ذہنی طور پر مریض کافی مضطرب اور بے چین ہوتا ہے۔ اسے اپنی صحت کے حوالے سے تشویش رہتی ہے، خاص طور پر جب کھانسی کا دورہ پڑ رہا ہو۔ مریض کو تنہائی پسند نہیں ہوتی اور وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے پاس موجود رہے۔
ایلیسیئم فلوریڈانم (Illicium floridanum) ایک اہم ہومیوپیتھک دوا ہے جو خاص طور پر سینے کے امراض، دائمی کھانسی اور نظام تنفس کی خرابیوں میں غیر معمولی افادیت رکھتی ہے۔ یہ دوا بلغم کے اخراج، پھیپھڑوں میں درد اور سینے کی جکڑن کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی اثر سانس کی نالیوں اور ہاضمے کے نظام پر ہوتا ہے، جہاں یہ سکون بخش اور سوزش دور کرنے والی خصوصیات ظاہر کرتی ہے۔
مریض عمومی طور پر سرد مزاج (Chilly) ہوتا ہے۔ تکالیف میں زیادتی (Aggravation): شام کے وقت، سرد ہوا میں، اور حرکت کرنے سے۔ بہتری (Amelioration): گرم مشروبات پینے سے، آرام کرنے سے اور سینے کو گرم رکھنے سے آرام ملتا ہے۔
سر چکرانے کی شکایت اکثر معدے کی خرابی یا سینے میں شدید دباؤ کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ جب مریض کھڑا ہوتا ہے یا اچانک حرکت کرتا ہے تو اسے سر چکرانے کا احساس ہوتا ہے جیسے وہ گر جائے گا۔
سر میں بھاری پن اور پیشانی کے حصے میں درد کا احساس رہتا ہے۔ سر درد اکثر سردی لگنے یا سینے کی تکلیف کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور گرمی سے افاقہ ہوتا ہے۔
آنکھوں سے پانی بہنا اور روشنی کے تئیں حساسیت اس دوا کے اہم علامات ہیں۔ آنکھوں میں جلن اور سرخی ہو سکتی ہے جو کہ نزلے کی کیفیت کے دوران زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
کانوں میں سن سناہٹ یا بھاری پن کا احساس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کانوں میں درد کی شکایت ہوتی ہے جو گلے کی سوزش کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔
چہرہ اکثر پیلا اور بے رونق دکھائی دیتا ہے۔ کھانسی کے شدید دوروں کے دوران چہرے پر سرخی آ سکتی ہے، اور ہونٹ خشک اور پھٹے ہوئے محسوس ہو سکتے ہیں۔
ناک سے پانی بہنا (Coryza) اور ناک کی بندش اس دوا کی خاص علامت ہے۔ ناک کے اندر خشکی کا احساس ہوتا ہے اور چھینکیں بکثرت آتی ہیں۔
منہ میں ذائقہ خراب رہتا ہے، خاص طور پر صبح کے وقت۔ زبان پر سفید تہہ جم سکتی ہے۔ دانتوں میں درد کا احساس ہو سکتا ہے جو سرد ہوا لگنے سے بڑھ جاتا ہے۔
گلے میں خراش، خشکی اور بلغم کا احساس ہوتا ہے۔ گلا بار بار صاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ٹانسلز میں ہلکی سوجن اور نگلتے وقت تکلیف ہو سکتی ہے۔
یہ دوا سینے کے لیے ایک اکسیر ہے۔ پھیپھڑوں میں شدید درد، خاص طور پر دائیں جانب، اور کھانسی کے ساتھ بلغم کا مشکل سے اخراج اس کی خاص علامات ہیں۔ سینے میں جکڑن اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔
بھوک میں کمی، بدہضمی، اور پیٹ میں گیس کا بننا اس کے نمایاں علامات ہیں۔ قبض یا اسہال کی کیفیت ہو سکتی ہے، اور معدے میں جلن کا احساس رہتا ہے۔
پیشاب کی مقدار میں کمی یا بار بار پیشاب آنے کی حاجت ہو سکتی ہے۔ پیشاب کے دوران جلن کا احساس ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر مریض کو سردی لگی ہو۔
ہاتھ پاؤں میں کمزوری اور جوڑوں میں درد کا احساس رہتا ہے۔ جوڑوں کا درد ٹھنڈے موسم میں بڑھ جاتا ہے اور گرمی سے سکون ملتا ہے۔
گردن اور کمر کے پٹھوں میں کھچاؤ رہتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے، خاص طور پر جب مریض زیادہ دیر تک کھڑا رہتا ہے۔
جلد پر خشکی اور خارش ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے یا سوزش نمایاں ہوتی ہے جو سردی کے اثر سے بڑھتی ہے۔
نیند میں خلل پڑتا ہے، خاص طور پر کھانسی کی وجہ سے۔ مریض کو بار بار جاگنا پڑتا ہے اور رات کے وقت بے چینی بڑھ جاتی ہے۔
یہ دوا خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو دائمی نزلہ زکام اور پھیپھڑوں کی کمزوری کا شکار ہوں۔ سرد موسم کے اثرات کو زائل کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
اس دوا کے ساتھ Lycopodium اور Phosphorus بہت اچھی معاونت کرتی ہیں۔ جب ایلیسیئم کے اثرات کے بعد کسی گہری تبدیلی کی ضرورت ہو یا مریض کی حالت رک جائے تو یہ ادویات اس کے اثر کو مکمل کرتی ہیں اور شفایابی کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔
اس دوا کے لیے کوئی خاص دشمن دوا (Inimical) نمایاں نہیں ہے، تاہم اس کے استعمال کے بعد بہت زیادہ تیز اثر ادویات جیسے کہ Coffea یا Camphor سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ اس کے اثرات میں خلل نہ پڑے۔
یہ دوا اکثر ان مریضوں میں بہت اچھا کام کرتی ہے جنہیں کھانسی کے لیے Drosera دی گئی ہو لیکن مکمل افاقہ نہ ہوا ہو۔ اس کے بعد Hepar Sulph کا استعمال بھی شفا کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
Drosera, Stannum, Phosphorus, Bryonia
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔