گریفائٹس “دوا ہے۔
٭- بعد دوپہر،چھ بجے سے دس بجے تک ووپنگ(ہو ہو یا کھو کھو کرنے والی کھانسی) ہو تو ہائی پیریکم دوا ہے۔
٭-”ہائیوسمس “ کی کھانسی خشک ،اعصابی اور تشنجی ہوتی ہے۔رات کو ہوتی ہے۔اُٹھ کر بیٹھ جانے سے بند ہو جائے۔بیلاڈونا میں بھی مریض اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ،لیکن اس سے اس کو سکون نہیں ملتا۔ہائیوسمس رات کی کھانسی میں جس کے ساتھ بلغمی اخراجات پائے جائیں بہترین دوا ہے۔”مینگنانم“کے اندر کھانسی میں لیٹنے سے بہتری آتی ہے۔اُٹھ کر بیٹھ جانے سے تکلیف میں اضافہ ہو تا ہے۔”کونیم“ کی کھانسی خشک اور اذیت دینے والی ہوتی ہے۔جس میں اضافہ لیٹنے سے ،شام کو اور رات کو ہوتا ہے۔بولنا اور ہنسنا اس کی کھانسی میں اضافہ کر دیتا ہے۔اس کی سوزش اور ہیجان سانس کی نالی اورپھیپھڑے کو جانے والی سانس کی نالی میں پائی جاتی ہے۔”اوپیم“میں مشکل کھانسی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پررات کو اذیت دینے والی ہوتی ہے۔اخراجات کم مقدار میں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر برنٹ نے اس کی بارہا تصدیق کی ہے۔ ایسی تشنجی کھانسی جو رات کوہو اور اس سے اخراجات کم مقدار میں پائے جائیں اوپیم نیند کو محفوظ بنا دیتی ہے۔”لاروسیرسس“ تپ دق کے مریضوں کی خشک اور اذیت دینے والی کھانسی میں بہت مفید ہے۔”اریلیا ریسی موسا“ نے ایسی تشنجی کھانسی جو رات کو آئے اس کی رغبت گلے اور چھاتی کے ساتھ ہو۔ کھچائو کے ساتھ پہلی ہی نیند میں پائی جائے۔مریض شدت کی وجہ سے اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔”نفتھالین“ڈاکٹر کارٹئیر ایسی کھانسی میں جوتشنجی ہو اورہوا کی نالی اور نرخرے کی شدید سوزش کے نتیجے میں ہوتجویز کرتے ہیں ۔
٭-”ہیپر سلف“ ایسی کھانسی میں جو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے ،حتیٰ کہ ہاتھ بستر سے باہرنکل جانے پرہو ۔صبح اور رات کو جب کہ موسم ٹھنڈا ہو۔ ایسی کھانسی جو ٹھنڈی ،خشک ہوا میں گھومنے سے آئے۔ بھاری آواز والی کھانسی ۔ گہری کتا کھانسی ۔ آواز میں کھردرا اور بھاری پن ۔ کھانستے وقت خرخراہٹ والی میوکس کی آواز سنی جائے ۔ ”ہیپر سلف“میں بھاری آواز والی کھانسی،ڈھیلی ، خرخراہٹ والی کھانسی جس میں اضافہ صبح کے وقت ہو۔دم گھٹنے والی چوکنگ کھانسی۔آواز کے فقدان کے ساتھ ۔گرم ہوا میں بہتری آئے۔ جسم کے کسی حصے کے کمبل سے باہر نکلنے سے یا ٹھنڈک سے تکلیف میں اضافہ ہو۔سیدھا بیٹھنے سے اور سر کو پیچھے کی طرف موڑنے سے بہتری آتی ہے۔
٭- ایسی کھانسی جس کا تعلق متلی سے ہو۔”اپی کاک“ 30 دوا ہے۔
٭-”اپی کاک“میں دم گھٹنے والی کھانسی،کھوں کھوں کرنے والی کھانسی ، ساتھ چوکنگ والی کھانسی یا بطخ کی طرح ٹک ٹک کی آوازوالی کھانسی(اس کا مقابلہ اینٹی مونیم ٹارٹ،ڈروسرا سے بھی کیا جا سکتا ہے)۔کھانسی مسلسل اور شدید جو ہر سانس کے ساتھ ہو۔چہرہ نیلاہو جائے۔خرخراہٹ والی کھانسی ،لیکن اخراجات معمولی ۔ کھانسی کے ساتھ متلی یا ناک سے خون کا آنا۔خراٹے سے سانس لینا والی کھانسی جو ہر سال لوٹ آئے۔ایسے لوگ جن کو اپیکاک کی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں کھانسی مسلسل پائی جاتی ہے۔جس کو سکون الٹی آنے سے آتا ہے ۔ متلی کے نتیجے میں پیاس کا فقدان ۔اس کا بچہ کھانسی کی وجہ سے مزاجاً بدتمیز ہو جائے۔
٭-”کالی بائیکرام“ میں بلغم گاڑھی چمٹنے والی۔کھوں کھوں کرنے والی ۔کھانسی جو نرخرے کی پچھلی جانب زخمی کر دے ۔”کالی بائیکرام“میں بھاری آواز ساتھ تکلیف دہ آواز کے ساتھ آنے والی کھانسی۔ کھل کر سفید یا پیلے اخراجات ۔یہ اخراجات چپکنے والے اور دھاگے دار(رسی کی طرح کے)۔کھانسی کی آواز ایسی جیسے پیتل کے برتن سے آتی ہے۔شام کو تکالیف میں اضافہ جوف سینہ میں دردجو کندھوں کی طرف بڑھے پائے جاتے ہیں۔
٭-”کالی کارب“ میں ایک طرف لیٹنے سے سانس لینے میں دقت پائی جاتی ہے۔
٭-کالی کارب “ میں تمام چھاتی حساس ہوتی ہے ۔ کھانسنے سے ایک چھوٹا سابلغم کاسخت ڈھیلا نکلے۔کھانسی صبح تین بجے بیدار کر دے۔
٭- کسی بھی قسم کی کھانسی جو رات دو سے تین بجے کے درمیان بڑھے”کالی کارب“ 30 دوا ہے۔
٭-انفلوئنزا اور ٹھنڈ سے بچنے کے لئے بطور احتیاطی تدبیر”کالی آئیوڈائیڈ‘6 بہترین دوا ہے۔
٭-”لائیکوپرسی کم “میں دمہ جو گرد سے بڑھے ۔
٭- ”لیکسس“ کی کھانسی خشک،تشنجی اور دم گھٹنے والی دوروں کی شکل میں ہوتی ہے۔ اخراجات کم ہوں لیکن حساسیت بڑھی ہوئی۔نرخرہ میں دبائوسے،نیند کے بعد اور کھلی ہوا میں تکالیف بڑھیں۔ اس کی میوکس چپک جائے جو باہر نہ نکلے۔ایسی پریشان کر دینے والی کھانسی جو دل کی عضوی بیماریوں کے نتیجے میں ہو ۔ اس میں ناجا بھی مفید ہے۔”ڈلکامارا“ میں بھی تشنجی کھانسی پائی جاتی ہے۔ اس کے اخراجات بے ذائقہ ،کھل کر جو نرخرہ اورسانس کی نالی میں پائے جائیں۔کھانسی کے دورے طویل جن میں اضافہ نمدار موسم میں ہوتا ہے۔”کاسٹی کم“ کی کھانسی خشک جو اندر سے خالی ہو۔میوکس چھاتی سے شدت سے چپکی ہوئی ،ٹھنڈا پانی کھانسی میں کمی پیدا کرے۔اسی طرح کی تشنجی اعصابی کھانسی کیوپرم میں بھی پائی جاتی ہے۔اس میں اکثر اوقات چوتڑوں میں دردیں بھی پائی جائیں۔دردیں زیادہ تر بائیں طرف ہوتی ہیں۔کھانسی کے دوران بلاارادہ پیشاب نکل جائے۔”سلیشیا اور نٹرم میور“ کے اندر بھی ”کاسٹی کم “ کی طرح پیشاب کے خطا ہونے والی علامت پائی جاتی ہے۔کاسٹی کم کامریض میوکس نکالنے کے لئے زیادہ گہرائی میں نہیں کھانس سکتا۔اسی طرح لیکسس میں بھی چپکی ہوئی بلغم پائی جاتی ہے۔کاسٹی کم میں آواز میں بھاری پن صبح کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔”سینی گا“ میوکس کے کھل کر آنے میں مفید ہے۔اس میں کھانسی سے قبل اور بعد چھاتی میں جلن پائی جاتی ہے یہ سینی گا کی عمدہ علامت ہے۔
٭-”لائیکوپوڈیم“میں کرانک کھانسی پائی جاتی ہے۔ ایسے لڑکے جو کرانک کھانسی سے مایوس ہوں دوا ہے۔
٭-”میفائٹس“ایسی کھانسی جوساری رات بڑھے’ ’میفائٹس“ 3X دوا ہے۔ تھکاوٹ جو نڈھال کر دینے والی مشقت سے ہو تو دوا ہے ۔ ڈاکٹر فرینگٹن کے مطابق اگر اس کو چھوٹی طاقت میں دیا جائے تو یہ اعصابی نظام کو تقویت دیتی ہے اور تھکاوٹ کو دور کر دیتی ہے۔
٭-انفلوئنزا کے بعد کی خشک ،تشنجی اور شدیدکھانسی میں ”میفائٹس“ مفید ہے۔
٭-کھانسی کے پرانے مریضوں کے لئے ”میفائٹس“3X استعمال کریں۔
٭-نیچے لیٹ جانے سے کھانسی میں بہتری آئے تو”مینگنانم“ دوا ہے ۔
٭-اگرکھانسی صرف رات کو ہو تو” مرکیورس “دوا ہے۔
٭-لگا تار کھانسی جسے اُلٹی کرنے سے بہتری آئے تو ”میزریم“ دوا ہے۔
٭-سورج کی روشنی سے حساسیت اور چھینکیں ظاہر ہوں تو”نٹرم میور“ بہترین دوا ہے۔
٭-”نکس وامیکا“میں خشک کھانسی،گدگدی کرنے والی ،تھکا دینے والی،صبح کے وقت کھانے اور پینے کے بعد اس میں شدت ہوتی ہے۔
٭-اگرکوئی مریض نزلہ زکام کی کیفیت میں مسلسل مبتلا رہے جیسے ابھی تکلیف ختم ہوئی اور پھر دوبارہ شروع ہو گئی ہو تو ایسے مریض کو ہفتہ میں ایک بار خالی پیٹ ”نائٹرک ایسڈ“ 200 میں استعمال کروائیں۔
٭-”فاسفورس“ کی کھانسی نرخرہ میں اری ٹیشن کی وجہ سے اُٹھتی ہے ۔ فاسفورس کی کھانسی میں اضافہ دورانِ گفتگو یا آواز کے استعمال سے ہوتا ہے۔ اس میں گلا متاثر ہوتا ہے جس سے بولنا مشکل ہو۔یہ شروع میں خشک اوراپنی جگہ مضبوطی سے ٹکی ہوئی ،چھاتی خشک محسوس ہوتی ہے۔پھر پیپ دار،چپکنے والی میوکس خارج ہوتی ہے ۔ ٹھنڈا برف والا پانی پینے کی شدید طلب ۔ ٹھنڈی ہوا کی تبدیلی سے تکلیف میں اضافہ۔اس کے ساتھ معدے کی یا جگرسے تعلق رکھنے والی کھانسی ، خون کی کمی سے تعلق رکھنے والی کھانسیاں اور ہو بہو اس قسم کی کھانسیاں پائی جاتی ہیں۔”فاسفورس“ میں خشکی کی طرف رغبت والی کھانسی۔تھکاوٹ پیداکرنے والی کھانسی ۔ شدید ہلا دینے والی کھانسی۔کھانستے وقت پیٹ اور چھاتی کو تھامنا پڑے ۔کھانسی سے کانپے۔ہنسنے سے ،بولنے سے، یاکھانے سے کھانسی میں اضافہ۔”فاسفورس “میں کھانسی جو اکثر سر کو ٹھنڈ لگنے سے ہو اور چھاتی پر اثر کر جائے۔گدگدی نرخرہ میں گرم کمرے سے ٹھنڈی ہوا میں جانے سے بڑھے ۔مریض ٹھنڈا ،ساتھ برف والے مشروبات کی پیاس۔ تشویش میں مبتلا ، اعصابیت کا شکار۔بائیں طرف لیٹنے سے کھانسی کا بڑھنا۔چھاتی پر بھاری پن کا احساس پایا جاتا ہے۔فاسفورس ،بیلاڈونا کے بعد بہتر کام کرتی ہے۔ ”بیلاڈونا“درد،نرمی اوربخار کو دُور کر دیتی ہے۔اس کے بعد فاسفورس آواز میں کھردراپن اور آواز میں نرمی پیدا کر دیتی ہے۔خشک کھانسی ”بیلاڈونا“ کی ایک اہم علامت ہے۔
٭- ”پرٹیوسن“(یہ ایک نوسوڈ ہے)ووپنگ کھانسی کی یہ ایک بہترین دوا ہے۔اس میں چہرہ نیلا ،نرخرہ میں گدگدی سے کھانسی بڑھتی ہے ۔جب ساری ادویات ناکام ہو جائیں تو اس کو بھی آزمائیں ۔
٭- ”پلسٹیلا “میں خشک کھانسی جو رات کو لیٹنے سے بڑھے اور اُٹھ کر بیٹھنے سے بہتر ہو جائے۔دن کو نرم کھانسی جس کے اخراجات پیلے اور سبز ہوں ۔اس کا مریض گرمی بہت محسوس کرتا ہے ،کھلی ہوا پسندکرتا ہے ،اس کے باوجود پیاس بالکل نہیں ہوتی ۔”پلسٹیلا“ کی کھانسی رات کو خشک اور صبح کوڈھیلی ہوتی ہے ۔کھانسی سے بطخ کی طرح کٹ کٹ کی آواز آئے،نامعلوم آواز والی کھانسی کبھی شروع ہو جائے ،کبھی ختم ہو جائے۔تکالیف میں اضافہ رات کو اور نیچے لیٹنے سے آئے۔نتیجتاً مریض اُٹھ کر بیٹھ جائے ۔ یا اضافی سرہانہ استعمال کرے۔ چھاتی میں درد محسوس ہو۔ کھانسنے سے پیشاب فوارے کی طرح خطا ہو جائے۔گرم کمرے میں داخل ہوتے ہی یا گرم ہوا میں سانس لینے سے کھانسی شروع ہو جائے۔مریضہ ہمدردی چاہے ۔ بچہ رونے والا اور ساتھ چمٹنے والاہوتا ہے۔تازہ ہوا اس کی مدد کرے ۔اور بند کمرے میں تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ ”پلسٹیلا“ کی مریضہ جتنی زیادہ نرم طبیعت ہوتی ہے۔ اس کی میوکس اتنی ہی زیادہ پیلی ہوتی ہے۔نرخرے کے کھچائو میں بہتری کھانے سے آتی ہے۔
٭- ”رومیکس کرسپس “میں خشک،شدیدلگاتارکھانسی جو گلے میں سرسراہٹ کی وجہ سے ہو۔کھانسی اس وقت بند ہوتی ہے جب آپ سر کو کمبل میں ڈھانپ لےں ۔لیکن ہوا دوبارہ کھانسی کو بحال کر دیتی ہے ۔
٭-”رومیکس کرسپس“میں شدید خشک کھانسی جو کھانس کھانس کر تھکا دے بہترین دوا ہے۔اس کو 30 طاقت میں استعمال کریں۔
٭-کھانسی جو شام کو شدت اختیار کرے۔”سینی گا“ 30دوا ہے۔
٭-کالی کھانسی جس کا انجام سردی میں پسینہ کے ساتھ تشنج اوراُلٹیوں پر ہو ”سینی گا“ 30دوا ہے۔
٭-انفلوئنزا کے بعد اعصابی کمزوری جو فلو کے بعدبھی بہتر نہ ہوں تو اس کی دوا”سکیوٹیلیریا لیٹریفولیا“دوا ہے۔
٭-”سپونجیا ٹوسٹا“ میں کھانسی خشک اور سخت ہوتی ہے۔جو خشک اور ٹھنڈے موسم میں شدید ہوتی ہے۔ سانس میں آواز اس طرح آتی ہے جیسے آری سے پائن بورڈ کو کاٹنے سے آتی ہے۔خشک کھانسی جو اونچی آوازمیں پڑھنے سے،گانے سے ،بولنے سے بڑھے۔کھانسی کے ساتھ ناگوار بد بوآئے ۔ آواز کا بیٹھ جانا۔کھانسی خشک،کتا کھانسی،بھاری آواز والی کھانسی۔آدھی رات سے پہلے اور سانس لینے کے دوران کھانسی میں اضافہ ہو۔چھاتی کی گہرائی میں ایک ایسا مقام ہوتاہے جواس نہ رکنے والی کھانسی کا ذمہ دارہوتا ہے۔گلے میں پلگ ہونے کا احساس۔گرم اشیاءکھانے ، پینے سے بہتری آئے۔سر کو نیچے کی طرف کر کے لیٹنے سے اضافہ ہو تا ہے۔
٭-”سینگونیریا“خشک اور نمدار کھانسی جس کے نتیجے میں سوزش پائی جائے ایک مفید دوا ہے۔یہ خاص طور ٹی بی ہونے سے قبل والی حالت تپ دق والی سٹیج میں بہت مفید ہے۔اس کا میلان نرخرہ اورچھاتی کے اوپر والے حصے میں ہوتا ہے۔اس کے اخراجات زنگار رنگ کے سانس بدبودار ہوتی ہے۔اس کے اندر ڈھیلی کھانسی بھی پائی جاتی ہے۔لیکن اس کی میوکس مشکل سے نکلے۔یہ علامت ”کالی بائیکرام “میں بھی پائی جاتی ہے۔ایسی کھانسی جس کا تعلق جگر کی تکالیف کے ساتھ ہو،گلے میں خشکی پائی جائے۔سینگو نیریا اس کو نرم بنا دیتی ہے۔”اپی کاک“ کے اندر بھی ڈھیلی خرخراہٹ والی جوہر سانس کے ساتھ کھانسی پیدا ہو۔جس کے ساتھ دمہ،متلی اور اُلٹیاں پائی جاتی ہیں۔”سلیشیا“ میں بھی چھاتی میں خرخراہٹ پائی جاتی ہے۔مریض دیر تک کھانستا ہے اور تھوڑی سی میوکس نکلتی ہے جس سے اسے سکون ملتا ہے۔
٭-ایسی کھانسی جو رات کو نیند سے بیدار کر دے تو” سیپیا “دوا ہے۔
٭-”سینگونیریا“میں خشک اور نمدار کھانسی جس کے نتیجے میں سوزش پائی جائے ایک مفید دوا ہے۔یہ خاص طور ٹی بی ہونے سے قبل والی حالت تپ دق والی سٹیج میں بہت مفید ہے۔اس کا میلان نرخرہ اورچھاتی کے اوپر والے حصے پر ہوتا ہے۔اس کے اخراجات زنگار رنگ کے، سانس بدبودار ہوتے ہیں۔اس کے اندر ڈھیلی کھانسی بھی پائی جاتی ہے۔لیکن اس کی میوکس مشکل سے نکلے۔یہ علامت ”کالی بائیکرام “میں بھی پائی جاتی ہے۔ایسی کھانسی جس کا تعلق جگر کی تکالیف کے ساتھ ہو،گلے میں خشکی پائی جائے۔سینگو نیریا اس کو نرم بنا دیتی ہے۔٭-”سینگونیریا“میں دمہ جو لوبان کے دھوئیں میں بڑھے ۔٭- ”سنگونیریا“ میں ایسی تشنجی کھانسی خاص طور پر بچوں کی جو اس وقت شدت اختیار کرے جب وہ نیند کے لئے ٹھنڈے کمرے میں جاکر سوئیں۔
٭-قبل از دوپہر ووپنگ(ہو ہو یا کھو کھو کرنے والی کھانسی)ہوتو سیپیا دوا ہے۔
٭-سٹکٹا پلمونیریا“کے اندر مسلسل،کھردری ،بدمزہ ،شدید درد کے ساتھ لا حاصل تشنجی کھانسی پائی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں میں جواعصابی وجع المفاصل کے مریض ہوں اور گاوٹ میں مبتلا ہوں۔یہ قدرے شدید اور مزمن مریضوں میں بہت موئثر دوا ہے۔یہ عمر رسیدہ افراد میں بہت مفیدہے۔یہ اری ٹیشن کی شدت میں کمی کرتی ہے،سوزشی ٹشوز میں تسکین دیتی ہے۔سانس کی میوکس ممبران کی بڑھی ہوئی حساسیت کو کم کرکے بہترین نیند لاتی ہے۔
٭-”سلفر “کے مریض کے اندر تازہ ہوا کی شدید خواہش پائی جاتی ہے۔سا تھ دم گھٹنے والی کھانسی جس میں اضافہ رات کوہو ساتھ خون کا دورانیہ سر اور چھاتی کی طرف ہو۔ چہرے اور چھاتی میں جلن کا احساس، ہونٹ اور پپوٹے سرخ۔مریض نہانے کے بعدبرا محسوس کرے ، پاوں میں جلن،جسے آخر کار بستر سے باہر نکالنا پڑے۔ ٭-کھانسی کے نسخوں کے درمیان امیون سسٹم کو تیز کرنے کے لئے کبھی کبھی”سلفر“ کی خوارک دی جائے۔
٭-موسم سرما کی ایسی کھانسی جو عرق النساءکی تکالیف کے ساتھ ادل بدل کرآئیں تو ”سٹیفی سگیریا“ دوا ہے۔
٭-نرخرے کی نالی میں منہ اور حلقوم سے وہ رگ یا عصب جو دو حصوں میں بانٹتی ہے میں سانس میں رکنے کا احساس پایا جائے تو ”سفلی نم“ دوا ہے۔
٭-صبح اٹھنے کے بعد اور شام کو دم گھٹے تو ”سنا “دوا ہے۔
٭-پھیپھڑوں میں سانس کھینچنا میں کھانسی ہو ” سنا “دوا ہے۔
٭-اخراج بلغم سبز ،نمکین اورزیادہ مقدار میں ہو، شدت صبح کے وقت ہو تو” سٹانم “دوا ہے۔
٭-”سٹانم“ میں تنگ کپڑے پہننے سے کھانسی میں اضافہ پایا جاتا ہے۔
٭- کسی چیز کی مہک یا بو سے کھانسی بڑھے تو” سلفیورک ایسڈ“ دوا ہے۔
٭-رات کی کھانسی،چھاتی میں اجتماع خون اور ناک میں رکاوٹ ہو تو ”سمبوکس“دوا ہے۔
٭-سمبوکس نائیگرا“میں کھانسی گہری،خشک ہوتی ہے ۔تشنج کے اچانک حملے کے نتیجے میں آنے والے بخار کے بعد پیدا ہو۔
٭-پُردرد گلے میں جس کے ساتھ ہائی وائرل بخار ہو اور متوقع ادویات کام نہ کر رہی ہوں۔اسٹریپٹوکوکوسینم ایک ہزاردوا ہے۔
٭-مباشرت کے بعد کھانسی بڑھے تو ”ٹرنٹولاہسپانیہ“ دوا ہے۔
٭-” تھوجا “میں کھانسی جو صبح بیدار ہونے کے بعد اور شام کے بعدلیٹ جانے کے بعد ہوتی ہے۔
٭- ”وائی اولا اوڈراٹا “میں کھانسی خشک ،جس کے دورہ کا عرصہ لمبااور شدید ہوتا ہے ساتھ شدید سانس کی تنگی پائی جاتی ہے ۔
٭-گلے میں سرسراہٹ،جھنجلاہٹ میں ”وتھیا“مدر ٹنکچر“استعمال کریں۔
٭-اگر بدلتے موسم کے ساتھ تکلیف ہو تو اس کو” سلفر200اورکلکیریا کارب 200“ میں خالی پیٹ ہفتہ میں ایک بار دیں پھر ”لائیکوپوڈیم“کی ایک خوراک دے کر دوبارہ” سلفر200اورکلکیریا کارب 200“ دیں ۔انشاءاللہ یہ رجحان ختم ہو جائے گا۔ترتیب یہی رکھنی ہے کہ سلفر کے بعد کلکیریا کارب اور لائکوپوڈیم دیں۔
٭-دمہ کے شدید حملہ کی صورت میں مریض کا دم گھٹ سکتا ہے ۔مریض کوفوراً عمودی حالت میں بیٹھا دینا چاہیے اور اس کے بازو پھیلا دینے چاہیے جیسے کرسی پر بیٹھے ہونے کی صورت میں اس کے بازووں پر رکھ دینے چاہیے تا کہ چھاتی پر زور نہ پڑے۔مریض کے کمرے کو گرم اور مرطوب رکھنے کے لئے پانی کو ابلنے کے لئے رکھ دیں تا کہ کمرے میں نمی ہو جائے۔اور پھر فوراً ”ایکونائٹ“ 30 اور”اپی کاک“ 200 علیحدہ علیحدہ آدھے کپ پانی میں دس دس گولیاں ڈا ل کر ہر پندرہ منٹ کے وقفہ سے باری باری ایک ایک چمچ پلاتے رہیں بہتری آنے کی صورت میں مریض کو لٹا دیں اور دوا کا وقفہ بڑھا کر دو دو گھنٹے کر دیں۔ آرام نہ آنے صورت میں قریب ترین اسپتال یا نرسنگ سینٹر لے جائیں جہاں آکسیجن کا انتظام ہو۔
٭-”سٹانم“ میں دورانِ دن ،بلغم ڈھیلی(نرم) ساتھ بھاری سبز بلغم۔لیکن رات کو خشک ہوتی ہے۔چھاتی میں کمزوری یا چھاتی خالی محسوس ہو۔اس کی تکالیف آواز کو استعمال کرتے وقت ہو ،ہنستے ہوئے یا گاتے ہوئے ہوتا ہے۔گرم مشروبات کے ساتھ تکالیف میں زیادتی ہوتی ہے۔
٭-ان تین دواوں کا تگڑم جو دمہ میں بہت قابل بھروسہ ہیں۔(آرسینی کم البم،اپی کاک،نٹرم سلف) ہیں۔
٭-ورم حلق والی کھانسی جیسے سانس کی نالی تنگ ہو گئی ہو تو ان تین دواوں سے ایسی کھانسی کا کریکٹر تبدیل ہو جاتاہے۔(ایکونائٹ،سپونجیا،ہیپر سلف )ہیں۔
٭-جنرل کھانسی کا فارمولا(ایکونائٹ+آرسینی کم+ بیلاڈونا+مرکس سال+پلسٹیلا )ہے۔
٭-خشک کھانسی ہو تو یہ فارمولا بھی بہترین ہے۔ (برائی اونیا+ہیپر سلف+سپونجیا)ہے۔
٭-ایسی کھانسی جس میں خرخراہٹ ساتھ ہو لیکن میوکس باہر نہ نکل رہی ہو جس کو(ریٹلنگ کھانسی) کہتے ہیں۔یہ فارمولا(اینٹی مونیم ٹارٹ+آرسینی کم البم+اپی کاک) ملا کربہترین ہےں۔
٭-ایسی کھانسی جس میں اخراج نہ ہوتو”رسٹاکس“6 یا”برائی اونیا “ 6بہت مفید ہے۔لیکن ایسی کھانسی جس میں میوکس کا سااخراج ہو تو”جسٹیشیا “30 دوا ہے۔
٭-دن کے وقت ووپنگ کف(ہو ہو یا کھو کھو کرنے والی کھانسی)ہو تو برومیٹم،کیوپرم ،یوفریشیا دوائیں ہیں۔
٭-صبح کے وقت ووپنگ کف ہو تو اینٹی مونیم کروڈ،کلکیریا،سنا،ویریٹرم البم دوائیں ہیں۔
٭- بعد از دوپہر ووپنگ کف ہو تو)لائیکوپوڈیم،میورٹک ایسڈ اور سلفر( دوائیں ہیں۔
٭-بوڑھوں کی کھانسی جوموسم سرما میں ہو(امونیم کارب،کریازوٹم) دوا ہے۔
٭-جمائی لینا یا آنکھوں سے ایسا احساس کہ نیند آ رہی ہے ۔ ساتھ لگاتار کھانسی آئے تو( اینٹی مونیم ٹارٹ،نٹرم میور) دوائیں ہیں۔
٭-آگے جھکنے سے کھانسی بڑھے تو( کاسٹی کم،ڈیجی ٹیلس) دوا ہے۔
٭-کسی کی رفاقت یا صحبت(موجودگی) میں کھانسی بڑھے تو( ایمبرا گریسا، بریٹاکارب) دوا ہیں۔
٭-ایسی کھانسی جس کے ساتھ بد حواسی پائی جائے( کیڈ ی مم سلف ، سنا ، کیوپرم) دوائیں ہیں۔
٭-انفلوئنزا کے بعد آنے والی کمزوری میں )چائنا۔انفلوئنزینم،سکیوٹیلیریا لیٹریفولیا(مفید ہیں اس کے علاوہ ”ابراٹی نم،کالی فاس “بھی فائدہ دیتی ہیں۔
٭-دمہ کے حملہ کی صورت میں”گرینڈیلیا مدر ٹنکچر،پوتھاس مدر ٹنکچر،آئیڈوفارم 3Xاپی کاک ون ایکس استعمال کریں۔
٭-بلغم کا مشکل سے باہر نکلنا”بالسم پیرومدر ٹنکچر،سینی گا مدر ٹنکچردوا ہیں۔
٭-ٹانسلز کی شدید کرانک سوزش میں ”ایلنتھس، بریٹا کارب“ دوا ہیں۔
٭-کھانسی میں استعمال ہونے والا ایک مکسچر”ڈروسرا مدر ٹنکچر اور سپونجیا مدر ٹنکچر“ پانچ پانچ قطرے ملا کر دن میں چار بار شدت کی صورت میں زیادہ بار بھی لیا جا سکتا ہے۔
٭-کھانسی،بچوں کی کھانسی میں جس سے چھاتی میں خرخراہٹ ،اور اجتماع خون ہو (اینٹی مونیم ٹارٹ اور بیسی لینم) بہترین ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں