پوسٹ 2: اردو – بائی پولر ڈس آرڈر: وجوہات، علامات اور ہومیوپیتھک علاج
بائی پولر ڈس آرڈر: موڈ میں شدید اتار چڑھاؤ کی بیماری کا مکمل تعارف
بائی پولر ڈس آرڈر، جسے پہلے مینک ڈپریشن کہا جاتا تھا، ایک ذہنی مرض ہے جس میں مریض کے جذبات، توانائی اور سرگرمیوں میں انتہائی اتار چڑھاؤ واقع ہوتے ہیں۔ یہ بیماری مریض کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اس مکمل گائیڈ میں ہم اس کی اقسام، جدید علاج اور ہومیوپیتھک و ہربل طریقہ علاج پر روشنی ڈالیں گے۔
1. بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟
یہ ایک دماغی عارضہ ہے جس میں مریض کے موڈ، توانائی، سرگرمیوں اور توجہ میں غیر معمولی تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں روزمرہ کے کام کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ "بائی پولر” کا مطلب ہے "دو قطبی” یعنی موڈ کی دو انتہائی کیفیات: ** اُفتابی (مینیا)** اور ** اِفتابی (ڈپریشن)**۔
2. اقسام اور اہم علامات
| دورے کی قسم | بنیادی علامات و خصوصیات |
|---|---|
| مینک ایپیسوڈ (افتابی دورہ) | غیر معمولی خوشی یا چڑچڑاپن؛ توانائی اور سرگرمی میں اضافہ؛ خود اعتمادی کا بے حد زیادہ ہونا؛ نیند کی ضرورت میں کمی؛ تیز تیز بولنا؛ ذہن میں خیالات کا دوڑنا؛ آسانی سے توجہ بٹنا؛ غیر ذمہ دارانہ فیصلے (فضول خرچی، خطرناک سرمایہ کاری)۔ |
| ہائپومینک ایپیسوڈ | مینک دورے جیسی علامات لیکن کم شدت والی۔ روزمرہ زندگی میں زیادہ مسائل پیدا نہیں کرتیں۔ اکثر ڈپریشن کے بڑے دورے سے پہلے یا بعد میں آتی ہیں۔ |
| میجر ڈپریسو ایپیسوڈ (افتابی دورہ) | گہری افسردگی، مایوسی؛ تمام سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہو جانا؛ وزن میں واضح کمی یا اضافہ؛ بے خوابی یا ضرورت سے زیادہ نیند؛ تھکن؛ خود کو بے وقعت سمجھنا؛ توجہ مرکوز کرنے میں مشکل؛ موت یا خودکشی کے خیالات۔ |
بائی پولر ڈس آرڈر کی اہم اقسام:
- بائی پولر ون ڈس آرڈر: اس میں مینک ایپیسوڈ ہوتے ہیں جو کم از کم 7 دن تک رہتے ہیں، اکثر ہسپتال میں داخلے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ڈپریسو ایپیسوڈ بھی آتے ہیں۔
- بائی پولر ٹو ڈس آرڈر: اس میں ڈپریسو اور ہائپومینک ایپیسوڈز آتے ہیں، لیکن مکمل مینک ایپیسوڈ نہیں آتے۔
- سائیکلوتھیمک ڈس آرڈر: ہائپومینک اور ڈپریسو علامات کے دورے جو کم از کم 2 سال تک (بچوں میں 1 سال) آتے رہتے ہیں، لیکن مکمل ایپیسوڈ کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
3. وجوہات اور خطرے کے عوامل
اس کی صحیح وجہ معلوم نہیں، لیکن یہ چند عوامل کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے:
- دماغی ساختی فرق: دماغ میں جسمانی کیمیائی تبدیلیاں۔
- جینیات: جن کے قریبی رشتے دار (والدین، بہن بھائی) کو یہ مرض ہو، ان میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
- نیورو ٹرانسمیٹر کا عدم توازن: دماغی کیمیکلز جیسے نوراڈرینالین، سیروٹونن اور ڈوپامائن کا توازن بگڑ جانا۔
4. جدید میڈیکل تشخیص و علاج
تشخیص: اس میں ماہر نفسیات سے معائنہ، جسمانی چیک اپ اور موڈ چارٹ بنانا شامل ہے۔ اس کی تشخیص کا کوئی ایک ٹیسٹ نہیں ہے۔
علاج: علاج عمر بھر جاری رہتا ہے اور علامات پر قابو پانے پر مرکوز ہوتا ہے:
- ادویات: موڈ اسٹیبلائزر (لتھیم، والپروئیٹ)، اینٹی سائیکوٹکس (اولانزاپائن)، اینٹی ڈپریسنٹس۔
- سائیکو تھیراپی: علمی رویے کی تھیراپی (سی بی ٹی)، مریض و گھر والوں کی تعلیم، خاندانی تھیراپی۔
- طرز زندگی: باقاعدہ معمول، نیند کی حفظان صحت، مرض بڑھانے والے عوامل کی شناخت۔
5. ہومیوپیتھک نقطہ نظر اور ادویات
ہومیوپیتھی مرض کا نہیں، بلکہ مریض کا علاج کرتی ہے۔ ایک کوالیفائیڈ ہومیوپیتھک ڈاکٹر مریض کی مخصوص جذباتی، ذہنی اور جسمانی علامات کی بنیاد پر دوا کا انتخاب کرتا ہے۔
ممکنہ ہومیوپیتھک ادویات (صرف ماہر ڈاکٹر کی ہدایت پر استعمال کریں):
- اورم میٹالیلم: شدید ڈپریشن جس میں مریض خود کو بے وقعت اور ناکام سمجھتا ہو اور خودکشی کے خیالات آتے ہوں۔
- نیٹرم میوریاٹیکم: غم یا صدمے سے شروع ہونے والی ڈپریشن، جس میں مریض تنہائی پسند ہو لیکن اندر سے بہت حساس ہو۔
- لِلیم ٹائیگرینم: مینیا کے دورے میں چڑچڑاپن، بے چینی اور مصروف رہنے کی مجبوری۔
- سیمیسیفیوگا: اس ڈپریشن میں مفید ہے جس میں ذہن پر "سیاہ بادل” چھایا رہتا ہو اور جسم میں درد ہو۔
6. ہربل اور طرز زندگی کی تجاویز
- اومگا تھری فیٹی ایسڈ: مچھلی کے تیل میں پایا جاتا ہے، دماغی صحت اور موڈ کو مستحکم رکھنے میں معاون ہے۔
- ذہن سازی (مینڈفلنِس) اور مراقبہ: تناو کو کم کرنے اور جذبات کو منظم کرنے میں ثابت شدہ طریقے ہیں۔
- نیند کا باقاعدہ شیڈول: بائی پولر ڈس آرڈر کو کنٹرول کرنے کا سب سے اہم عنصر۔
- احتیاط: سینٹ جانز ورٹ (ڈپریشن کی ایک جڑی بوٹی) مینیا کا دورہ شروع کر سکتی ہے اور دیگر ادویات کے اثرات میں مداخلت کر سکتی ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں۔
7. مریض اور گھر والوں کے لیے ہدایات
- خود کو تعلیم دیں: مرض کو سمجھنا اس پر قابو پانے کی پہلی سیڑھی ہے۔
- مددگار نیٹ ورک بنائیں: تھیراپسٹ، سپورٹ گروپس اور ہمدرد دوستوں و رشتہ داروں سے جڑیں۔
- اپنے موڈ پر نظر رکھیں: روزانہ ڈائری لکھیں جس میں موڈ، نیند اور مسائل پیدا کرنے والی چیزوں کا ریکارڈ رکھیں۔
- ہنگامی منصوبہ بندی کریں: جب علامات بڑھ جائیں تو کیا کرنا ہے اور کس سے رابطہ کرنا ہے، یہ پہلے سے طے کریں۔
8. اہم طبی انتباہ
یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے پیشہ ورانہ طبی مشورے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔ بائی پولر ڈس آرڈر ایک سنگین بیماری ہے جس کے علاج کی نگرانی ایک ماہر نفسیات کے تحت ہونی چاہیے۔ ہمیشہ اپنے ڈاکٹر یا کوالیفائیڈ ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کریں۔ یہاں پڑھی گئی معلومات کی بنیاد پر پیشہ ورانہ مشورے کو نظر انداز نہ کریں۔ ہومیوپیتھک اور ہربل طریقہ علاج صرف معاون ہیں اور انہیں ماہر ڈاکٹر کی نگرانی اور اپنے بنیادی معالج کی معلومات کے ساتھ ہی استعمال کرنا چاہیے۔

