مریض ذہنی طور پر بہت حساس اور چڑچڑا ہوتا ہے۔ اسے تنہائی کا خوف ہوتا ہے اور وہ ہر وقت کسی نہ کسی ذہنی دباؤ یا تشویش میں مبتلا رہتا ہے۔ توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی اس کی نمایاں ذہنی علامات ہیں۔
پٹوسپورم کریسیفولیم (Pittosporum crassifolium) ایک ایسی دوا ہے جو بنیادی طور پر اعصابی نظام اور جلد کے مسائل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ نیوزی لینڈ کے پودے سے تیار کی گئی ہے اور اس کا استعمال دائمی بیماریوں، خاص طور پر ان علامات میں کیا جاتا ہے جہاں مریض گہری تھکاوٹ اور بے چینی محسوس کرے۔ اس کے کلیدی علامات میں جسمانی کمزوری، اعصابی کھنچاؤ اور جلد کی حساسیت شامل ہیں۔ یہ دوا بنیادی طور پر ان مریضوں کے لیے مفید ہے جن میں قوتِ مدافعت کی کمی ہو اور جو جلد کے امراض یا اعصابی نقاہت کا شکار ہوں۔
مریض کا مزاج عمومی طور پر سرد (Chilly) ہوتا ہے۔ علامات میں اضافہ سردی، نم موسم اور رات کے وقت ہوتا ہے۔ سکون (Amelioration) گرمی پہنچانے، خشک موسم اور کھلی ہوا میں رہنے سے محسوس ہوتا ہے۔
مریض کو اکثر چکر محسوس ہوتے ہیں، خاص طور پر جب وہ اچانک اٹھتا ہے یا نیچے کی طرف دیکھتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سر میں بوجھ ہے اور توازن برقرار رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔
سر میں بھاری پن اور کنپٹیوں میں درد کی شکایت رہتی ہے۔ سر درد اکثر دھوپ میں جانے یا ذہنی تھکاوٹ کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سر کی جلد میں خشکی اور خارش کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔
آنکھوں میں جلن اور سرخی رہتی ہے۔ روشنی کے سامنے آنے سے آنکھوں میں پانی آتا ہے اور بینائی میں دھندلاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ آنکھوں کے گرد ہلکے پڑ جانا بھی ایک عام علامت ہے۔
کانوں میں سن سناہٹ یا گنگناہٹ (Tinnitus) کی شکایت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی کان بند ہونے کا احساس ہوتا ہے اور سننے کی صلاحیت میں عارضی کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔
چہرہ اکثر پیلا اور بے رونق نظر آتا ہے۔ ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں اور ان پر پپڑیاں جم سکتی ہیں۔ چہرے پر کیل مہاسے یا داغ دھبوں کی شکایت بھی دیکھی گئی ہے۔
ناک میں خشکی رہتی ہے اور اکثر چھینکیں آتی ہیں۔ نزلہ زکام کی صورت میں ناک سے پانی بہنا یا ناک کا بند ہو جانا عام ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔
منہ کا ذائقہ کڑوا یا بدمزہ رہتا ہے۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے۔ دانتوں میں حساسیت (Sensitivity) محسوس ہوتی ہے اور مسوڑھوں سے خون آنے کا رجحان بھی ہو سکتا ہے۔
گلے میں خراش اور سوجن محسوس ہوتی ہے۔ نگلتے وقت درد ہوتا ہے اور گلے میں کچھ پھنسا ہوا ہونے کا احساس (Globus Hystericus) غالب رہتا ہے۔
سینے میں جکڑن اور خشک کھانسی کی شکایت ہوتی ہے۔ سانس لینے میں دشواری یا سینے میں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہونا بھی اس دوا کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
بھوک میں کمی اور بدہضمی کا رجحان رہتا ہے۔ پیٹ میں گیس اور اپھارہ رہتا ہے۔ قبض کی شکایت عام ہے اور پاخانے کے دوران تکلیف یا بے چینی محسوس ہوتی ہے۔
پیشاب میں رکاوٹ یا بار بار پیشاب آنے کی حاجت ہوتی ہے۔ پیشاب کے رنگ میں تبدیلی اور جلن کا احساس ہو سکتا ہے۔ جنسی اعضاء میں کمزوری اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔
ہاتھ پاؤں میں سن پن اور جھنجھناہٹ رہتی ہے۔ جوڑوں میں درد اور ریڑھ کی ہڈی میں کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ ہاتھوں اور پیروں کے تلووں میں جلن ایک خاص علامت ہے۔
گردن اور کمر کے نچلے حصے میں شدید درد اور اکڑن محسوس ہوتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری اور چلتے وقت تھکاوٹ کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔
جلد خشک، کھردری اور خارش زدہ ہوتی ہے۔ جلد پر چھوٹے دانے یا چھالے بن سکتے ہیں جو گرمی سے بڑھ جاتے ہیں۔ زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے اور جلد پر نشانات رہ جاتے ہیں۔
نیند بے سکون ہوتی ہے۔ رات کے وقت بار بار آنکھ کھلنا اور ڈراؤنے خواب آنا عام ہے۔ مریض صبح اٹھ کر بھی خود کو تازہ دم محسوس نہیں کرتا۔
مریض کی عمومی حالت کمزوری اور اعصابی ٹوٹ پھوٹ کی طرف مائل ہوتی ہے۔ یہ دوا جسمانی نظام کو متوازن کرنے اور قوتِ مدافعت کو بحال کرنے میں مددگار ہے، بشرطیکہ مریض کی علامات سرد موسم اور آرام سے بڑھتی ہوں۔
اس دوا کے ساتھ کلسیریا کارب (Calcarea Carb) ایک بہترین معاون دوا ثابت ہوتی ہے، خاص طور پر جب مریض میں کیلشیم کی کمی اور ہڈیوں کی کمزوری ہو۔ یہ دوا پٹوسپورم کے اثرات کو مکمل کرتی ہے اور مریض کی بحالی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اس دوا کے مخالف اثرات رکھنے والی ادویات میں فاسفورس (Phosphorus) اور سلف (Sulphur) شامل ہیں۔ ان دواؤں کو پٹوسپورم کے فوراً بعد دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ علاج کے عمل کو الٹ سکتے ہیں یا مریض میں شدید ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔
سلیسیا (Silicea) اور لائکوپوڈیم (Lycopodium) اس دوا کے بعد بہت اچھا کام کرتی ہیں۔ جب پٹوسپورم سے ابتدائی بہتری آ جائے، تو یہ دوائیں مریض کی دیرپا شفا یابی اور اعصابی نظام کی مضبوطی کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہیں۔
Pulsatilla, Rhus Tox, Silicea, Calcarea Carb
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔