مریض ذہنی طور پر سست، خوف زدہ اور مستقل تشویش کا شکار رہتا ہے۔ بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور وہ ہر وقت کسی نہ کسی انجانے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ بڑے افراد میں فیصلہ کرنے کی قوت کی کمی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔
کیلسیٹ (Calcit) ایک اہم ہومیوپیتھک دوا ہے جو بنیادی طور پر کیلشیم اور معدنیات کے میٹابولزم میں خلل کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ دوا ہڈیوں کی کمزوری، دانتوں کے مسائل، اور جسمانی نشوونما میں سستی کے لیے انتہائی مؤثر ہے۔ اس کا کلیدی اثر ہڈیوں کے نظام، غدود (glands) اور خون کی کیمیا پر ہوتا ہے۔ یہ ان مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو کمزور، سست اور جن میں کیلشیم کی کمی کے واضح آثار پائے جاتے ہیں۔
یہ دوا سرد مزاج (Chilly) مریضوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ علامات ٹھنڈی ہوا، سرد موسم اور مرطوب ماحول میں شدت اختیار کر جاتی ہیں۔ آرام کرنے سے علامات میں بہتری آتی ہے، جبکہ حرکت اور جسمانی مشقت سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
مریض کو چکر اس وقت آتے ہیں جب وہ اچانک اٹھتا ہے یا اونچائی پر جانے کی کوشش کرتا ہے۔ سر میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے سر کے اندر کوئی چیز گھوم رہی ہو، خاص طور پر صبح کے وقت۔
سر میں درد اکثر ہڈیوں کے دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سر کے پچھلے حصے میں شدید درد اور کھوپڑی کی جلد میں حساسیت پائی جاتی ہے۔ بالوں کا گرنا اور سر کی جلد کا خشک ہونا اس دوا کی خاص علامات ہیں۔
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، بینائی میں دھندلاپن اور روشنی کے سامنے آنے پر آنکھوں میں چبھن محسوس ہوتی ہے۔ آنکھوں کے پٹھوں میں کھنچاؤ اور آنسوؤں کا زیادہ بہنا عام ہے۔
کانوں کے اندر سائیں سائیں کی آوازیں آنا اور سماعت میں کمی محسوس ہونا۔ کانوں کے غدود میں سوجن اور کان کے اندرونی حصے میں درد جو جبڑے تک محسوس ہوتا ہے۔
چہرہ اکثر پیلا اور بے رونق رہتا ہے۔ گالوں کی ہڈیاں نمایاں اور جلد پر داغ دھبے موجود ہوتے ہیں۔ ہونٹ خشک اور پھٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
ناک میں مسلسل خشکی یا بار بار نزلہ زکام کا ہونا۔ ناک کی ہڈی میں درد اور سونگھنے کی حس میں کمی اس دوا کی اہم نشانی ہے۔
دانتوں کا دیر سے نکلنا یا کمزور ہونا۔ مسوڑھوں سے خون آنا اور زبان پر سفید تہہ کا جمنا۔ منہ کا ذائقہ اکثر کڑوا یا دھاتی محسوس ہوتا ہے۔
گلے میں خراش، ٹانسلز کا بار بار سوج جانا اور نگلتے وقت درد محسوس ہونا۔ گلے کے غدود میں سختی اور سوجن کیلسیٹ کی خاص علامت ہے۔
سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری اور خشک کھانسی۔ دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہونا اور سینے کی ہڈیوں میں درد محسوس ہونا۔
ہاضمہ بہت سست، پیٹ میں گیس اور اپھارہ۔ بھوک کی کمی یا غیر معمولی بھوک۔ قبض کی شکایت اور پاخانے کا سخت ہونا۔
پیشاب میں کیلشیم کے ذرات کا آنا، گردوں میں درد اور مثانے کی کمزوری۔ مردوں میں جنسی کمزوری اور عورتوں میں ایامِ ماہواری کی بے قاعدگی۔
جوڑوں میں درد، ہڈیوں کی کمزوری اور چلنے میں لنگڑا پن۔ ہاتھوں اور پاؤں کا سن ہو جانا اور سردی کے موسم میں جوڑوں کا اکڑ جانا۔
گردن کے مہروں میں درد، کمر کا نچلا حصہ کمزور محسوس ہونا اور جھکنے میں دشواری۔ ریڑھ کی ہڈی میں کھنچاؤ اور پٹھوں کا اکڑ جانا۔
جلد خشک، کھردری اور خارش زدہ۔ زخموں کا دیر سے بھرنا اور جلد پر چھوٹے چھوٹے دانوں کا نکلنا جو کیلشیم کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
نیند میں بے چینی، خوابوں میں ڈرنا اور رات کو بار بار آنکھ کھلنا۔ دن میں سستی اور نیند کا غلبہ رہنا۔
یہ دوا جسمانی ساخت اور ہڈیوں کے نظام کو مضبوط کرنے والی ایک بہترین دوا ہے۔ یہ مریض کی مجموعی قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتی ہے اور جسم میں معدنیات کے توازن کو بحال کرتی ہے۔
اس دوا کی معاون ادویات میں Calcarea Phos اور Silicea شامل ہیں۔ جب کیلسیٹ کے استعمال سے ابتدائی بہتری کے بعد عمل رک جائے، تو Calcarea Phos دی جاتی ہے تاکہ ہڈیوں کی نشوونما اور جذبِ معدنیات کا عمل مکمل ہو سکے۔ Silicea جسم میں گہرے اثرات کو متحرک کرنے کے لیے اس کے ساتھ معاون ثابت ہوتی ہے۔
اس دوا کے مخالف اثرات کے حامل ادویات میں Sulphur اور Phosphorus شامل ہیں۔ کیلسیٹ کے استعمال کے فوراً بعد ان ادویات کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ دوا کے اثر کو زائل کر سکتی ہیں یا مریض میں غیر متوقع ردعمل پیدا کر سکتی ہیں۔ اگر دوا کا اثر بہت زیادہ تیز ہو جائے تو اسے Camphor یا Coffea سے antidote کیا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد Calcarea Fluor اور Baryta Carb بہت اچھا کام کرتی ہیں۔ جب مریض میں کیلشیم کی کمی کے ساتھ ساتھ غدود کا بڑھنا یا ہڈیوں کا سخت ہو جانا شامل ہو، تو یہ ادویات کیلسیٹ کے بعد ایک مکمل شفایابی کا عمل فراہم کرتی ہیں۔
Calcarea Carb, Calcarea Phos, Silicea, Phosphorus
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔