سنیاسی راز
سَن + یا + سی (سنسکرت)
سنسکرت سے اردو میں ماخوذ اسم کیفیت سنیاس کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت ی بطور لاحقہ نسبت بڑھانے سے سنیاسی بنا۔
اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے 1639ء کو "طوطی نامہ” میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
صفت نسبتی (مذکر)
جنسِ مخالف: سَنْیاسَن {سَن + یا + سَن}
جمع ندائی: سَنْیاسِیو {سَن + یا + سِیو (و مجہول)
جمع غیر ندائی: سَنْیاسِیوں {سَن + یا + سِیوں (و مجہول)
وہ شخص جو دنیا سے الگ تھلگ رہے، تارک الدنیا، جوگی، سادھو،
مترادفات:
تِیاگی، جوگی، زاہِد، راہِب۔
ﮨﻨﺪﻭﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﯼ ﻋﺎﺩﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﻮﮒ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺳﻨﯿﺎﺱ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﯿﺎﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺳﻨﯿﺎﺳﻨﯽ ﯾﺎ ﺳﻨﯿﺎﺳﻦ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
تحریر : لقمان بن سلطان
