117

مستورات میں غیر معمولی جنسی غلبہ

عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ

طالب دعا:خالد محموداعوان

میں محترم ڈاکٹر نصیر احمد صاحب کا حد سے زیادہ مشکور ہوں۔ آپ نے میری اس مشکل کو حل کر دیا ہے ۔جو مجھے اس آرٹیکل کو پیش کرنے میں آ رہی تھی ایک حجاب تھا کہ اس موضوع پرلکھ رہا ہوں۔اس پر لکھنے کی وجہ ایک مریضہ کی کال تھی جو بے چاری اس مرض میں مبتلا تھی اوراس کا اظہار بھی اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔اپنی بہنوں کی اس مشکل کے لئے لکھنے پر مجبور کیا ۔دوسرا مرحلہ اس کو پیش کرنا تھا۔اس پر بھی وہ فطری حجاب آڑھے آ رہا تھاتو میں نے اس کا اظہار محترم ڈاکٹر نصیر احمد طاہر سے کیا تو آپ نے از راہِ شفقت یہ تحریر لکھ کر حل کردیا۔ میں ان کا ممنون و مشکور ہوں۔میں نے آپ کی تحریر بطور انٹرو شامل کر دی ہے۔جزاکم اللہ

(٭-غیر فطری اوربڑھی ہوئی خواہش کے اسباب ۔
٭-یہ ایک نہ بیان کرنے والا مگر انتہائی اہم موضوع ہے۔
٭-یہ ایک مرض کے زمرہ میں آتا ہے۔
٭-علاج کے بغیر چھوڑنے سے یہ ڈپریشن سے بڑھ کر دائمی ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
٭- اسباب کو جانے بغیر ہم اس ضرورت سے بڑھی خواہش کا علاج نہیں کرسکتے، اور اس کے بد اثرات یا عدم تکمیل خواہش کے باعث پیدا شدہ امراض جو انتہائی عام ہیں، ان کو روک نہیں سکتے۔
٭-جنسی تعلقات کے لئے ایک عورت کی خواہش مباشرت کو متاثر کرنے والے بہت سے اجزاءکی ایک پیچیدہ بات چیت پر مبنی ہے۔
٭-جس میں جسمانی بہبود ، جذباتی بہبود ، تجربات ، عقائد ، طرزِ زندگی اور موجودہ تعلقات شامل ہیں۔
٭-تو دوسری طرف عمر ،ماحول، دوستی، ازدواجی حیثیت، عدم تسکین اور رویے بھی اہم ہیں۔
٭-اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی شعبے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، یہ آپ کی جنسی خواہش کو متاثر کرسکتا ہے۔
٭-جسمانی وجوہات بیماریوں ، جسمانی تبدیلیوں اور دوائیوں کی ایک وسیع رینج ، جنسی خواہشات کے بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔
٭-جب مرد اور خواتین کی جنسی ڈرائیو کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم اکثر تنگ ، دقیانوسی زمرے کے استعمال کرتے ہیں۔
٭-عورتوں کے جذبات مجروح کرتے اور ان کے علاج کی راہیں مسدود کرتے ہیں۔
٭-اگر کھلی نظر سے دیکھا جائے تو حیاءمردوں کے مقابلے پر عورتوں میں ہی زیادہ ہوتی ہے۔
٭- عورتیں تو اپنی اس مرض کے بارے میں اظہار بھی ہزار گنا کم کرتی ہیں۔
٭- مرض تو مرض ہے۔ اور زیرِکفالت کا علاج ضروری ہے۔
٭-بہت سی امراض کے باعث یہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، جو فطری ہے۔
(ڈاکٹر نصیر احمد طاہر)

٭-ذیل میں ان امراض کے بارے میں کچھ علامات کے ساتھ چند ادویات کا ذکر کیا جارہا ہے ۔تا کہ خواتین اپنی علامات کے مطابق دوا کا انتخاب کر سکیں۔

AGARICUS MUSCARIUS
٭-”اگاری کس مسکار ی اس“=میں عورتوں میں جنسی اعضاءپر خارش اور اری ٹیشن کی وجہ سے ہر ایک سے بغل گیر ہونے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ مباشرت کے بعد شدید کمزوری ،بھوک کی کمی،اور تھکاوٹ جو کئی دن تک رہتی ہے۔ عورتوں میں جنسی خواہش کا غلبہ ،خاص طور پر موقوفی حیض کے بعد بھٹنیوں میں جلن اور خارش ہوتی ہے ۔جنسی فعل کے بعدتکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
AMBRA GRISEA
٭-”امبرا گریزا“= میں غیر معمولی جنسی خواہش،شرم گاہ میں خارش جس کے ساتھ مسلسل درد اور سوجن۔ماہواری وقت سے پہلے ،لیکوریا کھل کر، نیلاہٹ مائل لیکوریا ، تکلیف میں اضافہ رات کوہوتا ہے۔دونوں ماہواریوں کے درمیان یا کسی معمولی سے حادثے کے نتیجے میں خون کا اخراج پایا جاتا ہے۔
ASTERIAS RUBENS
٭-”اسٹیریس رُوبنس“یہ دوا مرد اور عورت دونوں میں خواہش نفسانی کو بھڑکاتی ہے۔مردوں میں جنسی خواہش بڑھی ہوئی،جنسی خیالات ۔دوران نیند یا صبح کے وقت لگاتار ایستادگی۔عورتوں میں اعصابی دردوں کے ساتھ خواہش نفسانی بڑھ جاتی ہے۔ عورتوں میں ایک خلقی خود کار تحریک جو انسانی ضرورتوں کی تسکین دینے کے لئے جبلی طور پر ہوتی ہے میں اُبھار،ساتھ اعصابی تحریک پائی جاتی ہے۔جنسی جذبات بڑھے ہوئے(لیلیم ٹگریم)اس کی مریضہ جنسی خواہش صبح کے وقت جب کہ وہ ابھی بستر پر ہی ہو سے عاجز آ جاتی ہے ۔
ARUNDO MAURITANICA
٭-ارنڈو میوری ٹیکا=یہ دوا بنیادی طور زکام کی حالتوں میں نیز ”ہے فیور“ میں کام آتی ہے۔ اس کا ”ہے فیور“تالو میں جلن اور خارش کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔عورتوں کے جنسی اعضاءپر اس کا اثر،رحم سے میوکس کے مستقل بہاﺅ کے ساتھ میوکس جھلی کی سوزش پائی جاتی ہے۔اندام نہانی کی خارش۔ہم بستری کی شدید خواہش،یا اس سے شدید نفرت ہوتی ہے۔ ماہواری جلدی ،کھل کر دیر تک رہنے والی ہوتی ہے۔خون کے سیاہ رنگ کے لوتھڑے آتے ہیں۔ اس کی دردیں بائیں جبڑے سے شروع ہو کربائیں بھنوﺅں سے ہوتی ہوئی کندھوں اور کمر اور بالآخرپیڑو میں جا کر بیٹھتی ہیں۔ ان میں آگ کی طرح کی جلن ہوتی ہے۔بڑھے ہوئے دودھ کے اخراج کی وجہ سے بائیں پستان میں درد ہوتا ہے۔
CALC. PHOS
٭-”کلکیریا فاس “=دودھ پلانے کے دوران جنسی جذبات میں اضافہ ، شہوانی جنون کے ساتھ رحم کے مقام پردردیں،دباﺅ یا کمزوری پائی جاتی ہے۔لمبا عرصہ دودھ پلانے کے بعدسفید انڈے کی طرح کا لیکوریا،اس میں اضافہ صبح کے وقت ہوتا ہے۔کلکیریا فاس کی بیماری کامرکزی نقطہ نفسیاتی بیماری کا ہے ۔اس کا مریضہ کبھی بھی اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوتی۔یہ اندرونی بے اطمینانی اس کے چڑچڑے پن میں اضافہ کرتی ہے۔جس کے نتیجے میں وہ آہیں اور سسکیاں بھرتی ہے۔
CANNABIS INDICA
٭-کینابس انڈیکا=(انڈیا کی بھنگ سے تیار ہونے والی دوا) اس میںخواہش نفسانی کا بھڑک جانا پایا جاتا ہے۔ماہواری درد کے ساتھ آتی ہے۔کثرت حیض ،گہری رنگت والی۔پُر دردلوتھڑوں کے بغیر آتی ہے۔ایام حیض میں کمر کی درد پائی جاتی ہے۔بچہ دانی میں درد ساتھ عصبی جوش اور بے خوابی بھی ہوتی ہے۔اس کی مریضہ کو چند قدموں کا فاصلہ بھی لمبا بن جاتا ہے۔چھوٹی سی نالی بڑی نہر ثابت ہوتی ہے۔زبردست نسیان بات کرتے کرتے بھول جانا ہے کہ اب اسے کیا کہنا تھا۔جنسی طور پر قابو نہیں رہتا۔
CANNABIS SATIVA
٭-”کنابس سٹائیوا“=(امریکن بھنگ)اس میں لگاتار بڑھی ہوئی جنسی ملاپ کی خواہش، جنسی جذبات کے ساتھ بانجھ پن پایا جاتاہے ۔ ماہواری کھل کر آتی ہے ۔ عورتوں میں بانجھ پن۔تشنج کے ساتھ حمل کا ساقط ہونا۔ ابارشن کا خطرہ ،ساتھ سوزاک کی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔
CANTHARIS
٭- کینتھرس 200 =عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ کے ساتھ پیشاب کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں جیسے درد کے ساتھ بار بار پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہے تو اس کی دوا ہے۔
CHINA OFF
٭- ”چائنا آفیشی نیلس “ =جنسی خواہش بہت مضبوط ، خونی لیکوریا جو معمول کی ماہواری کی جگہ آئے ۔پیڑو میں پُر درد بھاری پن پایا جائے ماہواری بہت جلداورکھل کر آتی ہے۔ گہرے رنگ کے خون کے لوتھڑے اور پیٹ پھولا ہوا، ساتھ درد پایا جاتا ہے ۔مردوں میں خیالی جنس پرستانہ جذبات ، مسلسل اخراجِ منی جس کے نتیجے میں کمزوری واقع ہو۔ ،خصیوں کی سوزش پائی جاتی ہے۔
FERULA GLAUCA
٭-فیرولاگلاکا=شدید جنسی ہیجان پایا جاتا ہے(صرف عورتوں میں) ۔ عورتوں کے جنسی اعضاءمیں ماہواری وقت سے کئی دن پہلے آتی ہے۔وافر مقدار میں،پتلے یا گاڑھے،ساتھ فرج ،اندام نہانی میں گرمی اور خارش ہوتی ہے۔اس کی مریضہ میں سوسائٹی اور کام سے نفرت پائی جاتی ہے۔ اُداسی ،رونے کا رجحان،بے صبری ،اورغصہ پایاجاتا ہے۔
HYOSCYAMUS NIGER
٭-ہائی او سیامِس نائیگر=کی مریضہ میں جنسی جنون پایا جاتا ہے جس میں وہ بے وقوفانہ اور احمقانہ حرکات کرتی ہے۔شہوت پرستانہ اور عیاش ، بدکار،بستر کے کپڑے پھینکے، بدکاری اور قابل مذاق حرکات کرے۔مریضہ اپنے جنسی اعضاءکو ننگا کرنے پر بضد ہو۔ اس دوا میں حسد بہت پایا جاتا ہے۔
KALI BROMITUM
٭-”کالی برومیٹم 30 “=عورتوں میں جنسی اعضاءمیں شدید خارش، طبعی حد سے بڑھی ہوئی جنسی خواہش پائی جاتی ہے۔ جنسی جنون اگر کوئی شخص جنسی جنون میں مبتلا ہو ،ہروقت شیطانی قہر میں مبتلا ہو ، جنسی زیادتی کی وجہ سے کمزوری ، نامردمی اور یادداشت کی کمزور ی کے ساتھ اعضاءمیں سنسناہٹ ،سن پن ،اوراعضاءمیں عدم تعاون پایا جائے تودوا ہے۔
LAC CANINUM
٭-”لیک کینی نم “=(کتیا کے دودھ سے تیار ہونے والی دوا )اس میں خواہش نفسانی بڑی آسانی سے بھڑک اُٹھتی ہے۔ماہواری وقت سے پہلے اور مقدار میں زیادہ ہوتی ہے۔اخراج بڑی شدت سے ہوتا ہے۔ چھاتیاں سوجی ہوئی،ماہواری آنے سے قبل ان میں درد ہوتا ہے۔ماہواری آنے پر درد ختم ہو جاتا ہے۔چھاتیوں میں سوزش پائی جاتی ہے۔مریضہ ان کو چھوا جانا برداشت نہیں کرتی۔بچہ کے دودھ چھڑانے میں یہ دوا دودھ کو خشک کرتی ہے۔ ریڑھ میں حساسیت بڑھی ہوئی، چھوا جانا یا دباﺅ برداشت نہیں ہوتا۔دودھ کی کثرت پائی جاتی ہے۔اس دوا کی بنیادی علامت پہلو بدل کر آنے والی گھومتی پھرتی دردیں ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہوا میں چل رہا ہے،یا بستر پر لیٹے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ اس میں نہیں ہے۔
MEDORRHINUM
٭-”میڈورانم“ = بعض عورتوں میں ماہواری کے بعد جنسی خواہش میں اضافہ پایا جاتا ہے۔فرج کے منہ دہن کے قریب ایک مقام پر حساسیت بڑھی ہوئی ہوتی ہے ۔ اندام نہانی میں شدید خارش،ماہواری ناگوار بو والی، بڑی مقدار میں، لوتھڑے دار خون آتا ہے ۔خون کے داغ کو صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پیشاب کرنے کاعمل بار بار ہوتا ہے۔ ماہواری کے بعد سر میں اعصابی نوعیت کے دورہ دار دردیں ہوتی ہیں۔گردن کے پٹھے میں اینٹھن اور کھچاﺅ، گردن جیسے تارسے جکڑی ہوئی ہو۔پیٹ کے نچلے حصے میں درد ،ساتھ پیلے رنگ کا لیکوریا کھل کر آئے۔شدید ماہواری کا درد نتیجے میں گھٹنوں کو اُوپر کھینچے،ساتھ دردِ زہ کی طرح کی نیچے کی طرف خوفناک نوعیت کابوجھ پایا جاتا ہے۔
MOSCHUS
٭-ماسکس=عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ اور ہسٹریا میں مبتلا، ماہواری وقت سے پہلے اور کھل کر آتی ہے۔ شرم گاہ نسوانی اور بچہ دانی میں سنسناہٹ پائی جاتی ہے۔ تو 30دوا ہے۔
PLATINUM METALLICUM
٭- ”پلاٹی نم مٹیلی کم “=بنیادی طور پرعورتوں کی دوا ہے۔عورتوں میں بے جا جنسی خواہش کا غلبہ ،بڑھی ہوئی جنسی ڈویلپمنٹ ، اندام نہانی کی ایٹھن ،غیر فطری جنسی بھوک اورمالیخولیا پایا جاتا ہے۔اس کی مریضہ متکبر، گھمنڈی ، خود پسند،گستاخ ،مریضہ کواشیاءاپنی اصلی حالت سے چھوٹی نظر آتی ہیں۔خود کو اعلیٰ ترین سمجھتی ہے ۔ہر دوسرے کی عزت گھٹانے والی ۔جنسی اعضاءبہت حساس ہوتے ہیں۔ان میں گدگداہٹ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بے جا جنسی شہوت پیدا ہوتی ہے۔اس میں ہسٹریائی تشنج جو اعصابی ہیجان کے نتیجے میں آئے پلاٹینم مفید دوا ہے۔ قتل کرنے کی ناقابل مزاحمت خواہش پائی جاتی ہے۔اگر بیضة الرحم میں سوزش ہو اور لمبا عرصہ چلنے والا بانجھ پن بھی پایا جائے ، جنسی تحریک بہت جلد ہو، بظاہر اس کی کوئی وجہ معلوم نہ ہو سکے تو صرف اس علامت کے ساتھ پیدا ہونے والے بانجھ پن میں پلاٹی نم کو یاد رکھنا چاہئے۔
PULSATILLA
٭-پلساٹیلا=کچھ عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی طلب پوری نہیں ہوتی ۔جنسی فعل کی خواہش کنٹرول میں نہیں رہتی ۔ان کی ابتدائی دوا ہے اس کو تیس طاقت میں استعمال کریں۔
STRYCHNINUM PURUM
٭-اسٹرکنی نم پیورم=(کچلے کی کھار) اس کی مریضہ اگرعورت ہو گی تو اس کے اندر ہم بستری کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔جسم کو چھونے سے شہوت غالب آ جاتی ہے۔
TARANTULA HISPANIA
٭-ٹیرنٹولا ہسپانیہ30=عورتیں میںغیر معمولی جنسی غلبہ اور والوا (شرم گاہ نسوانی) میں اچنگ ،دورانِ ماہواری شہوت انگیز تشنج پائے جائیں تو دوا ہے۔
جنسی جذبات
٭- فحش اشارے =اگر کوئی مریض یا مریضہ دوسرے کو جنسی طور پر راضی کرنے کے لئے فحش اشارے ،حرکات و سکنات کرے حتیٰ کہ اپنے اعضاءکو بھی ننگا کرے تو اس کی ”ہائیو سمس 200“ دوا ہے۔
٭-جنسی ملاپ=عورتوں میں جنسی ملاپ ایک نفرت شدہ شے ہو تو ”ایگنس کاسٹس“ دوا ہے۔
٭-شدید جنسی جذبات= عورتوں کے بانجھ پن میں جس میں ماہواری کھل کر آ رہی ہوکافی شہرت رکھتی ہے۔مردوں اور عورتوں میں شدید جنسی جذبات پائے جائیں ۔مردوں کے حشفہ پر استسقائی سوجن پائی جاتی ہے =”کنابس سٹائیوا“
٭-جنسی جذبات کازیادہ ہونا=عورتوں میں دودھ پلانے کے دوران بے جا جنسی خواہش کا غلبہ ساتھ رحم کے مقام پرجلن،دبانے والے اور کمزوری پائی جائے ( پلاٹینم کی طرح) تو ”کلکیریا فاس“دوا ہے۔
٭- ”جنسی خواہش کم“عورتوں میں جنسی خواہش کم ساتھ دورانِ مباشرت کاٹنے والی دردیں ہوں تو”بربرس ویلگریس“ دوا ہے۔
٭-جنسی خواہش مقررہ مقدار سے کم =حیض کے وقفوں کے دوران اخراجِ خون عورتوں میں=”کوبالٹم مٹیلی کم “ دوا ہے۔
٭-عورتوں میں جنسی سرد مہری = ساتھ پر درد حیض ، کھینچنے والی دردیں نیچے رانوں میں اُتریں۔پستان ڈھیلے اور سکڑے ہوئے ،سخت ۔جن کو دبانے سے درد ہو۔سر پستان میں سوئی گڑنے والے درد۔پستانوں کو سخت ہاتھوں کے ساتھ دبانا چاہے ۔ماہواری دیر سے اور کم آئے ۔ جنسی اعضاءمیں حساسیت پائی جائے۔ چھاتیاں بڑھی ہوئی جن میں ماہواری سے قبل اور درمیان میں درد ہو۔(کلکیریا کارب،لیک کینانم ) ۔ ماہواری سے قبل جلد پر لال اُبھار والے دھبے پائے جائیں۔ فرج کے بیرونی حصے کے ارد گرد خارش۔غیر متوقع استقرار حمل۔بچہ دانی کی گردن اور منہ دہن فرج کی سختی پائی جائے۔بیضة الرحم پھیلی ہوئی،اس میں سوزش اور ٹیسیں پیدا کرنے والی دردیں ساتھ سختی پائی جائے۔جنسی جذبات یا خواہش کو روکنے یا دبانے سے، یا دبی ہوئی ماہواری میں یاکثرت جماع کے بد اثرات ۔ پیشاب کرنے کے بعد لیکوریا کا اخراج۔ مردوںمیں جنسی ضعف الاعصاب کے ساتھ نامردمی اعصابی طور پر نڈھال، ساتھ جنسی کمزوری پائی جائے۔”ڈامیانہ“ دوا ہے۔
٭- مخالف جنس سے نفرت =عورتوں میں مخالف جنس سے نفرت پائی جائے ،مردوں میں ایستادگی بغیر خواہش کے ہوتو ”امونیم کارب“
پر درد مباشرت
٭-پر درد مباشرت(عورتوں میں )پائی جائے تو یہ علامت (ایپس، ارجنٹم مٹیلیکم،لائیکوپوڈیم،پلاٹینم ، سیپیا ، سٹیفی سگیریا ،اور تھوجا) میں پائی جاتی ہے۔
٭-شدید ذکی الحسی=اندام نہانی کی جس کی وجہ سے مباشرت روکنا پڑے تو اس کی دوائیں (پلاٹینم ، تھوجا ) ہیں۔
٭-دورانِ مباشرت غشی =عورتوں میں ہو جائے تو (میوریکس ، اوری گینم ، پلاٹینم ) دوائیں ہیں۔
٭- ”فاسفورس“=مباشرت سے نفرت = عورتوں میں جنسی جذبات میں شدت کے باوجودنفرت پائی جاتی ہے۔اس دوا نے عورتوں کے بانجھ پن کو دور کیا ہے ۔جب کہ ساتھ بیضہ دانیوں میں شدید دردیں تھیں جورانوں میں اندر کی طرف اتریں، بیضہ دانیوں میں دوران ماہواری سوزش ہوتی ہے۔
٭-”نٹرم میور “=دورانِ مباشرت درد= اندام نہانی کے اخراجات میں خشکی ، اندام نہانی میں سوزش جس کے نتیجے میں درد پائی جائے ۔
طالب دعا:خالدمحمود اعوان
مؤرخہ 25اپریل2021ء

اپنا تبصرہ بھیجیں