ذہنی طور پر مریض انتہائی باتونی، بے چین اور توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اس میں سماجی تنہائی کا شدید خوف پایا جاتا ہے۔ مریض خود کو مرکزِ نگاہ دیکھنا چاہتا ہے اور توجہ نہ ملنے پر شدید چڑچڑاپن یا غصے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس میں خیالی دنیا میں رہنے کا رجحان اور بعض اوقات بے جا ہنسی یا رونے کے دورے پڑ سکتے ہیں۔
اراٹنگا سولسٹیٹیالس (Aratinga solstitialis) جسے سن کونور بھی کہا جاتا ہے، ہومیوپیتھک مٹیریل میڈیکا میں ایک جدید اور نایاب دوا ہے۔ اس کا مرکزی جوہر اعصابی ہیجان، بے چینی اور سماجی تعاملات میں شدید تبدیلیوں سے عبارت ہے۔ یہ دوا بنیادی طور پر ان مریضوں پر اثر انداز ہوتی ہے جو جذباتی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں اور جن میں توانائی کا بہت زیادہ اور بعض اوقات بے ہنگم اخراج پایا جاتا ہے۔ جسمانی طور پر یہ اعصابی نظام اور جلد کے مسائل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
یہ دوا بنیادی طور پر گرم مزاج (Hot) مریضوں کے لیے زیادہ موزوں ہے، جنہیں گرمی برداشت کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ علامات میں اضافہ (Aggravation): شام کے وقت، تنہائی میں، اور شور و غل والے ماحول میں ہوتا ہے۔ بہتری (Amelioration): کھلی ہوا میں، ہلکی ورزش کرنے سے، اور کسی کے ساتھ بات چیت یا کمپنی میں رہنے سے محسوس ہوتی ہے۔
مریض کو سر چکرانے کی شکایت ہوتی ہے خاص طور پر جب وہ کسی اونچی جگہ پر ہو یا بہت زیادہ ہجوم میں ہو۔ چکر آنے کے ساتھ متلی کا احساس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ارد گرد کی اشیاء گھوم رہی ہیں۔
سر میں درد اکثر دباؤ کی کیفیت کے بعد شروع ہوتا ہے، جو سر کے اگلے حصے یا کنپٹیوں میں محسوس ہوتا ہے۔ سر میں بھاری پن اور گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ بالوں کا گرنا اور سر کی جلد میں خشکی بھی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔
آنکھوں میں سرخی، جلن اور پانی بہنے کی شکایت رہتی ہے۔ تیز روشنی کے سامنے آنے پر آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آنکھوں پر مسلسل دباؤ ہے، خاص طور پر پڑھنے یا کمپیوٹر کے استعمال کے بعد۔
کانوں میں سنسناہٹ یا گنگناہٹ کی آوازیں (Tinnitus) سنائی دیتی ہیں۔ کسی بھی قسم کے اچانک شور سے مریض کو شدید تکلیف اور چڑچڑاپن ہوتا ہے۔ کانوں کے اندر خارش کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔
چہرہ اکثر سرخ رہتا ہے اور جذبات کے تحت چہرے پر گرمی محسوس ہوتی ہے۔ ہونٹوں میں خشکی اور پھٹنے کی شکایت عام ہے۔ چہرے کے پٹھوں میں کھنچاؤ یا غیر ارادی طور پر پھڑکنے کی کیفیت بھی دیکھنے میں آتی ہے۔
ناک میں خشکی اور بار بار چھینکیں آنا اس کی علامت ہے۔ ناک کے اندرونی حصوں میں جلن محسوس ہوتی ہے اور بعض اوقات الرجی کی وجہ سے ناک بند ہو جاتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔
منہ کا ذائقہ اکثر کڑوا یا دھاتی محسوس ہوتا ہے۔ زبان پر سفید یا پیلی تہہ جم جاتی ہے۔ دانتوں میں حساسیت (Sensitivity) زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ٹھنڈا یا گرم کھانے سے تکلیف ہوتی ہے۔
گلے میں خراش، خشکی اور ایسا محسوس ہونا جیسے کوئی چیز گلے میں پھنسی ہوئی ہے۔ بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ٹانسلز میں ہلکی سوجن اور درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔
سینے میں گھٹن اور سانس لینے میں دشواری کا احساس ہوتا ہے، خاص طور پر جب مریض جذباتی دباؤ میں ہو۔ کھانسی خشک اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ دل کی دھڑکن کا غیر متوازن ہونا بھی اعصابی ہیجان کے دوران محسوس کیا جا سکتا ہے۔
بھوک میں غیر معمولی تبدیلی؛ کبھی بہت زیادہ بھوک لگتی ہے تو کبھی بالکل نہیں۔ پیٹ میں گیس اور اپھارہ رہتا ہے۔ ہاضمہ سست ہے اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔ پیٹ کے نچلے حصے میں مروڑ اٹھنا عام ہے۔
پیشاب کی بار بار حاجت ہونا، خاص طور پر جب مریض گھبراہٹ کا شکار ہو۔ پیشاب میں جلن کا احساس ہو سکتا ہے۔ جنسی اعضاء میں تحریک یا بے چینی کا احساس پایا جاتا ہے جو ذہنی کیفیت سے براہ راست جڑا ہوتا ہے۔
ہاتھوں اور پیروں میں بے چینی (Restless legs) کا احساس ہوتا ہے۔ جوڑوں میں ہلکا درد اور صبح کے وقت اکڑن محسوس ہوتی ہے۔ انگلیوں کے پوروں میں جھنجھناہٹ یا سن ہونے کی علامات ملتی ہیں۔
گردن اور کمر کے نچلے حصے میں شدید اکڑن اور درد پایا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کمر کے پٹھے ہر وقت کھنچاؤ کی حالت میں ہیں۔ بیٹھنے کے غلط انداز سے کمر درد میں اضافہ ہوتا ہے۔
جلد پر خارش، چھوٹی سرخ پھنسیاں یا الرجی کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ جلد بہت زیادہ حساس ہوتی ہے اور ذرا سی رگڑ یا گرمی سے خارش بڑھ جاتی ہے۔ جلد پر داغ دھبوں کا بننا بھی ممکن ہے۔
نیند کا معیار خراب ہوتا ہے۔ مریض کو سونے میں دشواری ہوتی ہے اور نیند کے دوران خوفناک خواب آتے ہیں۔ سو کر اٹھنے کے بعد بھی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے اور ذہن تروتازہ نہیں ہوتا۔
مجموعی طور پر یہ دوا اعصابی نظام کی بحالی اور جذباتی توازن کے لیے انتہائی موثر ہے۔ اس کا مریض ہر وقت متحرک رہنا چاہتا ہے لیکن جسمانی اور ذہنی تھکن اسے جلد نڈھال کر دیتی ہے۔ یہ دوا ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو اپنی اندرونی توانائی کو صحیح سمت میں نہیں لگا پاتے۔
اس دوا کی تکمیلی ادویات میں فاسفورس (Phosphorus) اور ہائیوسائمس (Hyoscyamus) شامل ہیں۔ یہ ادویات اس وقت دی جاتی ہیں جب اراٹنگا سولسٹیٹیالس کے ذریعے شروع کیا گیا علاج کسی خاص مرحلے پر رک جائے یا جب مریض میں اعصابی کمزوری اور ذہنی انتشار کے آثار باقی رہ جائیں، تو یہ ادویات اثر کو مکمل کرتی ہیں۔
اس دوا کی مخالف ادویات میں عموماً وہ ادویات شامل ہیں جو اعصابی نظام کو شدید دباتی ہیں جیسے کہ اوپیم (Opium)۔ اس دوا کے بعد ایسی ادویات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو مریض کی ذہنی کیفیت کو مزید دباؤ میں لائیں، کیونکہ اس سے مریض کی بحالی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
اس دوا کے بعد عموماً سلفر (Sulphur) اور کالسیم کارب (Calcarea Carb) بہت اچھا کام کرتی ہیں۔ جب اراٹنگا کے ذریعے اعصابی ہیجان کم ہو جائے تو جسمانی تعمیر نو اور میٹابولک توازن کے لیے یہ ادویات بہترین نتائج دیتی ہیں، خاص طور پر ان مریضوں میں جن کی قوت مدافعت کمزور ہو۔
Phosphorus, Stramonium, Hyoscyamus, Tarentula hispanica
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔