ذہنی طور پر مریض شدید اضطراب اور بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ خاص طور پر جب خون کا بہاؤ زیادہ ہو تو مریض کو موت کا خوف اور شدید گھبراہٹ لاحق ہو جاتی ہے۔ مریض چڑچڑا اور کمزور اعصاب کا مالک ہوتا ہے۔
ایمارنتھس ہائپوکونڈریاکس (Amaranthus hypochondriacus) ہومیوپیتھی میں ایک اہم دوا ہے جو بنیادی طور پر خون بہنے کے امراض (Hemorrhages) میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ دوا حیض کی زیادتی (Menorrhagia) اور دیگر قسم کے خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔ اس کا اثر خاص طور پر نسوانی اعضاء اور خون کی نالیوں پر ہوتا ہے، جہاں یہ سکون پیدا کرنے اور غیر معمولی اخراج کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ دوا عام طور پر گرم مزاج (Hot) مریضوں کے لیے زیادہ موزوں ہے، تاہم اس کا انحصار علامات کی شدت پر ہے۔ تکلیف میں اضافہ گرمی، حرکت اور حیض کے دوران ہوتا ہے۔ آرام اور ٹھنڈک سے مریض کو بہتری محسوس ہوتی ہے۔
خون کی کمی یا حیض کی زیادتی کے باعث مریض کو چکر آتے ہیں۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے، خاص طور پر جب مریض اچانک اٹھ کر کھڑا ہوتا ہے تو اسے سر میں بوجھ اور چکر محسوس ہوتے ہیں۔
سر میں درد، خاص طور پر پیشانی کے حصے میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔ یہ درد اکثر خون کے زیادہ ضائع ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سر میں جلن کا احساس اور کنپٹیوں میں دھڑکن محسوس ہوتی ہے۔
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں۔ نظر دھندلا جاتی ہے اور آنکھوں کے سامنے چنگاریاں یا دھبے نظر آتے ہیں، جو کہ خون کی شدید کمی کی علامت ہے۔
کانوں میں سائیں سائیں (Tinnitus) کی آوازیں آتی ہیں۔ کانوں کا بند ہونا یا شدید کمزوری کے باعث سننے کی صلاحیت میں عارضی کمی محسوس ہو سکتی ہے۔
چہرہ زرد، بے رونق اور مرجھایا ہوا ہوتا ہے۔ ہونٹ خشک اور سفید ہو جاتے ہیں، جو کہ انیمیا یا خون کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ناک سے خون بہنے (Epistaxis) کی شکایت ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر یہ خون کا بہاؤ کسی اندرونی دباؤ یا حیض کی بندش کے متبادل کے طور پر ہو۔
منہ کا ذائقہ کڑوا یا دھاتی محسوس ہوتا ہے۔ زبان سفید ہو سکتی ہے اور مسوڑھوں سے خون رسنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
گلے میں خشکی کا احساس ہوتا ہے، بعض اوقات خون کے ذائقے کی وجہ سے مریض کو متلی محسوس ہوتی ہے۔
دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے (Palpitations)۔ سینے میں گھٹن کا احساس ہوتا ہے اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر جسمانی تھکن کے بعد۔
پیٹ کے نچلے حصے میں بوجھ اور کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ معدے میں گیس اور بدہضمی کی شکایت رہتی ہے۔ آنتوں کی حرکت میں بے قاعدگی اور پیٹ میں درد رہتا ہے۔
یہ دوا نسوانی امراض میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ حیض کی زیادتی، خون کے بڑے لوتھڑے آنا، اور حیض کا وقت سے پہلے یا بہت زیادہ آنا اس کی خاص علامات ہیں۔
ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ جوڑوں میں درد اور پٹھوں میں کھچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ شدید کمزوری کے باعث چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
کمر کے نچلے حصے میں درد ہوتا ہے جو ٹانگوں کی طرف پھیلتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر حیض کے دوران۔
جلد پیلی اور بے جان ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات جلد پر نیلے یا سرخ دھبے نمودار ہو جاتے ہیں جو خون کی نالیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔
نیند بے سکون ہوتی ہے۔ ڈراؤنے خواب آتے ہیں جن میں گرنے یا خون بہنے کے مناظر شامل ہوتے ہیں۔ رات کو بار بار آنکھ کھل جاتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ دوا خون کی نالیوں کو مضبوط کرتی ہے اور غیر طبعی اخراج کو روکتی ہے۔ مریض کی عمومی کمزوری اور خون کی کمی کو دور کرنے میں یہ ایک معاون دوا کے طور پر کام کرتی ہے۔
اس کی معاون ادویات میں Trillium pendulum اور Millefolium شامل ہیں۔ یہ ادویات اس وقت دی جاتی ہیں جب ایمارنتھس خون بہنے کی شدت کو کم کر دے لیکن مکمل شفا کے لیے مزید مدد درکار ہو، یہ خون کو جمنے کی صلاحیت فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
اس دوا کے مخالف یا متضاد اثرات کے حوالے سے کوئی خاص بڑی دوا نہیں ہے، تاہم بہت زیادہ طاقت میں استعمال کے بعد اگر اثرات الٹ جائیں تو Camphora یا Nux Vomica کو بطور تریاق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے ایسی ادویات کے ساتھ نہ دیں جو خون کو پتلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
یہ دوا ان مریضوں میں بہت اچھا اثر دکھاتی ہے جنہیں پہلے Sabina دی گئی ہو لیکن خون کا بہاؤ مکمل طور پر نہ رکا ہو۔ اس کے بعد اگر ضرورت ہو تو Phosphorus دی جا سکتی ہے تاکہ خون کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور کمزوری دور ہو۔
Trillium pendulum, Millefolium, Sabina, Hamamelis
⚕️ یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ ہمیشہ کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔