Tuberculosis deseases ٹیوبرکلوسس

خالد محمود اعوان

TUBERCULOSIS DISEASES
ٹیوبرکولوسس

ACALYPHA INDICA
٭-اکالفا انڈیکا=یہ دوا پھیپھڑوں کی ٹی بی کے پہلے درجے میں مفید کام کرتی ہے جب ساتھ سخت،شدید درد کرنے والی کھانسی ہو،خونی اخراجات ، خون کی نالیوں سے خون گرتا ہو مگر بخار نہ ہو۔سوکھا مسان جو بتدریج ترقی کرے۔چھاتی میں خشک کھانسی ،سخت کھانسی،اس کے بعد خون تھوکے جس میں شدت صبح کے وقت اور رات کو ہو۔
٭-ایسٹک ایسڈ=سانس لے تو سی سی کی آواز ، بھرائی ہوئی آواز،سانس مشکل سے آتا ہو۔ سانس لیتے ہوئے کھانسی ہوتی ہے۔ایسے مریض جو کئی برسوں سے کمزور ہو رہے ہوں۔ان میں موروثی تپ دق پائی جائے۔نقاہت،کمزوری خون کی کمی،بھوک کی کمی،جلن پیدا کرنے والی پیاس اور کھل کر پیلا پیشاب آتا ہو۔ان علامات کا اجتماع اس دوا کا تقاضا کرتی ہے۔ٹی بی کا بخار جس میں رات کو پسینہ کثرت سے آتا ہے۔بائیں گال پر سرخ داغ پڑیں۔بخار کے وقت پیاس نہیں لگتی۔بخار بہت تیز ہوتا ہے۔ٹھنڈا پسینہ کثرت سے آتا ہے۔
ALLIUM SATIVUM
٭- ایلیم سیٹائیوم=یہ دوا کھانسی اور اخراجات کو کم کرتی ہے۔بخار اُتار دیتی ہے،وزن بڑھا تی ہے ۔ نیند کو باقاعدہ بناتی ہے۔کھانسی بستر چھوڑنے کے بعدصبح کے وقت ہوتی ہے۔اس میں ایسا لیسدار کف آتا ہے جس کو تھوکنا مشکل ہوتا ہے۔ٹھنڈی ہوا برداشت نہیں ہوتی۔
٭-امونیم میور= میں کندھوں کے بلیڈ کے درمیان ٹھنڈک پائی جاتی ہے۔اور یہ علامات تپ دق کی طرف نشان دہی کرتی ہے۔
٭-کلکیریا فاس= ایسے مریضوں میں زیادہ بہتر کام کرتی ہے جب کمزوری تیزی سے اور نمایاں طور پر پائی جاتی ہو۔جب اس کے اخراجات پیپ دار سبز ہوں۔ مریضسر درد اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔قصہ مختصر کچھ دماغی پردے کی پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں۔

ARSENICUM IODATUM
٭-آرسینی کم آئیوڈیٹم=پھیپھڑوں کی ہر قسم کی تکلیفوں اور زخموں کے لئے مﺅثر ثابت ہوئی ہے۔ اسی لئے اسے تپ دق میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت زیادہ مقدار میں بلغم کا اخراج ہوتا ہے۔ بلغم پھیپھڑوں کے نچلے حصہ میں بنتا ہے،سانس اور کھانسی مزمن ہو جائے توآرسینک آئیوڈائیڈ کو نہیں بھولنا چاہیے ۔اس دوا کو پھیپھڑوں کی اس ٹی بی میں یاد رکھنا چاہیے جس میں کھانسی انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ اس کھانسی میں بلغم کثرت سے اور پیپ جیسا آتاہے۔جسم سوکھتا چلا جاتا ہے۔کمزوری بڑھتی ہے۔جب پھیپھڑوں کی ٹی بی میں پانی جیسے پتلے دست آنے لگتے ہوں۔خاص طور پردستوں کی یہ شکایت پرانی ہو تو اس دوا پر ضرور توجہ دینی چاہیے۔ یہ دوا اس پرانے نمونیہ میں خاص طور پر مفید ہے جب کہ پھیپھڑوں میں زخم بننے کا اندیشہ ہو۔یا زخم بن چکا ہو۔جب پھیپھڑوں میں گندہ خون آنے کا خوف ہو تو یہ دوا مدد کرتی ہے۔بخار اور پسینہ باری باری آتا ہے اور کثرت سے آتا ہے کہ کپڑے تر ہو جاتے ہیں۔
BACILLINUM
٭-بیسی لینم =پھیپھڑوں کی ٹی بی میںاس کا استعمال نہایت زود اثر اور کامیاب ثابت ہوا ہے۔اس کے زیرِ اثر بلغم کی مقدار گھٹ جاتی ہے۔جن کے پھیپھڑوں میں گردشِ خون کمزور ہو اور رات کو دم گھٹنے کے دورے بار بار پڑتے ہوں۔اس کے ساتھ سخت کھانسی ہو،دم گھٹنے والا نزلہ ہو مفید ہے۔ تکالیف رات کو اور صبح سویرے اور ٹھنڈی ہوا میں بڑھتی ہیں۔یہ دوا پھیپھڑوں میں رکے ہوئے خون کو منتشر کرتی ہے۔ اس طرح ٹی بی کا تدارک کرنے والی ادویات کا راستہ صاف کرتی ہے۔”بیسی لینم ٹیسٹیم“ خاص طور پر جسم کے نچلے آدھے حصے پر کام کرتی ہے۔
BALSAMUM PERUVIANUM
٭-بالسمیم پیروویانم=پھیپھڑوں کی ٹی بی جس میں پیپ جیسا گاڑھا اور کریم کے رنگ کی بلغم بکثر ت نکلتی ہے۔سینے میں زور کی گڑگڑاہٹ ہوتی ہے ۔کھانسی میں پتلا کف آتا ہے۔ٹی بی بخار جس میں رات کو پسینہ کثرت سے آتا ہے۔بار بار تکلیف دہ کھانسی آتی ہے اوراس میں کف بہت کم نکلتی ہے۔ٹی بی کے بخار کی صورت میں6Xاستعمال کریں۔
BLATTA ORIENTALIS
٭-بلاٹا اورینٹل=ایسی کھانسی جو برانکائی ٹس اور پھیپھڑوں کی ٹی بی کے ساتھ اس میں دم کشی بھی ہو۔ یہ دوا موٹے مریضوں میں بہتر کام کرتی ہے۔کھانسی میں پیپ جیسی کف بکثرت نکلتی ہے۔دورے کے وقت چھوٹی طاقت استعمال کریں ۔دورہ گزر جانے کے بعد کھانسی کے لئے اُونچی طاقت دیں اور افاقہ ہوتے ہی دوا بند کر دیں تاکہ کھانسی کی شدت واپس نہ آ جائے۔
٭-کلکیریا آئیوڈائیڈ=کا استعمال قابل ترجیح ہے جب غدودی شکایات موجود ہوں۔اس کے مریض نوجوان اورتیزی سے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ گدگدی اور بار بار تنگ کرنے والی کھانسی،نبض تیز،تیز بخار اور تیزی سے پھیپھڑوں کا ٹھوس ہو جانا پایا جاتا ہے۔ٹیوبر کولوسس کے نتیجے میں آئے دانے بالکل باجرے کے دانوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
٭-ڈروسرا=کھوں کھوں والی یا کالی کھانسی جس میں شدت آدھی رات کے بعد ہو اور جن میں ٹیوبرکولیس ہسٹری موجود ہوتو”ڈروسرا“ 30 کی ایک خوراک ایک ہفتے کے لئے کافی ہے۔
٭-فیلانڈری ام=پھیپھڑوں کی ایسی ٹی بی جس میں نہایت بدبودار بلغم خارج ہوتا ہو۔پھیپھڑوں میں ہوا کے خانے پھیل گئے ہوں اور مرض اپنی آخری اسٹیج پر ہو۔ہر چیز کا ذائقہ میٹھا محسوس ہوتا ہے تو مفید دوا ہے۔لیکن سلیشیا کے اخراجات پیپ کی طرح کے ہوتے ہیں۔
٭-لیک ننتھسQ=گندمی رنگت والے اشخاص کی ٹی بی،سینہ کی بیماریوں کا پہلا درجہ جبکہ ٹھنڈک کا غلبہ ہو۔یہ دوا بولنے کی ترغیب دلاتی ہے اور مسلسل بولنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔
٭- رومیکس کرسپس=یہ دوا سینے کی ایسی ٹی بی جوکافی ترقی کر چکی ہو جس کے ساتھ بھورے رنگ کے پتلے دست آتے ہوں۔ جو مریض کو صبح سویرے بستر چھوڑنے پر مجبور کر دیں،مقعد میں خارش اور یہ محسوس ہو کہ پاخانے کی آنت میں کھپچی رکھی ہے۔
٭- تپ دق کے ایسے ترقی یافتہ مریض جن کو صبح سویرے اسہال آتے ہوں۔اور ان کی دوا سلفر بنتی ہو لیکن وہ اس کی تکالیف میں اضافہ کر دے ۔توایسے مریضوں کی مفید دوا رومیکس کرسپس ہے۔(ڈاکٹر کینٹ)
٭-فیلانڈری ام=پھیپھڑوں کی ایسی ٹی بی جس میں نہایت بدبودار بلغم خارج ہوتا ہو۔پھیپھڑوں میں ہوا کے خانے پھیل گئے ہوں اور مرض اپنی آخری اسٹیج پر ہو۔اس کو ہر چیز کا ذائقہ میٹھا محسوس ہوتا ہو تو مفید دوا ہے۔لیکن سلیشیا کے اخراجات پیپ کی طرح کے ہوتے ہیں۔
٭-نائٹرک ایسڈ =کے مریض دبلے پتلے، آنکھوں اور بالوںکی رنگت گہری اورکیویٹی بننے سے قبل استعمال ہونے والی بہت ہی اہم اینٹی ٹیوبوکولر دوا ہے۔یہ تپ دق کی ایک مفید دوا ہے۔ اچانک خون کا دباﺅ سینے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔مدقوقی بخار میں سینے میں دکھن کے ساتھ مسلسل چمکدا سرخ رنگ کا اخراج خون پایا جاتا ہے۔سانس پھولتا ہے۔آواز میں کھردرا پن جس میں شدیداضافہ صبح کے وقت ہوتا ہے۔اسہال میں بھی اضافہ صبح کے وقت ہوتا ہے اورتیز سوئیاں گڑنے جیسے درد جو دائیں چھاتی سے کندھے کے بلیڈ کی طرف جاتے ہوں۔دل کمزور اور دھڑکن زیادہ ہوتی ہے۔ رات کوپسینے زیادہ آتے ہیں اورصبح ہونے تک بڑھتے ہیں۔ مریض خاص طور تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔تیزاب کے نتیجے میںکمزوری اس دوا کی علامت ہوتی ہے ۔صبح تک جلدٹھنڈی ،گدگدی والی کھانسی جو مریض کو ساری رات پریشان کرتی ہے۔ بعض اوقات کھانسی خشک اور بعض اوقات ڈھیلی اور خرخراہٹ والی ہوتی ہے۔برونکائی میں سیال کی موجودگی کی وجہ سے پھیپھڑوں سے غیر معمولی آواز آتی ہے۔اخراجات ناگوار بو والے گندے سبز،جس میںخون اورطے شدہ پیپ والے ہوتے ہیں۔ نائٹرک ایسڈ میں کسی اور دوا کی نسبت گلے کی علامات سب سے نمایاں پائی جاتی ہیں۔نائٹرک ایسڈ کی علامات میں اضافہ گرمی سے ہوتا ہے۔ایسے مریضوں کو کبھی گرم موسم والے علاقوں میں نہیں جانا چاہیے۔
٭-ٹیوکریم سکوروڈونیا=پھیپھڑوں میں دق کا مادہ جمع ہو چکا ہو۔ پیپ ملا بلغم کی اعلیٰ دواہے۔(ٹی بی،بلغم پیپ جیسا۔جلندھر،فوطوں کا ورم جو ٹی بی کی وجہ سے ہو۔خاص طور پر اگر مریض نوجوان ہو۔اکہرے بدن والا ہوتا ہے اور اسے ہڈیوں یا آلاتِ تناسل یا پھیپھڑوں یا غدود کی ٹی بی ہو تو3Xدیں )
٭-ٹیو کریم سکوروڈونیا(Qیا 6 طاقت)=مزمن کھانسی اور پھیپھڑوں کی ٹی بی اور بلغم زیادہ نکل رہا ہو
٭-جسٹیشیاادھاٹوباسک=نمونیہ، ٹی بی، یرقان اہم دوا
٭-فاسفورس=ایسے نوجوان جو ٹی بی کا شکار ہوں اور ان کے قد تیزی سے لمبائی کے رخ بڑھ رہے ہوں۔کھانسی میں زنگ آلود بلغم نکلے،کھانسنے پر پورا جسم ہلتا ہو تو دوا ہے لیکن چھوٹی طاقت میں اور باربار استعمال نہ کریں۔
٭-فاسفورس=میں مزید برآں اسہال نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیوبرکولوسس آخری درجہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔مقعد میں فضلہ کی موجودگی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔جیسے ہی فضلہ ریکٹم میں داخل ہوتا ہے باہر نکل جاتا ہے۔تپ دق میں جنسی خواہش کابڑھا ہوا ہونا بھی فاسفورس کو پہچاننے کی ایک بڑی علامت ہے۔
٭- سیپیا=ڈاکٹر ہرسچیل دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دوا کلکیریا کے بعد اس کا نمبر آتا ہے جب کلکیریا میں کھانسی خشک،تھکاوٹ ،گدگدی پیدا کرنے والی کھانسی کے بعد والی حالت ہوتی ہے۔اس کے اندربے شمار علامات جو ٹیوبرکولوسس کے نتیجے میں فساد مزاج کو ظاہر کرتی ہیں پایا جاتا ہے۔
٭- لائیکوپوڈیم اور پلساٹیلا کے اخراجات پیلاہٹ مائل سبز اور ہموار ہوتے ہیں۔
٭- رومیکس کرسپس=یہ دوا سینے کی ایسی ٹی بی جوکافی ترقی کر چکی ہو جس کے ساتھ بھورے رنگ جیسے پتلے دست آتے ہوں۔ جو مریض کو صبح سویرے بستر چھوڑنے پر مجبور کر دیں،مقعد میں خارش اور یہ محسوس ہو کہ پاخانے کی آنت میں کھپچی رکھی ہے۔
٭- تپ دق کے ایسے ترقی یافتہ مریض جن کو صبح سویرے اسہال آتے ہوں۔اور ان کی دوا سلفر بنتی ہو لیکن وہ اس کی تکالیف میں اضافہ کر دے ۔توایسے مریضوں کی مفید دوا رومیکس کرسپس ہے۔(ڈاکٹر کینٹ)
٭- ٹی بی کے ایسے مریض جن کا سانس مختصر ہو تو اس میں جو ادویات تجویز کی جاتی ہیں ان میں لاروراسس،ایپوسائنم،ڈیجی ٹیلس، اور اڈونس ورنیلس۔
٭-ویناڈیم=ٹی بی کے آغاز میں بطورمقوی دواہے۔قوتِ مزاحمت بڑھاتی ہے۔یہ دوا جسم میں آکسیجن کی کھپت بڑھاتی ہے۔ہموگلوبین کی مقدار بڑھاتی ہے۔
٭-اویاری200 یا زیادہ=دق (ٹی بی)میں بہت مفید دوا

طالب دعا
تحریروترتیب و پیش کش:
خالد محمود اعوان
0308-2486085
03322556942

اپنا تبصرہ بھیجیں