دماغی طور پر، مریض بے چین اور مضطرب محسوس کرتا ہے۔ خوف اور وہم نمایاں ہو سکتے ہیں۔ مریض کو اکثر اچانک غصہ آ جاتا ہے اور وہ جلدی پریشان ہو جاتا ہے۔ یادداشت کمزور ہو سکتی ہے اور چیزوں کو یاد رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ جذباتی طور پر، مریض حساس ہوتا ہے اور آسانی سے رو پڑتا ہے۔
Pleocnemia cumingiana ایک غیر معمولی دوا ہے جو خاص طور پر اعصابی نظام، جلد اور گلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کے اہم علامات میں جسم میں شدید درد، جلن، اور خارش شامل ہیں۔ مریض کو اکثر تھکاوٹ اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ جلد پر الرجی کی طرح کی پھنسیاں اور سوزش نمایاں ہوتی ہے۔ گلے میں شدید درد اور نگلنے میں دشواری ایک خاص نشانی ہے۔ یہ دوا ان حالات کے لیے مفید ہے جو کسی قسم کے الرجک ردعمل یا اعصابی تناؤ کے بعد پیدا ہوں۔
یہ دوا سرد مزاج والے افراد کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ سردی سے تکلیف بڑھ جاتی ہے (aggravation from cold)، خاص طور پر سرد ہوا اور سرد موسم میں۔ صبح کے وقت علامات بدتر ہو جاتی ہیں (aggravation in the morning)۔ گرمی سے یا گرم جگہ پر آرام ملتا ہے (amelioration from warmth)۔
سر چکرانا ایک نمایاں علامت ہے۔ یہ چکرانا خاص طور پر صبح کے وقت یا سردی لگنے کے بعد زیادہ ہوتا ہے۔ مریض کو ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ وہ گر جائے گا۔ یہ سر چکرانا حرکت کرنے یا سر ہلانے سے بڑھ جاتا ہے۔
سر درد، خاص طور پر پیشانی اور کنپٹیوں میں درد، ایک اہم علامت ہے۔ درد جلنے والا اور دباؤ والا محسوس ہو سکتا ہے۔ سر درد سردی لگنے یا سرد ہوا کے اثر سے بڑھ جاتا ہے۔ کھوپڑی پر خارش اور جلن کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔
آنکھوں میں جلن، خارش اور پانی بہنا نمایاں ہے۔ پلکوں میں سوجن اور لالی ہو سکتی ہے۔ بینائی دھندلی محسوس ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب کوئی چیز قریب سے دیکھی جائے۔ آنکھوں میں درد بھی ہو سکتا ہے جو سردی سے بڑھتا ہے۔
کانوں میں خارش، جلن اور درد ہو سکتا ہے۔ کانوں سے رطوبت کا اخراج بھی ممکن ہے جو جلنے والی نوعیت کی ہو۔ سردی لگنے سے کانوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ سماعت میں کمی بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
چہرے پر سوجن، لالی اور جلن کا احساس ہو سکتا ہے۔ گالوں پر سرخ دھبے نمودار ہو سکتے ہیں۔ ہونٹوں پر خشکی اور پھٹن ہو سکتی ہے۔ چہرے پر خارش بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
ناک میں جلن، خارش اور چھینکیں آنا نمایاں ہیں۔ نزلہ زکام ہو سکتا ہے جس میں ناک سے پتلا، جلنے والا پانی بہتا ہے۔ ناک کے اندر سوجن اور درد بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
منہ میں جلن اور خشکی محسوس ہو سکتی ہے۔ زبان پر سوجن یا جلن ہو سکتی ہے۔ ذائقہ میں تبدیلی محسوس ہو سکتی ہے، اکثر تلخ یا دھاتی ذائقہ۔ دانتوں میں درد بھی ہو سکتا ہے جو سردی سے بڑھ جاتا ہے۔
گلے میں شدید درد، جلن اور نگلنے میں دشواری ایک خاص علامت ہے۔ گلا خشک اور خراش والا محسوس ہوتا ہے۔ ٹانسلز میں سوجن اور لالی ہو سکتی ہے۔ گلے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ پھنسا ہوا ہے۔
سینے میں جلن اور درد محسوس ہو سکتا ہے۔ سانس لینے میں دشواری اور سینے میں جکڑن محسوس ہو سکتی ہے۔ کھانسی خشک اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے، جس سے گلے میں خراش بڑھ جاتی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔
پیٹ میں جلن اور درد ہو سکتا ہے۔ بھوک میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بدہضمی اور گیس کی شکایت ہو سکتی ہے۔ قبض یا اسہال دونوں ہو سکتے ہیں، اکثر جلن کے ساتھ۔ پیٹ میں درد سردی سے بڑھ جاتا ہے۔
پیشاب کے نظام میں جلن اور درد ہو سکتا ہے۔ مثانے میں سوزش اور بار بار پیشاب آنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ جنسی اعضاء میں خارش اور جلن بھی ممکن ہے۔ خواتین میں ماہواری کے دوران درد اور تکلیف بڑھ سکتی ہے۔
ہاتھوں اور پاؤں میں جلن، درد اور سوجن ہو سکتی ہے۔ جوڑوں میں درد اور اکڑن محسوس ہو سکتی ہے، خاص طور پر سرد موسم میں۔ انگلیوں اور پیروں کی انگلیوں میں ٹھنڈک اور سن پن محسوس ہو سکتا ہے۔
گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں درد اور اکڑن محسوس ہو سکتی ہے۔ گردن کے پٹھوں میں کھچاؤ محسوس ہو سکتا ہے۔ سردی لگنے سے یہ درد بڑھ جاتا ہے۔
جلد پر شدید خارش، جلن اور الرجی کی طرح کی پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں۔ جلد سرخ اور سوجی ہوئی نظر آ سکتی ہے۔ خارش رات کو اور سردی میں بڑھ جاتی ہے۔ جلد پر چھالے یا دانے بھی بن سکتے ہیں۔
نیند میں بے چینی اور بار بار جاگنا۔ مریض کو سونے میں دشواری ہوتی ہے۔ خواب پریشان کن اور خوفناک ہو سکتے ہیں۔ تھکاوٹ کی وجہ سے دن میں بھی نیند آتی ہے۔
جسم میں عمومی کمزوری اور تھکاوٹ نمایاں ہے۔ سردی سے تمام علامات بڑھ جاتی ہیں، خاص طور پر صبح کے وقت۔ جلنے والا درد اور خارش ایک خاص نشانی ہے۔ جسم کے کسی بھی حصے میں سوزش اور سوجن ہو سکتی ہے۔ جسم میں شدید درد اور اکڑن محسوس ہو سکتی ہے۔
Apis mellifica اس دوا کی بہترین معاون دوا ہے۔ اگر Pleocnemia cumingiana کے استعمال کے بعد گلے کی سوجن یا جلد کی سوزش میں بہتری نہ آئے تو Apis بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب جلن اور سوجن نمایاں ہو۔ Arsenicum album بھی ایک معاون دوا کے طور پر کام کر سکتی ہے، خاص طور پر جب مریض بے چین ہو اور اسے جلنے والے درد ہوں۔
Lachesis اس دوا کی سخت مخالف دوا ہے۔ Lachesis کے استعمال کے بعد Pleocnemia cumingiana دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ اسی طرح، شدید الرجک ردعمل میں استعمال ہونے والی دیگر ادویات کے بعد احتیاط ضروری ہے۔
Apis mellifica اور Arsenicum album کے بعد یہ دوا اچھی طرح کام کرتی ہے۔ اگر ان ادویات سے مکمل افاقہ نہ ہوا ہو اور کچھ باقی ماندہ علامات موجود ہوں، تو Pleocnemia cumingiana ان کو مکمل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
Lachesis, Apis mellifica, Arsenicum album
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔