"خوبصورتی کی آواز”صبح سات بجے۔ سورج ٹھیک سے نکل چکا ہے لیکن دھند کی پتلی چادر ابھی تک جسم پر نرمی سے بیٹھی ہوئی ہے۔ وین ڈرائیور رحیم کی آنکھوں میں پرانی جلن اور گلے کا درد اب بھی غائب ہے۔ ہر روز میں سوچتا ہوں، "شاید آج کا دن تھوڑا بہتر محسوس کرے گا،” لیکن نہیں۔ خشک کھانسی، آواز جیسے کسی نے حلق سے کچھ نکالا ہو۔رحیم گاؤں کے ایک سرے پر رہتا ہے، جہاں جنگل اور تالاب کے درمیان پرندوں کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ ہاں، نہیں۔ بیوی کا پانچ سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ ڈھاکہ میں صرف ایک لڑکا رکشہ چلاتا ہے، وہ سال میں ایک بار آتا ہے۔روانہ ہونے سے پہلے، وہ وین کو سجائے گا اور کالی چائے کا کپ پیے گا۔ اسے مٹھائی بہت پسند ہے لیکن گلے میں درد کی وجہ سے وہ اب شوگر کم لیتا ہے۔ پھر اس کے دن کی جدوجہد شروع ہو جاتی ہے – اسے دروازے پر جا کر کہنا پڑتا ہے، "کیا تمہیں سبزی چاہیے؟ آج تازہ۔” میں سرخ پتے لایا ہوں۔‘‘مزے کی بات یہ ہے کہ رحیم کے منہ میں کوئی بھی لفظ ٹھیک نہیں بیٹھا۔ جب میں بولنے کی کوشش کرتا ہوں تو اچانک میری آواز گھٹ جاتی ہے۔ آدھی رات میں، سینے پر دباؤ ہے، میں زور سے ہانپتا ہوں. اس صبح وہ ایک گھر گیا اور بولا، ’’آپا، ایک کلو وزن…‘‘ پھر اچانک اس کا گلا رک گیا۔ دلہن نے پوچھا تم نے کیا کہا؟ لیکن رحیم کو مزید الفاظ نہ مل سکے۔پھر وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔ مجھے اپنے گلے میں غصہ آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اس کی آواز کو اندر سے کاٹ رہا ہو۔رات کے وقت جسم کے تمام جوڑوں خصوصاً گھٹنوں اور کندھوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ جب آپ اپنا سر موڑتے ہیں تو ایک پھٹنے کی آواز آتی ہے۔ کبھی کبھی میں اپنے ہاتھ اس قدر مضبوطی سے پکڑتا ہوں کہ ایسا لگتا ہے کہ خون کی گردش رک گئی ہے۔بکتا مگےمے جھڑفڑ کرتا ہے۔ نامعلوم کا خوف اس کے اندر گھل رہا ہے – جیسے ابھی کچھ خوفناک ہونے والا ہے۔ پھر رحیم خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا، آنکھوں میں پانی آ گیا۔ بغیر کسی وجہ کے رونا مگر رونا بھی نہیں آتا۔ادھیڑ عمر رحیم شدید سردی برداشت نہیں کر سکتا۔ ذرا سی سردی میں وہ ہنسنے لگتا ہے اور اس کا سینہ بند ہو جاتا ہے۔ لیکن گرمیوں میں وہ بہت خوش رہتا ہے۔ کھانے کے لیے بیٹھنے سے پہلے ایک عجیب سی گیس جمع ہوتی ہے اور معدے کو گڑبڑ کر دیتی ہے۔ کھانسی کی سفید دھار تھوک کے ساتھ حلق سے نکلتی ہے۔کبھی کبھی اس کا دماغ پاگل لگتا ہے۔ ہر بات پر غصہ آتا ہے اور پھر کچھ دیر بعد اداسی میں ڈوب جاتا ہے۔ بغیر کسی وجہ کے اس نے سوچا، ’’میں مر رہا ہوں… اس زندگی میں اور کیا ہے؟‘‘ایک دن وہ بازار گئی اور ہومیوپیتھ ڈاکٹر کے سامنے بیٹھ گئی۔ ڈاکٹر نے کہا، "آپ کو ‘Argentum Metallicum’ کھانا چاہیے، یہ خوبصورتی کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن یہ آپ کی خوبصورتی اور آواز کو واپس لے آئے گا۔”تب سے رحیم ہر روز باقاعدگی سے کھاتا ہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ اس کی آواز پہلے سے بہتر ہے۔ گلے کا درد کم ہو گیا ہے۔ وین چلانا مت روکیں۔ نیند بہتر ہے۔ اب رات کو جاگ کر کھڑکی سے باہر مت دیکھو۔ایک صبح ایک بوڑھی عورت نے کہا، ’’رحیم، آج تمہاری آواز پہلے سے زیادہ بلند ہے… سن کر اچھا لگتا ہے۔‘‘ رحیم نے ہنستے ہوئے کہا، "ارے میرے عزیز، پیسے کی قیمت ابھی نہیں بڑھی، لیکن میں پھر تھوڑا سا گھبرا رہا ہوں۔”بوڑھی عورت ہنس پڑی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔* کہانی میں درج علامات (Argentum Metallicum):1. گلے میں درد، آواز کی ہڈی کی کمزوری۔2. جب آپ کچھ کہتے ہیں تو آپ کا گلا بند ہوجاتا ہے۔3. بڑا درد4. گیس کا جمع ہونا، پیٹ پھولنا �5۔ سینے کی دھڑکن، کمزور دل کی دھڑکن �6۔ سردی بڑھ جاتی ہے �7۔ گرمیوں میں اچھا محسوس ہوتا ہے۔۸۔ موڈ میں تبدیلی – بغیر وجہ کے رونا، اداسی، غصہ۹۔ ہاتھوں اور پیروں میں جلن کا احساس۱۰۔ کمزوری – چلتے وقت تھکاوٹ۱۱۔ گلے میں سفید بلغم۱۲۔ زیادہ سوچنا اور موت کا خوف3. کھانے کا ذائقہ – میٹھا دانت۱۱۴۔ آواز میں درد اور خشکی۱۵۔ نیند کی بہتری* علامات جو کہانی میں شامل نہیں ہیں:1. عضو تناسل یا جنسی کمزوری کی علامات2. گلے میں جلن، گلے میں درد، نگلنے میں مسئلہ (گہرائی میں بات نہیں کی گئی)3. اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کا خوف (اختیار فوبیا)4. "گانے یا بہت لمبا بولنے کے دوران آواز ختم ہو جاتی ہے” ڈاکٹر ابوبکر شاہ(D.H.M.S)سپورٹ کریں اور میرے ساتھ رہیں#ہومیو پیتھی #homeopathy treatment #homeopathic medicine
Similar Posts
هومیوپیتھی اور بچوں میں پیشاب کا بار بار آنا
بچوں میں بستر گیلا کر دینے کے علاج کے لئے ہومیوپیتھی کی کامیاب ترین دوا وہی ہو گی جو باقی معاملات اور مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ (Constitutional Remedy) بچے کی ہسٹری اور فیملی ہسٹری کو بنیاد بنا کر دی جائے گی۔ تاہم عام طور پر پاکستان کے ماحول میں مندرجہ ذیل دواؤں میں کسی ایک کی ضرورت پڑتی ہے۔
اعصابی کمزوری کا گھریلو علاج
اعصابی کمزوری (nervous weakness) ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے اور اس کی علامات میں انسان کے اعضا کا درست طریقے سے کام نہ کر سکنا شامل ہے۔علامات میں کانپنا، اعضا کو مکمل طور پر ہلا نہ سکنا اور چلنے میں تکلیف جیسے مسائل شامل ہیں۔ مریض کو سونے میں دشواری کے ساتھ ساتھ جذباتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بیماری کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کرنا اس بیماری میں مبتلا افراد کے لیے دوا کی طرح اہم ہے، ضروری نہیں کہ یہ ورزش بہت شدید نوعیت کی ہو، ہلکی پھلکی ورزش کو بھی انسان اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا سکتا ہے۔
طبی اوازن ناپ تول
قدیم طبی نسخہ جات تحریر کرنے سے پہلے قدیم طبی اوزان کا علم ضروری ہے,جو کہ آج کے وقت میں بھی رائج الوقت ہیں,
میڈورائینم بطور ایک پولی کرسٹ
٭-میڈورائینم سوزاک کے زہر سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔اس کا استعمال دبی ہوئی موروثی سوزاکی بیماریوں میں ہوتا ہے اور بہت مفید ثابت ہوتی ہے ۔ موروثی سوزاک میں جو مقام میڈورائینم کا ہے وہی موروثی سفلس میں سفلی نم {Syphilinum} کا بیان کیا جاتا ہے ۔اگر یہ دوائیاں استعمال نہ کی جائیں…
Insomnia بے خوابی
بیخوابی ۔۔ نیند کا نہ آنا Insomniaبسا اوقات انسان ایک عجیب صورتحال سے دو چار ھوتا ھے ۔سونا چاھتا ھے مگر سو نہیں سکتا ۔اور رات یونہی کروٹیں بدلتے گزر جاتی ھے ۔جہاں اسکی اور بہت سی وجوھات ھوتی ھیں وھیں پہ لا شعور میں کوئی ایسی بات یا واقعہ گردش کر رھا ھوتا ھے…
سلفانیلا مائیڈ (Sulfanilamide) – ھومیوپیتھی کی ایک شاندار دوا
سلفانیلا مائیڈ (Sulfanilamide) – ھومیوپیتھی کی ایک شاندار دوا 🔍 تعارف سلفانیلا مائیڈ ایک پرانی اور مؤثر سلفونامائڈ دوا ہے، جو سب سے پہلے 1935 میں دریافت ہوئی۔ اس کا کیمیائی فارمولا C6H4NH2SO2NH2 ہے۔ ہومیوپیتھی میں اس دوا کی پروونگ ڈاکٹر سودرلینڈ نے ھانمن کے اصولوں کے مطابق کی۔ یہ دوا بیکٹیریا کی نشوونما کو…
