Allahshafi

Blog

  • Natrum Carb نیٹرم کارب

    Natrum Carb نیٹرم کارب

    ہومیوپیتھک میڈیسن نیٹرم کارب Natrum Carb کے متعلق معدے کی جو علامات کتابوں میں لکھی ہوئی میں نے پڑھی ہیں ان کو کافی حد تک درست پایا ہے _
    ایسے مریض جن کو ہر وقت ڈکاریں آتی رہتی ہیں اور عموما معدے کی ترشی کی شکایت کرتے رہتے ہیں اور اکثر گنٹھیا میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں ان کے لیے یہ بہترین میڈیسن ہے ۔ اس دوائی کے مریض کا چہرہ زرد ہو جاتا ہے ۔بیس برس بعد مریض کندھے جھکا کر چلنے لگتا ہے ۔
    ٹھنڈک برداشت نہیں ہوتی سردی سے کانپتا رہتا ہے ۔
    ذرا سی ہوا لگتے ہیں طبیعت بگڑ جاتی ہے اسے زیادہ کپڑوں کی ضرورت رہتی ہے زیادہ گرمی ہو یا زیادہ سردی بالکل برداشت نہیں کر سکتا وہ معتدل موسم پسند کرتا ہے.
    معدے کی یا گنٹھیا وغیرہ کی تقریبا ساری تکلیفیں موسمی تبدیلیوں سے بڑھ جاتی ہے ۔
    ذرا سی آواز سے دروازہ بند ہونے یا کھلنے کی آواز سے برہم ہو جاتا ہے ۔ عصبی جوش اور دھڑکن اور اس کے ساتھ شدید کمزوری۔ عصبی کمزوری اور طبیعت کا پریشان ہو جانا پایا جاتا ہے۔
    ذرا سی جسمانی یا ذہنی مشقت سے اس کو تھکاوٹ ہو جاتی ہے کاغذ کی کڑکڑاہٹ سے دھڑکن ہونے لگتی ہے جوش آجاتا ہے طبیعت اداس ہو جاتی ہے ۔
    خاندان اور دوستوں سے بے پروائی۔ ہر انسان دوست احباب میں مل بیٹھنے سے نفرت۔ رشتے داروں سے نفرت ۔غیروں سے نفرت اپنے اور دوسروں کے درمیان زبردست فرق سمجھتا ہے۔
    سوڈیم کے سارے مرکبوں کے بارے میں یہ بات صحیح ہے خصوصیت سے نیٹرم کارب کے بارے میں.
    مریض سوڈا کا جتنا زیادہ استعمال کرتا ہے اپھارے کی تکلیف بھی اتنی ہی زیادہ بڑھتی ہے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے حتی کہ آخرکار دودھ بھی ہضم نہیں ہوتا .
    ایسے مریض جو ایلوپیتھک میڈیسن سوڈامنٹ کی گولیاں اکثر استعمال کرتے رہتے ہیں ان کا معدہ بری طرح سے خراب ہو جاتا ہے ایسے مریضوں کو جب تک ہم نیٹرم کارب نہیں دیں گے بے شک معدے کی جتنی مرضی اچھی میڈیسن دے لیں ان کو افاقہ نہیں آئے گا ۔
    ہومیوپیتھک میں اگر کامیابی سے علاج کرنا ہے تو ہمیں بیماری اور میڈیسن کے تعلق کو بہتر طریقے سے سمجھنا پڑے گا ۔

    تحریر۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر محمد رضوان ۔
    write on youtube.>Rizwan Homoeopathic clinic

  • امراض گردہ کا تفصیلی علاج

    امراض گردہ کا تفصیلی علاج

    ✍🏻۔۔۔۔۔۔روبن مرفی کا ایک ھومیوپیتھی میں ایک انٹرویو ھے اس میں شوگر کے حوالے سے بتایا ھے کہ ھمارے جسم میں جگر ھے اور جگر کے نیچے ایک انگ ھے جسے پین کریاز یا لبلبہ کہتے ھیں وہ کہتے ھیں وہاں سے بیٹا سیل رلیز ھوتے ھیں تو جب بیٹا سیل کا فنکشن ٹھیک نہیں ھوتا یا کم ھوتا تو پھر کیا ھوتا ھے کہ ھمارے جسم میں شوگر کی بیماری ریز کرتی ھے ،

    ✍🏻۔۔۔۔۔یہ جو ھم صبح روزانہ تندوری نان کھاتے ھیں یا میدے کی بنی پراڈکٹس یا چیزیں کھاتے ھیں یا استعمال کرتے ھیں اس کے اندر ایک مادہ ھوتا ھے الیگزون یہ الیگزون بیٹا سیل کو تباہ کرتا ھے ،

    ✍🏻۔۔۔۔اسی الیگزون سے ھماری ایک ھومیوپیتھی دوا بنتی ھے
    ،، ایلیگزینم ،، ولمار شوابے جرمن کمپنی کی جو ھمارے ھاں بھی دستیاب ھے 30 میں 200 میں ،

    ✍🏻۔۔۔۔۔۔روبن مرفی کا کہنا ھے کہ لمبی چوڑی کیس ٹیکنگ کی بجائے اگر آپ ایلیگزون کسی بھی دوا کے ساتھ مددگار کے طور استعمال کریں تو شوگر کا لیول نیچے آنا شروع ھو جاتا ھے اور اس سے گردے خراب ھونے کا امکان بھی کم ھو جاتا ھے ، اور وہ بچ سکتے ھیں ،

    ✍🏻۔۔۔۔۔۔۔ محترم ڈاکٹر اعجاز علی صاحب کا کہنا ھے کہ یہ میں نے پریکٹس میں خود استعمال کی ھے اور اس سے نہ صرف شوگر کا لیول ٹھیک ھوتا ھے بلکہ یوریا اور کریٹینائن کو بھی کم کرتی ھے ، اسکی پوٹینسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ھوئے فرماتے ھیں کہ 30 سے 200 ھے لیکن 30 میں لیں مگر 30 سے کم نہ کریں ،

    ✍🏻۔۔۔۔۔دوسرے نمبر پر جو رینل فیلیئر کا سبب ھے وہ بلڈ پریشر ھے ، بلڈ پریشر وہ طاقت ھے جو خون میں ہارٹ سے پورے بدن میں ٹرانسفر ھو رھی ھے ،

    ✍🏻۔۔۔۔۔گردے کے فعل پر جب بلڈ پریشر پڑتا ھے تو ایک دوا ھے ،، اسپارٹیئم ،، میں اسے ٹنکچر میں استعمال کرتا ھوں اسپارٹیئم بلڈ پریشر کو کم کر کے گردے کو نقصان سے بچاتی ھے ،

    ✍🏻۔۔۔۔۔گردے کی جو پتھریاں ھیں یہ بھی گردوں کے فعل ھونے کا ایک بڑا سبب ھیں ،

    👇🏻۔
    👈🏻۔( اب تک ھم نے محترم ڈاکٹر اعجاز علی صاحب کے ایک لیکچر کو تحریر کیا جو پنڈی میں ایک پروگرام میں آپ نے دیا تھا،
    اب آپ کی تحریر جو ایک پیپر پکچر کی صورت میں ھے اب یہاں اس کو تحریر کیا جارھا ھے)

    ✍🏻۔۔۔۔۔جہاں ایڈوانس پیتھا لوجی در آئے وہاں مریض کی انفرادیت کئی تہوں میں چھپ کر رہ جاتی ھے اس کے علاوہ ایلو پیتھک علاج کی تند و تیز ادویات کا استعمال بھی ، ان جہتوں کو ختم کر دیتا ھے ، جن کو بنیاد بناکر ھومیوپیتھی مرض کا نہیں بلکہ مریض کا علاج کرتی ھے ،

    ✍🏻۔۔۔۔۔۔ایسے میں معالج کا تجربہ اور مشاہدہ کلینیکل حوالے سے کام آتا ھے ، اور حسب حال مریض کی پیتھالوجیکل حالت کے مطابق ادویات تجویز کی جاتی ھیں اور انہیں حالات کے پیشِ نظر میری پریکٹس میں آنے والی باتیں چند Tips کی صورت میں پیشِ خدمت ھیں ، تاھم اس کو مستقل عادت نہ بنایا جائے ، بلکہ مریض کی درست زاتی دوا کو تلاش کرنے کی ھمیشہ کوشش جاری رکھی جائے ،

    👈🏻۔۔۔۔۔۔گردے کی خرابیاں جن کے پیچھے پتھری کاز cause ھو ، لائیکو پوڈیم 6 طاقت۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔پیشاب میں خون ، پس سیل اور دوسرے غیر ضروری اجزا کا اخراج UTI ھو تو کینتھرس 200 طاقت میں ایک ہفتہ تک صبح ،دوپہر شام دن میں 3 بار دیں ایک ھفتہ ۔۔۔۔۔ بعد دوبارہ پیشاب ٹیسٹ کروائیں ۔۔۔اس کے باوجود ٹیسٹ ٹھیک نہ آئے تو میڈورنیم دس ھزار دے کر دوبارہ کینتھرس کو پندرہ یوم تک اسی طرح دیں ۔۔۔۔اسی80 فیصد کیس ٹھیک ھو جاتے ھیں ۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔گردے فیل کی وجہ سے خون کے اندر سیرم کریٹینائین کی سطح بہت تیزی سے بڑھنے لگے تو اسے کنٹرول کرنے کے لیئے کریٹینائن 3x cretanine دن میں 4 بار دیں کم از کم ایک ماہ تک ۔۔۔۔
    (اس دوا کو پہلے ڈولسس لیب Dolisos نے تیار کیا تھا آج کل بائرون Boiron اور انگلینڈ کے ھومیوپیتھک دوا ساز بنا رھے ھیں )

    👈🏻۔۔۔۔۔۔۔اچانک جل جانے سے گردے کام کرنا بند کر دیں کاسٹیکم کی بلند طاقتیں ، اس کے ساتھ کینتھرس کا استعمال مریض کی جان بچا لیتا ھے ۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔پیشاب کی پرانی انفیکشن جو کسی ھومیوپیتھک دوا یا ایلو پیتھک دوا سے کنٹرول میں نہ آرھی ھو تو Thuja 2c روزانہ تین سے چار بار مسلسل چند ہفتے استعمال کروائیں ، وہ شروع کرنے سے پہلے ایک خوراک اعلیٰ طاقت میں میڈورنیم نوسوڈ کی دیں۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔ پیشاب کی نالی اندر سے آپس میں مل کر چپک گئی ھو ، اس کیلیئے سرجری کی تجویز ھو تو بغیر سرجری کے اکثر اس دوا سے تکلیف دور ھوتے ھوئے دیکھا گیا ھے ، کلیمیٹس اریکٹا ،Clematis Erecta CM کی ایک خوراک دیں ، اس کے بعد مسلسل 30 طاقت میں کئی ہفتے دیں مرض جڑ سے ختم ھو جائے گا ،۔۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔ گردہ فیل کے مریضوں میں بلڈ سی پی Blood Cp کی رپورٹ میں پلیٹلیس کم ھو جائیں تو ھومیوپیتھی میں دوا ایکس رے X Ray 10m کی واحد خوراک دیں 48 گھنٹے بعد دوبارہ لیب ٹیسٹ کروائیں ، رپورٹ پہلے سے بہتر ھوگی ، اگر ایکسرے دوا سے فائیدہ نہ ھو تو چائنا سلف 200c کی ایک خوراک روزانہ چند دن دیں ، پلیٹلیس اپنی نارمل حد میں آ جائیں گے ، اس تجربے کو ھم بار بار کئی ایک مریضوں پر دوھرا چکے ھیں اور ھر بار اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اچھے نتائج آئے ،

    👈🏻۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشاب کی نالی میں ٹیومر یا کسی قسم کی گروتھ ھو تو تھوجا 30c اور اینیلینم 30c Anilininum میں بدل کر کئی ہفتے تک دیں تو حیرت انگیز طور پر بغیر کسی سرجری کامیابی ھو جاتی ھے ، اگر فائیدہ نہ ھو ایک دم آپ Anilininum کی بلند طاقت یعنی CM پر چلے جائیں ۔۔۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔۔۔۔خون میں بڑھی ھوئی بلڈ یوریا کی خطرناک حد کو مارفینم CM کی واحد خوراک سے فوری طور پر روکا جانا ممکن ھے تاھم یہ دوا محض پہلی بار استعمال سے اچھے نتائج دیتی ھے اسکی بار بار دوھرائی مفید نہیں رھتی ۔۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔۔۔Constitutional Homoeopathic Treatment
    سے ھی ناکارہ گردے کی حالت کو نہ صرف بہتر کیا جانا ممکن ھے بلکہ ڈائلیسس سے چھٹکارا بھی ممکن ھے ، کلینیکل تجربے اور مشاہدے کی بنا پر کئی افراد کو ٹھیک کرنے کے بعد ھم یہ جملہ لکھ رھے ھیں ۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔بوڑھے افراد میں گردے کی خرابی کو ھومیوپیتھک ادویات آیوڈین اور لائیو پوڈیم 200 سے روکا جانا ممکن ھے ۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔گردے سے نیچے پیشاب کی نالی یوریٹر میں پتھری پھنس جائے تو ھمارے تجربے میں جس دوا نے سب سے زیادہ فائدہ کیا وہ میڈورنیم CM ھے اسکے علاؤہ 30 طاقت میں سارساپریلا مدر ٹنکچر گرم پانی میں ملا کر دینے سے پتھری کو نکلتے دیکھا ھے ، ۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔ گردے سکڑ کر چھوٹے ھو جائیں تو پلمبم میٹ۔۔۔۔۔

    👈🏻 ۔۔۔۔۔پیشاب میں پروٹین کا اخراج ، آنکھ کے نیچے سوجن بیگ نما نظر آئے Apis 6c زیادہ عرصہ تک دیں ،

    👈🏻۔۔۔۔۔ٹرانس پلانٹ کے بعد کئی ایک لوگوں کے گردے دوبارہ خراب ھو جاتے ھیں ان افراد مزاجی دوا استعمال کی جائے تو انکا ٹرانسپلانٹ خراب گردہ دوبارہ سے کام کرنے لگتا ھے ،۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔گردے فیل کے مریضوں میں ایک عارضہ مستقل تنگ کرتا ھے ، وہ ھے الٹی اور قے اس کیلیئے
    آرسینک البم ،
    آپو سائنم،
    سمبوکس نائگرہ،
    کریازوٹ،
    آیوڈین،
    نکس وامیکا سے فائیدہ ھوتا ھے ۔

    👈🏻۔۔۔۔۔ گردے فیل کے مریضوں میں خون کی کمی روزانہ بڑھتی چلی جائے ۔۔۔۔۔آرسینک البم چائنا ،چائنا آرس اور فاسفرس

    👈🏻۔۔خون کی رپورٹ میں leukocyts اگر بڑھ جائیں تو سب سے پہلے ٹیوبر کولینیم بووینم ایک ھزار کی ایک خوراک دیں اسکے بعد درج زیل ادویات سے کوئی ایک حسب علامت دی جا سکتی ھے ،
    آرسینیک آیوڈ ،
    نیٹرم میور ،
    ایکسرے ،
    برائٹا آیوڈ ،
    وینڈیم
    اور پلمبم میٹ ۔۔۔۔ھم نے اس دوا کو 6 طاقت سے 12 طاقت تک اس مسئلے میں استعمال کیا ہمیشہ فائیدہ ھوا
    (گردہ فیل کے مریضوں میں )

    👈🏻۔۔۔۔۔بلڈ یوریا کو کنٹرول کرنے کے لیئے ایل سیرم Bdh طاقت میں بہت اچھا کام کرتی ھے ، اسے بائرون لیب فرانس نے تیار کیا ھے ،۔۔۔۔۔۔۔

    👈🏻۔۔۔۔۔۔۔بار بار بننے والی پتھریوں کی روک تھام کرنے کیلیئے مجرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوا کلکیریا رینالس 6 طاقت میں زیادہ ٹائم تک دیں ،

    👈🏻۔۔۔۔۔۔۔۔چائنا ایک ھزار طاقت میں اگر ھر مہینے ایک عام تندرست شخص کھا لے تو اس کے جسم میں کہیں بھی پتھری نہیں بنتی ۔۔۔یہ قول ایک انڈین ڈاکٹر کا ھے جس کا نام مجھے بھول گیا ، ۔۔۔۔۔۔

    👇🏻۔
    👈🏻۔۔۔ھمیشہ راہنما علامت کی کھوج میں لگے رھیں ایک کھوجی کی طرح کہیں نہ کہیں۔ کوئی بات کوئی نکتہ یا وجہ ضرور مل جاتی ھے ،
    جس سے معجزاتی لیول پر نتائج حاصل ھوتے ھیں ۔۔۔

    👈🏻ھومیو ڈاکٹر اعجاز علی صاحب کے ایک ہینڈ بل پکچر سے ماخوذ ،
    (copy – paste)

  • کینسر اور ہومیوپیتھک علاج

    کینسر اور ہومیوپیتھک علاج

    کینسر او رہومیوپیتھک علاج


    ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ 0092-301-5-5533966
    کینسر ایک مہلک بیماری ہے ۔ اس کی تاریخ نہایت پرانی اور طویل ہے جس کا سراغ تین ہزارسال قبل مسیح میں ملتا ہے۔اہرامِ مصر میں ایک ممی ملی جس کے کتبے پر لکھا تھا کہ اسے کینسر تھا اور کینسر ایک لا علاج بیماری ہے۔کینسر جو یونانی زبان کا لفظ ہے، کہا جاتا ہے یہ نام بقراط نے دیا۔
    کینسر جو اس وقت دل کی بیماری کے بعد اموات کا دوسرا بڑا سبب ہے تاحال ناقابلِ علاج سمجھا جاتا ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسمِ انسانی کے خلیات اپنی شکل اور ماہیت تبدیل کر لیتے اور تباہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
    طبِ ایلوپیتھی میں کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور آپریشن اس کا علاج سمجھا جاتا ہے۔ تاہم آپریشن کے حوالے سے بہت سارے ڈاکٹر حضرات کی رائے کے مطابق یہ بیماری دوبارہ ہو جاتی ہے۔
    اور اس علاج میں کینسر کے خلیات کو مارنے میں جو دوائیں استعمال ہوتی ہیں، صحتمند خلیات بھی ان کی زد میں آکر مارے جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر سال پچاس ہزار لوگ کینسر سے مر جاتے ہیں۔
    ہومیوپیتھک فلاسفی کے مطابق تمام بیماریاں قوتِ حیات میں خلل پیدا ہو جانے سے آتی ہیں۔توانائی میں خلل کی بدولت علامات اور نشانیاں رونما ہوتی ہیں۔ اور ہر شخص اپنی انفرادیت کی بنا پر اپنی علامات کا اظہار کرتا ہے۔نیز ہومیوپیتھی طریقہِ علاج میں مریض کو کلی طور پرلیا اور سمجھا جاتا ہے۔
    ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق کینسر دراصل جسم انسانی میں موجود کئی بیماریوں کا نتیجہ ہے جو برسوں اندر ہی اندر انسان کو محسوس اور غیر محسوس انداز میں کھائے جا رہی ہوتی ہیں۔نیز ہومیوپیتھک اصطلاح میں اسے ملٹی میازمیٹک بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق کسی بھی مرض میں موروثیت، ماحول اور مریض کا مزاج نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جیسا کہ سیمنٹ کے فرش پر رکھا ہوا بیج اس وقت تک نہ اُگ سکتا ہے نہ پودا بن سکتا ہے جب تک کہ اسے مناسب زمین میں دبایا اور مناسب کھاد پانی اور ماحول کا بندوبست نہ کیا جائے۔اسی طرح بیماری کو بھی جڑ پکڑنے اور پھلنے پھولنے کے لیے مناسب فضا اور ماحول درکار ہوتا ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر سال پچاس ہزار لوگ کینسر سے مر جاتے ہیں۔


    کینسر کے علاج میں ہومیوپیتھی کا کردار


    ہومیوپیتھک نظریہ علاج کے مطابق کینسر محض عضویاتی بیماری نہیں ہے بلکہ سارا جسمانی نظام اس کی زد میں آتا ہے۔
    ہومیوپیتھی کینسر کے علاج میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے، اسے سمجھنے کے لئے ہمیں ہومیوپیتھی کے اصولوں کو سمجھنا ہو گا۔اور اس کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ ہومیوپیتھی میں کوئی بیماری ناقابلِ علاج نہیں ہے بشرطیکہ مریض میں مناسب توانائی موجود ہو۔توانائی جسے دوسرے الفاظ میں قوتِ حیات کہا جا سکتا ہے۔
    ہومیوپیتھک اصولوں کے مطابق ہر بیماری کے پیچھے ایک سبب ہوتا ہے اور ہر سبب کے پیچھے مناسب ہومیوپیتھک دوا موجود ہوتی ہے۔
    کینسر کے علاج میں ہومیوپیتھک نوسوڈز، متعلقہ عضویاتی دواؤں، مزاجی دواؤں اور اسباب کے مطابق منتخب شدہ دواؤں کا استعما ل کیا جاتا ہے اور بیشتر کیسوں میں تسلی بخش نتائج حاصل کر لیے جاتے ہیں
    کینسر کے متعلق چند اہم حقائق ہمیشہ پیشِ نظر رہنے چاہییں۔
    اول: اگر کینسر کی تشخیص بروقت ہو جائے تو قابلِ علاج ہے۔ ایسے مریض جنہوں نے میرے پاس مستقل اور باقاعدگی سے دوا لی ان میں بہت سارے کیسیز میں بہتری دیکھنے میں ملی۔
    دوم: کینسر کی بروقت تشخیص ناممکن ہے۔اس کا مطلب ہوا کہ کینسر کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار دی جاتی ہے۔
    لیکن ہومیوپیتھی میں ایسا نہیں ہے۔ ہومیوپیتھی میں کینسر کا مرض شروع ہونے اور زور پکڑنے سے پہلے ہی کچھ خصوصی علامات کی بدولت اس موذی مرض کا پتا لگایا جا سکتا ہے اور اس سے پہلے کہ لیب رپورٹس اس کی تصدیق کریں اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔
    یاد رہے کہ کینسر کا ٹیومر راتوں رات نہیں بنتا بلکہ اسے ظاہر ہونے میں مہینوں او ر بعض اوقات برسوں لگتے ہیں اور اس دوران

    کینسر کے درد کے لیے ہومیوپیتھک علاج

    مریض کو متعدد علامات اور شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور یہی وقت ہومیوپیتھک علاج کے لیے مناسب ہوتا ہے۔
    کینسر میں مبتلا مریض شدید دردوں کا شکار ہوتا ہے اور اکثر اوقت دردکش دوائیں بھی جواب دے جاتی ہیں۔ ہومیوپیتھی اس حوالے سے بھی نہایت کار آمد ہے۔ آرسنکم البم، یوفروبیم،ہائیڈراسٹس اور کونیم چند ایسی نمائندہ دوائیں ہیں جو کینسر کے درد میں جادو اثر رکھتی ہیں۔

    کنیسر کیموتھراپی اور ہومیو پیتھک


    جیسا کہ آپ جانتے ہیں کینسر کا مریض جب کیموتھراپی کے مراحل سے گذر رہا ہوتا ہے تو اس کے شدید برے اثرات کے زیرِاثر ہوتا ہے۔کیڈمیم سلف،اپی کاک اور آرسنک البم کیموتھراپی کے برے اثرات کو زائل کرتی ہیں۔

    کینسر کے علاج میں ہومیوپیتھی میں زیرِ استعمال چند دواؤں


    کینسر کے علاج میں ہومیوپیتھی میں زیرِ استعمال چند دواؤں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
    کارسی نوسن، آرسنکم البم۔ کیڈمیم سلف،سکرینم، تھوجا، اورم میٹ، اورم میور نیٹرونیٹم،ہائیڈراسٹس، کونیم، ہکلا لاوا،پلمبم میٹ، لیکیسس۔آسٹریس روبنس، فائیٹولاکا، مرکیورس۔گریفائٹس، فاسفورس،بیلاڈونا۔
    اگرچہ یہ ایک المیہ ہے کہ دنیا میں لاکھوں لوگ کینسر اور دوسری لاعلاج بیماریوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں لیکن ہومیوپیتھی کو مناسب موقع فراہم نہیں کیا جا رہا۔
    ہومیوپیتھک علاج انسان دوست علاج ہے۔اسے موقع دیجیے۔

  • کولیسٹرول کا ہومیوپیتھک اور دیسی علاج: شریانوں کی بندش، ایل ڈی ایل اور ایچ ڈی ایل کو متوازن کرنے کی مکمل گائیڈ

    کولیسٹرول کا ہومیوپیتھک اور دیسی علاج: شریانوں کی بندش، ایل ڈی ایل اور ایچ ڈی ایل کو متوازن کرنے کی مکمل گائیڈ

    خون میں کولیسٹرول کا ضرورت سے زیادہ بڑھ جانا جدید دور کی خاموش لیکن خطرناک ترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ کولیسٹرول اصل میں جگر کا بنایا ہوا ایک مومی مادہ (Wax-like substance) ہے جو جسم کے لیے ہرگز برا نہیں ہوتا، لیکن جب خون میں نقصان دہ کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جائے تو یہ خون کی شریانوں کی دیواروں میں جمنا شروع ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ قدرتی علاج اور ہومیوپیتھی کی ادویات بغیر کسی کیمیائی سائیڈ ایفیکٹ کے شریانوں کو صاف کر کے کولیسٹرول کو نارمل کرتی ہیں۔

    کولیسٹرول کی اقسام: اچھا اور برا کولیسٹرول

    طبی لحاظ سے کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہیں جن کا توازن صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے:

    1. ایل ڈی ایل (LDL – Low-Density Lipoprotein)

    اسے "برا کولیسٹرول” کہا جاتا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار خون کی شریانوں کو تنگ اور سخت بناتی ہے (Atherosclerosis)۔

    2. ایچ ڈی ایل (HDL – High-Density Lipoprotein)

    اسے "اچھا کولیسٹرول” کہا جاتا ہے۔ یہ شریانوں میں جمے ہوئے برے کولیسٹرول کو اٹھا کر واپس جگر میں لاتا ہے جہاں وہ ضائع ہو جاتا ہے۔

    3. ٹرائی گلیسرائیڈز (Triglycerides)

    یہ خون میں موجود چربی کی ایک قسم ہے جو زیادہ میٹھا اور گھی والے کھانے کھانے سے بڑھتی ہے۔

    کولیسٹرول بڑھنے کی خاموش علامات

    ابتدائی مراحل میں بڑھا ہوا کولیسٹرول کوئی خاص علامات ظاہر نہیں کرتا، لیکن وقت کے ساتھ درج ذیل نشانیاں ظاہر ہو سکتی ہیں:

    • تھوڑا سا چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے پر سانس کا پھولنا اور سینے میں بھاری پن۔
    • ٹانگوں کے پٹھوں میں شدید درد اور جلن۔
    • آنکھوں کے پپوٹوں کے گرد زرد رنگ کے چھوٹے ابھار (Xanthelasma) بننا۔
    • سستی، غنودگی اور سر کے پچھلے حصے میں وزنی پن۔

    کولیسٹرول کو نارمل کرنے کا بہترین ہومیوپیتھک علاج

    ہومیوپیتھی میں جگر کی چربی پگھلانے اور شریانوں کی لچک بحال کرنے کی بہترین ادویات موجود ہیں:

    1. کریٹیگس (Crataegus Oxyacantha Q)

    یہ ہومیوپیتھی کا زبردست "ہارٹ ٹونک” ہے۔ کریٹیگس کا مدر ٹنکچر شریانوں کی سختی کو ختم کرتا ہے، برے کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کو کم کر کے دل کو مضبوط بناتا ہے۔

    2. الیم سیٹائیوا (Allium Sativa Q)

    لہسن (Garlic) کے قدرتی اجزاء سے تیار کردہ یہ دوا خون کی شریانوں میں جمے ہوئے کلاٹس اور چربی کو پگھلاتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر کو فوری کنٹرول میں لاتی ہے۔

    3. کولیسٹرینم (Cholesterinum 3X / 6X)

    اگر جگر میں چربی (Fatty Liver) ہو اور کولیسٹرول کا لیول مسلسل ہائی رہتا ہو تو کولیسٹرینم 3X کی گولیاں روزانہ استعمال کرنے سے زبردست نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

    4. فائیٹولاکا بیری (Phytolacca Berry Q / 3X)

    اگر کولیسٹرول کے ساتھ موٹاپا اور جسم کا بھاری پن بھی ہو تو فائیٹولاکا بیری چربی کے خلیات کو تحلیل کرتی ہے۔

    کولیسٹرول کم کرنے کے زبردست دیسی اور غذائی نسخے

    • صبح نہار منہ لہسن کا استعمال: دیسی لہسن کے 2 چھوٹے جوے چبا کر یا نیم گرم پانی کے ساتھ نگلنے سے 30 دنوں میں ایل ڈی ایل میں نمایاں کمی آتی ہے۔
    • زیتون کا تیل اور دیسی لیموں: کھانے پکانے کے لیے زیتون یا سرسوں کا تیل استعمال کریں۔
    • جو کا دلیہ (Oatmeal): جو میں موجود سولیوبل فائبر کولیسٹرول کو خون میں جذب ہونے سے روکتا ہے۔
    • روزانہ کم از کم 40 منٹ تیز واک کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
  • PCOS (پی سی او ایس): علامات، رحم کی تھیلیاں، چہرے کے بال اور بانجھ پن کا مکمل ہومیوپیتھک و ہربل علاج

    PCOS (پی سی او ایس): علامات، رحم کی تھیلیاں، چہرے کے بال اور بانجھ پن کا مکمل ہومیوپیتھک و ہربل علاج

    خواتین کی صحت میں ہارمونز کا توازن ایک خوشگوار اور صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔ موجودہ دور میں غلط طرزِ زندگی، غیر متوازن غذا اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے خواتین میں جو بیماری سب سے زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہے، اسے طبی زبان میں پی سی او ایس (PCOS – Polycystic Ovary Syndrome) کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک جسمانی بیماری نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ ہارمونل مسئلہ ہے جو نہ صرف ماہواری کی خرابی کا باعث بنتا ہے بلکہ خواتین کی ذہنی آسودگی اور زچگی کے خواب پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

    پی سی او ایس (PCOS) کیا ہے؟

    پی سی او ایس ایک ایسا میٹابولک اور ہارمونل بگاڑ ہے جس میں خواتین کی بیضہ دانی (Ovaries) میں اینڈروجن (مردانہ ہارمونز) کی مقدار نارمل سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اووری میں موجود بیضے (Eggs) مکمل طور پر پختہ ہو کر خارج نہیں ہو پاتے اور چھوٹے چھوٹے سیال سے بھرے تھیلوں (Cysts) کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس حالت کو پولی سسٹک اووری کہا جاتا ہے۔

    بنیادی علامات (Key Symptoms)

    اگر آپ یا آپ کی کوئی عزیزہ درج ذیل علامات محسوس کر رہی ہیں تو یہ پی سی او ایس کی نشاندہی ہو سکتی ہے:

    • ماہواری کا غیر منظم ہونا: ماہواری کا کئی کئی ماہ تاخیر سے آنا، بہت کم اخراج ہونا یا بالکل رک جانا۔
    • چہرے اور جسم پر غیر ضروری بال (Hirsutism): ٹھوڑی، چہرے، چھاتی اور پیٹ پر سخت اور سیاہ بالوں کا اگنا۔
    • وزن کا تیزی سے بڑھنا: خاص طور پر پیٹ کے نچلے حصے اور کمر کے گرد چربی کا جمنا جو ورزش کے باوجود کم نہ ہو۔
    • ایکنی اور جلد کے مسائل: چہرے، گردن اور پیٹھ پر دردناک دانے (Acne) نکلنا اور جلد کا چکنا ہونا۔
    • بالوں کا پتلا ہونا: سر کے درمیانی حصے سے بالوں کا تیزی سے گرنا اور پتلا ہونا۔
    • حمل ٹھہرنے میں دشواری: بیضہ دانی سے ہر ماہ بیضہ خارج نہ ہونے کی وجہ سے بانجھ پن کے مسائل پیش آنا۔

    پی سی او ایس کی بنیادی وجوہات

    طبی تحقیقات کے مطابق اس بیماری کے پیچھے چند بنیادی عوامل کارفرما ہیں:

    1. انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance): جب جسم کے خلیات انسولین کو صحیح استعمال نہیں کر پاتے تو لبلبہ زیادہ انسولین بناتا ہے، جو اووریز کو زیادہ ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) بنانے پر اکساتی ہے۔
    2. مزمن سوزش (Chronic Inflammation): جسم میں ہلکی سطح کی سوزش ہارمونز کے توازن کو بگاڑتی ہے۔
    3. وراثت اور طرزِ زندگی: خاندان میں تاریخ ہونا، پروسیسڈ فائنڈز اور ورزش کی کمی۔

    پی سی او ایس کا مؤثر ہومیوپیتھک طریقہ علاج

    ہومیوپیتھی میں پی سی او ایس کو محض علامات کو دبانے کے بجائے جسم کے اندرونی ہارمونل توازن کو خودکار طریقے سے بحال کر کے ٹھیک کیا جاتا ہے۔ ذیل میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مؤثر ہومیوپیتھک ادویات درج ہیں:

    1. پلسٹیلا (Pulsatilla 30 / 200)

    یہ ان خواتین کے لیے اکسیر دوا ہے جن کی ماہواری بلا سبب رک جاتی ہو یا بہت کم مقدار میں آتی ہو۔ ایسی خواتین جو نرم مزاج ہوں، جلد رو پڑتی ہوں اور جنہیں کھلی ہوا میں جانا پسند ہو۔

    2. سیپیا (Sepia 200)

    اگر پی سی او ایس کے ساتھ پیٹ کے نچلے حصے پر بوجھ کا احساس ہو، ماہواری میں شدید بے قاعدگی ہو، چہرے پر سیاہ چھائیاں ہوں اور خاتون اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں سے بے زاری محسوس کرے تو سیپیا صفِ اول کی دوا ہے۔

    3. تھوجا (Thuja Occidentalis 200 / 1M)

    اووری میں موجود تھیلیوں (Cysts) کے خاتمے اور چہرے پر اگنے والے سخت اور غیر ضروری بالوں کو کنٹرول کرنے کے لیے تھوجا کے ہفتہ وار ڈوز انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔

    4. کلکیریا کارب (Calcarea Carb 30 / 200)

    ان خواتین کے لیے بہترین دوا جن کا وزن تیزی سے بڑھ رہا ہو، جسم تھل تھلا ہو، سر پر پسینہ زیادہ آتا ہو اور جنہیں سردی جلدی لگتی ہو۔

    5. اوفرینم (Oophorinum 3X / 6X)

    یہ ایک آرگنو تھراپی دوا ہے جو اووریز کی قدرتی فعالیت کو بحال کرتی ہے اور ہارمونز کی پیداوار کو متوازن بناتی ہے۔

    غذائی احتیاط اور گھریلو تدابیر

    دوا کے ساتھ ساتھ اگر درج ذیل پرہیز پر عمل کیا جائے تو علاج کا اثر دگنا ہو جاتا ہے:

    • شکر، چینی، کولڈ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ سے مکمل پرہیز کریں۔
    • روزانہ کم از کم 30 منٹ کی واک یا ہلکی ورزش کو معمول بنائیں۔
    • میتھی دانہ (1 چائے کا چمچ) رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پیئیں۔
    • دارچینی کا قہوہ انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں جادوئی اثر رکھتا ہے۔
  • ایڑی کا درد، پلانٹر فلیشائٹس اور Heel Spur کا مکمل ہومیوپیتھک و دیسی علاج

    ایڑی کا درد، پلانٹر فلیشائٹس اور Heel Spur کا مکمل ہومیوپیتھک و دیسی علاج

    صبح بیدار ہوتے ہی جیسے ہی پاؤں زمین پر رکھا جائے اور ایڑی میں چاقو چھپنے جیسا شدید درد محسوس ہو، تو یہ بیماری عام طور پر پلانٹر فلیشائٹس (Plantar Fasciitis) یا ایڑی کی ہڈی کا بڑھ جانا (Heel Spur) کہلاتی ہے۔ یہ تکلیف دہ بیماری مریض کا چلنا پھرنا دشوار کر دیتی ہے اور روزمرہ زندگی کے کاموں کو معطل کر دیتی ہے۔ ہومیوپیتھی میں بغیر درد کُش ادویات (Painkillers) اور انجیکشنز کے اس کا دائمی علاج موجود ہے۔

    ایڑی کے درد کی علامات

    • صبح بستر سے اٹھ کر پہلا قدم رکھتے ہی ایڑی کے نچلے حصے میں چھرا گھپنے جیسا شدید درد۔
    • تھوڑی دیر چلنے کے بعد درد کا ہلکا ہو جانا لیکن زیادہ دیر کھڑے رہنے سے دوبارہ شدید ہو جانا۔
    • ایڑی پر سوجن اور نچلی سائیڈ پر چھونے سے شدید تکلیف ہونا۔

    بنیادی اسباب

    1. پاؤں کے پٹھے کا کھنچاؤ: پاؤں کے تلوے کے ساتھ موجود پٹھے (Plantar Fascia) میں مسلسل کھنچاؤ اور سوزش۔
    2. وزن کا زیادہ ہونا: زیادہ وزن کی وجہ سے ایڑی پر دباؤ کا بڑھنا۔
    3. سخت جوتوں کا استعمال: بغیر کشن والے سخت سول کے جوتے پہننا۔

    ایڑی کے درد کا بہترین ہومیوپیتھک علاج

    1. آرنیکا (Arnica Montana 200)

    اگر ایڑی میں ایسا درد ہو جیسے کسی نے چوٹ ماری ہو اور تلوے میں کچلاؤ کا احساس رہے تو آرنیکا صفِ اول کی دوا ہے۔

    2. روٹا (Ruta Graveolens 30 / 200)

    ہڈیوں کی جھلی (Periosteum) اور پٹھوں کے رباط کی سوزش کے لیے روٹا زبردست دوا ہے۔ یہ پلانٹر فلیشائٹس اور Heel Spur کا حتمی علاج ہے۔

    3. کلکیریا فلور (Calcarea Fluor 6X / 30)

    اگر ایڑی کی ہڈی بڑھ گئی ہو (Heel Spur)، تو کلکیریا فلور اضافی ہڈی کو تحلیل کر کے قدرتی شکل میں واپس لاتی ہے۔

    4. ہائپریکم (Hypericum 200)

    اگر ایڑی میں اعصابی درد (Nerve Pain) ہو اور درد اوپر کی طرف ٹانگ میں جائے تو ہائپریکم فوری افاقہ دیتی ہے۔

    گھریلو تدابیر اور پرہیز

    • نرم اور کشن والے جوتے یا سیلیکون ایڑی کپ (Heel Cups) کا استعمال کریں۔
    • برف کی بوتل کے اوپر پاؤں کا تلوہ رکھ کر رول کریں (Ice Rolling)۔
    • صبح اٹھ کر پاؤں کے تلوے اور پنڈلیوں کی ہلکی اسٹریچنگ کریں۔
  • بینائی کی کمزوری، آنکھوں کی تھکاوٹ اور عینک سے نجات کی ہومیوپیتھک و دیسی گائیڈ

    بینائی کی کمزوری، آنکھوں کی تھکاوٹ اور عینک سے نجات کی ہومیوپیتھک و دیسی گائیڈ

    نظر کی کمزوری، عینک کا نمبر بڑھنا اور آنکھوں میں مسلسل تھکاوٹ موجودہ دور میں موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سکرین کا بے تحاشا استعمال کا نتیجہ ہیں۔ آنکھوں کو صاف، روشن اور بینائی کو تیز رکھنے کے لیے ہومیوپیتھی اور قدرتی جڑی بوٹیوں میں زبردست نسخے موجود ہیں جو عینک کا نمبر کم کرنے اور آنکھوں کے اعصابی و عضلاتی نظام کو بحال کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    بینائی کی کمزوری کی علامات

    • دور یا نزدیک کی چیزیں دھندلی نظر آنا (Myopia / Hyperopia)۔
    • مطالعہ کرتے یا سکرین دیکھتے وقت سر اور آنکھوں میں شدید درد ہونا۔
    • آنکھوں کا خشک ہونا، سرخی آنا اور بلا سبب پانی نکلنا۔
    • رات کو گاڑی چلاتے وقت روشنی کے گرد ہالے (Halos) نظر آنا۔

    بینائی کی کمزوری کا بہترین ہومیوپیتھک علاج

    1. فائسو اسٹگما (Physostigma 30)

    مطالعہ کرنے سے آنکھوں کے پٹھوں میں تھکاوٹ اور نزدیک کی نظر کی کمزوری کے لیے بہترین دوا ہے۔ یہ آنکھوں کے عدسے (Lens) کے فوکس کو بہتر بناتی ہے۔

    2. روٹا (Ruta Graveolens 30)

    موبائل اور کمپیوٹر کے زیادہ استعمال سے آنکھوں کے گرد کھنچاؤ، دھندلاہٹ اور سر درد کے لیے روٹا صفِ اول کی دوا ہے۔

    3. سینیریا میریٹیما (Cineraria Maritima Eye Drops)

    یہ بغیر الکحل والے ہومیوپیتھک آئی ڈراپس آنکھوں کے موتیابند، دھندلاہٹ اور بینائی کو روشن کرنے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔

    4. فاسفورس (Phosphorus 30 / 200)

    اگر آنکھوں کے سامنے سیاہ دھبے یا مکھیاں اڑتی ہوئی نظر آئیں (Floaters)، تو فاسفورس انتہائی مؤثر دوا ثابت ہوتی ہے۔

    دیسی حکمت اور قدرتی غذائی نسخے

    • بادام، سونف اور مصری کا سفوف: 100 گرام بادام، 100 گرام سونف اور 100 گرام کوزہ مصری پیس کر رکھ لیں۔ روزانہ رات کو نیم گرم دودھ کے ساتھ 1 چائے کا چمچ لیں۔
    • آنکھوں کی ورزش (Eye Rolling): دن میں دو بار آنکھوں کے ڈھیلوں کو دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے 10 بار گھمائیں۔
    • صبح کے وقت سبز گھاس پر ننگے پاؤں چلنا بینائی کو تیز کرتا ہے۔
  • ہومیوپیتھک طریقہ علاج پر ہفتہ وار پروگرام

    ہومیوپیتھک طریقہ علاج پر ہفتہ وار پروگرام

    مکرم رانا سعید احمد اور مکرم بختیار امینی 20th کے ساتھ

    Itching From Heat and exercise گرمی سے خارش

    Nasal Polyps ناک کے غدود

    Diabetes شوگر

  • معدے کے امراض، تیزابیت، گیس اور السر: علامات، اسباب اور ہومیوپیتھک و ہربل علاج کی مکمل گائیڈ

    معدے کے امراض، تیزابیت، گیس اور السر: علامات، اسباب اور ہومیوپیتھک و ہربل علاج کی مکمل گائیڈ

    معدہ انسانی جسم میں صحت اور توانائی کا مرکزی انجن ہے۔ اگر معدہ درست کام کر رہا ہو تو پورا جسم ہشاش بشاش رہتا ہے، لیکن اگر معدے کا نظام متاثر ہو جائے تو تیزابیت، گیس، بدہضمی اور جگر کی سستی پورے جسم کو نڈھال کر دیتی ہے۔ موجودہ دور میں تیز مرچ مسالحے، برگر، شوارمہ، کولڈ ڈرنکس اور دیر سے کھانا کھانے کی عادت نے ہر دوسرے فرد کو معدے کی بیماریوں کا مریض بنا دیا ہے۔ ہومیوپیتھی اور دیسی حکمت میں معدے کو دائمی طور پر طاقتور بنانے کا مکمل اور مستقل علاج موجود ہے۔

    معدے کے عام امراض اور ان کی علامات

    معدے کی تکالیف مختلف اشکال میں ظاہر ہوتی ہیں جن میں سے درج ذیل بیماریاں سب سے زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں:

    1. معدے کی تیزابیت اور جلن (Hyperacidity & Heartburn)

    کھانا کھانے کے بعد سینے میں شدید جلن ہونا، منہ میں ترش یا کڑوا پانی آنا، اور پیٹ کے بالائی حصے میں بوجھ محسوس ہونا۔

    2. پیٹ میں گیس اور افارہ (Flatulence & Bloating)

    کھانا کھاتے ہی پیٹ کا ڈھول کی طرح پھول جانا، ہوا کا خارج نہ ہونا، اور نچلے یا بالائی پیٹ میں شدید مروڑ ہونا۔

    3. ایچ پائلوری اور معدے کا السر (H. Pylori & Stomach Ulcer)

    معدے کی اندرونی جھلی میں سوزش یا زخم ہونا، خالی پیٹ یا کھانا کھانے کے فوراً بعد معدے میں چھرا گھپنے جیسا درد ہونا اور متلی ہونا۔

    معدے کے خراب ہونے کی بنیادی وجوہات

    • غیر متوازن غذائی عادات: بازاری کھانے، چٹ پٹے مسالحے، اور زیادہ چائے و کافی کا استعمال۔
    • ذہنی تناؤ اور پریشانی (Stress & Anxiety): دماغ اور معدے کا راست تعلق ہے۔ اعصابی دباؤ سے معدے میں تیزابی رطوبتیں زیادہ بنتی ہیں۔
    • کھانا چبا کر نہ کھانا: جلدی میں کھانا نگلنے سے معدے پر دباؤ بڑھتا ہے۔

    معدے کے امراض کا بہترین ہومیوپیتھک طریقہ علاج

    ہومیوپیتھی میں معدے کے تیزابی مادوں کو اینٹا ایسڈ (Antacid) کی طرح وقتی دبانے کے بجائے معدے کی جھلی (Mucous Membrane) کو صحت مند بنایا جاتا ہے:

    1. نکس وامیکا (Nux Vomica 30 / 200)

    یہ ان افراد کے لیے نمبر ون دوا ہے جو زیادہ تر بیٹھ کر کام کرتے ہیں، چائے، کافی، سگریٹ یا بازاری کھانوں کے شوقین ہوں۔ رات کو پیٹ بھاری رہے، صبح کے وقت قبض اور بے چینی ہو اور بار بار اجابت کی حاجت ہو۔

    2. پلسٹیلا (Pulsatilla 30)

    اگر گھی، مکھن، سموسے، پکوڑے یا چکنائی والی چیزیں کھانے کے بعد بدہضمی ہو، منہ کا ذائقہ خراب ہو اور پیاس بالکل نہ لگتی ہو تو پلسٹیلا سحر انگیز اثر رکھتی ہے۔

    3. کاربو ویج (Carbo Veg 30 / 200)

    یہ "ہومیوپیتھک بحالِ زندگی” دوا کہلاتی ہے۔ اگر بالائی پیٹ میں شدید گیس بھری ہو، مریض کو مسلسل ڈکاریں آئیں اور ایسا لگے کہ پیٹ پھٹ جائے گا تو کاربو ویج گیس کو خارج کر کے فوری راحت دیتی ہے۔

    4. نائٹرم فاس (Natrum Phos 6X / 30)

    اگر منہ کا ذائقہ کھٹا ہو، زبان پر پیلی تہہ جمی ہو اور شدید تیزابیت و کھٹی ڈکاریں آتی ہوں تو نائٹرم فاس بہترین بائیو کیمک نمک ہے۔

    5. کینڈورینگو (Condurango Q / 3X)

    معدے کے دائمی السر، شدید درد اور ایچ پائلوری کے علاج کے لیے کینڈورینگو کا م مدر ٹنکچر بے حد مفید ہے۔

    قدرتی گھریلو نسخے اور پرہیز

    معدے کی شفایابی کے لیے ادویات کے ساتھ مندرجہ ذیل پرہیز لازمی ہے:

    • سونف اور الائچی کا پانی: کھانا کھانے کے بعد آدھا چمچ سونف اور 1 سبز الائچی چبانے سے گیس اور تیزابیت بننا بند ہو جاتی ہے۔
    • اسپغول کا چھلکا: نیم گرم دودھ یا پانی کے ساتھ روزانہ رات کو اسپغول کا استعمال معدے کی سوزش ختم کرتا ہے۔
    • کھانے سے 15 منٹ پہلے پانی پیئیں اور کھانے کے بعد کم از کم 1 گھنٹہ پانی پینے سے گریز کریں۔
  • عورتوں میں غیر معمولی جنسی غلبہ

    عورتوں میں غیر معمولی جنسی غلبہ

    عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ

    طالب دعا:خالد محموداعوان

    میں محترم ڈاکٹر نصیر احمد صاحب کا حد سے زیادہ مشکور ہوں۔ آپ نے میری اس مشکل کو حل کر دیا ہے ۔جو مجھے اس آرٹیکل کو پیش کرنے میں آ رہی تھی ایک حجاب تھا کہ اس موضوع پرلکھ رہا ہوں۔اس پر لکھنے کی وجہ ایک مریضہ کی کال تھی جو بے چاری اس مرض میں مبتلا تھی اوراس کا اظہار بھی اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔اپنی بہنوں کی اس مشکل کے لئے لکھنے پر مجبور کیا ۔دوسرا مرحلہ اس کو پیش کرنا تھا۔اس پر بھی وہ فطری حجاب آڑھے آ رہا تھاتو میں نے اس کا اظہار محترم ڈاکٹر نصیر احمد طاہر سے کیا تو آپ نے از راہِ شفقت یہ تحریر لکھ کر حل کردیا۔ میں ان کا ممنون و مشکور ہوں۔میں نے آپ کی تحریر بطور انٹرو شامل کر دی ہے۔جزاکم اللہ

    (٭-غیر فطری اوربڑھی ہوئی خواہش کے اسباب ۔
    ٭-یہ ایک نہ بیان کرنے والا مگر انتہائی اہم موضوع ہے۔
    ٭-یہ ایک مرض کے زمرہ میں آتا ہے۔
    ٭-علاج کے بغیر چھوڑنے سے یہ ڈپریشن سے بڑھ کر دائمی ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
    ٭- اسباب کو جانے بغیر ہم اس ضرورت سے بڑھی خواہش کا علاج نہیں کرسکتے، اور اس کے بد اثرات یا عدم تکمیل خواہش کے باعث پیدا شدہ امراض جو انتہائی عام ہیں، ان کو روک نہیں سکتے۔
    ٭-جنسی تعلقات کے لئے ایک عورت کی خواہش مباشرت کو متاثر کرنے والے بہت سے اجزاءکی ایک پیچیدہ بات چیت پر مبنی ہے۔
    ٭-جس میں جسمانی بہبود ، جذباتی بہبود ، تجربات ، عقائد ، طرزِ زندگی اور موجودہ تعلقات شامل ہیں۔
    ٭-تو دوسری طرف عمر ،ماحول، دوستی، ازدواجی حیثیت، عدم تسکین اور رویے بھی اہم ہیں۔
    ٭-اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی شعبے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، یہ آپ کی جنسی خواہش کو متاثر کرسکتا ہے۔
    ٭-جسمانی وجوہات بیماریوں ، جسمانی تبدیلیوں اور دوائیوں کی ایک وسیع رینج ، جنسی خواہشات کے بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔
    ٭-جب مرد اور خواتین کی جنسی ڈرائیو کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم اکثر تنگ ، دقیانوسی زمرے کے استعمال کرتے ہیں۔
    ٭-عورتوں کے جذبات مجروح کرتے اور ان کے علاج کی راہیں مسدود کرتے ہیں۔
    ٭-اگر کھلی نظر سے دیکھا جائے تو حیاءمردوں کے مقابلے پر عورتوں میں ہی زیادہ ہوتی ہے۔
    ٭- عورتیں تو اپنی اس مرض کے بارے میں اظہار بھی ہزار گنا کم کرتی ہیں۔
    ٭- مرض تو مرض ہے۔ اور زیرِکفالت کا علاج ضروری ہے۔
    ٭-بہت سی امراض کے باعث یہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، جو فطری ہے۔
    (ڈاکٹر نصیر احمد طاہر)

    ٭-ذیل میں ان امراض کے بارے میں کچھ علامات کے ساتھ چند ادویات کا ذکر کیا جارہا ہے ۔تا کہ خواتین اپنی علامات کے مطابق دوا کا انتخاب کر سکیں۔

    AGARICUS MUSCARIUS
    ٭-”اگاری کس مسکار ی اس“=میں عورتوں میں جنسی اعضاءپر خارش اور اری ٹیشن کی وجہ سے ہر ایک سے بغل گیر ہونے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ مباشرت کے بعد شدید کمزوری ،بھوک کی کمی،اور تھکاوٹ جو کئی دن تک رہتی ہے۔ عورتوں میں جنسی خواہش کا غلبہ ،خاص طور پر موقوفی حیض کے بعد بھٹنیوں میں جلن اور خارش ہوتی ہے ۔جنسی فعل کے بعدتکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
    AMBRA GRISEA
    ٭-”امبرا گریزا“= میں غیر معمولی جنسی خواہش،شرم گاہ میں خارش جس کے ساتھ مسلسل درد اور سوجن۔ماہواری وقت سے پہلے ،لیکوریا کھل کر، نیلاہٹ مائل لیکوریا ، تکلیف میں اضافہ رات کوہوتا ہے۔دونوں ماہواریوں کے درمیان یا کسی معمولی سے حادثے کے نتیجے میں خون کا اخراج پایا جاتا ہے۔
    ASTERIAS RUBENS
    ٭-”اسٹیریس رُوبنس“یہ دوا مرد اور عورت دونوں میں خواہش نفسانی کو بھڑکاتی ہے۔مردوں میں جنسی خواہش بڑھی ہوئی،جنسی خیالات ۔دوران نیند یا صبح کے وقت لگاتار ایستادگی۔عورتوں میں اعصابی دردوں کے ساتھ خواہش نفسانی بڑھ جاتی ہے۔ عورتوں میں ایک خلقی خود کار تحریک جو انسانی ضرورتوں کی تسکین دینے کے لئے جبلی طور پر ہوتی ہے میں اُبھار،ساتھ اعصابی تحریک پائی جاتی ہے۔جنسی جذبات بڑھے ہوئے(لیلیم ٹگریم)اس کی مریضہ جنسی خواہش صبح کے وقت جب کہ وہ ابھی بستر پر ہی ہو سے عاجز آ جاتی ہے ۔
    ARUNDO MAURITANICA
    ٭-ارنڈو میوری ٹیکا=یہ دوا بنیادی طور زکام کی حالتوں میں نیز ”ہے فیور“ میں کام آتی ہے۔ اس کا ”ہے فیور“تالو میں جلن اور خارش کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔عورتوں کے جنسی اعضاءپر اس کا اثر،رحم سے میوکس کے مستقل بہاﺅ کے ساتھ میوکس جھلی کی سوزش پائی جاتی ہے۔اندام نہانی کی خارش۔ہم بستری کی شدید خواہش،یا اس سے شدید نفرت ہوتی ہے۔ ماہواری جلدی ،کھل کر دیر تک رہنے والی ہوتی ہے۔خون کے سیاہ رنگ کے لوتھڑے آتے ہیں۔ اس کی دردیں بائیں جبڑے سے شروع ہو کربائیں بھنوﺅں سے ہوتی ہوئی کندھوں اور کمر اور بالآخرپیڑو میں جا کر بیٹھتی ہیں۔ ان میں آگ کی طرح کی جلن ہوتی ہے۔بڑھے ہوئے دودھ کے اخراج کی وجہ سے بائیں پستان میں درد ہوتا ہے۔
    CALC. PHOS
    ٭-”کلکیریا فاس “=دودھ پلانے کے دوران جنسی جذبات میں اضافہ ، شہوانی جنون کے ساتھ رحم کے مقام پردردیں،دباﺅ یا کمزوری پائی جاتی ہے۔لمبا عرصہ دودھ پلانے کے بعدسفید انڈے کی طرح کا لیکوریا،اس میں اضافہ صبح کے وقت ہوتا ہے۔کلکیریا فاس کی بیماری کامرکزی نقطہ نفسیاتی بیماری کا ہے ۔اس کا مریضہ کبھی بھی اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوتی۔یہ اندرونی بے اطمینانی اس کے چڑچڑے پن میں اضافہ کرتی ہے۔جس کے نتیجے میں وہ آہیں اور سسکیاں بھرتی ہے۔
    CANNABIS INDICA
    ٭-کینابس انڈیکا=(انڈیا کی بھنگ سے تیار ہونے والی دوا) اس میںخواہش نفسانی کا بھڑک جانا پایا جاتا ہے۔ماہواری درد کے ساتھ آتی ہے۔کثرت حیض ،گہری رنگت والی۔پُر دردلوتھڑوں کے بغیر آتی ہے۔ایام حیض میں کمر کی درد پائی جاتی ہے۔بچہ دانی میں درد ساتھ عصبی جوش اور بے خوابی بھی ہوتی ہے۔اس کی مریضہ کو چند قدموں کا فاصلہ بھی لمبا بن جاتا ہے۔چھوٹی سی نالی بڑی نہر ثابت ہوتی ہے۔زبردست نسیان بات کرتے کرتے بھول جانا ہے کہ اب اسے کیا کہنا تھا۔جنسی طور پر قابو نہیں رہتا۔
    CANNABIS SATIVA
    ٭-”کنابس سٹائیوا“=(امریکن بھنگ)اس میں لگاتار بڑھی ہوئی جنسی ملاپ کی خواہش، جنسی جذبات کے ساتھ بانجھ پن پایا جاتاہے ۔ ماہواری کھل کر آتی ہے ۔ عورتوں میں بانجھ پن۔تشنج کے ساتھ حمل کا ساقط ہونا۔ ابارشن کا خطرہ ،ساتھ سوزاک کی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔
    CANTHARIS
    ٭- کینتھرس 200 =عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ کے ساتھ پیشاب کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں جیسے درد کے ساتھ بار بار پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہے تو اس کی دوا ہے۔
    CHINA OFF
    ٭- ”چائنا آفیشی نیلس “ =جنسی خواہش بہت مضبوط ، خونی لیکوریا جو معمول کی ماہواری کی جگہ آئے ۔پیڑو میں پُر درد بھاری پن پایا جائے ماہواری بہت جلداورکھل کر آتی ہے۔ گہرے رنگ کے خون کے لوتھڑے اور پیٹ پھولا ہوا، ساتھ درد پایا جاتا ہے ۔مردوں میں خیالی جنس پرستانہ جذبات ، مسلسل اخراجِ منی جس کے نتیجے میں کمزوری واقع ہو۔ ،خصیوں کی سوزش پائی جاتی ہے۔
    FERULA GLAUCA
    ٭-فیرولاگلاکا=شدید جنسی ہیجان پایا جاتا ہے(صرف عورتوں میں) ۔ عورتوں کے جنسی اعضاءمیں ماہواری وقت سے کئی دن پہلے آتی ہے۔وافر مقدار میں،پتلے یا گاڑھے،ساتھ فرج ،اندام نہانی میں گرمی اور خارش ہوتی ہے۔اس کی مریضہ میں سوسائٹی اور کام سے نفرت پائی جاتی ہے۔ اُداسی ،رونے کا رجحان،بے صبری ،اورغصہ پایاجاتا ہے۔
    HYOSCYAMUS NIGER
    ٭-ہائی او سیامِس نائیگر=کی مریضہ میں جنسی جنون پایا جاتا ہے جس میں وہ بے وقوفانہ اور احمقانہ حرکات کرتی ہے۔شہوت پرستانہ اور عیاش ، بدکار،بستر کے کپڑے پھینکے، بدکاری اور قابل مذاق حرکات کرے۔مریضہ اپنے جنسی اعضاءکو ننگا کرنے پر بضد ہو۔ اس دوا میں حسد بہت پایا جاتا ہے۔
    KALI BROMITUM
    ٭-”کالی برومیٹم 30 “=عورتوں میں جنسی اعضاءمیں شدید خارش، طبعی حد سے بڑھی ہوئی جنسی خواہش پائی جاتی ہے۔ جنسی جنون اگر کوئی شخص جنسی جنون میں مبتلا ہو ،ہروقت شیطانی قہر میں مبتلا ہو ، جنسی زیادتی کی وجہ سے کمزوری ، نامردمی اور یادداشت کی کمزور ی کے ساتھ اعضاءمیں سنسناہٹ ،سن پن ،اوراعضاءمیں عدم تعاون پایا جائے تودوا ہے۔
    LAC CANINUM
    ٭-”لیک کینی نم “=(کتیا کے دودھ سے تیار ہونے والی دوا )اس میں خواہش نفسانی بڑی آسانی سے بھڑک اُٹھتی ہے۔ماہواری وقت سے پہلے اور مقدار میں زیادہ ہوتی ہے۔اخراج بڑی شدت سے ہوتا ہے۔ چھاتیاں سوجی ہوئی،ماہواری آنے سے قبل ان میں درد ہوتا ہے۔ماہواری آنے پر درد ختم ہو جاتا ہے۔چھاتیوں میں سوزش پائی جاتی ہے۔مریضہ ان کو چھوا جانا برداشت نہیں کرتی۔بچہ کے دودھ چھڑانے میں یہ دوا دودھ کو خشک کرتی ہے۔ ریڑھ میں حساسیت بڑھی ہوئی، چھوا جانا یا دباﺅ برداشت نہیں ہوتا۔دودھ کی کثرت پائی جاتی ہے۔اس دوا کی بنیادی علامت پہلو بدل کر آنے والی گھومتی پھرتی دردیں ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہوا میں چل رہا ہے،یا بستر پر لیٹے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ اس میں نہیں ہے۔
    MEDORRHINUM
    ٭-”میڈورانم“ = بعض عورتوں میں ماہواری کے بعد جنسی خواہش میں اضافہ پایا جاتا ہے۔فرج کے منہ دہن کے قریب ایک مقام پر حساسیت بڑھی ہوئی ہوتی ہے ۔ اندام نہانی میں شدید خارش،ماہواری ناگوار بو والی، بڑی مقدار میں، لوتھڑے دار خون آتا ہے ۔خون کے داغ کو صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پیشاب کرنے کاعمل بار بار ہوتا ہے۔ ماہواری کے بعد سر میں اعصابی نوعیت کے دورہ دار دردیں ہوتی ہیں۔گردن کے پٹھے میں اینٹھن اور کھچاﺅ، گردن جیسے تارسے جکڑی ہوئی ہو۔پیٹ کے نچلے حصے میں درد ،ساتھ پیلے رنگ کا لیکوریا کھل کر آئے۔شدید ماہواری کا درد نتیجے میں گھٹنوں کو اُوپر کھینچے،ساتھ دردِ زہ کی طرح کی نیچے کی طرف خوفناک نوعیت کابوجھ پایا جاتا ہے۔
    MOSCHUS
    ٭-ماسکس=عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ اور ہسٹریا میں مبتلا، ماہواری وقت سے پہلے اور کھل کر آتی ہے۔ شرم گاہ نسوانی اور بچہ دانی میں سنسناہٹ پائی جاتی ہے۔ تو 30دوا ہے۔
    PLATINUM METALLICUM
    ٭- ”پلاٹی نم مٹیلی کم “=بنیادی طور پرعورتوں کی دوا ہے۔عورتوں میں بے جا جنسی خواہش کا غلبہ ،بڑھی ہوئی جنسی ڈویلپمنٹ ، اندام نہانی کی ایٹھن ،غیر فطری جنسی بھوک اورمالیخولیا پایا جاتا ہے۔اس کی مریضہ متکبر، گھمنڈی ، خود پسند،گستاخ ،مریضہ کواشیاءاپنی اصلی حالت سے چھوٹی نظر آتی ہیں۔خود کو اعلیٰ ترین سمجھتی ہے ۔ہر دوسرے کی عزت گھٹانے والی ۔جنسی اعضاءبہت حساس ہوتے ہیں۔ان میں گدگداہٹ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بے جا جنسی شہوت پیدا ہوتی ہے۔اس میں ہسٹریائی تشنج جو اعصابی ہیجان کے نتیجے میں آئے پلاٹینم مفید دوا ہے۔ قتل کرنے کی ناقابل مزاحمت خواہش پائی جاتی ہے۔اگر بیضة الرحم میں سوزش ہو اور لمبا عرصہ چلنے والا بانجھ پن بھی پایا جائے ، جنسی تحریک بہت جلد ہو، بظاہر اس کی کوئی وجہ معلوم نہ ہو سکے تو صرف اس علامت کے ساتھ پیدا ہونے والے بانجھ پن میں پلاٹی نم کو یاد رکھنا چاہئے۔
    PULSATILLA
    ٭-پلساٹیلا=کچھ عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی طلب پوری نہیں ہوتی ۔جنسی فعل کی خواہش کنٹرول میں نہیں رہتی ۔ان کی ابتدائی دوا ہے اس کو تیس طاقت میں استعمال کریں۔
    STRYCHNINUM PURUM
    ٭-اسٹرکنی نم پیورم=(کچلے کی کھار) اس کی مریضہ اگرعورت ہو گی تو اس کے اندر ہم بستری کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔جسم کو چھونے سے شہوت غالب آ جاتی ہے۔
    TARANTULA HISPANIA
    ٭-ٹیرنٹولا ہسپانیہ30=عورتیں میںغیر معمولی جنسی غلبہ اور والوا (شرم گاہ نسوانی) میں اچنگ ،دورانِ ماہواری شہوت انگیز تشنج پائے جائیں تو دوا ہے۔
    جنسی جذبات
    ٭- فحش اشارے =اگر کوئی مریض یا مریضہ دوسرے کو جنسی طور پر راضی کرنے کے لئے فحش اشارے ،حرکات و سکنات کرے حتیٰ کہ اپنے اعضاءکو بھی ننگا کرے تو اس کی ”ہائیو سمس 200“ دوا ہے۔
    ٭-جنسی ملاپ=عورتوں میں جنسی ملاپ ایک نفرت شدہ شے ہو تو ”ایگنس کاسٹس“ دوا ہے۔
    ٭-شدید جنسی جذبات= عورتوں کے بانجھ پن میں جس میں ماہواری کھل کر آ رہی ہوکافی شہرت رکھتی ہے۔مردوں اور عورتوں میں شدید جنسی جذبات پائے جائیں ۔مردوں کے حشفہ پر استسقائی سوجن پائی جاتی ہے =”کنابس سٹائیوا“
    ٭-جنسی جذبات کازیادہ ہونا=عورتوں میں دودھ پلانے کے دوران بے جا جنسی خواہش کا غلبہ ساتھ رحم کے مقام پرجلن،دبانے والے اور کمزوری پائی جائے ( پلاٹینم کی طرح) تو ”کلکیریا فاس“دوا ہے۔
    ٭- ”جنسی خواہش کم“عورتوں میں جنسی خواہش کم ساتھ دورانِ مباشرت کاٹنے والی دردیں ہوں تو”بربرس ویلگریس“ دوا ہے۔
    ٭-جنسی خواہش مقررہ مقدار سے کم =حیض کے وقفوں کے دوران اخراجِ خون عورتوں میں=”کوبالٹم مٹیلی کم “ دوا ہے۔
    ٭-عورتوں میں جنسی سرد مہری = ساتھ پر درد حیض ، کھینچنے والی دردیں نیچے رانوں میں اُتریں۔پستان ڈھیلے اور سکڑے ہوئے ،سخت ۔جن کو دبانے سے درد ہو۔سر پستان میں سوئی گڑنے والے درد۔پستانوں کو سخت ہاتھوں کے ساتھ دبانا چاہے ۔ماہواری دیر سے اور کم آئے ۔ جنسی اعضاءمیں حساسیت پائی جائے۔ چھاتیاں بڑھی ہوئی جن میں ماہواری سے قبل اور درمیان میں درد ہو۔(کلکیریا کارب،لیک کینانم ) ۔ ماہواری سے قبل جلد پر لال اُبھار والے دھبے پائے جائیں۔ فرج کے بیرونی حصے کے ارد گرد خارش۔غیر متوقع استقرار حمل۔بچہ دانی کی گردن اور منہ دہن فرج کی سختی پائی جائے۔بیضة الرحم پھیلی ہوئی،اس میں سوزش اور ٹیسیں پیدا کرنے والی دردیں ساتھ سختی پائی جائے۔جنسی جذبات یا خواہش کو روکنے یا دبانے سے، یا دبی ہوئی ماہواری میں یاکثرت جماع کے بد اثرات ۔ پیشاب کرنے کے بعد لیکوریا کا اخراج۔ مردوںمیں جنسی ضعف الاعصاب کے ساتھ نامردمی اعصابی طور پر نڈھال، ساتھ جنسی کمزوری پائی جائے۔”ڈامیانہ“ دوا ہے۔
    ٭- مخالف جنس سے نفرت =عورتوں میں مخالف جنس سے نفرت پائی جائے ،مردوں میں ایستادگی بغیر خواہش کے ہوتو ”امونیم کارب“
    پر درد مباشرت
    ٭-پر درد مباشرت(عورتوں میں )پائی جائے تو یہ علامت (ایپس، ارجنٹم مٹیلیکم،لائیکوپوڈیم،پلاٹینم ، سیپیا ، سٹیفی سگیریا ،اور تھوجا) میں پائی جاتی ہے۔
    ٭-شدید ذکی الحسی=اندام نہانی کی جس کی وجہ سے مباشرت روکنا پڑے تو اس کی دوائیں (پلاٹینم ، تھوجا ) ہیں۔
    ٭-دورانِ مباشرت غشی =عورتوں میں ہو جائے تو (میوریکس ، اوری گینم ، پلاٹینم ) دوائیں ہیں۔
    ٭- ”فاسفورس“=مباشرت سے نفرت = عورتوں میں جنسی جذبات میں شدت کے باوجودنفرت پائی جاتی ہے۔اس دوا نے عورتوں کے بانجھ پن کو دور کیا ہے ۔جب کہ ساتھ بیضہ دانیوں میں شدید دردیں تھیں جورانوں میں اندر کی طرف اتریں، بیضہ دانیوں میں دوران ماہواری سوزش ہوتی ہے۔
    ٭-”نٹرم میور “=دورانِ مباشرت درد= اندام نہانی کے اخراجات میں خشکی ، اندام نہانی میں سوزش جس کے نتیجے میں درد پائی جائے ۔
    طالب دعا:خالدمحمود اعوان
    مؤرخہ 25اپریل2021ء