ذہنی طور پر مریض شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ان دیکھی مصیبت آنے والی ہے۔ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور مریض چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑچڑا پن ظاہر کرتا ہے۔ تنہائی پسند ہو جاتا ہے اور گفتگو کرنے سے گریز کرتا ہے۔
ایلیسیوفیلم پینیٹم (Ellisiophyllum pinnatum) ایک کم معروف مگر اہم ہومیوپیتھک دوا ہے جو بنیادی طور پر اعصابی کمزوری اور ہاضمے کے نظام کے بگاڑ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس دوا کی کلیدی خصوصیت جسمانی تھکن کے ساتھ ساتھ ذہنی خلفشار کا ہونا ہے۔ مریض خود کو ہر وقت نڈھال محسوس کرتا ہے اور اسے کسی بھی کام میں دلچسپی نہیں رہتی۔ یہ دوا خاص طور پر ان علامات میں مفید ہے جہاں اعصاب کا توازن بگڑ چکا ہو اور جسمانی غدود اپنی کارکردگی ٹھیک طرح سے سرانجام نہ دے رہے ہوں۔
یہ دوا سرد مزاج (Chilly) مریضوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ علامات میں اضافہ (Aggravation) ٹھنڈی ہوا، رات کے وقت، اور ذہنی دباؤ کے دوران ہوتا ہے۔ بہتری (Amelioration) گرم ماحول، آرام کرنے، اور ہلکی چہل قدمی سے محسوس ہوتی ہے۔
سر چکرانے کی کیفیت اکثر اٹھتے بیٹھتے محسوس ہوتی ہے۔ مریض کو ایسا لگتا ہے جیسے سر میں بوجھ ہے اور آنکھیں بند کرنے پر توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ چکر اکثر معدے کی خرابی یا ذہنی تناؤ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔
سر میں بھاری پن اور پیشانی کے حصے میں دباؤ والا درد محسوس ہوتا ہے۔ درد ایسا ہوتا ہے جیسے سر کو کسی پٹی سے جکڑ دیا گیا ہو۔ سر کی جلد میں حساسیت پائی جاتی ہے اور بال گرنے کی شکایت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
آنکھوں میں جلن اور سرخی رہتی ہے۔ روشنی کے سامنے جانے سے آنکھوں میں تکلیف ہوتی ہے اور بصارت میں دھندلاپن محسوس ہوتا ہے۔ طویل وقت تک پڑھنے یا اسکرین دیکھنے سے آنکھوں میں تھکن کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
کانوں میں سنسناہٹ یا گنگناہٹ کی آوازیں (Tinnitus) سنائی دیتی ہیں۔ سرد ہوا لگنے سے کانوں میں درد محسوس ہوتا ہے اور کبھی کبھی سماعت میں عارضی کمی محسوس ہوتی ہے۔
چہرہ اکثر زرد اور بے رونق دکھائی دیتا ہے۔ گالوں پر ہلکی سرخی یا خشکی کے دھبے بن سکتے ہیں۔ ہونٹوں کا خشک ہونا اور ان کے کناروں پر زخم بننا اس دوا کی ایک علامت ہے۔
ناک میں خشکی کا احساس رہتا ہے اور چھینکیں زیادہ آتی ہیں۔ ناک کے اندرونی حصے میں سوزش محسوس ہوتی ہے جس سے سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
منہ کا ذائقہ اکثر کڑوا یا دھاتی محسوس ہوتا ہے۔ زبان پر سفید تہہ جمی ہوتی ہے اور مسوڑھوں سے ہلکی سوجن یا خون آنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔
گلے میں خراش اور کچھ اٹکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ نگلتے وقت تکلیف ہوتی ہے اور گلے میں خشکی کا مستقل احساس رہتا ہے جس سے بار بار پانی پینے کی خواہش ہوتی ہے۔
سینے میں گھٹن کا احساس ہوتا ہے اور سانس لینے میں گہرائی نہیں رہتی۔ کھانسی خشک ہوتی ہے جو رات کے وقت شدت اختیار کر لیتی ہے۔ دل کی دھڑکن کبھی تیز تو کبھی سست ہو جاتی ہے۔
بھوک میں کمی اور ہاضمے کی کمزوری نمایاں ہے۔ معدے میں گیس اور اپھارہ رہتا ہے۔ قبض کی شکایت اکثر رہتی ہے اور پاخانہ خارج کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پیشاب میں رکاوٹ یا بار بار پیشاب آنے کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔ پیشاب کا رنگ گہرا ہو سکتا ہے۔ جنسی اعضاء میں کمزوری اور خواہش کی کمی کا احساس پایا جاتا ہے۔
ہاتھ پاؤں میں ٹھنڈک کا احساس اور جوڑوں میں ہلکا درد رہتا ہے۔ چلتے وقت پاؤں میں بوجھ محسوس ہوتا ہے اور تھوڑی سی مشقت سے ہی جسم میں تھکن آ جاتی ہے۔
گردن کے پٹھوں میں کھچاؤ اور درد رہتا ہے۔ کمر کے نچلے حصے میں درد ہوتا ہے جو ٹانگوں تک جاتا ہے، خاص طور پر بیٹھنے کی غلط پوزیشن سے یہ درد بڑھ جاتا ہے۔
جلد خشک اور حساس ہوتی ہے۔ معمولی چوٹ لگنے سے نشان پڑ جاتے ہیں اور جلد پر خارش کے چھوٹے چھوٹے دانے ابھر سکتے ہیں جو گرمی سے مزید بڑھ جاتے ہیں۔
نیند کا معیار خراب ہوتا ہے۔ مریض کو نیند میں خلل رہتا ہے اور خوفناک خواب آتے ہیں۔ سو کر اٹھنے کے بعد بھی جسم میں تازگی کے بجائے تھکن محسوس ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ دوا اعصابی کمزوری اور ہاضمے کی خرابی کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔ اس کا مریض کمزور، سرد مزاج اور ذہنی طور پر پریشان ہوتا ہے۔ موسم سرما میں اس کی علامات میں شدت آ جاتی ہے۔
اس دوا کی معاون ادویات میں فاسفورس اور جیلسیمیم شامل ہیں۔ جب ایلیسیوفیلم پینیٹم کے استعمال کے بعد مریض کی علامات میں ایک خاص سطح تک بہتری آ جائے لیکن مکمل شفایابی نہ ہو رہی ہو، تو یہ معاون ادویات علاج کے عمل کو مکمل کرنے میں مدد دیتی ہیں، خاص طور پر اعصابی بحالی کے لیے۔
اس دوا کی مخالف ادویات میں کچھ مخصوص تیز اثر کرنے والی دوائیں شامل ہیں جن کا استعمال اس کے بعد نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر کافی کا استعمال اور کثرت سے استعمال ہونے والی ایلوپیتھک مسکن ادویات اس کے اثر کو زائل کر سکتی ہیں۔ اگر اس کے بعد کوئی ایسی دوا دی جائے تو یہ مریض کے لیے شدید ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ دوا جیلسیمیم اور اگنیشیا کے بعد بہت اچھا کام کرتی ہے۔ جب مریض جذباتی صدمے یا اعصابی تھکن کے بعد ایک طویل عرصے سے سستی اور کاہلی کا شکار ہو، تو یہ دوا ان دوائیوں کے اثر کو مزید گہرا اور دیرپا بناتی ہے۔
Gelsemium, Pulsatilla, Ignatia, Phosphorus
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔