ورم مثانہ،نظام بول کی بیماریاں اور ان کا ہومیوپیتھی علاج

مثانہ،نظام بول کی بیماریاں
<div class="useo-toc">Table of Contents

ورم مثانہ،نظام بول کی بیماریاں اور ان کا ہومیوپیتھی علاج

یوریٹری انفیکشن کی علامات


پیشاب کا درد سے آنا(قطرہ قطرہ آنا)یا اس میں جلن کا احساس ہو۔بار بار پیشاب کا آنا۔دردسیدھی پبک بون ( ناف کی ہڈی) کے اوپر ہوں ۔ پیشاب دھندلا آتا ہے اور اس سے بدبو آئے۔پیشاب میں خون آتا ہے ۔ رات کو پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ اضافی علامات میںمباشرت کے دوران درد ہوتی ہے۔کوکھ میں درد ہوتا ہے۔تھکاوٹ ،بخار ،ٹھنڈکا لگنا،متلی اور اُلٹی کا آنا۔ذہنی کیفیت کا بدلنا یا کنفیوژن پیدا ہونا پایا جاتا ہے۔
٭-ہومیو ادویات مثانے کے انفیکشن (ورم مثانہ ) میں اکثر مدد گار ثابت ہوتی ہیں،یہ اس تکلیف کی بے چینی کو ختم کرنے اورجلد صحت یابی میں حوصلہ بڑھاتی ہیں ۔ علامات میں مسلسل پیشاب کرنے والی حالت بنی رہتی ہے ۔پیشاب میں جلن، ڈنگ لگنے کا احساس اور بعض اوقات مثانے والی جگہ پرشدید درد کا احساس ہوتا ہے۔ پیشاب سے ناگوار بو آتی ہے، بادل تیرتے ہیںیا بے رنگ سا پیشاب آتا ہے۔ اس کامریض بے چین سا ، مدتوں سے مثانے کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا ہوتا ہے ۔ خاص طور ایسے مریض جن کو اس تکلیف کے ساتھ بخار بھی ہو ،گردوں کے مقام پر درد ہوتا ہے اور خطرناک قسم کی علامات ہوں تو ایسے مریضوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ۔

چند ادویات کا ذکر ذرا تفصیل کے ساتھ


٭-ایکونائٹ نیپلس=اس میںلگاتار پیشاب کرنے کی حاجت پائی جاتی ہے ۔پیشاب سرخ ،گرم ،درد کے ساتھ اور کم مقدار میں آتا ہے۔مثانے کی گردن میں مروڑ اور جلن پائی جاتی ہے۔مثانے میں جلن۔پیشاب دبا ہوا ، خونی۔ہمیشہ پیشاب کرنے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ۔ پیشاب مقدار میں کم اور گرم ہوتا ہے۔پیشاب کا رک جاناخاص طور پرخشک ٹھنڈی ہوا میں گھومنے سے ۔(تمام علامات ٹھنڈی اور خشک ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈی آندھی میں گھومنے سے آئیں تو اس دوا کی ضرورت پڑتی ہے )۔ مثانے میں جلن۔ جلد گرم اور خشک ہوتی ہے۔ساتھ پیشاب گرم،کم مقدار میں اور ایک قسم کی جلن پائی جاتی ہو۔یا مثانے کے نکاس والی جگہ پر تشنج کا احساس ہوتا ہے۔کسی صدمے کے نتیجے میں اگر پیشاب بند ہو جائے تو فوراً ایکونائٹ دیں۔
٭-”ایپس میلی فیکا“میں پیشاب میں ڈنگ لگنے والی اور جلن والی دردیں ہوتی ہےں۔آخری قطرات میں جلن ،درد،ٹیسیں پڑتی ہیں اور اڈیما (جسم میں پانی کے بھر جانے کا مرض) پایا جاتا ہے۔ ایپس کے مریض کے گردے خراب ہوں تو آنکھ کے نیچے پھلپھلی ورم ان کی نشاندہی کرتی ہے ۔ اگر اس کے ساتھ گردوں میں ٹیسیں پڑنے یا گرمی سے تکلیف کے بڑھنے کی علامت موجود ہو تو قطعی طور پر یہ مرض ایپس کے دائرہ اثر میں ہو گا۔ ایپس کی بنیادی علامت یعنی گرمی سے تکلیف کا بڑھنا اور پیاس کا فقدان اس کی نشاندہی کرتا ہے۔گردوں کے مقام پر دکھن اور درد میں اضافہ دبانے اور جھکنے سے ہوتا ہے۔پیشاب کاسٹس (وائٹ سیلز،ریڈبلد سیلز،فیٹ سیلز ،پس سیلز ، کڈنی سیلز پروٹین وغیرہ ) سے بھرا ہواہوتا ہے۔مسلسل اور غیر ارادی طور پر خارج ہوتا ہے۔ڈنگ مارنے والی دردیں اورپیشاب کا قطرہ قطرہ تکلیف کے ساتھ آنا،کم مقدار میں ،گہرے سرخ اور سنگترے رنگ کا ۔پیشاب کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا کمزور ہوناپایا جاتا ہے۔
٭-ایپس میلی فیکا= یہ دوا اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے مریض کو مسلسل پیشاب کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔لیکن تھوڑی مقدار میں آتاہے۔ ڈنگ لگنے اور جلن کا احساس محسوس ہوتا ہے۔خاص طور پرآخری چند قطروں میں۔اس کے مریض کے پیٹ میں دکھن تجربہ میں آیا ہے۔گرمی اور چھونے سے علامات میں اضافہ ہوتا ہے۔اور ٹھنڈی ٹکور،ٹھنڈے پانی میں نہانے سے اور کھلی ہوا میں سکون آتا ہے۔اس کے مریض میں پیاس کا فقدان پایا جاتا ہے۔
٭-اپو سائینم انڈروسیمی فولیم=میں گردوں پر اثر دیکھا گیا ہے۔اس میں مختلف استسقائی ابھار پائے جاتے ہیں۔اس میں پیشاب کم مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ پیشاب کا رنگ ہلکے رنگ کا جیسے انگوری شراب ہوتی ہے ۔ پہلے ہی اثر میں پیشاب کھل کر آتا ہے جس کے نتیجے میں آئی سوجن دور ہو جاتی ہے ۔ اس میں پیشاب کا رکنا پایا جاتا ہے۔یہ دواپیشاب کے غیر ارادی اخراج میں بھی بہت مفید ہے۔جان کے نکل جانے اور کچلے جانے کا احساس جس کا تعلق معدے سے ہواس کے استعمال کی بہترین نشاندہی کرتا ہے۔یہ دواآرسینکم اور ایپس سے مختلف ہے ۔اس میں شدید نہ بجھنے والی پیاس پائی جاتی ہے جب کہ آرسینکم میں تھوڑے تھوڑے پانی کی اکثر پیاس ہوتی ہے ۔ایپس میں پیاس بالکل نہیں ہوتی ۔
٭-بینزوک ایسڈ=میں پیشاب بمشکل تھوڑا سا آتا ہے۔اس کا رنگ گہرے بھورے رنگ کا۔اس سے بُری سی بو آتی ہے۔ڈپازٹ نہیں ہوتے۔اگر کپڑوں پر پیشاب لگ جائے تو ا س کی بو اس میں رچ بس جاتی ہے۔
٭-بربرس ویلگریس=اس کا مریض کمر کی درد میں مبتلا ہوتا ہے جس میں اضافہ تھکاوٹ کے نتیجے میں ہوتا ہے۔پیشاب کرتے وقت جلن ہوتی ہے۔گردوں کے ارد گرد بلبلے اُٹھنے کااحساس،دکھن ہوتی ہے۔
٭-کیمفر=پیشاب کا قطرہ قطرہ آنے میں ایک حالت میں کینتھرس مفید ثابت ہوئی ہو۔اسی طرح بعض اوقات دوسری نوعیت کے پیشاب کے قطرہ قطرہ آنے میں مفید ہے۔
٭-کینابس سٹائیوا=یوریتھرامیں چھونے سے حساسیت پائی جاتی ہے۔اس کا استعمال سوزاک کی ابتدائی حالت میں مفید دوا ہے۔
٭-کینتھرائیڈز=میں یوریتھرا میں جلن اور کاٹنے والی دردیں ہوتی ہیں۔مثانے میں شدید درد ہوتی ہے،مسلسل بار بار پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہتی ہے۔ساتھ ناقابل برداشت مروڑ(اینٹھن)ہوت ہے۔مثانے کی گردن پرکاٹنے والی ،شدید جلن پائی جاتی ہے۔ پیشاب سے پہلے ،درمیان میں اور بعد میں خوفناک کاٹنے والی دردیں ہوتی ہیں۔مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہتی ہے۔پیشاب قطرہ قطرہ آتا ہے۔جہاں شدید کاٹنے اور جلن والا پیشاب کرنے کا عمل پایا جاتا ہے۔یہ دوا سانس لینے والے رستہ کی شکایات میں بھی مفید ہے۔
٭-کاسٹی کم=یوریتھرا کے سوراخ میں خارش ،لگاتار غیر مﺅثر پیشاب کرنے کا عمل پایا جاتا ہے۔اکثر ایک وقت میںصرف چند قطرے خارج ہوتے ہیں۔ساتھ مقعد کا تشنج اور قبض پائی جاتی ہے۔دکھن اور کچا پن کا احساس۔کھانستے وقت،چھینکتے ہوئے اور ناک کوصاف کرتے وقت رات کو دورانِ نیند،چلتے وقت خود بخود پیشاب خارج ہو جاتا ہے۔ پیشاب لیتھک ایسڈ سے بھرا ہوا۔اس کے اندرگاڑھے ڈپازٹس یا مختلف رنگوں میں گہرے سے ہلکے رنگ کی تلچھٹ پائی جاتی ہے۔
٭-کلیمٹس ایرکٹا=میں پراسٹیٹ گلینڈز کے نتیجے میں تکالیف ہوتی ہیں۔ سارا پیشاب خارج کی اہلیت نہیں ہوتی۔پیشاب کرنے کے بعد قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے۔منی کی نالی کے ساتھ درد ہوتا ہے۔نالی میں سکڑاوشروع ہو جاتا ہے۔
٭- کونیم میکولیٹم=میں پیشاب رک رک کر آتا ہے۔یا آپ اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پیشاب کا آتے آتے اچانک بند ہو جانا لیکن کچھ دیر پھر شروع ہو جائے۔اس میں دوران پیشاب مثانے میں کاٹنے والی دردیں پائی جائیں۔
٭-ڈیجی ٹیلس=کا پیشاب بھورے رنگ کا،گہرے رنگ کا جیسے بئیر شراب ہو۔اس میں صفراءبھی ہو سکتا ہے۔یرقان میں نبض آہستہ اور کمزوراور اکثررک رک کرچلتی ہے۔
٭- کینتھرس ویسی کٹوریا= سوزش مثانہ میں بہترین کام کرتی ہے۔ اس میں شدید سلسل البول (یعنی سوزش کے ساتھ مثانے کی خرابی جس میں بار بار پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی ہے)، پیشاب قطرہ قطرہ آتا ہے۔ (لیلیم ٹگریم) درد کے ساتھ پیشاب خارج ہوتا ہے،خون ملے پیشاب کے صرف چند قطرے آتے ہیں۔ساتھ شدید درد ہوتا ہے۔ایسے جیسے سرخ گرم سلاخ مثانے سے گزر رہی ہے۔شدید جلن،کاٹنے والی،خنجر چبھنے جیسی دردیںجو مثانے کی گردن پر ہوں ۔ پیشاب کرنے سے پہلے اور بعد میں تکلیف میں اضافہ۔پیشاب کرنے کی شدید حاجت جب کہ مثانے میں اس کی مقدار تھوڑی سی ہو (پلسٹیلا)۔مریض درد سے سسکیاں بھرتا ہے اور دوہرا ہو جاتا ہے۔پیشاب صرف قطرہ قطرہ آتا ہے (ایپس) صرف درد کے ساتھ آتا ہے۔
٭-ڈاکٹر فرینگٹن فرماتے ہیں اکیوٹ حالت کی سوزش مثانہ میں باقی سب دوائیاں مل کر بھی اتنی شفا نہیں دیتیں جتنا اس دوا میں شفا پائی جاتی ہے۔
٭-ڈاکٹر GUERNSEYفرماتے ہیںکہ اس دوا کی واحدصداقت یہ ہے کہ جہاں مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہے جس کے ساتھ جلن،کاٹنے والی دردیں یا اگر جلن اور کاٹنے والی بہاﺅ کے ساتھ ہوں ۔ کینتھرس اکثراور ہمیشہ دوا رہی ہے حتیٰ کہ دماغ یا پھیپھڑوں کی سوزش میں بھی مبتلا ہو۔
٭- کینتھرس ویسی کیٹوریا =ڈاکٹر کینٹ فرماتے ہیںاس دوا کی اہم اور قابل قدر خوبی سوزش والی حالت ہے۔ اور اس سوزش کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ بڑی سرعت کے ساتھ بڑھتا ہے۔حتیٰ کہ سڑا ﺅ والی حالت آ جاتی ہے۔سوزشی حالت چند دنوں میں ہی اپنا یقینی کورس اختیار کر لیتی ہے ۔لیکن جب یہ دواخارجی طور پر یا اندرونی طور پراستعمال کی جائے تو مذکورہ عضو نہایت تیزی سے مردہ بن جاتا ہے۔مثانے اور اعضائے تناسل میں جوش اور ورم آ جاتا ہے اور ان میں خون بھی جمع ہو جاتا ہے۔اس سے شہوانی خیالات کو تحریک ملے گی ۔اس طرح شہوانی خیالات اور خواہش نفسانی بھڑک اُٹھتی ہے۔ انتہائی شہوانی جوش و خواہش اور درد والی حالت اس دوا کے علاوہ کسی اور دوا میں نہیں ملتی (کینٹ)
٭- کینتھرس ویسی کٹوریا =میں پیشاب کرنے کی مضبوط حاجت بنی رہتی ہے۔جس کے ساتھ پیشاب گزرنے سے پہلے ،درمیان میں اور بعد میں کاٹنے والی دردیں ہوتی ہیں۔ایسی علامات میں اس دوا کی ضرورت پڑتی ہے۔ایک وقت میں صرف چند قطرے پیشاب کے گزر پاتے ہیں۔ساتھ یہ احساس کہ اُبلتا ہوا گرم،جلنے کا احساس پیدا کرنے والاگزر رہاہے۔مریض یہ محسوس کرتا ہے کہ مثانہ مکمل طور پر خالی نہیں ہوا اور پیشاب کرنے کی حاجت مسلسل بنی رہتی ہے۔
٭- کاسٹی کم=مثانے کی فالجی کیفیت میں اس کا شمار درجہ اول کی ادویات میں ہوتا ہے۔ اس کواگر پہلا نمبر دیا جائے کوئی مبالغہ نہیں۔یہ رات کو بسترپر پیشاب کرنے کی بہت بڑی دوا ہے۔ اس میں رات کو دوران نیند از خود قطرہ قطرہ پیشاب خارج ہونایا بستر پرپیشاب کرنا پایا جاتا ہے۔ کھانسی کرتے وقت ،چھینک آنے پر یا ناک بلو کرنے پرپیشاب خارج ہو جاتاہے۔اس میںپیشاب کو روکنے والے پٹھے میں کمزوری پائی جاتی ہے۔ایک اورعلامت جو اس میں دیکھی گئی ہے کہ پیشاب کے آخری چندقطروں کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ایک اور علامت دیکھی گئی ہے کہ پیشاب شروع ہونے میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔جب شروع ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔یہ بات صرف پیشاب کو روکنے والے پٹھے کی کمزوری کے نتیجے میں نہیں بلکہ مثانے کے سارے نظام کو کنٹرول کرنے والے پٹھوں کی کمزوری کے نتیجے میں ہوتا ہے۔یوریتھرا سے پیشاب خارج ہوتے وقت احساس تک نہیںہو تایہاں تک کہ وہ بتا سکے ۔ رات کو بستر پر پیشاب کرنے میں بچے پہلی ہی نیند میں پیشاب کر دیتے ہیں۔ایسی فالجی کیفیت میں جو زچگی کے بعدہو اس دوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثانے کی تکالیف کی ایک اوربہترین دوا زنکم ہے۔ جس میں کاسٹی کم سے مشابہت پائی جاتی ہے۔جیسا کہ از خود فوارے کی طرح پیشاب کا اخراج کھانستے وقت یا چھینکیں مارتے وقت ہوتا ہے۔جب کہ زنکم کے کیسز میں درد زیادہ پایا جاتا ہے۔سلیشیا اور نٹرم میور میں بھی کھانستے وقت از خودقطرہ قطرہ پیشاب خارج ہوتا ہے۔ کاسٹی کم کی ایک اور علامت پیشاب میں بڑھے ہوئے یوریٹس کے نمکیات پائے جاتے ہیں۔ فیرم فاس میں بھی دوران علاج رات کو پیشاب کرنے والی علامت کی دورانِ علاج تصدیق ہوئی ہے ۔ایسا مسلز کی کمزوری کے باعث ہوتا ہے۔رس ایرومٹیکا میں بھی رات کوبستر پرپیشاب کرنا پایا جاتا ہے لیکن اس کی نوعیت اعصابی ہوتی ہے۔اور اس کا استعمال بڑھاپے میں آئی تکلیف میں بڑی کامیابی سے کیا جاتا ہے۔
پیشاب کی نالی میں سوزش
٭-”ڈیجی ٹیلس “=پیشاب کو زور دے کر باہرنکالنے کی مسلسل حاجت بنی رہتی ہے۔ پیشاب گہرے رنگ کا گرم،جلن دار ساتھ تیز کاٹنے والی دردیں ہوں یا مثانے کی گردن میں تپکن ۔ایسے محسوس ہو جیسے کوئی تنکازور سے آگے اور پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔زیادہ تر تکالیف رات کو ہوتی ہیں۔حبس البول ،گدلا جس سے امونیا(نوشادر کی گیس) کی بو آئے۔مثانے کی نالی کی سوزش ،پیشاب کا ایک ایک قطرہ تکلیف سے آتا ہے،آلہ تناسل کی تنی ہوئی جلد جس سے خون سرذکر تک نہیں پہنچ پاتا۔یوریتھرا سے گاڑھے پیلے اخراجات،سوزاک میں بھی مفید ہے۔ پیشاب کرنے کے بعد بھی یہ احساس کہ مثانہ ابھی بھرا ہوا ہے ۔مثانہ ایسا لگے جیسے چھوٹا ہو گیا اس میں جلن اور گھٹن پائی جائے۔اینٹوں کے بھورے کی تلچھٹ نیچے بیٹھی ہوئی ہوتی ہے۔دل کی تکالیف بھی پائی جاتی ہیں جس کے ساتھ استسقاءپیشاب کا کم ، گہرے رنگ کا اور گرم ہوتا ہے۔
٭-ایکوی زیٹم=میں کینتھرس سے بہت مشابہت پائی جاتی ہے ۔ لیکن ایکوزیٹم میںخون ملا پیشاب اور مروڑکینتھرس سے کم پائے جاتے ہیں ۔پیشاب کرتے وقت گرم پانی کے گزرنے جیسا احساس بھی کم ہوتا ہے ۔ ایکوزیٹم میں درد ہوتا ہے، جیسے مثانہ بھرا ہوا ہے۔جس میں پیشاب کی کثرت اورسلسل البول سے بھی کمی نہیں آتی۔ باربارپیشاب کرنے کی حاجت پائی جو پیشاب کے کھل کر آنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔پیشاب کم مقدار میں آتا ہے ،گہرے رنگ کا جس کے اندرکھل کرمیوکس ہوتی ہے۔پیشاب میں میوکس کی زیادتی ایکوزیٹم کی نشاندہی کرتی ہے۔ اوریہی فرق ہے کینتھرس سے۔چیموفیلا میں بھی کافی مقدار میں میوکس پائی جاتی ہے اور یہ خاص طور پرپروسٹیٹ کی شکایات میں مفید ہے۔جب اس کے ساتھ بڑی مقدار میں رسی کی طرح کی میوکس پائی جائے۔جو بڑی ناگوار ہوتی ہے۔یہ بوڑھے آدمیوں کے مثانے کی اری ٹیشن کی ایک بہترین دوا ہے ۔ یہ بوڑھے لوگوں میں پیشاب کرنے کی خواہش کو اُبھارتی ہے۔قطرہ قطرہ آنے سے تھوڑا سا سکون یا بالکل سکون نہیں آتا۔مریض کوبار باررات کواُٹھنے پر مجبور کرتی ہے۔ سوزش کی نسبت اری ٹیشن ہوتی ہے۔ڈاکٹر ہیوگ اس دوا کو ورم مثانہ میںایک بہترین دوا قرار دیتے ہیں۔عام طور پرایکوزیٹم کی تکالیف میں اضافہ بظاہر پیشاب کرنے کے بعد آتا ہے۔پیشاب کم مقدار میں ساتھ شدید تناﺅ پایا جائے۔پیشاب کے شروع کرنے میں مشکل آتی ہے۔یہ بول بستری کی ایک بہترین دوا ہے جب اس کے ساتھ مثانہ میں اری ٹیشن پائی جائے۔یہاں اس کی مشابہت یوپیٹوریم پرپیوریم سے پائی جاتی ہے جس میں عورتوں کے مثانے میں اری ٹیشن ہوتی ہے۔پیشاب کرنے کے دوران یوریتھرا میںمذکورہ بالا علامات کے ساتھ شدید جلن ہوتی ہے۔ایکوزیٹم سوزش مثانہ کے علاج کی ایک بہت اہم دوا ہے۔ یہ بچوں کے پیشاب کے تکلیف کے ساتھ آنے میں تجویز کیا جاتا ہے۔اس کی تکالیف پیشاب کرنے کے بعد ہوتی ہیں اور یہ فرق ہے اس کا پیٹروسیلی نم سے جس میں بچوں میں پیشاب کرنے کی حاجت بنی ہوئی ہو تو بچہ اوپر نیچے ڈانس کرنے کی طرح اچھلتا کودتا ہے جب پیشاب آتا ہے۔
٭-مرکیورس کوروسیوس=میں مثانے میں مروڑ کے ساتھ شدیدجلن پائی جاتی ہے۔اس دوا میں کینتھرس کی نسبت جلن کم اور مروڑزیادہ پائی جاتی ہے۔ پیشاب قطرہ قطرہ آتا ہے جو ایکونائٹ کی یاد دلاتا ہے۔جس کی علامات بھی ملتی جلتی ہیں۔تا ہم ایکونائٹ میں اچانک پیشاب کا رک جانا پایا جاتا ہے۔جیسے ہی بیماری آتی ہے مقامی طور پر سوزش آتی ہے ایکونائٹ اسے فوراً روک دیتی ہے۔ک ینتھرس اور نکس وامیکا کے اندر بھی مماثلت پائی جاتی ہے اس میں بھی مسلسل پیشاب کرنے کی کوشش بے نتیجہ رہتی ہے ۔ گردوں کے مقام پرکا ٹنے والی دردیں ہوتی ہیں جو پیٹ ،مثانہ اور یوریتھراکی طرف بڑھتی ہیں۔سب سے زیادہ بے چینی پیدا کرنے والی علامت مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہتی ہے۔حتیٰ کہ چند چمچے پیشاب مثانے میں ہوتاہے وہ بھی باہر نکالنے کے لئے مجبور کر تا ہے۔جس کے نتیجے میںمثانے کی گردن پر خوفناک بے چینی پائی جاتی ہے۔درد میں اضافہ اچانک قطرہ قطرہ پیشاب کے بعد ہوتا ہے۔کینتھرس میں پیشاب گہرے سرخ رنگ کا،جس میں میوکس اور اکثر ریشہ دار کاسٹس کی تہ نیچے بیٹھتی ہے۔بیلاڈونا بھی ایک پُر درد پیشاب کرنے کے عمل کی ایک دوا ہے۔ ڈاکٹر ہیوگ فرماتے ہیں کہ اعصابی تکلیف میںپیشاب کا قطرہ قطرہ آنے میں شازو نادر ہی کبھی ناکام ہوئی ہے۔
٭-نکس وامیکا=کا بہت ہی طاقتور اثر پیشاب والے اعضاء پرہے۔اس کا اثرریڑھ کے نچلے حصے پر ہوتا ہے۔ہمیں اس کے رد عمل کے طور پر جو چیز پہلے متاثر ہوتی ہے وہ پیشاب کو ضبط کرنے کی صلاحیت کے فقدان کے سبب پیشاب خطا ہو جانے پر ہے اوروہ ہے مثانے کی گردن پر خراش پذیری ۔ یہی علامت ہمیں مقعد میں بھی ملتی ہے۔ اس دوا میں پیشاب کرنے کی لاحاصل کوشش پائی جاتی ہے۔اور اس کے ہمراہ جلن اورچیرنے والی دردیں ہوتی ہیں،پیشاب قطروںکی صورت میں آتا ہے۔دوبارہ اس کا اظہار مثانہ کی بے حسی یا فالج میں ہوتا ہے۔یہاں پیشاب ٹپکنا پایا جاتا ہے۔یا پیشاب رک جاتا ہے۔ دواﺅں کے ناجائز استعمال سے خون ملا پیشاب آنا شروع ہو جائے تو وہاںنکس وامیکا کی ضرورت پیش آتی ہے۔ورم مثانہ جس میں پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہے اور پیشاب بھی کم مقدار میں آئے تو نکس وامیکا کی نشاندہی کرتا ہے۔بعض اوقات پیشاب کو زور دے کر باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پیشاب گہرے رنگ کا جس کے ساتھ سرخ اینٹوں کی دھول کی تلچھٹ بیٹھتی ہے۔یا خونی یا ملی جلی ساتھ چپکنے والی میوکس ہوتی ہے۔اوپیم میں بھی نکس سے مشابہت پائی جاتی ہے اس میں بھی جزوی مثانے کا فالج ساتھ پیشاب کو روکنے والے پٹھے کا جزوی تشنج پایا جاتا ہے۔لیکن اوپیم کا مریض لاعلم ہوتا ہے اس کا مثانہ پیشاب سے بھرا ہوا ہے۔اور اس میں پیشاب کرنے کی کوئی خواہش بھی نہیںہوتی۔سٹرامونیم کا مریض پیشاب نہیںکرتا کیونکہ اس کا پیشاب دبا ہوا ہوتا ہے ۔کیمفرایسے دبے ہوئے پیشاب میںجو تشنج کی وجہ سے ہو فوری سکون دیتا ہے۔نکس وامیکا ایسی مثانے کی خراش پذیری میں جو گاﺅٹ اور الکحل کے استعمال کے نتیجے میں ہو مفید ہے۔اور ایسی تشنجی درد کو بھی سکون دیتا جوپیشاب والے رستے میں پتھری کی وجہ سے ہو۔
٭-”پریرا بریوا“=میںپیشاب قطرہ قطرہ آتا ہے۔ پیشاب کرتے وقت شدید تشنجی دردہوتا ہے۔مریض اونچی آواز میں چیختا ہے لیکن لا حاصل ۔مسلسل دردجونیچے رانوں تک ہو ۔پیشاب کی کوشش کرتے وقت گولی کی طرح کے دردپاو¿ں کے تلوو¿ں اور پاﺅں کے پنجے تک جائیں ۔ گردوں کے مقام پر کچلے جانے والی دردیں ہوتی ہیں ۔ پیشاب اس وقت آتا ہے جب گھٹنوں کے بل ہو کرہاتھوں کو فرش پر مخالف سمت میں دبایا جائے۔اس حالت میں دس سے بیس منٹ تک رہے،پسینہ خارج ہوپھر جا کردرد سے ساتھ قطرہ پیشا ب کا خارج ہو ۔ جلن دار دردآلہ تناسل اور گلینڈز میں پائے جائیں۔پیشاب کے اندر شدید نوعیت کی امونیا (نوشادر)کی بو جس کے اندر بڑی مقدار میں لیسدار، گاڑھی سفید میوکس پائی جائے۔پیشاب کی رنگت کالی ،خونی جھاگدار جس کے نیچے یورک ایسڈ کی اینٹوں کے بورے کی طرح کی گہرے سرخ رنگ کی تلچھٹ اور میوکس پائی جائے ۔ اس کے اندر تین سے چھ بجے صبح تشنج ظاہر ہو۔دن کے باقی وقت بہتر رہے۔
٭-سیپیاآفیشی نیلس=ایسی خون کی حالت جہاں یورک ایسڈ کی زیادتی والی حالت ہومیں سیپیا ایک نمایاں دوا ہے۔خون کی ایسی حالت اس کے استعمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے اندرسرخی مائل مٹی کے رنگ کی تلچھٹ جو مثانے سے چپکا ہوا ہویااس کوپیشاب میں نیچے بیٹھی سرخ ریت کہا جاتا ہے۔سیپیا کے پیشاب کو دوسری ادویات سے علیحدہ پہچان اس کی ناگوار بو سے کیا جا سکتا ہے۔سیپیا بستر پر پیشاب کرنے والے بچوں میں اس کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب اس کے بچے پہلی ہی نیند میں کر دیں۔ لائیکوپوڈیم بھی ایک نمایاں دوا ہے جب پیشاب میں سرخ رنگ کی ریت پائی جاتی ہو۔ اس نوعیت کی چھوٹی چھوٹی پتھریاں ہوں ایسی حالت میں بچہ پیشاب کرتے وقت درد سے سسکتا ہے۔لائیکوپوڈیم اس وقت اس کی اکثرمدد کرتی ہے ۔ سارساپریلا اور بینزوک ایسڈ میں بھی اسی طرح کی علامات پائی جاتی ہیں،بینزوک ایسڈ کے پیشاب کی خاصیت یہ ہے اس سے گھوڑے کے پیشاب کی سی بُو آتی ہے ۔نٹرم میور کے اندر بھی سرخ رنگ کی ریت یا اینٹوں کی دھوڑکی تلچھٹ پائی جاتی ہے۔ایک اور دواجس کے اندر ایسی علامتیں نمایاں پائی جاتی ہیں وہ اوسی مم کینم ہے۔یہ گردوں کے درد اور چھوٹی چھوٹی پتھریوں کی ایک مفید دوا ہے۔اس کے مریض کوہر چند منٹ کے بعد پیشاب کرنے کے لئے جانا پڑتا ہے۔ اس دوران وہ درد کی وجہ سے کراہتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو بھینچتا ہے۔اس کے ساتھ اکثر متلی پائی جاتی ہے۔اس میں بڑی مقدار میں ریت اکٹھی ہو جاتی ہے۔ورم مثانہ میں جس کے ساتھ بار بار پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہتی ہے۔اور کھچاﺅ پایا جاتا ہے۔ایسی حالت میں سیپیا مفید ثابت ہوئی ہے۔یہاں سیپیا عام نوعیت کی علامات سے پہچانا جاتا ہے۔ویسی کیریا ایسی حالتوں میںپیشاب سے پتھری کو نکالے میں بطور احسان تجویز کیا جاتا ہے،یہی کام تھلاسپی برسا بھی کرتی ہے۔
٭-اسٹیفی سیگیریا=یہ دوا ورم مثانہ میں اکثر ظاہر ہوتی ہے۔جو عورتوں میںجنسی فعل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب عورت سے پہلی دفعہ جنسی فعل کیا جائے ۔ اس لئے اس دوا کو دلہنوں کے ورم مثانہ کی دوا کہا جاتا ہے ۔ بعض عورتوں کو ہر جنسی فعل کے بعد یہ تکلیف ہو جاتی ہے۔پیشاب کرنے کے بعد مثانے پر دباﺅ محسوس ہوتا ہے۔اور مریضہ یہ محسوس کرتی ہے کہ مثانہ ابھی خالی نہیں ہوا۔ایک احساس کہ مثانہ میں پیشاب کا قطرہ یوریتھرا کی طرف لڑکھڑاتا چلا آرہا ہے۔یا ایک مسلسل جلن محسوس ہوتی ہے۔اسٹیفی سیگیریا ایسے ورم مثانہ میں بھی مفید ہے۔جو بیماری کے نتیجے میں زیادہ عرصہ تک بستر پر رہنے کے نتیجے میں آئے۔یا کیتھیڈر کے استعمال کے بعدہو۔اس میں ماہواری کے نظام میں بے قاعدگی ہوتی ہے ،دیر سے اور کھل کر آتے ہیں۔بعض اوقات پہلے پیلے رنگ کا خون آتا ہے پھرگہرے رنگ کا اور جما ہوا ہوتا ہے۔ایسی مریضائیں جو سکریفولس مزاج رکھتی ہیں ان کی اندام نہانی میں نمود پیدا ہوتی ہیں جن میں ڈنگ لگنے والی دردیں ،اور والوا میں نوچنے والی خارش پیدا ہوتی ہے۔
ورم مثانہ
٭-ٹیری بن تھنااولیم = پیشاب کی بنیادی خصوصیت میں گہرے رنگ کا دھوئیں کی طرح کادھندلا اور اس میں کافی کی طرح تلچھٹ نیچے بیٹھتی ہے۔ اس میںخون اور البیومن آتی ہے۔ پیشاب دھوئیں کی طرح کاکی موجودگی یہ بات ظاہر کرتی ہے۔خون کے سیلز کے ٹوٹنے کو ظاہر کرتی ہے۔گردوں کی وریدوں میں اجتماع خون سے خون ملا پیشاب آتا ہے۔ٹیری بن تھنا کی اس وقت اکثر ضرورت پڑتی ہے جب بار بار پیشاب کرنے کے دوران جلن ہورہی ہو اور پیشاب کے قطرہ قطرہ آنے کے ساتھ شدید درد ہوتا ہے ۔ پیشاب میں البیومن اور بنفشہ جیسی بو آتی ہے۔مخصوص نوعیت کی بُو وایولاٹرائی کولر سے آتی ہے اس کی بو بلی کے پیشاب جیسی اور بینزوک ایسڈ سے نوشادر کی جیسے گھوڑے کے پیشاب سے آتی ہے۔ٹیری بن تھنا ورم مثانہ کی ایک بہترین دوا ہے۔ورم کے ساتھ اینٹھن پائی جاتی ہے ۔پیشاب کم مقدار میں،خونی،اورساتھ مثانہ میں دباﺅ پایا جاتا ہے جو گردوں کی طرف بڑھتا ہے۔ اس دوا میں حاد اور مزمن دونوں نوعیت کی سوزش گردہ جس کے ساتھ اخراج خون بھی ہوتا ہے۔خون زیادہ اور پیشاب کی مقدارکم جو مسلسل قطرہ قطرہ آئے۔گردوں کے امراض میں یوریمیا کی وجہ سے تشنج اور جبڑوں کا بھینچا جانا پایا جاتا ہے۔پیشاب کی علامتوں کے ساتھ پھیپھڑے یا گلے کا نزلہ یہ تمام علامات اس دوا کی نشاندہی کرتی ہیں۔
٭-بینزوک ایسڈ=میں پیشاب بمشکل تھوڑا سا آتا ہے۔اس کا رنگ گہرے بھورے رنگ کا۔اس سے بُری سی بو آتی ہے۔ڈپازٹ نہیں ہوتے۔اگر کپڑوں پر پیشاب لگ جائے تو ا س کی بو اس میں رچ بس جاتی ہے۔
٭-بربرس ویلگریس=اس کا مریض کمر کی درد میں مبتلا ہوتا ہے جس میں اضافہ تھکاوٹ کے نتیجے میں ہوتا ہے۔پیشاب کرتے وقت جلن ہوتی ہے۔گردوں کے ارد گرد بلبلے اُٹھنے کااحساس،دکھن ہوتی ہے۔
٭-کیمفر=پیشاب کا قطرہ قطرہ آنے میںایک حالت میں کینتھرس مفید ثابت ہوئی ہو۔اسی طرح بعض اوقات دوسری نوعیت کے پیشاب کے قطرہ قطرہ آنے میںمفید ہے۔
٭-کینابس سٹائیوا=یوریتھرا میںچھونے سے حساسیت پائی جاتی ہے۔اس کا استعمال سوزاک کی ابتدائی حالت میں مفید دوا ہے۔
٭-کینتھرائیڈز=میں یوریتھرا میں جلن اور کاٹنے والی دردیں ہوتی ہیں۔مثانے میں شدید درد ہوتی ہے،مسلسل بار بار پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہتی ہے۔ساتھ ناقابل برداشت مروڑ(اینٹھن)ہوت ہے۔مثانے کی گردن پرکاٹنے والی ،شدید جلن پائی جاتی ہے۔ پیشاب سے پہلے ،درمیان میں اور بعد میں خوفناک کاٹنے والدردیں ہوتی ہیں۔مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہتی ہے۔پیشاب قطرہ قطرہ آتا ہے۔جہاں شدید کاٹنے اور جلن والا پیشاب کرنے کا عمل پایا جاتا ہے۔یہ دوا سانس لینے والے رستہ کی شکایات میں بھی مفید ہے۔
٭-کاسٹی کم=یوریتھرا کے سوراخ میں خارش ،لگاتار غیر مﺅثر پیشاب کرنے کا عمل پایا جاتا ہے۔اکثر ایک وقت میںصرف چند قطرے خارج ہوتے ہیں۔ساتھ مقعد کا تشنج اور قبض پائی جاتی ہے۔دکھن اور کچا پن کا احساس۔کھانستے وقت،چھینکتے ہوئے اور ناک کوصاف کرتے وقت رات کو دورانِ نیند،چلتے وقت خود بخود پیشاب خارج ہو جاتا ہے۔ پیشاب لیتھک ایسڈ سے بھرا ہوا۔اس کے اندرگاڑھے ڈپازٹس یا مختلف رنگوں میں گہرے سے ہلکے رنگ کی تلچھٹ پائی جاتی ہے۔
٭-”چیموفیلا امبیلاٹا“=میں سوزش مثانہ کے ساتھ پیشاب میں بڑی مقدار میں میوکس پائی جاتی ہے۔
٭-کلیمٹس ایرکٹا=میں پراسٹیٹ گلینڈز کے نتیجے میں تکالیف ہوتی ہیں۔ سارا پیشاب خارج کی اہلیت نہیں ہوتی۔پیشاب کرنے کے بعد قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے۔منی کی نالی کے ساتھ درد ہوتا ہے۔نالی میں سکڑاو¿شروع ہو جاتا ہے۔
٭- کونیم میکولیٹم=میں پیشاب رک رک کر آتا ہے۔یا آپ اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پیشاب کا آتے آتے اچانک بند ہو جانا لیکن کچھ دیر پھر شروع ہو جائے۔اس میںدوران پیشاب مثانے میں کاٹنے والی دردیں پائی جائیں۔
٭-ڈیجی ٹیلس=کا پیشاب بھورے رنگ کا،گہرے رنگ کا جیسے بئیر شراب ہو۔اس میں صفراءبھی ہو سکتا ہے۔یرقان میںنبض آہستہ اور کمزوراور اکثررک رک کرچلتی ہے۔
٭- ایکوزیٹم=میں پیشاب کرنے کا عمل بہت پُردرد ہوتا ہے۔مثانے اور یوریتھرا میں سوزش ۔کینتھرائیڈ کی طرح شدید نوعیت کی درد ہوتی ہے لیکن اس میں پیشاب کی مقدار کینتھرس کی طرح کم نہیں ہوتی۔پیشاب میں میوکس کی زیادتی ایکوزیٹم کی نشاندہی کرتی ہے۔
٭-جلسی میم=میں مثانے کی گردن کے فالج کی وجہ سے از خود پیشاب خارج ہوتا ہے۔ مثانے سے متعلق تحریک پذیری کے ساتھ کھلے پیشاب کی علامت ہوتی ہے جو پانی کی طرح بالکل صاف اور کھلے ہوتے ہیں۔اگراس کے ساتھ بیماری کی علامتوں میں کمی آئے تو یہ ”جلسی میم“ کی علامت ہے۔
٭-ہیلی بورس نائیگر=پیشاب کم مقدار میںجس میںکافی کی طرح کی تلچھٹ نیچے بیٹھتی ہے۔پیشاب دبا ہوا بھی ہو سکتا ہے،خاص طور پرشدید حاد قسم کی بیماریوں میں۔بچوں میں اگر پیشاب گہرے رنگ کا آئے۔حاجت بہت ہو مگر بچہ پیشاب نہ کر سکے اور مثانے پر دباﺅ بڑھتا چلا جائے تواس مرض میں ہیلی بورس بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔
٭- ہیپر سلف=پیشاب شروع ہونے میں کچھ دیر تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔آہستہ آہستہ اُترتا ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کبھی ختم نہیں ہو گا کچھ پیشاب مثانے میں باقی رہ گیا ہے۔مثانے کے مسلز کی کمزوری کی وجہ سے پیشاب کے قطرے سیدھے نیچے گرتے ہیں۔

طالب دعا
تحریروترتیب و پیش کش:
خالد محمود اعوان
0308-2486085
03322556942

Medical Disclaimer

This article is for educational purposes only and not a substitute for professional medical advice.

Similar Posts

  • پیشاب کی جلن اور تکالیف

    Table of Contents اسباب: علامات: یوریتھرا کا منہ انفیکشن والا عرصہ ====احتیاط ==== ذاتی صفائی یقینی بنائیں۔ پیشاب کے مسائل اور ہومیو پیتھک طریقہ علاج . پیشاب کی نالی میں انفیکشن کی نالی میں انفیکشن (UTI) ایک عام طبی مسئلہ ہے جس میں یوریتھرائٹس (یورتھریا کی انفیکشن)، سسائٹس (مثانے کی انفیکشن) اور پیلونی فیرائٹس (گردے…

  • 10 important symptoms of kidney disease

    Table of Contents گردوں کی بیماری کے 10علامات ماخوذ 10 important symptoms of kidney disease گردوں کی بیماری کے 10علامات ماخوذ ۱۸مارچ کو پوری دنیا میں یوم گردہ منایا گیا۔ ہماری وادی میں بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر اور انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے ڈاکٹروں نے "الگ الگ انداز” میں یہ دن منایا۔…

  • امراض گردہ، پتھری

    گردے جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں ،مثلاََجسم میں کیلشیم ،پوٹاشیم ا ور فاسفورس کی مقدار کے علاوہ پانی اور دیگر نمکیات وغیرہ کا ایک حد تک جسم میں رہنا ضروری ہوتا ہے اس کی کمی و بیشی سے بہت امراض جنم لیتے ہیں ،انسان زندہ نہیں رہ سکتا ،گردوں کا کام ان مادوں ،نمکیات اور پانی میں توازن قائم رکھنا ہے ۔گردے جسم کے لیے ایسے بہت سے مفید ہارمون پیدا کرتے ہیں ،اگر یہ ہارمون جسم میں کم ہو جائیں تو خون کی کمی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے ۔