عنبرambergris
عنبرambergris
ﻋﻨﺒﺮ ﺟَﻌﻔَﺮ ﮐﮯ ﻭﺯﻥ ﭘﺮ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ھے ( ۱ ) ۔ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻮﻥ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﮯﻣﯿﻢ ( ﻋﻤﺒﺮ ) ﭘﮍﮬﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ( ۲ ) ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﻤﻊ ﻋﻨﺎﺑﺮ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻧﺎﻡ ’’Ambergris ﺍﯾﻤﺒﺮ ﮔﺮﺱ ‘‘ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭﻧﺎﻡ AmbraGrasea: ﮨﮯ۔ اس نام کی دوائی ھومیوپیتھی میں بھی مستعمل ھے، اور اسی عنبر کی پوٹینسی بناکر امبراگریسیا نام دیا جاتا ھے،
یہ خاکستری رنگ کا ایک خوشبو دار مادہ ھوتا ھے جو عنبر نامی وھیل مچھلی کے پیٹ سے نکل کر سطح آب پر جمع ھو جاتا ھے بعض وقت اس مچھلی کا شکار کرکے اس کے پیٹ سے بھی نکال لیتے ہیں، عمدہ خوشبو ھوتی ھے،
عنبر مچھلی کا ذکر حدیث کی کتابوں میں بھی ملتا ھے، یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﯿﺶ ﺍﻟﺨﺒﻂ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﺘﮯ ﺟﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﺎ ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺍﻣﯿﺮ ( ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ) ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ( ﺟﺐ ) ھم ﺳﺨﺖ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ( ﺳﻤﻨﺪﺭ ) ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ( ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ) ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ھم ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﻋﻨﺒﺮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺗﮏ ( ﺑﮍﯼ ﻓﺮﺍﺧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ) ﮐﮭﺎﯾﺎ ، پھر ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﮉﯼ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﺴﻠﯽ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﻧﭧ ﺳﻮﺍﺭ ( ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ) ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ، یعنی اتنی بڑی مچھلی تھی، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﮨﻢ ( ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻭﺍﭘﺲ ) ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ، ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ ” ﺟﺲ ﺭﺯﻕ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﻢ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﺅ ( ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﺯﻕ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﻢ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺯﻕ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﺅ ) ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ حصہ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ( ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺎ ) ﮨﻮ ﺗﻮ ھمیں ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻼﺅ، ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ” ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣﺼﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ پیش کیا ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﯾﺎ ۔ ” ( ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭﻣﺴﻠﻢ )
یہ مومی مادہ ہے، جو سرد پانی میں حل نہیں ہوتا اور سمندر میں سطح آب پر تیرتا ہوا ساحل پر آجاتاہے۔یہ تین قسم کا ہوتاہے۔لیکن رنگت کے لحاظ سے بہترین عنبراشہب ہوتاہے۔جوکہ سفید زردی مائل اور بہت خوشبودار ہوتاہے اور اشہب اس سیاہ رنگ کو کہتے ہیں جس کی سفیدی غالب ہو۔
استعمال :-
عنبر خوشبو میں بھی ایک اعلیٰ قسم ہے‘ مشک کے بعد اس کی خوشبو کا شمار ہوتا ھے.
عنبر کی بہت سی قسمیں ہیں اور اس کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں عنبر سفید‘ سیاہی مائل سفید‘ سرخ‘ زرد‘ سبز‘ نیلگوں‘ سیاہ اور دو رنگا‘ ان میں سب سے عمدہ سیاہ مائل بہ سفید ہوتا ہے پھر نیلگوں‘اس کے بعد زرد رنگ کا ہوتا ہے اور سب سے خراب سیاہ ہوتا ہے….
اس کا مزاج گرم خشک ھے، دل و دماغ‘ حواس‘ اعضائے بدنی کے لئے تقویت بخش ھے فالج اور لقوہ میں مفید ھے بلغمی بیماریوں کے لئے اکسیر ہے ٹھنڈک کی وجہ سے ہونے والے معدہ کے دردوں اور ریاح غلیظ کے لئے بہترین علاج ہے‘ اور اس کے پینے سے سدے کھلتے ہیں‘ اور بیرونی طور پر اس کا ضماد نفع دیتا ہے‘ اس کا بخور زکام سر درد کے لئے نافع ھے اور برودت سے ہونے والے آدھا سیسی کے لئے شافی علاج ہے۔
سے خوشبو یات(Perfumes) بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے
عنبر کو زیادہ تر اعصاب دماغ اور قلب کے امراض باردہ میں استعمال کیاجاتاہے۔ چنانچہ فالج لقوہ رعشہ کزاز خدر ضعف دماغ واعصاب ضعف قلب خفقان وغیرہ میں مفرحات میں شامل کرکے کھلایا ہے۔ محرک باہ ہونے کے باعث ضعف باہ مبہی دواؤں میں شامل کرتے ہیں ۔ حرارت غریزی کے ضعف کے وقت اس کو برانگیختہ کرنے کیلئے کھلایا جاتاہے۔ عنبر کا کھانا بوڑھوں کیلئے مفید ہے۔
ضعف اور زخم معدہ کو زائل کرنے کیلئے بھی استعمال کرایا جاتاہے۔
خالص عنبر پہچان ۔
۱۔
مُلّانفیس نے بتائی ہے کہ عنبر کو شیشی میں ڈال کر کوئلوں کی آگ پر رکھیں اگر تیل یا موم کی طرح پگھل جائے تو اصلی ہے ورنہ نہیں ۔
۲۔
ذراسا آگ پر ڈالیں تو خوشبودار دھواں دے گا۔
تحقیق:
لقمان احمد سلطان
This article is for educational purposes only and not a substitute for professional medical advice.
