ذہنی طور پر مریض شدید بے چینی اور مایوسی کا شکار رہتا ہے۔ اسے اپنی صحت کے حوالے سے مستقل تشویش رہتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے جسمانی اعضاء میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہے۔ ذہنی دباؤ کے دوران اسے تنہائی پسند آتی ہے اور وہ کسی سے بات کرنے کی خواہش نہیں رکھتا۔
سیکسیفریگا فرڈینینڈی-کوبورگی (Saxifraga ferdinandi-coburgii) ایک نایاب ہومیوپیتھک دوا ہے جو خاص طور پر پتھری (Lithiasis) اور گردے کی بیماریوں کے علاج میں اپنی افادیت رکھتی ہے۔ یہ دوا جسم کے اندرونی نظاموں، خاص طور پر پیشاب کے نالیوں میں جمع ہونے والے غیر معمولی مادوں کو تحلیل کرنے اور انہیں خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے کلیدی علامات میں اعصابی کمزوری کے ساتھ ساتھ جسمانی اعضاء میں کھنچاؤ اور درد شامل ہیں۔
یہ دوا بنیادی طور پر سرد مزاج (Chilly) مریضوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کی علامات ٹھنڈی ہوا، نمی اور رات کے وقت بڑھ جاتی ہیں (Aggravation)، جبکہ گرمی، سکون اور کھلی ہوا میں مریض خود کو بہتر محسوس کرتا ہے (Amelioration)۔
مریض کو اکثر چکر آنے کی شکایت رہتی ہے، خاص طور پر جب وہ اچانک اٹھتا ہے یا جھک کر کوئی کام کرتا ہے۔ چکروں کے ساتھ سر میں بوجھ اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانے کا احساس ہوتا ہے۔
سر میں درد کی کیفیت عموماً پیشانی اور کنپٹیوں کے گرد مرکوز ہوتی ہے۔ درد ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بھاری چیز سر پر رکھی گئی ہو۔ سر میں دباؤ اور کھنچاؤ کی کیفیت ہوتی ہے جو ذہنی تناؤ کے ساتھ بڑھ جاتی ہے۔
آنکھوں میں خشکی اور جلن کا احساس رہتا ہے۔ روشنی کے سامنے جانے پر آنکھوں میں چبھن محسوس ہوتی ہے اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں، جو کہ گردے کی خرابی کی علامات کی عکاسی کرتے ہیں۔
کانوں میں سن سناہٹ یا گونجنے کی آوازیں (Tinnitus) محسوس ہوتی ہیں۔ بعض اوقات کانوں میں بوجھ اور بندش کا احساس ہوتا ہے جو نزلہ زکام کے ساتھ شدت اختیار کر جاتا ہے۔
چہرہ پیلا اور بے رونق دکھائی دیتا ہے۔ جلد پر اکثر زردی مائل رنگت چھائی رہتی ہے، خاص طور پر آنکھوں کے نیچے سوجن اور پفینس (Puffiness) دیکھی جا سکتی ہے۔
ناک میں خشکی اور ناک کی اندرونی جھلیوں میں سوزش رہتی ہے۔ بار بار چھینکیں آنا اور ناک بند ہو جانا اس کی اہم علامات میں شامل ہیں۔
منہ کا ذائقہ اکثر تلخ رہتا ہے۔ زبان پر سفید یا زردی مائل تہہ جمی رہتی ہے۔ دانتوں میں حساسیت اور مسوڑھوں سے ہلکی سوجن کی شکایت رہ سکتی ہے۔
گلے میں خراش اور کچھ اٹکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ نگلتے وقت تکلیف ہوتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گلے کی نالی میں سوزش ہے۔
سینے میں بھاری پن اور گہری سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی اور سینے میں ہلکا درد محسوس ہوتا ہے جو گردے کے درد کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔
معدے میں تیزابیت اور پیٹ میں گیس کا بہت زیادہ دباؤ رہتا ہے۔ ہاضمہ سست ہوتا ہے اور کھانے کے بعد پیٹ پھول جاتا ہے۔ پیشاب میں رکاوٹ اور مثانے میں درد اس دوا کی سب سے بڑی انڈیکیشن ہے۔
گردے کی پتھری، مثانے میں ریت کا ہونا، پیشاب میں جلن اور بار بار حاجت ہونا اس دوا کے بنیادی شعبہ کار ہیں۔ پیشاب کا رنگ گدلا اور اس میں خون کے ذرات آ سکتے ہیں۔
جوڑوں میں درد اور اکڑن محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر صبح اٹھتے وقت ہاتھوں اور پیروں میں سوجن اور سختی کا احساس ہوتا ہے۔ پیروں میں ٹھنڈک اور بے چینی رہتی ہے۔
کمر کے نچلے حصے، خاص طور پر گردوں کے مقام پر درد اور کھنچاؤ رہتا ہے۔ کمر کی یہ تکلیف ٹانگوں تک پھیلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جو پتھری کے درد کی خاص علامت ہے۔
جلد خشک اور خارش زدہ رہتی ہے۔ بعض اوقات جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے ابھر آتے ہیں جو گردے کے ناقص اخراج کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
نیند میں خلل رہتا ہے۔ مریض کو رات کے وقت بے چینی ہوتی ہے اور وہ بار بار کروٹیں بدلتا ہے۔ خواب اکثر پریشان کن اور خوفناک ہوتے ہیں۔
مریض کی عمومی حالت سردی کے خلاف بہت حساس ہوتی ہے۔ یہ دوا جسم میں موجود زہریلے مادوں کو خارج کرنے اور میٹابولک عمل کو درست کرنے میں معاون ہے۔
اس دوا کی معاون ادویات میں بربیرس ولگیرس (Berberis vulgaris) اور ہائیڈرینجیا (Hydrangea) شامل ہیں۔ یہ ادویات اس وقت بہترین معاون ثابت ہوتی ہیں جب گردے کی پتھری کے درد کو کنٹرول کرنا ہو اور پیشاب کے بہاؤ کو معمول پر لانا مقصود ہو۔ یہ ایک دوسرے کے اثر کو مکمل کرتی ہیں اور مریض کی بحالی میں تیزی لاتی ہیں۔
اس دوا کی کوئی خاص متضاد دوا (Inimical) نہیں بتائی گئی، تاہم اس کے استعمال کے بعد بہت زیادہ تیزابی یا ترش اشیاء کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگر غلطی سے دوا کا اثر شدید ہو جائے تو کیمفر (Camphor) یا نکس وامیکا (Nux Vomica) بطور تریاق استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس دوا کے بعد بربیرس ولگیرس (Berberis vulgaris) بہت اچھا کام کرتی ہے۔ جب سیکسیفریگا پتھری کو توڑنے کا عمل شروع کر دیتی ہے، تو بربیرس اس کے اخراج میں مدد کرتی ہے اور گردے کے درد کو تسکین دیتی ہے۔
Berberis vulgaris, Lycopodium, Hydrangea, Calcarea renalis
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔