ہومیوپیتھک دوا کی طاقت، مقدار اور تکرار کا فیصلہ مریض کی عمر، علامات، بیماری کی شدت، دوا کی نوعیت اور سابقہ ردِعمل کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔ ایک ہی طریقۂ استعمال تمام مریضوں اور تمام ادویات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
- مدر ٹنکچر اور کم طاقتیں
مدر ٹنکچر (Q) اور کم طاقتیں، مثلاً 1X، 3X اور 6X، بعض صورتوں میں دن میں دو یا تین مرتبہ استعمال کرائی جاتی ہیں۔ چونکہ مدر ٹنکچر میں اصل مادے کی قابلِ پیمائش مقدار موجود ہوتی ہے، اس لیے اسے معمولی یا بالکل بے ضرر سمجھنا درست نہیں۔ - 200C طاقت
بعض معالجین اسے محدود مدت کے لیے روزانہ ایک خوراک دیتے ہیں، پھر مریض کے ردِعمل کے مطابق وقفہ بڑھا دیتے ہیں۔ اسے ہر مریض کو لازماً تین دن اور اس کے بعد ہر ہفتے دینا کوئی عمومی اصول نہیں۔ - 1M یا 1000 طاقت
یہ بلند طاقت ہے۔ اسے مقررہ طور پر ہر ہفتے دہرانے کے بجائے ہر خوراک کے بعد علامات اور مجموعی کیفیت کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ - CM یا ایک لاکھ طاقت
یہ بہت بلند طاقت ہے۔ اسے ہر پندرہ دن یا ہر ماہ معمول کے طور پر دہرانا مناسب نہیں۔ اس کا استعمال صرف تجربہ کار معالج کی نگرانی اور واضح طبی وجہ کے تحت ہونا چاہیے۔ - بار بار بلند طاقت دینا
بعض معالجین اپنے تجربے کی بنیاد پر 200C یا 1M دن میں متعدد مرتبہ استعمال کراتے ہیں، لیکن اسے عمومی یا ثابت شدہ محفوظ طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلند طاقت کی غیر ضروری تکرار سے علامات کے درست جائزے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
حاد اور ہنگامی حالات
ہیضہ، شدید پیٹ یا قولنج کا درد، بہت زیادہ اسہال، پانی کی کمی، حمل کے دوران درد یا خون آنا، بے ہوشی، سانس کی تکلیف اور مسلسل قے ہنگامی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورتوں میں دوا کو ہر دس یا پندرہ منٹ بعد دہرانے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر یا ایمرجنسی سروس سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ہیضہ تیزی سے جان لیوا پانی کی کمی پیدا کر سکتا ہے اور اس کا بنیادی علاج فوری طور پر پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنا اور طبی نگہداشت ہے۔ عالمی ادارۂ صحت
حمل کے دوران کوئی بھی دوا یا مدر ٹنکچر استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر، مڈوائف یا فارماسسٹ سے مشورہ ضروری ہے۔ NHS کی رہنمائی
طبی وضاحت: ہومیوپیتھی کو کسی ثابت شدہ علاج، ضروری تشخیص یا ہنگامی طبی امداد کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔