ذہنی طور پر مریض شدید درد کی وجہ سے چڑچڑا اور بے چین رہتا ہے۔ درد کی شدت اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا۔ اسے اپنی بیماری کے حوالے سے مایوسی اور پریشانی رہتی ہے، خاص طور پر جب درد رات کو بڑھ جاتا ہے۔
کوریڈالس سولِڈا (Corydalis solida) ہومیوپیتھی میں خاص طور پر ان تکالیف کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کا تعلق اعصابی دردوں، شدید قسم کے گٹھیا (Rheumatism) اور ہڈیوں کے درد سے ہوتا ہے۔ یہ دوا خاص طور پر ان مریضوں کے لیے مفید ہے جو پرانے اور شدید دردوں میں مبتلا ہوں، خاص طور پر جہاں درد کی نوعیت ٹیسیں مارنے والی یا کاٹنے والی ہو۔ یہ دوا جسمانی کمزوری اور طویل بیماری کے بعد پیدا ہونے والی نقاہت کو دور کرنے میں بھی معاونت کرتی ہے۔ اس کا اثر خاص طور پر اعصابی نظام اور ہڈیوں کے جوڑوں پر بہت گہرا پایا جاتا ہے۔
مریض کا مزاج عام طور پر سرد (Chilly) ہوتا ہے اور اسے ٹھنڈی ہوا یا سردی سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی تکالیف میں رات کے وقت، حرکت کرنے سے، اور سردی کے موسم میں شدت آتی ہے۔ آرام کرنے، گرم کپڑے اوڑھنے، اور گرمی سے اسے سکون محسوس ہوتا ہے۔
سر چکرانے کی شکایت عام طور پر تب ہوتی ہے جب مریض اچانک اٹھتا ہے یا چلتے ہوئے رکتا ہے۔ سر میں بھاری پن اور ایسا محسوس ہونا کہ جیسے سر کسی نے باندھ رکھا ہو، اس دوا کی ایک خاص علامت ہے۔
سر کے درد میں خاص طور پر پیشانی اور سر کے پچھلے حصے میں درد ہوتا ہے۔ درد کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی نوکیلی چیز چبھ رہی ہو۔ سر میں گرمی کا احساس اور بالوں کی جڑوں میں درد محسوس ہونا اس دوا کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
آنکھوں کے ارد گرد درد، روشنی سے حساسیت، اور آنکھوں میں سرخی کا ہونا۔ بعض اوقات نظر کا دھندلا جانا خاص طور پر جب مریض کو شدید سر درد کی شکایت ہو۔
کانوں میں سائیں سائیں کی آوازیں (Tinnitus) اور کان کے اندرونی حصے میں چبھن محسوس ہونا۔ سرد ہوا کے اثر سے کان کے درد میں اضافہ ہونا۔
چہرے کے پٹھوں میں کھنچاؤ اور درد کا احساس۔ چہرے پر اعصابی درد (Neuralgia) جو کانوں کی طرف جاتا ہو، اس دوا سے کافی حد تک ٹھیک ہو سکتا ہے۔
ناک کی نالیوں میں خشکی اور بعض اوقات چھینکوں کے ساتھ ناک بند ہونا، خاص طور پر سرد موسم کے آغاز میں۔
منہ میں ذائقہ کا کڑوا ہونا، زبان پر سفید تہہ کا جمنا، اور دانتوں میں درد کا احساس جو جبڑے تک پھیل جاتا ہے۔
گلے میں خشکی اور نگلتے وقت درد ہونا۔ گلے کے غدود میں معمولی سوجن جو سردی لگنے سے بڑھ جاتی ہے۔
سینے میں جکڑن اور سانس لینے میں دشواری، خاص طور پر جب مریض لیٹتا ہے۔ دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہونا اگر اس کا تعلق کسی پرانے اعصابی درد یا گٹھیا سے ہو۔
بدہضمی، پیٹ میں گیس کا بننا، اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد۔ بھوک میں کمی اور کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن کا احساس۔
پیشاب میں رکاوٹ یا جلن، پیشاب کی نالی میں درد کا احساس۔ مردانہ اور زنانہ تولیدی اعضاء میں اعصابی درد کی شکایت۔
یہ اس دوا کا سب سے اہم مرکز ہے۔ جوڑوں کا درد، سوجن، اور حرکت کرنے میں دشواری۔ ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں ٹیسیں اٹھنا، جو سردی سے بڑھ جاتی ہیں۔ گٹھیا کے پرانے مریضوں کے لیے یہ اکسیر ہے۔
گردن کے پٹھوں میں اکڑن اور کمر کے نچلے حصے میں درد جو ٹانگوں تک جاتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں شدید درد جو حرکت کرنے سے بڑھ جاتا ہے۔
جلد پر خارش اور خشکی۔ جلد کا رنگ پیلا پڑ جانا یا جوڑوں کے قریب جلد پر سرخی اور سوزش ہونا۔
درد کی وجہ سے نیند کا اڑ جانا۔ مریض کو رات کے وقت درد کی شدت کی وجہ سے بار بار کروٹیں بدلنی پڑتی ہیں۔
مریض کی تمام علامات سردی اور نمی سے بڑھتی ہیں۔ یہ دوا خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو پرانے گٹھیا اور ہڈیوں کے درد میں مبتلا ہو کر جسمانی طور پر کمزور ہو چکے ہوں۔ گرمی اور سکون سے آرام ملنا اس کے مریض کی بنیادی پہچان ہے۔
اس دوا کی تکمیلی ادویات میں Rhus tox اور Calcarea fluor شامل ہیں۔ یہ ادویات اس وقت دی جاتی ہیں جب کوریڈالس کے استعمال سے ابتدائی بہتری آ جائے لیکن ہڈیوں یا جوڑوں کی پرانی ساخت میں تبدیلی باقی رہ جائے، تو یہ ادویات اس کے اثر کو مکمل کرتی ہیں۔
اس دوا کے کوئی خاص متضاد یا دشمن اثرات والی ادویات کے بارے میں ہومیوپیتھک لٹریچر میں زیادہ ذکر نہیں ملتا، تاہم تیزابی اثر رکھنے والی ادویات جیسے کہ Nitric acid کے استعمال کے بعد احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ یہ دوا کے گہرے اثر کو متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ دوا اکثر ان مریضوں کو دی جاتی ہے جن پر Rhus tox نے کچھ حد تک کام کیا ہو لیکن درد باقی ہو۔ یہ دوا گٹھیا کے مریضوں میں سوزش کم کرنے کے بعد دی جا سکتی ہے تاکہ جوڑوں کی سختی کو دور کیا جا سکے۔
Rhus tox, Guaiacum, Colchicum, Phytolacca
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔