ذہنی طور پر مریض چڑچڑا اور مایوس ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی بیماری لا علاج ہے، جس کی وجہ سے وہ خاموش اور گوشہ نشین ہو جاتا ہے۔ ذہنی کام کرنے سے گریز کرتا ہے اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
ایسپلینیم بولٹونیائی (Asplenium boltonii) ایک نایاب اور اہم ہومیوپیتھک دوا ہے جو بنیادی طور پر تلی (Spleen) کے امراض اور پیٹ کے نچلے حصے کی خرابیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ دوا ہاضمہ کے نظام کی سستی، پیٹ میں گیس کا جمع ہونا، اور جگر و تلی کی سوزش جیسی علامات میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مریض عمومی طور پر کمزوری محسوس کرتا ہے اور جسم میں ایک قسم کی بھاری پن اور سستی پائی جاتی ہے۔
یہ دوا سرد مزاج (Chilly) مریضوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس کی علامات میں اضافہ (Aggravation) سردی کے موسم، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں، اور کھانے کے فوراً بعد ہوتا ہے۔ بہتری (Amelioration) گرم ٹکور، گرم مشروبات کے استعمال، اور حرکت کرنے سے محسوس ہوتی ہے۔
مریض کو اکثر چکر آتے ہیں، خاص طور پر جب وہ اچانک اٹھ کر کھڑا ہوتا ہے۔ چکر کے ساتھ متلی کا احساس ہوتا ہے اور سر میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی وزن رکھا ہوا ہو۔
سر کے اگلے حصے میں درد ہوتا ہے جو اکثر ہاضمے کی خرابی سے جڑا ہوتا ہے۔ درد کی نوعیت دباؤ والی ہوتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سر کے اندر کوئی چیز پھول رہی ہو۔
آنکھوں کے گرد حلقے پڑ جانا اور نظر کا دھندلا پن اس دوا کی اہم علامات ہیں۔ آنکھوں میں جلن اور خشکی محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر شام کے وقت۔
کانوں میں سائیں سائیں (Tinnitus) کی آوازیں آنا اور سماعت میں معمولی کمی کا احساس ہونا۔ بعض اوقات کانوں میں بندش محسوس ہوتی ہے۔
چہرہ زرد اور بے رونق رہتا ہے۔ ہونٹ خشک اور پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ چہرے پر اکثر پیلاہٹ چھائی رہتی ہے جو تلی اور جگر کی خرابی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ناک میں خشکی کا احساس، اکثر ناک بند رہتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ نزلہ زکام کی علامات میں ناک سے گاڑھا رطوبت نکلنا شامل ہے۔
منہ کا ذائقہ کڑوا یا دھاتی محسوس ہوتا ہے۔ زبان پر سفید یا پیلی تہہ جمی ہوتی ہے۔ دانتوں میں درد اور مسوڑھوں سے ہلکی خون ریزی کی شکایت ہو سکتی ہے۔
گلے میں خراش اور سوجن کا احساس، خاص طور پر نگلتے وقت درد ہوتا ہے۔ گلا خشک رہتا ہے اور بار بار پانی پینے کی خواہش ہوتی ہے۔
سینے میں بھاری پن اور سانس لینے میں تنگی، خاص طور پر لیٹنے کی حالت میں۔ دل کی دھڑکن میں کبھی کبھار بے قاعدگی محسوس ہوتی ہے۔
یہ اس دوا کا سب سے اہم مرکز ہے۔ پیٹ میں اپھارہ، گیس کا شدید دباؤ، اور تلی کے مقام پر درد یا بھاری پن۔ بھوک کی کمی اور کھانے کے بعد پیٹ میں درد کا ہونا اس کی خاص علامات ہیں۔
پیشاب کی مقدار میں کمی اور رنگت کا گہرا ہونا۔ پیشاب کرتے وقت جلن محسوس ہو سکتی ہے۔ مردوں اور عورتوں میں تولیدی اعضاء کی کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے۔
جوڑوں میں درد اور ہاتھوں پیروں میں سن پن کا احساس۔ چلتے وقت ٹانگوں میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔ جوڑوں کی سوزش سردی میں بڑھ جاتی ہے۔
گردن کے پچھلے حصے میں اکڑن اور کمر کے نچلے حصے میں درد، جو چلنے پھرنے سے بڑھ جاتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔
جلد کا رنگ زردی مائل، خارش والی جلد اور اکثر چھوٹے چھوٹے دانے نکلنا جو خشک ہوتے ہیں۔ جلد پر زخم دیر سے بھرتے ہیں۔
نیند میں خلل، رات کو بار بار آنکھ کھلنا۔ خوابوں میں پریشانی اور بے چینی۔ صبح اٹھنے پر مریض خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ دوا تلی اور نظام انہضام کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے ایک بہترین دوا ہے۔ یہ جسم کی قوت مدافعت کو بحال کرتی ہے اور جسمانی کمزوری کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اس دوا کی معاون ادویات میں Ceanothus اور Chelidonium شامل ہیں۔ جب ایسپلینیم بولٹونیائی تلی کے درد میں ابتدائی ریلیف فراہم کر دیتی ہے، تو یہ معاون ادویات جگر کے افعال کو درست کر کے علاج کو مکمل کرنے میں مدد دیتی ہیں، خاص طور پر دائمی ہیپاٹائٹس یا تلی کے بڑھ جانے کے کیسز میں۔
اس دوا کے لیے کوئی خاص دشمن دوا (Inimical) کا ذکر کتب میں نہیں ملتا، تاہم تیزابی اثر رکھنے والی ادویات جیسے کہ Nitric Acid کو اس کے استعمال کے فوراً بعد احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر دوا کا اثر حد سے زیادہ ہو جائے تو Camphor یا Coffea بطور تریاق (Antidote) استعمال کی جا سکتی ہیں۔
یہ دوا ان مریضوں کو دی جاتی ہے جنہیں پہلے Nux Vomica یا Lycopodium دی جا چکی ہو اور ان سے مکمل افاقہ نہ ہوا ہو۔ یہ دوا خاص طور پر ہاضمے کی ان خرابیوں میں بہتر کام کرتی ہے جہاں گیس کا دباؤ تلی کے مقام پر محسوس ہو۔
Asplenium scolopendrium, Ceanothus, Quercus, Chelidonium
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔