ذہنی طور پر مریض چڑچڑا اور بے چین ہوتا ہے۔ اسے اپنی جلد کی تکلیف یا جسمانی درد کی وجہ سے ذہنی سکون نہیں ملتا۔ مریض میں ایک قسم کی خاموش افسردگی پائی جاتی ہے، اسے تنہائی پسند ہوتی ہے اور وہ اپنی تکلیف کے بارے میں زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتا۔
کراسولا اوربی کولیرس (Crassula orbicularis) ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں ایک ایسی دوا ہے جو بنیادی طور پر جلد اور سوزشی کیفیات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ نباتاتی طور پر سکولنٹ (Succulent) خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا مزاج ٹھنڈا اور سکون بخش ہے۔ اس دوا کا کلیدی اثر جسمانی اعضاء میں ہونے والی سوزش، زخموں کے بھرنے اور جلد کی غیر معمولی نشوونما پر ہوتا ہے۔ یہ ان مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے جن کی جلد حساس ہو اور جو بیرونی زخموں یا جلن کی شکایت کرتے ہوں۔
یہ دوا عام طور پر سرد مزاج رکھتی ہے۔ اس کی تکالیف میں گرمی سے اضافہ ہوتا ہے اور ٹھنڈی ہوا یا ٹھنڈے پانی کے استعمال سے آرام ملتا ہے۔ صبح کے وقت تکالیف میں شدت دیکھی جا سکتی ہے جبکہ شام اور رات کے وقت مریض خود کو نسبتاً بہتر محسوس کرتا ہے۔
سر چکرانے کی شکایت اس وقت ہوتی ہے جب مریض اچانک اٹھتا ہے یا جھک کر کوئی کام کرتا ہے۔ سر میں ہلکا پن محسوس ہوتا ہے جیسے دماغ خالی ہو گیا ہو۔
سر درد کا مرکز زیادہ تر پیشانی کا حصہ ہوتا ہے۔ درد دباؤ والا ہوتا ہے جیسے سر پر کوئی وزنی چیز رکھی گئی ہو۔ بالوں کی جڑوں میں جلن اور خشکی کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔
آنکھوں میں جلن اور خشکی رہتی ہے۔ روشنی کے سامنے آنے سے آنکھوں میں چبھن محسوس ہوتی ہے اور آنکھوں کے گرد سوجن یا سرخی نمودار ہو سکتی ہے۔
کانوں میں سنسناہٹ اور بھاری پن کا احساس ہوتا ہے۔ کانوں کے اندرونی حصے میں کبھی کبھی خارش محسوس ہوتی ہے جو ٹھنڈی ہوا لگنے سے بڑھ جاتی ہے۔
چہرے کی جلد خشک اور کھردری ہو جاتی ہے۔ ہونٹوں پر خشکی اور کریک (Cracks) پڑنے کا رجحان ہوتا ہے۔ چہرے پر چھوٹے چھوٹے دانے نکل سکتے ہیں جن میں جلن ہوتی ہے۔
ناک میں خشکی اور کبھی کبھار ناک کے اندرونی حصوں میں سوزش محسوس ہوتی ہے۔ چھینکیں آتی ہیں، خاص طور پر صبح کے وقت، اور ناک کے نتھنوں میں خارش ہوتی ہے۔
منہ کا ذائقہ کڑوا یا دھاتی محسوس ہوتا ہے۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے۔ مسوڑھوں میں سوزش اور ہلکی سوجن کی شکایت رہتی ہے۔
گلے میں خراش اور خشکی کا احساس ہوتا ہے۔ نگلتے وقت تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے گلے میں کوئی چیز پھنسی ہوئی ہو۔
سینے میں جکڑن اور بھاری پن کا احساس ہوتا ہے۔ کھانسی خشک ہوتی ہے اور سانس لینے میں کبھی کبھی دقت محسوس ہوتی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے خاص طور پر جذباتی دباؤ کے وقت۔
معدے میں تیزابیت اور جلن رہتی ہے۔ بھوک کم لگتی ہے اور پیٹ میں گیس کا دباؤ رہتا ہے۔ ہاضمہ سست ہوتا ہے اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔
پیشاب میں جلن اور بار بار حاجت کا احساس ہوتا ہے۔ مثانے میں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ جنسی اعضاء میں خارش اور سوزش کی کیفیات دیکھی گئی ہیں۔
ہاتھوں اور پیروں کے جوڑوں میں ہلکا درد اور اکڑن محسوس ہوتی ہے۔ جلد کی خشکی کی وجہ سے ایڑیاں پھٹ جاتی ہیں۔ انگلیوں کے پوروں میں جلن رہتی ہے۔
گردن اور کمر کے نچلے حصے میں کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں ہلکا درد رہتا ہے جو بیٹھنے کی غلط پوزیشن سے بڑھ جاتا ہے۔
یہ اس دوا کا سب سے اہم مرکز ہے۔ جلد پر دانے، پھوڑے اور سوزش دار زخم بنتے ہیں۔ جلد سرخ ہو جاتی ہے اور اس میں جلن دار خارش ہوتی ہے۔ زخم دیر سے بھرتے ہیں۔
نیند میں بے چینی رہتی ہے۔ مریض کو خواب میں پریشانی محسوس ہوتی ہے۔ رات کے وقت بار بار آنکھ کھل جاتی ہے جس کی وجہ جسمانی بے آرامی ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ دوا جلد کے مسائل، سوزش اور خشکی کے لیے اکسیر ہے۔ اس کا مزاج ٹھنڈا ہے، اس لیے مریض گرمی کو برداشت نہیں کر پاتا اور ٹھنڈی ہوا سے اسے سکون ملتا ہے۔
اس دوا کی تکمیلی ادویات میں کیلنڈولا (Calendula) اور آرنیکا (Arnica) شامل ہیں۔ جب کراسولا زخموں کی ابتدائی سوزش کو کم کر دیتی ہے تو کیلنڈولا اسے مکمل طور پر بھرنے اور انفیکشن سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ آرنیکا اس کے ساتھ مل کر چوٹ کے بعد ہونے والے درد اور سوجن کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
اس دوا کے لیے کوئی خاص دشمن دوا تو نہیں ہے، تاہم ہومیوپیتھک اصولوں کے مطابق تیز خوشبو والی ادویات جیسے کہ کیمفر (Camphor) اس کے اثر کو زائل کر سکتی ہیں۔ اسے استعمال کرتے وقت کافی اور پودینے (Mint) کے استعمال سے احتیاط کرنی چاہیے تاکہ علاج میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
کراسولا کے بعد سلفر (Sulphur) اور کینتھرس (Cantharis) بہت اچھا کام کرتی ہیں۔ جہاں کراسولا جلدی سوزش کو کم کرتی ہے، وہاں کینتھرس جلن کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جبکہ سلفر جلد کی گہری بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اس کے بعد تجویز کی جاتی ہے۔
Sedum acre, Aloe socotrina, Sempervivum tectorum
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔