پودینہ قدرت کا انمول تحفہ
پودینہ قدرت کا انمول تحفہ
راحت نسیم سوہدروی
کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پودینہ کی چائے ، دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی، کھانسی، زکام میں کیا جاتا ہے ، دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے ، گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے ، بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔
پودینہ جسے ہمارے ہاں عام طور پر کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور پودینہ کی چٹنی کو بطور ہاضم و لذت موسم گرما میں متوسط و غریب گھرانوں میں بطور سالن استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پودینہ قدرت کی عطا کردہ بہت سی خصوصیات سے مالا مال ہے۔
پودینہ کی چائے
پودینے کی چائے دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی، کھانسی، زکام میں کیا جاتا ہے۔ دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے۔ گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے۔ بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔ نظام ہضم کی اصلاح کرتی ہے۔ متلی کی صورت میں تھوڑا سا لیموں کا رس ملا لیں۔ پودینہ کی چائے سانس کی نالی کی سوجن، برونکائٹس ، درد سر اور کھانسی زکام میں مفید ہے۔ ایک کپ چائے دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے ، آنتوں کو صاف کرتی ہے جس سے سانس میں ناگوار بو کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔
جی متلانا یا قے آنا
جن لوگوں کو جی متلانے یا قے آنے کی شکایت ہو جائے وہ پودینہ دس پتے اور چھوٹی الائچی دو عدد کے ساتھ پانی میں جوش دے کر چھان کر پی لیں ، شکایت جاتی رہے گی(انشاء اللہ)روغنی اور دیر ہضم ثقیل اشیاء کے استعمال کے بعد ٹھنڈی بوتلوں کی جگہ پودینہ اور لیموں کی چائے مفید ہے۔
بد ہضمی
بد ہضمی، اپھارہ، ریاحوں کی صورت میں پودینہ کا رس پانی میں ملا کر پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔
پتھری گردہ و مثانہ
بتھوے کی سبزی میں پودینہ ڈال کر کھانے سے پتھری کا مرض ختم ہو جاتا ہے۔ ایسا ایک ماہ تک کریں یا فائدہ ہونے تک۔
پودینہ کا شربت
پودینہ کی بڑی گڈی دھو لیں۔ اس کے بعد ایک کپ شکر اور پانچ عدد لیموں کا رس نچوڑ لیں اور اس آمیزے کو دو گھنٹہ تک اسی طرح رکھا رہنے دیں پھر جگ میں بھر لیں اور برف ڈال کر اس میں ادرک کا سرکہ20گرام اور پودینہ کی چند پتیاں ڈال کر پیس لیں یہ نہایت خوش ذائقہ شربت ہو گا جو دل و دماغ کے لئے مفید ہے۔
گیس ریاح
بو علی سینا نے پودینہ کا کھانا اور چبانا ریاح و گیس کے لئے مفید قرار دیا ہے۔
ایک حکایت
پودینہ کے متعلق درج ذیل حکایت سے اس کی تاریخی حیثیت واضح ہوتی ہے نیز یہ کہ قدیم حکماء بھی اس سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ قدیم یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ نتھا ایک یونانی دوشیزہ کا نام تھا جس کا حسن و جمال قابل رشک تھا وہ یونانی دولت کے دیوتا (پلوٹو) کی محبوبہ تھی اور اسے پلوٹو کی اہلیہ پروسہ پائن ( ہندو عقائد کے مطابق دولت کی دیوی) نے حسد اور رشک کی بناء پر ایک نبات میں بدل دیا تھا اور اسی نبات کو لاطینی میں نتھا جبکہ اردو میں پودینہ کہتے ہیں۔ یونانی اطباء میں سے حکیم ساؤ فرطس نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اہل چین و جاپان بھی دو ہزار سال سے پودینہ کے خواص سے واقف ہیں۔ ماہرین طب نے جو تحقیقات کی ہیں اس کے مطابق یہ ایک اہم نبات ہے جو دوائی کے اعتبار سے استعمال ہوتی ہے اور بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں کثیر مقدار میں غذائی استعمال ہے اور اس کا سالن و سلاد خوشبو دار اور ہاضم چٹنی کے طور پر موسم گرما کی دوپہروں میں عام طور پر کیا جاتا ہے۔
محافظ حسن
پودینہ حسن کا محافظ بھی ہے۔ چہرے کے داغ دھبے ، کیل مہاسوں سے نجات کے لئے تازہ پودینہ خالص سلاد کے ساتھ پیس کر متاثرہ مقامات پر لیپ کیا جاتا ہے۔ چند دنوں میں داغ دھبے ، کیل مہاسے صاف ہو کر جلد کا رنگ نکھار دیتے ہیں۔ اتنی خصوصیات کا حامل عطیہ خداوندی پودینہ دعوت دیتا ہے کہ اس کے غذائی اور دوائی فوائد حاصل کریں۔
٭٭٭
This article is for educational purposes only and not a substitute for professional medical advice.
