ذہنی طور پر مریض سست، مایوس اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ اسے اپنی صحت کے بارے میں شدید تشویش رہتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ کبھی مکمل ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس میں ذہنی تھکاوٹ، کام سے بیزاری اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ رات کے وقت تنہائی کا خوف اور موت کا وسوسہ بھی پایا جا سکتا ہے۔
نیوموکوکن ویک (Pneumococcen Vac. VI) ایک نوسوڈ (Nosode) ہے جو نمونیا کے جراثیم سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ دوا بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جن میں نمونیا کے بعد صحت بحال نہ ہو رہی ہو یا جو بار بار نزلہ، زکام اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کا اثر خاص طور پر تنفس کے نظام پر ہوتا ہے، جہاں یہ جسم کی مدافعتی قوت کو بڑھا کر پھیپھڑوں کے پرانے نقائص اور بلغم کے اخراج میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ کمزوری اور نقاہت کے ان کیسز میں مفید ہے جہاں مریض بیماری کے بعد پوری طرح روبہ صحت نہیں ہو پاتا۔
مریض عام طور پر سرد مزاج (Chilly) ہوتا ہے اور ٹھنڈی ہوا یا سرد موسم سے اس کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی تکالیف رات کے وقت، سرد ہوا کے جھونکوں سے، اور لیٹنے کی پوزیشن میں بڑھ جاتی ہیں۔ آرام کرنے سے، گرم ماحول میں، اور تازہ ہوا کے ہلکے جھونکوں سے مریض بہتری محسوس کرتا ہے۔
سر چکرانے کی کیفیت اکثر کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب مریض اچانک اٹھتا ہے تو اسے سر میں بھاری پن اور چکر محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے سر خالی ہو گیا ہے یا زمین گھوم رہی ہے۔ یہ کیفیت اکثر کھانسی کے شدید دوروں کے بعد زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
سر میں شدید درد، خاص طور پر پیشانی کے حصے میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ سر کا درد ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی بھاری چیز سر پر رکھی ہو۔ کھوپڑی کی جلد حساس ہو سکتی ہے اور بالوں میں گرنے کا رجحان یا خشکی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ درد اکثر دوپہر کے وقت بڑھ جاتا ہے۔
آنکھیں سرخ اور پانی سے بھری ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ نظر میں دھندلاپن ہو سکتا ہے، خاص طور پر بخار یا کھانسی کے دوران۔ پلکوں کے کناروں پر سوزش اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس دوا کے اہم علامات میں شامل ہیں۔
کانوں میں سائیں سائیں کی آوازیں (Tinnitus) آنا یا کانوں میں بھاری پن محسوس ہونا۔ نزلہ زکام کے بعد کان کے اندرونی حصے میں سوزش یا درد کا احساس ہو سکتا ہے، جو نگلنے کے عمل کے دوران بڑھ جاتا ہے۔
چہرہ اکثر زرد یا مٹیالا دکھائی دیتا ہے۔ رخساروں پر سرخی ہو سکتی ہے جو بخار کی علامت ہے۔ ہونٹ خشک اور پھٹے ہوئے ہوتے ہیں، اور منہ کے گرد اکثر پپڑی جم جاتی ہے۔ چہرے کے پٹھوں میں کھنچاؤ بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
ناک میں مسلسل خشکی یا پھر گاڑھا زرد مادہ خارج ہونا۔ ناک بند رہنا، خاص طور پر رات کے وقت، جس کی وجہ سے مریض کو منہ سے سانس لینا پڑتا ہے۔ ناک کے نتھنوں میں سوزش اور حسِ شامہ (سونگھنے کی صلاحیت) کا کم ہو جانا اس کے اہم علامات ہیں۔
زبان پر سفید یا بھوری تہہ جم جاتی ہے۔ منہ میں ذائقہ کڑوا یا دھاتی محسوس ہوتا ہے۔ دانتوں میں درد یا مسوڑھوں سے خون آنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ پیاس بہت زیادہ یا بالکل نہیں ہو سکتی، جو کہ انفیکشن کی نوعیت پر منحصر ہے۔
گلے میں خراش، خشکی اور ایسا احساس جیسے گلے میں کوئی چیز اٹکی ہوئی ہو۔ ٹانسلز میں ہلکی سوزش اور نگلتے وقت درد ہونا۔ گلا اکثر سرخ دکھائی دیتا ہے اور آواز میں بھاری پن یا بیٹھ جانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
یہ اس دوا کا سب سے اہم مرکز ہے۔ پھیپھڑوں میں جکڑن، گہری سانس لینے میں دشواری، اور سینے میں درد۔ کھانسی خشک یا بلغم والی ہو سکتی ہے، جس میں بلغم کا اخراج مشکل ہوتا ہے۔ سانس لیتے وقت سیٹی کی آواز آنا اور سینے میں بھاری پن اس کے کلیدی علامات ہیں۔
بھوک میں کمی یا بالکل ختم ہو جانا۔ پیٹ میں اپھارہ اور گیس کا دباؤ۔ ہاضمہ خراب رہتا ہے اور قبض یا کبھی کبھار بدہضمی کے ساتھ اسہال کی شکایت ہوتی ہے۔ جگر کے مقام پر بوجھ محسوس ہونا۔
پیشاب کا رنگ گہرا اور مقدار کم ہونا۔ پیشاب کے دوران جلن یا مثانے میں بوجھ کا احساس۔ جنسی خواہش میں کمی اور اعصابی کمزوری کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔
جوڑوں میں درد اور جسم میں ٹوٹ پھوٹ کا احساس۔ اعضاء میں سستی اور کمزوری، خاص طور پر ٹانگوں میں۔ چلتے وقت جلد تھک جانا۔ انگلیوں کے جوڑوں میں سوزش یا درد کا احساس ہو سکتا ہے۔
گردن کے پٹھوں میں اکڑن اور کمر کے نچلے حصے میں درد۔ ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے، خاص طور پر کھڑے ہونے یا چلنے کے دوران۔ کندھوں کے درمیان درد جو سانس لینے کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔
جلد اکثر خشک اور بے رونق ہوتی ہے۔ خارش کا رجحان ہو سکتا ہے، خاص طور پر گرم بستر میں۔ جلد پر چھوٹے دانے یا الرجی کے نشانات نمودار ہو سکتے ہیں۔ زخموں کا بھرنا سست ہوتا ہے۔
نیند میں خلل، بے چینی اور ڈراؤنے خواب۔ مریض سو نہیں پاتا کیونکہ اسے کھانسی یا سینے کی جکڑن تنگ کرتی ہے۔ دن کے وقت غنودگی اور رات کو بے خوابی کا تسلسل۔
مجموعی طور پر یہ دوا جسمانی قوتِ مدافعت کو بحال کرنے والی ہے۔ یہ ان مریضوں کے لیے بہترین ہے جو نمونیا یا شدید نزلہ زکام کے بعد اپنی پرانی صحت بحال نہیں کر پا رہے۔ اس کا مزاج سرد ہے اور یہ جسمانی اور ذہنی کمزوری کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
اس دوا کی معاون ادویات میں Phosphorus اور Antimonium Tartaricum شامل ہیں۔ یہ ادویات اس وقت بہترین کام کرتی ہیں جب Pneumococcen Vac. VI کے بعد پھیپھڑوں میں جمع شدہ رطوبت کو خارج کرنے یا سوزش کو ختم کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ دوائیں عملِ شفاء کو مکمل کرتی ہیں اور پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بحال کرتی ہیں۔
اس دوا کی کوئی خاص متضاد دوا نہیں ہے، لیکن احتیاط برتی جانی چاہیے کہ اسے بہت زیادہ طاقت (Potency) میں بار بار استعمال نہ کیا جائے۔ اگر مریض پر منفی اثرات ظاہر ہوں تو اسے Sulfur یا Tuberculinum کی ہلکی خوراک سے اینٹی ڈوٹ کیا جا سکتا ہے۔ شدید حساس مریضوں میں اسے دینے سے قبل مریض کی قوتِ حیات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
یہ دوا ان کیسز میں بہت اچھا کام کرتی ہے جہاں Bryonia یا Ferrum Phos نے ابتدائی سوزش کو تو روکا ہو لیکن مکمل صحت یابی نہ ہوئی ہو۔ یہ دوا نقاہت کے دور میں بھی بہت مفید ہے اور اس کے بعد Lycopodium یا Arsenic Album کا استعمال مریض کی مکمل بحالی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
Pneumococcinum, Phosphorus, Antimonium Tartaricum, Bryonia
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔