ہومیوپیتھی کا تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہومیو پیتھی کتاب

اصل بات یہ ہے کہ ہومیوپیتھی کو سمجھا جاسکتا ہے رٹّا نہیں لگایا جاسکتا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ لمبی چوڑی تفاصیل کی بجائے دوا کی اصلیت سمجھی اور سمجھائی جائے اور دلائل سے بات کی جائے۔ خاکسار نے اپنی دعوت عام میں یہی اصلوب اختیارکرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشک ضروری تفصیل سے گریز نہیں کیا لیکن ساتھ ساتھ اصل بات کو خلاصۃً بھی بیان کر دیا ہے۔ ہر قاری کو دعوتِ فکر بھی ہے اور اظہارِ رائے کا حق بھی ہے۔ ہومیوپیتھی زبانِ حال سے آپ سے کچھ مطالبات کر رہی ہے۔للہ اس پر غور کیجئے۔

یوں تو خاکسار نے British institute of Homoeopathy Englnd/Canadaسے ہومیوپیتھی میں ڈپلومہ حاصل کیا ہے لیکن خاکسار نے حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ (جماعت احمدیہ عالمگیر کے چوتھے سربراہ) سے ہومیوپیتھی میں خصوصی استفادہ کیا اور عمومی طور پر بعض اَور دوسرے ہومیوپیتھ ڈاکٹروں سے بھی مستفید ہوا۔افادۂ عام کیلئے کچھ تحریر بھی کیاجو حاضر خدمت ہے۔

نوٹ:خاکسار کے اس مضمون میں کچھ باتیں عام سمجھدار لوگوں کیلئے بھی ہیں اور کچھ باتیں ہومیوپیتھ ڈاکٹرز کیلئے بھی ہیں۔کیونکہ عام باتیں تو پڑھے لکھے حضرات کو سمجھ آ ہی جائیں گی لیکن کچھ باتوں کو سمجھنے کیلئے ہومیوپیتھی کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔

نوٹ:علم پھیلانا ایک بہت بڑی نیکی ہے اس لئے ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور طلباء کا یہ فرض ہے کہ وہ ہومیوپیتھی سیکھیں اور سکھائیں۔ اُنہیں اگر کسی نئی بات کا پتہ چلے تو دوسروں کو بھی بتائیں آپس میں تبادلہ بھی خیالات کریں تاکہ ہومیوپیتھی کی سائنس عام ہو جائے۔عوام و خواص اس میں دلچسپی لینے لگیں۔ جس طرح ایلوپیتھک سسٹم میں بہت Researchہوئی ہے اسی طرح ہومیوپیتھی میں بھی Researchہونی چاہئے تاکہ عوام و خواص ایلوپیتھی کی طرح ہومیوپیتھی کی بھی سرپرستی کریں۔ اگلے صفحات میں میرے دعویٰ کا ثبوت حاضر خدمت ہے۔ امید ہے میری یہ کاوش پسند آئے گی۔آپ کی رائے سر آنکھوں پر!

نوٹ:ہومیوپیتھی طریقہ علاج کا مطلب ہے کہ زہریلی چیزوں، زہروں یا دھاتوں وغیرہ کو ویسی ہی ملتی جلتی یا اسی طرح کی بیماری دور کرنے کیلئے استعمال کیا جائے جس طرح کی بیماری یہ زہریلی اشیاء خود پیدا کر سکتی ہیں اسی لئے اس طریقہ علاج کو ہومیوپیتھی یا علاج بالمثل کہتے ہیں۔ ہومیوپیتھک دوا Potency کی شکل میں دیتے ہیں Crude حالت یا زہر کی شکل میں نہیں دیتے۔

نوٹ:قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ بیماری کی تمام علامات بعینہٖ دوا کی تمام علامات سے ہوبہو ملتی ہوئی نظر آئیں تو دوا دیں گے بلکہ زہروں کی پیدا کردہ بیماریوں سے ملتی جلتی بیماریوں کا علاج ہومیوپیتھک دواؤں سے کیا جاتا ہے کیونکہ ہومیوپیتھی میں Treat Like with Likes کا اصول کار فرما ہے۔ انگلش میں اس بات کو یوں کہہ لیں

Homoeopathy means “The basic concept of treating like with likes, that is using remedies which are capable of producing SIMILAR SYMPTOMS (not the same symptom) in a healthy person to those experienced in the patient”.

اپنا تبصرہ بھیجیں