ذہنی طور پر مریض میں شدید بے چینی، چڑچڑاپن اور کام کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ مریض ہر وقت اپنے بلڈ پریشر کے بارے میں فکر مند رہتا ہے، جس سے اس کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ اسے خاموشی پسند ہوتی ہے اور شور و غل سے اسے ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لرکانیڈیپن (Lercanidipin) ایک کیلشیم چینل بلاکر کے طور پر ہومیوپیتھک دائرہ کار میں خون کے دباؤ کو کنٹرول کرنے والی ایک کلیدی دوا ہے۔ اس کا مرکزی اثر شریانوں کی دیواروں پر ہوتا ہے جہاں یہ عضلاتی تناؤ کو کم کر کے خون کے بہاؤ کو ہموار کرتی ہے۔ مریض میں اکثر ہائی بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں تیزی اور جسمانی کمزوری نمایاں ہوتی ہے۔ یہ دوا دورانِ خون کے نظام میں توازن قائم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، خاص طور پر جب مریض کو سر میں بوجھ اور اعصابی تناؤ محسوس ہو۔
مریض عمومی طور پر گرم مزاج (Hot) ہوتا ہے جسے گرمی سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ علامات میں شدت دوپہر کے وقت اور جسمانی مشقت کے بعد آتی ہے۔ سکون (Amelioration) ٹھنڈی ہوا میں بیٹھنے، آرام کرنے اور کھلی فضا میں چہل قدمی کرنے سے ملتا ہے۔
سر چکرانے کی شکایت اکثر بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ مریض کو محسوس ہوتا ہے جیسے کمرہ گھوم رہا ہے، خاص طور پر جب وہ اچانک بستر سے اٹھتا ہے۔ یہ کیفیت اکثر صبح کے وقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
سر میں بھاری پن اور کنپٹیوں میں درد اس کی اہم علامت ہے۔ درد ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی چیز سر کو اندر سے دبا رہی ہو۔ کھوپڑی میں شدید تناؤ محسوس ہوتا ہے جو گردن کے پٹھوں تک پھیل جاتا ہے، جس سے مریض کو شدید کوفت ہوتی ہے۔
آنکھوں کے سامنے دھندلاپن اور روشنی کے تئیں حساسیت پائی جاتی ہے۔ کبھی کبھی مریض کو آنکھوں کے سامنے چمکتی ہوئی لہریں نظر آتی ہیں جو کہ بلند فشارِ خون کا اشارہ ہو سکتی ہیں۔
کانوں میں سائیں سائیں (Tinnitus) کی آوازیں آنا ایک عام علامت ہے۔ یہ آوازیں اکثر دل کی دھڑکن کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں اور مریض کو ذہنی طور پر پریشان کرتی ہیں۔
چہرہ اکثر سرخ اور گرم محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر جذباتی ہونے پر یا چلنے پھرنے کے بعد۔ ہونٹوں پر خشکی اور کبھی کبھی نیلاہٹ محسوس ہو سکتی ہے۔
ناک میں خشکی کا احساس اور کبھی کبھی نزلہ زکام کے ساتھ بلڈ پریشر کا بڑھ جانا دیکھا گیا ہے۔ ناک کے اندرونی حصوں میں جلن محسوس ہو سکتی ہے۔
منہ کا ذائقہ اکثر کڑوا یا دھاتی (Metallic) محسوس ہوتا ہے۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے اور مسوڑھوں میں سوجن یا خون آنے کا رجحان ہو سکتا ہے۔
گلے میں تنگی کا احساس ہوتا ہے جیسے کوئی چیز پھنسی ہوئی ہو۔ اکثر خشک کھانسی کے ساتھ گلے میں خراش محسوس ہوتی ہے جو بلڈ پریشر کی دواؤں کے ضمنی اثرات کے طور پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
سینے میں بھاری پن، دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہونا اور سانس لینے میں دشواری اس دوا کے کلیدی علامات ہیں۔ دل کے مقام پر دباؤ محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر بائیں کروٹ سونے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
معدے میں تیزابیت، اپھارہ اور ہاضمے کی خرابی عام ہے۔ پیٹ میں گیس بھر جانے سے دل کی دھڑکن پر اثر پڑتا ہے، جس سے مریض مزید بے چین ہو جاتا ہے۔ قبض کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔
پیشاب کی مقدار میں کمی اور پیشاب کے دوران جلن محسوس ہو سکتی ہے۔ گردوں کے افعال میں سستی کا رجحان پایا جاتا ہے، جس سے جسم میں پانی رکنے کا خدشہ رہتا ہے۔
ہاتھوں اور پیروں میں سوجن (Edema)، جو شام کے وقت بڑھ جاتی ہے۔ جوڑوں میں ہلکا درد اور پٹھوں میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ چلتے وقت ٹانگوں میں بھاری پن کا احساس ہوتا ہے۔
گردن کے پچھلے حصے میں شدید کھچاؤ اور درد ہوتا ہے جو کندھوں تک جاتا ہے۔ کمر کے نچلے حصے میں تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس غالب رہتا ہے۔
جلد پر خارش، سرخی اور گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ خاص طور پر چہرے اور گردن پر سرخ دھبے نمودار ہو سکتے ہیں۔ جلد اکثر لمس کے لیے حساس ہوتی ہے۔
نیند میں خلل، رات کو بار بار جاگنا اور خوفناک خواب دیکھنا اس دوا کے مریضوں میں عام ہے۔ مریض سوتے ہوئے چونک کر اٹھ جاتا ہے اور دل کی دھڑکن تیز محسوس کرتا ہے۔
یہ دوا ان افراد کے لیے موزوں ہے جو ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہوں اور جنہیں جسمانی مشقت کے بعد شدید تھکاوٹ اور دل کی دھڑکن میں تیزی کا سامنا ہو۔ یہ دوا دورانِ خون کو کنٹرول کر کے مجموعی صحت میں بہتری لاتی ہے۔
Crataegus اور Baryta Mur اس دوا کی معاون ادویات ہیں۔ Crataegus دل کے عضلات کو طاقت دیتی ہے جبکہ Baryta Mur شریانوں کے سخت پن کو دور کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ ادویات مل کر ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں مکمل شفایابی کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔
اس دوا کے ساتھ Coffea اور Nux Vomica کا استعمال محتاط انداز میں کرنا چاہیے۔ اگر مریض میں اعصابی ہیجان بہت زیادہ ہو تو ان ادویات سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ دوا کے اثر کو زائل کر سکتی ہیں یا مریض کی علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔
اس دوا کے بعد Crataegus Oxyacantha بہترین کام کرتی ہے، خاص طور پر جب دل کی دھڑکن کو باقاعدہ بنانا مقصود ہو۔ اس کے علاوہ اگر مریض میں معدے کے مسائل بھی ہوں تو Nux Vomica اس کی علامات کو مکمل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
Lachesis, Glonoinum, Crataegus, Baryta Mur
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔