مریض ذہنی طور پر بے چین اور پریشان رہتا ہے، خاص طور پر اپنی صحت کے بارے میں۔ اسے اپنے گردوں یا پیشاب کے مسائل کی وجہ سے مستقل خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں کوئی بڑی بیماری نہ ہو جائے۔ وہ جلد غصے میں آ جاتا ہے اور تنہائی پسند کرنے لگتا ہے۔
سیکسیفریگا مارجینیٹا (Saxifraga marginata) ہومیوپیتھی میں ایک اہم دوا ہے جو بنیادی طور پر گردوں اور مثانے کے مسائل کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا گردے کی پتھری کو تحلیل کرنے اور پیشاب کے نظام میں رکاوٹ کو دور کرنے میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے مریض میں عموماً کمر کے نچلے حصے میں درد اور پیشاب کے دوران جلن کی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ دوا جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج کو تیز کرتی ہے اور میٹابولک عمل کو درست کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
مریض کا مزاج سرد ہے (Chilly Patient)۔ علامات میں اضافہ سردی سے، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے اور حرکت کرنے سے ہوتا ہے۔ بہتری گرمائش، آرام کرنے اور گرم مشروبات کے استعمال سے محسوس ہوتی ہے۔
مریض کو سر چکرانے کی شکایت رہتی ہے، خاص طور پر جب وہ اچانک کھڑا ہوتا ہے۔ یہ چکر اکثر گردے کے درد یا پیشاب میں رکاوٹ کے دوران شدید ہو جاتے ہیں، جس کے ساتھ متلی کا احساس بھی ہوتا ہے۔
سر میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر پیشانی کے حصے میں۔ سر درد اکثر قبض یا نظام اخراج میں خرابی کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ درد عموماً دھڑکن دار ہوتا ہے جو حرکت کرنے سے بڑھ جاتا ہے۔
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن جاتے ہیں جو گردوں کی کمزوری کی علامت ہیں۔ نظر میں دھندلاپن محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر جب مریض کو پیشاب کرنے میں شدید تکلیف ہو۔
کانوں میں سائیں سائیں (tinnitus) کی آوازیں سنائی دینا، جو اکثر بلڈ پریشر یا گردوں کے مسائل کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔
چہرہ پیلا اور بے رونق دکھائی دیتا ہے۔ جلد خشک اور کھردری ہو سکتی ہے۔ ہونٹوں پر خشکی اور کریکس نمودار ہو سکتے ہیں۔
ناک میں خشکی کا احساس، اکثر شدید سردی کے موسم میں نزلہ زکام کی کیفیت رہتی ہے جس میں ناک سے پانی بہتا ہے۔
منہ کا ذائقہ کڑوا اور دھاتی محسوس ہوتا ہے۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے۔ دانتوں میں حساسیت اور مسوڑھوں سے ہلکی سوجن کی شکایت ہو سکتی ہے۔
گلے میں خراش اور خشکی کا احساس، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گلے میں کچھ پھنسا ہوا ہو۔ نگلنے میں معمولی دشواری ہو سکتی ہے۔
سانس لینے میں ہلکی سی تنگی محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر جب پیٹ میں گیس کا دباؤ ہو۔ دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی ہو سکتی ہے جو گردوں کے افعال سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
پیٹ میں گیس کا بہت زیادہ بننا، اپھارہ اور ہاضمے کی خرابی۔ پیٹ کے نچلے حصے میں دباؤ اور درد رہتا ہے۔ قبض کی شکایت اکثر رہتی ہے جس سے گردوں کا درد بڑھ جاتا ہے۔
یہ اس دوا کا سب سے اہم مرکز ہے۔ پیشاب میں پتھری کا اخراج، پیشاب کے دوران شدید جلن، بار بار پیشاب کی حاجت، پیشاب میں خون یا پیپ کا آنا۔ مثانے میں بوجھ اور پیشاب کرنے کے بعد بھی تسکین نہ ہونا۔
جوڑوں میں درد اور سوجن، خاص طور پر گھٹنوں میں۔ ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ اور کمزوری کا احساس رہتا ہے۔ ٹانگوں میں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
کمر کے نچلے حصے میں، خاص طور پر گردوں کے مقام پر شدید درد ہوتا ہے جو رانوں تک پھیل سکتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں اکڑن اور دبانے سے درد میں کمی محسوس ہوتی ہے۔
جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے یا خارش، جو جسم میں یورک ایسڈ یا زہریلے مادوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جلد کا رنگ زردی مائل ہو سکتا ہے۔
نیند میں خلل، بار بار پیشاب کی حاجت کے لیے اٹھنا پڑتا ہے۔ خوابوں میں پریشانی اور بے چینی رہتی ہے۔
مریض مجموعی طور پر کمزور اور نڈھال رہتا ہے۔ اسے ٹھنڈی ہوا سے شدید حساسیت ہوتی ہے۔ علامات کا تعلق اکثر نظام اخراج کی خرابیوں سے ہوتا ہے، جس سے خون میں ٹاکسن بڑھ جاتے ہیں۔
اس دوا کی تکمیلی ادویات میں بربیرس ولگیرس (Berberis vulgaris) شامل ہے، جو گردے کے درد کو مکمل طور پر ختم کرنے میں اس کی معاونت کرتی ہے۔ جب سیکسیفریگا پتھری کو توڑنے کا کام مکمل کر لیتی ہے، تو بربیرس اس کے اخراج میں مدد دیتی ہے، جس سے مریض کو مکمل شفا ملتی ہے۔
اس دوا کی کوئی خاص مخالف دوا نہیں ہے، تاہم بہت زیادہ طاقتور اینٹی بائیوٹکس یا کینتھیرس (Cantharis) کا فوری استعمال اس کے اثر کو زائل کر سکتا ہے۔ اگر دوا کا اثر بہت تیز ہو جائے تو کیمفر (Camphor) کو بطور اینٹی ڈوٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ دوا لائیکوپوڈیم (Lycopodium) کے بعد بہت اچھا کام کرتی ہے، خاص طور پر جب لائیکوپوڈیم علامات کو کم کر دے لیکن مکمل شفایابی نہ ہو۔ اس کے علاوہ سارساپریلا (Sarsaparilla) بھی اس کے بعد مفید ثابت ہوتی ہے جو پیشاب کی نالی میں باقی ماندہ جلن کو ختم کرتی ہے۔
Berberis vulgaris, Lycopodium, Hydrangea, Sarsaparilla
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔