لیکوریا اور اس کا علاج 134

لیکوریا,علامات ، وجوہات اوران میں استعمال ہونے والی ہومیو پیتھی ادویات

لیکوریا,علامات ، وجوہات اوران میں
استعمال ہونے والی ہومیو پیتھی ادویات

ترتیب و تحقیق و پیش کش:
خالد محموداعوان
٭٭٭٭٭٭٭
لیکوریا
٭-لیکوریاایک سفیدی مائل چپ چپی پانی کی طرح کی میوکس ہوتی ہے جس کے اخراجات بچہ دانی کے راستے سے آتے ہیں۔یہ عام طور پرہر وقت ہی آتی رہتی ہے ۔ اس کی مقدار کم و بیش ہوتی ہے ۔ کچھ مریضوں کو ماہواری سے پہلے اور کچھ کو ماہواری کے بعد آتی ہے۔رنگت ،اخراجات کی نوعیت مختلف ہو تی ہے۔اس کا اخراج اگر غیر فطری طورپر بڑھا ہوا ہوتو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے اس کے پیچھے یوٹرس میں ،رحم کی گردن میں یا اعضائے تولید میں کوئی انفیکشن ہے۔
اس انفیکشن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جس میں رحم کی گردن کی سوزش ، بچہ دانی کو سوزش،پیڑو کی سوجن،جنسی فعل کے نتیجے میں بیماریوں کا منتقل ہونا ، کیمیکل اری ٹیشن،ہارمونز کی کمی یا توازن میں بگاڑ ہونا بھی اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
آج کل کے دور میں جب کہ رہنے سہنے کے نظام میں اور طرزِ زندگی میں کافی تبدیلیا ں آ رہی ہیں عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں بلکہ ان پر دوہری ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ اپنی بیماریوں سے صرفِ نظر کررہی ہوتی ہیں ۔ایک دن یہ چھوٹی چھوٹی بیماریاں آئس برگ کی طرح اکٹھی ہوتی رہتی ہیں اور بالآخرایک دن خوفناک بیماریوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں ان کا علاج بعض حالتوں ناممکن نہ سہی لیکن مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔اس مضمون کو تحریر کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایسی بچیاں جن کے لئے اپنی جنسی مسائل اورتکالیف کو بیان کرنا مشکل ہوتا ہے دلچسپی لیں اور اپنی بیماریوں سے باخبر رہیں۔
لمبی چوڑی بحث میں جائے بغیر اور میازمٹک نظریہ پر بحث کرنے کی بجائے ، جس کو شایدبچیاں سمجھ بھی نہ پائیں۔لیکوریا کو ہم چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ایسا لیکوریا جو اندام نہانی(والوا) سے آنے والا،بچہ دانی (ویجائنل) سے آنے والا،رحم کی گردن سے(سرویکل)سے آنے والا اور رحم (یوٹرائن) سے آ نے والا ہوتا ہے۔
٭-اندام نہانی(والوا)سے آنے والا لیکوریا پیپ ملا، پانی کی طرح کا،سرمئی رنگ کا اور اس سے پرانی پنیر کی طرح کی سڑی ہوئی ناگواربوآتی ہے۔یہ بڑی مقدار میں آتاہے جو تیزی سے پیدا ہونے والے روغنی مائع مواد کے پیدا ہونے سے ہوتا ہے ۔ یہ اکثربچیوں میں اورعمر رسیدہ عورتوں میں پایا جاتا ہے ۔
٭-بچہ دانی (ویجائنل)سے آنے والا لیکوریا جوان عورتوں میں ہوتا ہے ۔یہ کریم کی طرح یا سفید ، پیپ کی طرح کا۔یہ نرم بھی اور چھیلن پیدا کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔
٭-سرویکل سے آنے والا لیکوریا گاڑھا،چپکنے والا،رسی یا سٹرنگ کی طرح کا ہوتا ہے ۔اس میں البیومن کے اجزاءنظر آتے ہیں۔
٭- یوٹرائن سے آنے والا لیکوریا زیادہ تر پانی کی طرح کا اور سرویکل کے لیکوریا جیسا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ خون یا پس کے نشان بھی ہو سکتے ہیں۔
٭- بعض عورتیں ساری زندگی ان اخراجات میں مبتلا رہتی ہیں اور کچھ کبھی کبھار اس کا شکار ہوتی ہیں اور ان کا دورانیہ بھی عارضی ہوتا ہے۔وہ بعض اوقات اجتماع خون کے نتیجے میں ،ٹھنڈ لگ جانے سے، تھکاوٹ سے ،ذہنی دباﺅ والی عارضی کیفیت میں رہنے سے مبتلا ہوتی ہیں اور چند دن گزرنے کے بعد اپنی نارمل لائف پر آ جاتی ہیں۔ ایسی کیفیت میں ان کو کسی علاج کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
٭-میں ایک بار پھر گزارش کرتا ہوں کہ لیکوریا ایک علامت ہے ۔اور نظام کی صفائی کاایک سینٹری پراسس ہے ۔جو کسی اندرونی بیماری کے نتیجے میں ہوتا ہے ۔اس کو دبانا نہیں چاہیے اس کا علاج کرنا چاہیے ۔یہ زندگی کی ایک بہتی ہوئی نہر ہے اس کی بیماری کو ٹھیک کرنا چاہیے بیرونی طور پرکیمیکل سے ڈوشز سے بند نہیں کرنا چاہیے۔

لیکوریا

٭-لیکوریا =گاڑھا،نرم اور پیلاہٹ مائل سبز ہو تو ان ادویات میں پایا جاتا ہے۔کاربوویج،پلساٹیلا ،سیپیا،سٹانم مٹیلی کم
٭-لیکوریاسبزی مائل=کاربوویج، لائیکوپوڈیم ، نائٹرک ایسڈ،فاسفورس، پلسٹیلا،سلفر ، سیپیا۔
٭-لیکوریااخراجات پتلے،بعد میں گاڑھے اور زیادہ پھیکے،رات کو تکلیف میں اضافہ ہو=مرکیورس
٭- لیکوریا سرمئی دھاگے دار= ہائیڈراسٹس، آئرس ورسی کولر، کالی بائی کرام۔
٭-لیکوریا کے اخراجات جیلی کی طرح کے، مٹی سے اَٹے ہوئے گندے=ایلو،کالی بائی کرام۔
٭-لیکوریا پانی کی طرح کا پتلا،جلن دار اخراجات =آرسینی کم البم،نٹرم میور۔
٭-لیکوریا=نیچے ٹانگوں تک بہتا ہوا ہو۔ایلومن ، کلکیریا کارب ،گریفائٹس، سیپیا، سلیشیا، سٹانم ، سفلی نم
٭- لیکوریا چپچپا=گریفائٹس
٭- لیکوریاگلانے والا=آرسینی کم البم، آئیوڈیم ، کریازوٹم، مرکیورس ، نٹرم میور ، سلفر ، سلفیورک ایسڈ
٭- لیکوریا تیزابی گلانے والا،پرانا،ایسا تیزابی کہ لینن کے کپڑے میں سوراخ کر دے=آئیوڈیم
٭- لیکوریا بدبودار،گلانے والاجس سے لینن پر پیلے دھبے پڑیں ،جسم کے جن حصوں پر لگے خارش اور جلن پیدا کرے،صرف کھرچنے پر سوزش پیدا ہو = کریازوٹم
٭-لیکوریا کھل کر ایسے جیسے ماہواری آ رہی ہو، ایڑیوں تک بہے=الیومینا
٭- لیکوریا دبا ہوا=سبائنا
٭-لیکوریا=نشاستے کی طرح کا،جس کے ساتھ یہ احساس کہ گرم پانی نیچے کو بہہ رہا ہے = بوریکس ویناٹا
٭-لیکوریا= جس میں جارہانہ اخراجات،جس کی مہک بدبودار ہو=ایسا فوٹیڈا ، بپ ٹیشیا، چائنا، کریازوٹم ، نائٹرک ایسڈ،سورائینم
٭-لیکوریا پیپ دار=کلکیریا ،سبائنا،کریازوٹم، مرکیورس ، سیپیا
٭-لیکوریا براﺅن رنگ کا=امونیم میور،نائٹرک ایسڈ
٭-لیکوریا جس کا تعلق رحم سے نچلے حصے سے تعلق = ہائیڈراسٹس،فائی ٹولوکا
٭-لیکوریا خونی=آرسینی کم البم،کاربوویج ، چائنا ، فیرم ایسی ٹیٹ، نائٹرک ایسڈ،سیپیا،سلفیورک ایسڈ
٭-لیکوریا خارش پیدا کرنے والا=آرسینی کم البم،مرکیورس،سیپیا
٭- لیکوریا ٹیس پیدا کرنے والا=کونیم میکولیٹم ، فیرم،ہیپر سلف، لیکسس، مرکیورس ، فاسفورس، سیپیا، سلفر
٭- لیکوریا سفلیٹک=مرکیورس،نائٹرک ایسڈ، تھوجا
٭- لیکوریا ماہواری سے قبل=بریٹا کارب، کلکیریا فاس،کاربوویج ،چائنا کریازوٹم ، لیکسس
٭-لیکوریا ماہواری کے بعد=بووسٹا،فاسفورک ایسڈ، پلساٹیلا، روٹا ، سبائنا
٭-لیکوریا عام نوعیت کا جس کے اخراجات کھل کر،بیضہ دانیوں میں درد=اووا ٹیسٹا1X یا 2X سونے سے پہلے بہترین کام کرتا ہے۔
٭- لیکوریا جس میں نقاہت نمایاں ہو ،دورے کی صورت میں آنے والی سر درد،دھمکتا ہوا چہرہ ، کمزور لیکن اس کی مریضہ خاموش نہیں رہ سکتی = اناسموڈیم
٭-لیکوریا ،حاملہ خواتین وقت پر اخراج خون جب کوئی دوسری دوا کی نشان دہی نہ ہو رہی ہو تو = کالی فاس ،رسٹاکس کا ذہن میں خیال آنا چاہیے۔
٭-لیکوریا کے دوران مریضہ کودانت میںدرد ہو جائے تو اکثرمیگنیشیا کارب سے فائدہ ہوتا ہے۔
٭-لیکوریا اندام نہانی میں خارش،کیلیڈیم ہر کسی دوسری دواسے زیادہ مفید ہے۔جب خارش اندام نہانی اورمقام نہانی میں پائی جائے۔

لیکوریا
لیکوریا مختصر علامات کے ساتھ


٭-لیکوریا=اگر صاف شفاف ہو جو بڑی مقدار میں پاوں کی طرف بہے اور سوتی کپڑے کو گندا کر دے =”ایلومینا“
٭- لیکوریا =،جگر کی شکایات میں مبتلا لڑکیوں کا، دن کے وقت،سفید تیزابی=ایلومینا
٭- لیکوریا=مریضہ ہروقت تھکی ماندی ، رحم ڈھلکی ہوئی ساتھ مقعد کی تکالیف پائی جائیں۔ خون کی کمی اور کمزوری کے باعث ہو ۔ سفید دھاگے دار۔اورعادتاً اسقاط کا رجحان پایا جائے تو۔”الٹرس فیری نوسا“
٭- لیکوریا= کے دبنے کے نتیجے میں بواسیر، لیکوریا انڈے کی طرح سفید ۔(یہ علامت ایلومینا ، بوریکس ،کلکیریا فاس کی طرح کا )جس کے ساتھ ناف میں درد ہو۔ یہ لیکوریا براون رنگ کا چکنا ہوتا ہے جو ہر پیشاب کے عمل کے بعدآ تا ہے=”امونیم میور“ ۔
٭-لیکوریا =اور دمہ اگر نفسیاتی مسائل کے ساتھ ادل بدل کر آئیں تو” امبرا گریسا ،ماسکس “دوائیں ہیں۔امبرا گریسا میں دورانِ مباشرت دمہ کی علامات کا پیدا ہونا۔لیکوریاکھل کر نیلاہٹ مائل ، رات کو تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
٭- لیکوریا=آب خون کی طرح کا،جو کسی مرض کے اچانک حملہ یا تشنج اس کی وجہ ہو،جسے بیٹھنے پر تکلیف کا زیادہ ہونا پایا جائے تو” انٹی مونیم ٹارٹ“ دوا ہے۔
٭-لیکوریا =کینسر سے،تھکا دینے والی بیماریاں سے =آرسینی کم البم
٭- لیکوریا =سفید ،کھلے ،بغیر درد کے چربیلی نوعیت کا لیکوریا ”بوریکس“ 3 دوا ہے۔
٭- لیکوریا = جس کے ساتھ شدیداجتماع خون پایا جائے = ”بیلاڈونا“ 3 دوا ہے۔
٭- لیکوریا= جو پیڑو میں سوزش پیدا کرے= بیلاڈونا
٭-لیکوریا=ایام کے دوران یاحمل کے دوران ماہواری کی جگہ لیکوریا ۔ حمل کے دوران رحم سے خونی میوکس کا اخراج ، دو حیضوں کے درمیان سفید پانی کی طرح کا لیکوریا جاری ہونا جو بہت کمزور کرنے والا ہوتا ہے کہ عورت کے لئے بات کرنا مشکل ہو جائے تو ”کاکولس “ دوا ہے۔
٭- لیکوریا =جلن دار ،دودھیا، ایسی خواتین جو پیدائشی طور پر سکرویفولس کی مریضہ ہوں ،چھوٹی لڑکیوں کا لیکوریا،گاڑھا،دودھیا،ابل کر بہنے والا لیکوریا ۔ہو تو ”کلکیریا کارب“ 6 دوا ہے۔
٭-لیکوریا=صبح کی بھوک،دودھیا یا پیلا ، بلوغت سے قبل = کلکیریا کارب
٭-”لیکوریا“=جلن دار،اور خارش کے ساتھ پیلے رنگ کا =”کالی کارب “
٭- لیکوریا =شدید تیزابی، چھیلن پیدا کرنے والا پیلے رنگ کاساتھ خراش پیدا کرنے والا،سبز مکئی کی طرح کی بو والا اور کمزوری پیدا کرنے والا = ”کریازوٹم“ 6دوا ہے۔
٭-لیکوریا=کھل کر پانی کی طرح کا،تیزابی جو دکھن کا باعث ہو= کریازوٹم
٭- لیکوریا =اس کا لیکوریا پانی کی طرح کاپیلا ، پیلا براﺅن اور چھیلن پیدا کرنے والا۔ ”لیلیم ٹگرینم“ 3 دوا ہے۔
٭-”لیکوریا“=ماہواری سے چند دن پہلے زیادہ مقدار میں پایا جائے۔جو کپڑوں پر گرین دھبے چھوڑ جائے = ”لیکسس“
٭- لیکوریا=تیزابی، درد والا،جلن،اعضائے تناسلی کی سوجن= مرکیورس
٭-”لیکوریا“=میں ایسی خواتین جن کا لیکوریا پانی کی طرح اور تیزابی ہو ، اندام نہانی خشک ، ماہواری میں بے قاعدگی، لیکن عام طور پر کھل کر آئے،نیچے کی طرف بوجھ جو صبح کے وقت زیادہ ہو (یہ علامت سیپیا میں بھی پائی جاتی ہے)=نٹرم میور
٭- لیکوریا =سبزی مائل ،بدبودار،جنسی اعضاءکی جلدیا میوکس جھلی پرسطحی زخم جو لیکوریااوراخراج ماہواری سے پیدا ہوں۔ ساتھ انجیر نما موہکے ہوں تو ”نائٹرک ایسڈ“ 6 دوا ہے۔
٭- لیکوریا=گاڑھا ،سبزی مائل،ناگوار بو والا ، مزمن نوعیت کی صحت کی خرابی= نائٹرک ایسڈ
٭-لیکوریا=ایسی خواتین جن کے بال سنہری اور سفید جسم والی ہوں ان میں تیزابی ، کریمی نوعیت کا لیکوریا پایا جائے = ”پلساٹیلا“ 3
٭-” لیکوریا “ =بھس کی شکار لڑکیوں میں دیر سے یا کم آنے والی ماہواری کے نتیجے میں لیکوریا ہوتا ہے ۔ جوعام طور پر گاڑھا،کریمی یا دودھیا ہوتا ہے ۔لیکن جب یہ پتلا ،تیزابی ہو تو ساتھ عورتوں کے مثانے کی گردن کی سوزش بھی پائی جائے= پلساٹیلا
٭- لیکوریا= گاڑھا،پیلا سبز اور باقی دوسرے اخراجات کی طرح بے ضرر ۔ ” پلساٹیلا“
٭- لیکوریا =دودھیا،گاڑھا کریمی سفید۔ٹھنڈ پن،لیٹ جانا چاہے= پلساٹیلا
٭- لیکوریا= پیلا،سبزاور کسی حد تک جارہانہ ہوتا ہے۔یہ دودھیا بھی ہوسکتا ہے۔ ماہواری سے قبل زیادہ ہو جس کے ساتھ نیچے کی طرف بوجھ ۔ یوٹرس پراس کا اثر یقینی ، پھیلی ہوئی،تخم دان کی گردن میں سختی پائی جائے۔ ” سپیا “
٭- لیکوریا =گہرے بھورے رنگ کے بالوں اور آنکھوں والی عورتوں کا تیزابی اور کریمی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ ”سیپیا“ 3دوا ہے۔
٭-لیکوریا=پیلا سبز،ناگوار بو والا ،چہرے پر کیل ،معدے میں ڈوبنے کا احساس=سیپیا

لیکوریاکی علامات کا ذکر ذرا تفصیل کے ساتھ

AESCULUS HIPPOCASTANUM
٭-ایسکولس ہیپو کاسٹی نم=میں لیکوریا کے ایسے پرانے کیسز جس کے ساتھ شدید کمر میں درد پائی جاتی ہو ۔مریضہ کمر درد کی وجہ سے مشکل سے چل سکتی ہو ۔ چلنے اور جھکنے سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔اس میں لیکوریا ماہواری کے بعد ہوتا ہے۔مریضہ پائلز (ایک خاص قسم کی بواسیر ہے جس میں انگور کے خوشوں کی طرح نیلگوں رنگ کے دو چار مسے اکٹھے ہوتے ہیں جن میں شدید جلن کا احساس ہوتا ہے) اور قبض کی شکار ہوتی ہے۔کھلی ہوا اور خنکی والے موسم میں بہتری محسوس کرتی ہے۔٭-لیکوریا گہرے زرد رنگ کا،گاڑھا اور لیس دار ہوتا ہے۔ ایسا لیکوریا ساتھ کمر درد اور اس طرح کی بواسیر پائے پائی جائے تو ایسکولس یقینی دوا ہے۔
AGNUS CASTUS
٭- ایگنس کاسٹس=میں عورتوں کے اعضاءمیں ڈھیلا پن ساتھ لیکوریا ۔ایسا لیکوریا جو زیر جامہ پر پیلے رنگ کا صاف دھبہ ڈالے۔لیکوریا جو کم مقدار میں آئی ماہواری کے بعد ہو ۔مریضہ بانجھ پن کی شکار، ذہنی طور پر دباو کا شکار ،اعصابی طاقت کی کمی ۔ اپنی توجہ کسی کام پر مرکوز نہیں کر سکتی۔خوف پایا جاتا ہے کہ موت جلد آنے والی ہے۔اداسی چھائی ہوئی۔بار بار کہے کہ میں مر جاوں گی ۔اس لئے کسی کام کے کرنے کی ضرورت نہیں۔جنسی فعل کی زیادتی کی وجہ سے دیکھنے میں اصل عمر سے بوڑھی لگتی ہے ۔ موٹاپے کی شکار(پیٹ بڑھا ہوا،بانجھ پن کی وجہ سے )۔خنکی میں اور کھلی ہوا میں بہتر محسوس کرتی ہے ۔ (گنوریا کے دب جانے سے)
ALETRIS FARINOSA
٭-ایلٹرس فاری نوسا=اس کی مریضہ لیکوریا میں مبتلا،(اس کا لیکوریا سفید دھاگے دارہوتا ہے) ۔ لیکوریا جورحم کے ڈھلک جانے کی وجہ سے نیچے کی طرف دباﺅہوتا ہے۔ اس دوا کے پانچ قطرے آدھا کپ پانی میں استعمال کریں۔لیکوریا دورانِ حمل یا اعصابی بد ہضمی کے نتیجے میں ہو۔رحم لٹکی ہوئی،ہر وقت تھکی ماندہ ،رحم کے ارد گرد بھاری پن کا احساس ، رحم کے لٹک جانے کا رجحان،خون کی کمی کا شکار ،رحم کی ناطاقتی جس کے ساتھ ماہواری قبل از وقت ،کھل کر ۔ ماہواری کی دردیں زچگی کی طرح کی ۔ حیض کا نہ آنا یا رکی ہوئی ماہواری، ناطاقتی ،جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ پائی جاتی ہے۔ناقص نیوٹریشن ، طویل بیماری کے نتیجے میں یا لگاتار اسقاط کی وجہ سے ہو۔مریضہ بے ہوشی محسوس کرتی ہے،قبض کے ساتھ چکر آتے ہیں۔یہ دوارحم کے لئے بطورایک ٹانک کے ہے۔اس کی مریضہ خنکی میں اور کھلی ہوا میں بہتر محسوس کرتی ہے۔
ALUMINA
٭- ایلومینا=لیکوریا کھل کر،پیلا ،گلا دینے والا یا تیزابی،کریم کی طرح کا یا ٹرانسپیرنٹ ہوتا ہے ۔ لیکوریا میں اضافہ ماہواری کے بعدہوتا ہے۔لیکوریا کریم کی طرح کافرج کے لبوں پر خارش پیدا کرنے والا۔ اضافہ صرف دن کے اوقات میں۔یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر چیز بچہ دانی سے باہر نکل جائے گی ساتھ شدید کمزوری ہوتی ہے۔اس کا لیکوریا مزمن اوررحم کے گردن نما حصہ سے بغیر درد کے آتا ہے۔یہ کھل کرآتا ہے اورنیچے کی اعضاءکی طرف بہتا ہے ۔ (میڈورائینم ) ۔لیکوریا کو ٹھنڈے صاف پانی کے سکون آتا ہے۔ لیکوریا کی تکلیف میں ماہواری کے بعد دن کے دوران اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا لیکوریا صاف شفاف بڑی مقدار میں پاﺅں کی طرف بہنے والا اور سوتی کپڑے کو گندا کر دے۔ جگر کی شکایات میں مبتلا لڑکیوں کالیکوریا، دن کے وقت ، سفید اور تیزابی ہوتا ہے ۔ ماہواری وقت سے بہت پہلے ، مختصر ، کم مقدار میں،پیلی، جس کے بعدذہنی اور جسمانی شدید تھکاوٹ آتی ہے۔ لیکوریا، ساتھ کمر میں درد ، درد ایسی جیسے لوہے کا راڈ ریڑھ میں گھسیڑا جا رہا ہے ۔ویجائنہ میں خشکی پائی جاتی ہے۔مریضہ ٹھنڈ برداشت نہیں کر سکتی۔ٹانگوں میں فالجی نوعیت کی کمزوری ،مریضہ قبض کی شکار،جلد خشک ،کھردری۔ جس کی تکلیف میں اضافہ گرمی میں ہو، مریضہ میں ٹھنڈی ہوا سے حساسیت پائی جاتی ہو۔
AMBRA GRISEA
٭-ایمبرا گریزا=عمر رسیدہ عورتوں کا لیکوریا نیلاہٹ مائل سفید ہوتا ہے۔رات کو تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی عورتیں دبلی پتلی سکریفولس (ہجیروں والی) ہوتی ہیں۔ ہسٹریا کی شکار، غیر معمولی جنسی خواہش، خارش کے ساتھ شرم گاہ میں مسلسل درد اور سوجن،ماہواری جلدی آتی ہے۔ اعصابیت کی شکار ، کمزور، ہاتھ پاﺅں سو جاتے ہیں ۔ لیکوریا اور دمہ اگر نفسیاتی مسائل کے ساتھ ادل بدل کر آتے ہوں تو” امبرا گریسا اور ماسکس “دوائیں ہیں ۔کسی بھی قسم کی گرمی جوشی تکلیف میں اضافہ کر دیتی ہے ۔خنکی والے موسم میں اور کھلی ہوا میں مریضہ بہتر محسوس کرتی ہے ۔ ”ایمبرا گریزا “ ایسے عمر رسیدہ لوگ جن کے تمام افعال کونقصان پہنچ چکا ہو۔یا جو عمر میں بڑھ رہے ہوں یا کام کی زیادتی کے نتیجے میں ان کے ان کی کارکردگی میں خلل پیدا ہو رہا ہو جیسے کمزوری ، ٹھنڈا پن،سن پن کی بہت بڑی دوا ہے ۔ اس میں عام طورپر سنگل حصے متاثر ہوتے ہیں۔جیسے انگلیاں بازو وغیرہ وغیرہ۔
AMMONIUM MURIATICUM
٭-”امونیم میوریٹی کم“=میں ایسی بواسیر جو لیکوریا کے دب جانے کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ لیکوریا انڈے کی سفیدی کی طرح کا، ( ایلومن ، بوریکس ، کلکیریا فاس) جس کے ساتھ ناف کی دردیں ہوتی ہیں ۔ بھورے رنگ کا،چکنا ہر پیشاب کرنے کے بعد ہوتا ہے۔اس کا لیکوریا سورک ہوتا ہے ۔لیکوریا سفید انڈے کی طرح کاجس کے بعد ناف کے ارد گرد دبانے والی دردیں ہوتی ہیں۔یہ لیکوریا لگاتار ، بغیر درد کے بھورے رنگ کا، چکنا ، البیومن کی طرح کا پیٹ میں شدید پھیلاﺅاور رات کو کمر میں شدید درد ہوتی ہے۔
APIS MELLIFICA
٭- ایپس میلی فیکا= کا لیکوریا تیزابی ، گلا دینے والاساتھ جلن دار نوچنے کی طرح کی خارش ہوتی ہے ۔ ٹھنڈے پانی سے دھونے سے آرام آتا ہے۔ اس کا لیکوریاجوپیڑو میں چربی کا جماﺅ خاص طور پرعورتوں کے سرین اور رانوں پرجو کھال کے سکڑنے کا سبب ہو۔بیضہ دانی کی سوزش،رحم یا یوٹرس کی سوزش ، اندرونی میوکس جھلی کی سوزش ،ویجائنہ کی سوزش، ویجائنہ کے باہر دو ہونٹ (جو مباشرت کے وقت کھل جاتے ہیں اور ان پر بال اُگتے ہیں)میں پانی بھر جانے کا مرض ان کو ٹھنڈے پانی سے سکون ملتا ہے ۔ بیض نالیوں(قنات نالی) کی سوجن،اس کی سوجن کی ایک مثال ہے جو پیڑو کی سوجن کی ایک و جہ بنتی ہے۔ جوڑوں میں دردیں، ڈنگ لگنے والی ،جلن دار دردیں اوران میں سوجن پائی جاتی ہے۔ہر قسم کی سوزش اور ورم میں ”ایپس میلی فیکا“ بہت مفید ہے جب ٹکور یا گرمی سے تکلیف بڑھتی ہو ۔ مریضہ خنک موسم میں، کھلی ہوا میں بہتر محسوس کرتی ہے اور گرم موسم میں تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ مریضہ میں پیاس کا فقدان ہوتا ہے۔
ARGENTUM METALLICUM
٭-ارجنٹم مٹیلی کم=ایسالیکوریا جس کے ساتھ رحم کی گردن کا پچھلا حصہ کھایا ہوا، اسپنج کی طرح کا ساتھ نیچے کی طرف بوجھ والی دردیں پائی جاتی ہیں ۔ لیکوریا بدبودار( یہ بد بو اور تعفن عام لیکوریا نہیں بلکہ کسی گہری مرض کا نتیجہ ہوتاہے)، چھیلن پیدا کرتا ہے ۔ ایسے لیکوریا میں بروقت”ارجنٹم مٹیلی کم “ استعمال کی جائے تو بیماری کی شروع میں ہی روک تھام ہو جاتی ہے۔٭-اس میں اووریز (یعنی انڈا بنانے والی تھیلی )بیمار ہو کر پھول جاتی ہے اور مختلف قسم کے مادے جم کر اسے سخت اور موٹا کر دیتے ہیں ۔ ٭- اس میں رحم پھیل جانے سے اس میں لچک نہیں رہتی ۔ رحم میں سختی اور رحم کے منہ پر اینٹھن اور اکڑاﺅ کی علامت ظاہر ہوتی ہیں۔ایسی مریضاﺅں کی”ارجنٹم مٹیلی کم “ بہترین دوست ثابت ہوتی ہے اور شفا کا موجب بن جاتی ہے۔ یہ دوارحم کی سرطانی رسولی میں بطور مسکن کے کام کرتی ہے۔ رحم کی بیماریوں کے ساتھ جوڑوں اور اعضاءمیں درد ہوتا ہے۔چھونے سے ،نیچے کی طرف حرکت سے، دوپہر کو اور بند کمرے میں تکلیف میں اضافہ اورکھلی ہوا میں بہتری آتی ہے۔
ARGENTUM NITRICUM
٭-ارجنٹم نائٹریکم=میں لیکوریا پیپ دار یا خونی ہوتا ہے ۔ لیکوریاکھل کرآتا ہے اوراس کی رطوبت کثرت سے زیرِ جامہ پر پیلے دھبے ڈالنے والی ہوتی ہے۔ رحم کی گردن کھائی ہوئی جس سے آسانی سے خون بہتاہے۔رحم سے اخراج خون،ماہواری سے دو ہفتے تک خون جاری رہتا ہے۔بائیں بیضہ دانی میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔دماغی تھکاوٹ ، یادداشت کمزور ، چکرآتے ہیں۔عام طور پر کمزوری ، شدید اپھارہ اور پیٹ پھولا ہواہوتا ہے۔ ڈکار آنے سے بہتری آتی ہے۔مریضہ گرم جوشی برداشت نہیں کرتی اور اپنے آپ کو خنکی میں اور کھلی ہوا میں بہتر محسوس کرتی ہے۔
ARSENICUM ALBUM
٭- آرسینی کم البم=ایسالیکوریا جورحم کی اندرونی جھلیوں کی سوزش یارحم کی گردن کی اندرونی تہ کی سوزش کے نتیجے میں ہوتاہے۔لیکوریاکی رطوبت خراش دار،جلن دار،بدبو دار اور پتلی ہوتی ہے۔درد ایسے ہوتا ہے جیسے گرم گرم تار وہاں رکھے ہیں۔ ماہواری بے قاعدہ، اس کاخون پتلا، اور دیر تک جاری رہنے والا بڑھا ہوا بہاﺅ ہوتا ہے۔ مریضہ تھکاوٹ کا شکار،کمزور ساتھ وافر مقدار میں پانی کی طرح کے پتلے ،تیزابی، جلن دار اور گلا دینے والے اخراجات پائے جاتے ہیں۔کچھ کیسز میں اس کے اخرجات جارہانہ اور پیپ دارہوتے ہیں۔ کھڑے ہوتے وقت چند قطرے نیچے گرتے ہیں۔ زیرِ جامہ پر پیلے دھبے پائے جائیں۔ دوسرے کیسز میں اخراجات خون ،رحم کی گردن کے کھائے جانے سے ہوتے ہیں ۔پیٹ کے نچلے حصے میں دبانے والی اور ٹانکہ لگنے والی دردیں ۔ جس میں بہتری گرم سینکائی کرنے سے آتی ہے۔مریضہ پریشانی میں مبتلا،بے چین ، موت کا خوف،کمی خون کی شکار، مسلسل پیاس لیکن بار بارتھوڑا سا پانی پی سکے۔
BORAX VENETA
٭- بوریکس ویناٹا=کا لیکوریا سورک ہوتا ہے۔ لیکوریا سفید البیومن والا۔ اعضاءپر سے گزرتے وقت گرم پانی کی طرح محسوس ہو۔یہ ماہواریوں کے وقفے کے دوران ظاہر ہوتا ہے۔نشاستے کی طرح کا یا سفید انڈے جیسا۔نرم اوربغیر درد سے آئے۔اس میں زنانہ شرم گاہ کی بیرونی تکون کی خارش ، بظرپھولا ہوا ،درد سے بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔دانے نکلتے ہیں جن میں خارش ہوتی ہے۔حیض وقت سے بہت پہلے، درد کے ساتھ ، اورکثرت سے چھچھڑے خارج ہوتے ہیں۔ پیٹ میں مروڑ۔ماہواری بہت جلدی اور کھل کر آتی ہے ۔ منہ میں سفید رنگ کے چھالے پڑتے ہیں۔ گالوں کے اندر کی طرف چھالے،زبان پر،منہ اورحلق کے درمیانی راستے پر نکلتے ہیں،منہ گرم،چھالوں کے ارد گردممبران سے آسانی سے خون بہتاہے۔مریضہ دورانِ لیکوریاشدید اعصابیت کی شکار،آسانی سے خوف زدہ ہوجانے والی ،نیچے کی طرف حرکت کرنابرداشت نہیں کر سکتی جیسے سیڑھیاں اترنایا جھولے میں نیچے کی طرف حرکت کرنا۔حتیٰ کہ پہاڑ کے اثرات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ڈھیلی ڈھالی ،حساس ہوتی ہیں ۔ ماہواری کے دوران میں منہ میں چھالے یا منہ کی تکلیف جگر ی خارش (نٹرم میور)پیشاب گرم، آگ کی طرح جلتا ہوا۔اس دوا نے ایسے بچوں کے منہ کے چھالوں کو اوربیرونی جنسی اعضاءکے چھالوں کودور کیا ہے ۔مریضہ کوکھلی ہوا میں سکون ملتا ہے ۔نوجوان لڑکیوں کی ناک لال ہوتی ہے۔بانجھ پن میں یہ دوا استقرار حمل کو آسان بناتی ہے۔
BOVISTA LYCOPERDON
٭- بووسٹا لائیکوپیرڈان=لیکوریا کی تکلیف میں اضافہ بوڑھی عورتوں میں ہوتا ہے،جس کے ساتھ اسہال پائے جاتے ہوں۔لیکوریا کی رطوبت بہت خراش دار،گاڑھی لیسدار،سبز رنگ کی اورماہواری کے بعد خارج ہوتی ہے۔ماہواری کے بعد آنے والا لیکوریا گاڑھا ، چکنا، چپکنے والا،تیزابی اور کھا جانے والا ہوتا ہے۔یہ بوریکس کی طرح کا انڈے کی طرح سفید ہوتا ہے۔چلتے وقت جما ہوایا پھر پیلاہٹ مائل سبز رنگ کا۔لینن پر سبز رنگ کے دھبے چھوڑنے والا۔ اپنی تیزابیت کی و جہ سے بچہ دانی کے باہر والے دو ہونٹو ں کو، پیرینم کو ،چڈوں کو اور رانوں کو چھیلنے والا ہوتا ہے ۔اس کی ماہواری کا بہاﺅ صرف رات کو ہوتا ہے ۔اس میں دل کی دھڑکن بڑھی ہوئی اور ساتھ جلدی علامات میں خارش (جیسے چھالے پڑتے ہیں ) یا تمام جسم پر پتی اچھلتی ہے۔اس کی تکالیف میں اضافہ کم سے کم جذبات کے ابھرنے سے بھی ہو جاتا ہے یاصبح ٹھنڈی ہوا میں چلنے سے اور ٹھنڈے پانی میں نہانے سے ہوتا ہے۔
CALCAREA CARBONICA
٭-کلکیریاکارب کا لیکوریا ٹیوبوکولراور سیڈو سورک ہوتا ہے۔اس کا لیکوریادودھ کی طرح کا یابلغم کی طرح ہوتا ہے۔ جو ماہواری کے بعد آتا ہے۔رحم کی گردن سے آنے والا البیومن کی طرح کے لیکوریا میں اضافہ پیشاب کرنے کے بعد ہوتا ہے۔جس کے ساتھ ضعف اور تھکاوٹ پائی جاتی ہے۔چھوٹی لڑکیوں میں معمولی سے جذبات کے نتیجے میں ماہواری یا لیکوریا ظاہر ہو جاتا ہے۔یہ گاڑھا ، پیلا، تیزابی اور نرم ہوتا ہے۔یہ ایسی عورتوں میں ظاہر ہوتا ہے جو پیلی،سنہرے بالوں والی ، بال ہلکے اور خون کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔ٹیوبوکو لرلیکوریاایسی عورتوں میں ظاہر ہوتا ہے جو پیلی ،پھولی ہوئی جن کے مسلز نرم اور بال سنہرے ہوتے ہیں۔چہرے پر یا سر پر پسینہ ،ہاتھ اور پاﺅں ٹھنڈے اور ہمیشہ نم دار ہوتے ہیں۔خیال کرتی ہیں کہ ان کا دماغ ڈھیلا پڑ گیا ہے ۔ ان میں شدید انزائٹی کے ساتھ موت کا خوف ہوتا ہے ۔لیکوریا ایک ماہواری سے شروع ہو کر دوسری ماہواری تک جاری رہتا ہے۔یہ لیکوریا کھل کر اور دیر تک جاری رہنے والی ماہواری کے بعد آتا ہے۔
CALCAREA PHOSPHORICA
٭- کلکیریا فاس =کا لیکوریا سورک ہوتا ہے۔ لیکوریاانڈے کی طرح کا سفیداور اس سے میٹھی مہک آتی ہے ۔صبح اُٹھتے وقت اس میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ایسی اسکول کی لڑکیاں جو خون کی کمی سیربریل انیمیا( ایک ایسی حالت ہے جس میں خون میں ریڈ بلڈ سیل کی کمی کی وجہ سے خون دماغ کے ٹشوز تک نہیں پہنچ پاتا۔ دماغ میں انقطاع خون کی وجہ سے موت واقع ہوتی ہے)کی شکار ،دُبلی پتلی اور لیکوریا کی مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ شدید تھکاوٹ،نظام ہضم کمزور،سُن پن،ہاتھ اور پاﺅں ٹھنڈے اور ان میں چیونٹیاں رینگنے کا احساس ہوتا ہے۔جنسی اعضاءمیں شدید کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ہر موسم کی تبدیلی کے بعد ان کو ٹھنڈ لگ جاتی ہے۔یہ دوا اسکول کی لڑکیوں میں ظاہرہوتی ہے جو تیزی سے نشو ونما پارہی ہوتی ہیں۔ اوراعضاءگٹھیاوی دردوں میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ البیومن کی طرح کا لیکوریا اُبل کر بہتا ہے۔ مریضہ گرم خشک موسم میں بہتر محسوس کرتی ہے۔اور تکالیف میں اضافہ ٹھنڈی نمدار ہوا میں ہوتا ہے۔
CARBO ANIMALIS
٭-کاربو اینی میلس=لیکوریا جو شدید تھکاوٹ کے بعد آئے۔لینن پرپیلے دھبے ڈالنے والا۔ دورانِ حمل ناگوار بو والا ،ماہواری جلدی،مسلسل اور دیر تک رہنے والی ،جو شدید تھکاوٹ کا باعث ہو ،اتنی کمزوری کہ مریضہ کے لئے بولنا مشکل ہو ۔صبح کے وقت حرکت سے اضافہ ہوتا ہے اس کی بو ناگوار، رات کے پسینے، مریضہ اکیلا رہناپسند کرتی ہے (ہائیوسمس ، اگنیشیا اور رسٹاکس کی طرح)اورگفتگو کرنے سے اجتناب کرتی ہے، شکل سے اداسی ٹپکتی ہے اور ساتھ غدودوں میں سوزش، جلن اور ہاضمے کے نظام میں ابتری معدے میں خالی پن کا احساس جسے کھانے سے بھی کمی نہیں آتی۔ کمزور نظام ہاضمہ کے نتیجے میں منہ میں کھٹا پانی آتا ہے۔مریضہ کی تکالیف میں بہتری گرم کمرے میں آتی ہے اور ٹھنڈی خشک اور کھلی ہوا سے حساسیت پائی جاتی ہے۔
CARBO VEGETABILIS
٭-کاربوویج کا لیکوریا ماہواری سے پہلے ہوتا ہے۔یہ گاڑھا،سبزی مائل سفید یا چھیلن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔اس کی ماہواری وقت سے پہلے اور کھل کر آتی ہے،پیلا خون جس کے ساتھ شدید کمزوری اور نقاہت پائی جاتی ہے۔جسم ٹھنڈا ساتھ پیاس ہوتی ہے۔دورانِ ماہواری ہاتھ ،آنکھیں اور پاﺅں کے تلوے جلتے ہیں۔مریضہ کی تکالیف میں اضافہ کھلی ٹھنڈی ہوا سے،کافی سے ،دودھ سے،چربی اور گرم نمدار موسم میں ہوتا ہے۔اس کی تکالیف میں بہتری ڈکار آنے سے اور پنکھا جھلنے سے آتی ہے۔ اس کے لیکوریا میں اضافہ صبح کے وقت بستر سے اُٹھتے وقت ہوتا ہے۔
CAULOPHYLLUM thalictroides
٭-کائلوفائلم=کا لیکوریا کھل کر،بلغم والا،تیزابی یا نرم ساتھ رحم میں اجتماع خون ۔نیچے کی طرف دباﺅ ہوتا ہے۔یہ اکثر چھوٹی بچیوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ ماہواری اور لیکوریا دونوں کھل کر آتے ہیں۔رحم کی کمزوری کے نتیجے ہونے والا عادتاً اسقاط کے بعد لیکوریا پایا جاتا ہے۔(یہی علامت ہیلونائس ، پلساٹیلا ، سبائنا میں بھی ہوتی ہے)۔لیکوریا تیزابی،تھکا دینے والا ۔ لیکوریاکے ساتھ مسلسل درد اور چھوٹے جوڑوں میں بور کرنے کے عمل جیسی دردیں ہوتی ہیں ۔ چھوٹے جوڑوں میں گٹھیاوی دردیں۔جوان لڑکیوں میں ماہواری درد کے ساتھ اور تشنجی ہوتی ہے۔اوپر والے پپوٹے بھاری ماتھے پر پروانے(کیڑا) کی طرح کے نشان بالکل پلساٹیلا کی طرح کے، لیکوریا ساتھ رحم میں اجتماع خون یا اس کا احساس پایا جاتا ہے۔تمام جوڑوں میں گٹھیاوی دردیں پائی جاتی ہیں ۔اس کی مریضہ کی علامات میں شدت شدید گرم اور شدید ٹھنڈے موسم میں ہوتا ہے ۔
CIMICIFUJA RACEMOSA
٭-سمی سی فیوجا=میں ایک اہم نقطہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔اس کی مریضہ میں جوڑوں کی دردیں بنیادہوتی ہیں۔اس کے علاوہ کمزوری، ذہنی حالت میں جھنجھلاہٹ، افسردگی اور اُداسی یقینی طور پر پائی جاتی ہے ۔ ایسا لیکوریا جو موقوفی حیض کے دنوں میں پایا جائے۔ جس کے ساتھ کمر میں درد ،سر پر گرمی ، کمزوری اور جسم میں گٹھیاوی دردیں ہوتی ہوں ۔ ہسٹریا میں مبتلا،اعصابیت کا شکاراور دورانِ حمل گٹھیاوی مرض میں مبتلا مریضہ کا لیکوریا۔ایسا لیکوریا جو اندام نہانی کی سوجن یارحم کی گردن کی جھلیوں کی سوزش،بیضہ دانیوں کی سوزش اور اس سے ملحقہ ٹشوز کی سوزش کے نتیجے میں ہوتا ہے ۔نیچے کی طرف دباﺅ والی دردیں ہوتی ہیں۔مریضہ کی تکالیف ٹھنڈے موسم میں بڑھتی ہیں۔
CHINA OFFICINALIS
٭-چائنا آفیشی نیلس=لیکوریااندام نہانی میں بھاری پن کے ساتھ اخراجات پیپ والے،جن سے ناگوار بو آتی ہو اورخونی ہوتے ہیں۔پیڑو میں نیچے کی طرف دباﺅ والی دردیں ،یہ دردیں والوا اور مقعد کی طرف بڑھتی ہیں۔ماہواری کی جگہ لیکوریا آتا ہے ۔ (لیکوریا میں بھی خون کی آمیزش ہوتی ہے)یا ماہواری کا بہاﺅ کھل کر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں شدید نقاہت ،کمزوری اور پژمزدگی ہوتی ہے۔ لیکوریا جو رحم کے اندرونی ٹشوز کی سوزش اور رحم کی گردن کی جھلیوں کی سوزش کے نتیجے میں ہو اور ساتھ بچہ دانی میں نوچنے والی خارش ہوتی ہے ۔اس کی مریضہ کا نظام ہاضمہ کمزور ہوتا ہے۔ پاخانے نرم اورناگوار بو والے جن میں غیر ہضم خوارک کے اجزاءپائے جاتے ہیں۔اس کی مریضہ گرم اور خنکی والی کھلی ہوا میں بہتری محسوس کرتی ہے۔

COCCULUS INDICUS
٭- کاکولس انڈیکس=دو حیضوں کے درمیان سفید پانی کی طرح لیکوریا جاری ہونا اس کی خاص علامت میں داخل ہے۔ شدید کمزوری پیدا کرنے والا اتنی کمزوی کہ بات کرنا بھی مشکل ہو جائے۔ اُبل کر بہنے والااور اخراجات خون آب ملی پیپ والے۔ یہ اس کی بہت ہی عمدہ علامت ہے ۔ ماہواری کے دنوں میں سخت کمزوری جس سے حائضہ کے لئے کھڑا ہونا مشکل ہو ۔ماہواری کم مقدار میں یا بالکل ہی نہیں ہوتی ،لیکن لیکوریا کھل کر یا ماہواری سے لیکوریا غالب ہو تا ہے۔اس میں ماہواری قبل از وقت،کھل کر گہرے رنگ کی اور لوتھڑے والی ہوتی ہے۔ مریضہ انتہائی کمزور، دورانِ ماہواری یا لیکوریا کے دوران چلنا اور کھڑا ہونااس کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ رحم والے حصے میں نیچے کی طرف دباﺅ والی دردیں ہوتی ہیں۔ٹھنڈک ،سُن پن اور ٹانگوں کے نچلے حصے کانپتے ہیں۔فالجی دردیں اور کمر میں تھوڑی سی جگہ پراور نیچے والے اعضاءمیں کمزوری پائی جاتی ہے۔بازو سو جاتے ہیں۔ٹھنڈک کے ساتھ پسینے آتے ہیں۔جلدکی گرمی وغیرہ وغیرہ پائی جاتی ہے۔ نیچے والے اعضاءٹھنڈے اور سر گرم ہوتا ہے۔ دورانِ حمل لیکوریا ساتھ صبح کی اُلٹیاں پائی جائیں۔ ایسی عورتیں جن کے بال ہلکے ،غیر شادی شدہ،اور بچوں کے بغیر والی عورت،حساس اور عاشق مزاج لڑکیوں کی مفید دوا ہے۔ماہواری کی بجائے لیکوریا آتا ہے۔پانی کی طرح کا پتلا،بیٹھی ہوئی حالت سے اُٹھتے وقت اور سیڑھیاں اُترتے وقت اُبل کر نکلتا ہے ۔ مریضہ کی تکلیف میں اضافہ ٹھنڈے موسم میں یا ٹھنڈے پانی سے، ٹھنڈ لگ جانے سے ہوتا ہے ۔ مریضہ کو خوراک کی خوشبو سے متلی آنے لگتی ہے ۔ کھانے کی بو برداشت نہیں ہوتی ،حتیٰ کہ اس کے بارے میں سوچنے سے۔کار کی سواری سے ،کھڑا ہونے پر یا فلیٹ لیٹنے پرتکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ بہتری گھٹنوں کو موڑنے سے یا آگے کی طرف جھکنے سے آتی ہے۔خاموشی سے ،آرام کے وقت،ہلکا سا گرمائش پہنچانے سے اور نیند سے بہتری آتی ہے۔

جاری ہے

لیکوریا,علامات ، وجوہات اوران میں
استعمال ہونے والی ہومیو پیتھی ادویات

ترتیب و تحقیق و پیش کش:
خالد محموداعوان
قسط نمبر2

GRAPHITES
٭- گریفائٹس=سیڈو سورک لیکوریا ہوتا ہے۔ لیکوریا کھل کر آتا ہے۔یہ سفیدرنگ کاپتلا ، بلغمی ، جب مریضہ بیٹھے یا چل رہی ہو ساتھ کمر میں شدید کمزوری ہوتی ہے۔اس کے اخراجات صبح کے وقت کھل کر اور دن کو ایسے جیسے کوئی چیز اُبل کربہہ رہی ہو ۔زنانہ شرم گاہ کی قنال کی طرف پُر درددباﺅ۔لبوں پر ریشز کی وجہ سے دکھن،لیکوریاچپ چپا،گلوٹن کی طرح کاوافر مقدار میں جو رانوں پر بہے اورزخموں کی وجہ سے ہیجانی کیفیت پیدا کرے۔اس کی بو ناگوار یا لال تمیری مرچ کی طرح کی۔ناخن سخت،گانٹھ دار ، خستہ،جو آسانی سے ٹوٹ جائیں۔پاخانے سخت ، گانٹھ دار اور اکثر سرمئی رنگ کی میوکس سے لپٹے ہوئے(اس کی اکثر علامات پلساٹیلا سے ملتی ہیں ۔ بہت ساری علامات موقوفی حیض کے دنوں کی ملتی ہیں ) ۔جلد ناہموار ، ہرچیز پھوٹ کر بہنے والی ، پاﺅں میں ، انگوٹھوں میں، انگلیوں میں ، ہونٹوں اور چہرے پر کریس اور شگاف ہوتے ہیں۔لیکوریا میں سیپیااس کے بعد بہتر کام کرتی ہے۔
HELONIAS DIOICA
٭-ہیلو نائس ڈائی اوسا= کا لیکوریا بوڑھی عمر کی یا کمزورعورتوں میں ہوتا ہے۔انتہائی کمزور،ذہن تھکا ہوا،قوت ارادی میں کمی اور جسمانی طاقت کا فقدان پایا جاتا ہے۔نقاہت،کمر درد اور جسمانی نااہلیت پائی جاتی ہے۔کمر میں درد اور بوجھ،لمبار ریجن کے آر پار جلن۔والوا سرخ،گرم،سوجا ہوا،ان میں خوف ناک دردیں اورنوچنے والی خارش ،سر کی چوٹی پر جلن دار گرمی پائی جاتی ہے۔مصروفیت کے دوران مریضہ اپنے آپ میں بہتری محسوس کرتی ہے ۔مریضہ چڑچڑی اور معمولی سا اختلاف یا تردید برداشت نہیں کرتی۔دورانِ ماہواری ، حمل اور لیکوریا میں کام کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔مریضہ کچھ کام کرتے وقت بہتر محسوس کرتی ہے۔ اور حرکت سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کے اخراجات پانی کی طرح کے،ناگوار بو والے جوزخم کے کھائے جانے سے یا رحم کی گردن کے زخموں کی وجہ سے ہوں۔ہیلونائیس کا تعلق براہِ راست رحم کے کینسر سے ہے اور یہ ضروراس میں کچھ نہ کچھ کام دکھاتی ہے۔جیسے ہی رحم کی گردن میں سوزش اور سرخی ظاہر ہو اسی مرحلہ پرہیلونائس دے دی جائے تو بہت مﺅثر ثابت ہوتی ہے ۔ اگر ہیلونائس سے مکمل شفا نہ ہو تو اس کے بعد کاربواینی میلس دینی چاہیے ۔ امید ہے کہ انشاءاللہ ان دونوں دواوں کے نتیجہ میں مکمل شفا ہو جائے گی ۔”ہیلونائس“میں عورتوں کی تکالیف میں دو اہم علامات قابل ذکر ہیں۔ایک جنسی اعضاءکی ناطاقتی ، دوسری درد جوکمر سے یوٹرس کی طرف پھیلتی ہے ۔ مزمن لیکوریا جس کے ساتھ ٹانگوں کی مزمن سوزش پائی جاتی ہے۔ پاﺅں ٹھنڈے اور ان میں سُن محسوس ہوتا ہے۔
HEPAR SULPHUR
٭-ہیپر سلفر=کا لیکوریا بہت ہی ناگوار بو والا ہوتا ہے ۔اس کی بو ایسی ہوتی ہے جیسے پرانی پنیر ۔لیکوریا تیزابی، بچہ دانی کوکھا نے والا، ساتھ جلن اور تیز دردیں ہوتی ہیں۔یہ دردیں پھوڑے کی وجہ سے یا رحم کی گردن پریا فرج کے منہ کی ہڈی پر یا فرج کی گزر گاہ پر زخم کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔مریضہ ٹھنڈک محسوس کرتی ہے،اور گرم خشک موسم میں بہتر محسو س کرتی ہے ۔ موقوفی حیض کے دنوں میں پسینہ کھل کر آتا ہے،ساتھ ماہواری دیر سے یا کم مقدار میں آتی ہے۔ہیپر سلفر میں تکالیف میں اضافہ خشک ٹھنڈی ہواسے،خنکی سے،ہلکے سے ہوا کے جھونکے سے،پارے سے،چھونے سے اور درد والی جگہ پر لیٹنے سے ہوتا ہے۔اور تکالیف میں بہتری نمدا ر موسم میں،سر کو لپیٹنے سے،گرمی سے،کھانے کے بعد آتی ہے۔
HYDRASTIS CANADENSIS
٭-ہائیڈراسٹس کینا ڈینس=کا لیکوریا حیض کے بعد شدت اختیار کرتا ہے۔حیض کی کثرت کے ساتھ(غیر فطری طور ماہواری کے دوران بھاری اخراج خون ہوتا ہے)۔بچہ دانی میں خارش ہوتی ہے۔اس کے ساتھ کھل کر تیزابی،گلا دینے والا، چھچھڑے دار لیکوریا ہوتا ہے۔لیکوریارحم کی گردن کے کھائے جانے یا چھیلن کے باعث آتا ہے۔بچہ دانی سے سرمئی رنگ کی سوزاکی پیپ کااخراج ہوتا ہے۔لیکوریا بھی دوسرے اخراجات کی طرح گاڑھے، پیلے ، چپکنے والے ہوتے ہیں۔ نتیجے میں قبض کے ساتھ کمزوری پائی جاتی ہے۔مریضہ ایسا لگے جیسے مریضانہ چہرہ ہوتا ہے(جس کو کھایا پیا نہیں لگتا )چہرہ پیلا سوجا ہوا۔ لیکوریا کے اخراجات ناگوار بو والے جو اکثر رحم کے ابتدائی کینسر میں آتے ہیں۔ مریضہ کا نظام ہضم کمزوراور منہ میں چھالے پائے جاتے ہیں۔ مریضہ کھلی ہوا میں بہتری محسوس کرتی ہے اور تکالیف میں اضافہ شدید ٹھنڈے اور شدید گرم موسم میں ہوتا ہے۔اس کا لیکوریا سیڈو سورک ہوتا ہے۔
JOANESIA ASOCA
٭-جونیشیاآشوکا=دورانِ لیکوریا اس دوا کے پانچ قطرے دن میں تین بار استعمال کریں۔عورتوں کی شکایات کی یہ ایک بہترین دوا ہے ۔ ماہواری رکی ہوئی یا بے قاعدہ،ماہواری کے دبنے کے ساتھ مریضہ سر درد محسوس کرتی ہے۔ماہواری کے اخراجات کم مقدار میں،پیلے ،پانی کی طرح کے، گندی بو والے،سیاہی مائل ہوتے ہیں۔خون کے بہاﺅسے پہلے بیضہ دانیوں میں دردہوتا ہے۔دو ماہواریوں کے درمیان خون کا آنا،مثانے میں جھنجھناہٹ،لیکوریا پایا جاتا ہے۔بلوغت پرماہواری کا غیر فطری طور پرنہ آنے میں جس کے ساتھ سر میں درد اور بھوک کا فقدان ہو مفید دوا ہے۔پھرایک وقت آتا ہے کہ ماہواری کھل کر آتی ہے اور دیر تک جاری رہتی ہے جس سے مریضہ کمزور اور خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے۔یہ عورتوں کے مسائل جیسے بانجھ پن، موقوفی حیض کے دنوں کی تکالیف کی ایک مفید دوا ہے ۔ اس میں ریڑھ کے ساتھ ساتھ درد ہوتا ہے جوپیٹ اور رانوں تک پھیلتا ہے۔مریضہ ضدی قبض ،خونی بواسیر میں مبتلاہوتی ہے،پیاس بڑھی ہوئی ، میٹھی اور ترش اشیاءکھانے کی شدید طلب ہوتی ہے ۔ آنکھوں میں دردہوتا ہے۔ سونگھنے کی صلاحیت کم یا بالکل ختم ۔مریضہ کھلی ہوا میں بہتر محسوس کرتی ہے۔

KREASOTE
٭-کریازوٹم=لیکوریا،گاڑھی میوکس والاساتھ بری بوآتی ہو،سیون (معقد اوراعضائے تناسلی کے درمیانی حصہ )چھیلن پیدا کرنے والا، ماہواری اور خون کا بہاﺅ رک رک کرآتا ہے ۔اخراجات اکثر رک جاتے ہیں اور دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں۔ تیزابی لیکوریا جو زنانہ شرم گاہ کی قنال(لب)پر نوچنے والی خارش اور سوجن پیدا کرے۔گرمی اور سرخی کے ساتھ سفیدی مائل لیکوریا ساتھ جنسی خیالات بڑھے ہوئے ہوں۔لیکوریا کھلا جس سے سبز کچے اناج جیسی بو آئے ۔یہ لیکوریا شروع میں خونی بھی ہو سکتا ہے ،پھر پیلاہٹ مائل سفید اور تیزابی ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں اندام نہانی میں اری ٹیشن اور خارش ہوتی ہے۔لینن پر پڑنے سے اس کو اکڑا دینے والااور رنگ پیلا کر دینے والا ہوتا ہے۔لیکوریا ایسا جیسے دھویا ہوا گوشت ہو،تیزابی،گہرے رنگ کا،خونی ساتھ بچہ دانی میں ٹانکہ لگنے کی طرح کی دردیں ہوتی ہیں۔ نیچے والے اعضاءمیں شدید ضعف پایا جاتا ہے۔رات کو مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہتی ہے ۔ پیشاب کرنے پر رانوں کے درمیان شدیدجلن ہوتی ہے ۔لیکوریا کا بہاﺅ مریضہ کے دودھ کی طرح کاجس کے ساتھ نظام بول میں اری ٹیشن اور کمر کے مختصر حصے میں جلن پائی جاتی ہے۔یہ ان لڑکیوں میں ظاہر ہوتا ہے جوبہت نفیس ،اور سنہرے بالوں والی اپنی عمر سے لمبی ہوتی ہیں۔ چڑچڑی اور مایوس،پیلے اور سوجے ہوئے چہرے بشرے والی(بیماروں جیسے چہرے والی)حتیٰ کہ سرطان کی طرح کا،مسوڑھے پھولے ہوئے اور ان سے خون آسانی سے بہہ نکلتا ہے۔ لیکوریا جس کے ساتھ پیٹ میں جلن جیسے آگ کا گولا رکھا ہے۔
LILIUM TIGRINUM
٭-للی ایم ٹگریم=لیکوریا کی ایک مفید دوا ہے ۔ اس کا لیکوریا پانی کی طرح،پیلا ،پیلابراون اور چھیلن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ ماہواری جلدی ،کم مقدار میںاورگہرے رنگ کی چھچھڑے دار ہوتی ہے ۔ ماہواری بدبودار ۔اس کا خون صرف اس وقت آتا ہے جب مریضہ حرکت کرے۔ اس میں نیچے کی طرف دباﺅ کا احساس یامسلسل پاخانے کرنے کی حاجت ہوتی ہے۔یامقعد میں دباﺅ جس میں اضافہ کھڑے ہونے پر ہو۔مریضہ ان اعضاء(مقعد اور اندام نہانی )کو بیرونی طور پر تھامے ایسے جیسے ہر چیز باہر آ جائے گی۔مریضہ پست ہمت،اذیت ناک تشویش میں مبتلا ہوتی ہے۔گرم موسم میں تکلیف بڑھتی ہے اور خنک ہوا میں بہتر محسوس کرتی ہے ۔ دردیں مختلف جگہوں پر(ایگزالک ایسڈ کی طرح ) پائی جاتی ہیں۔جس کے ساتھ رومائٹک آرتھرائٹس پایا جاتا ہے۔دردیں کمر میں،ریڑھ میں،دائیں بازو میں اور چوتڑ میں ہوتی ہیں۔درد ٹانگوں میں،ٹخنوں کے جوڑمیں جس کے ساتھ ہتھیلیوں اور تلوﺅں میں جلن ہوتی ہو۔نبض بے قاعدہ،تیز،دل کی دھڑکن تیز،چھاتی پر بھاری پن محسوس ہو، دل کے مقام پر درد ہوتا ہے۔بھیڑمیں اور گرم کمرے میں سانس گھٹتا محسوس ہو۔درد دل کے ساتھ دائیں بازو میں درد ہوتا ہے۔مریضہ زبردست افسردگی کے نتیجے میں رونا شروع کر دیتی ہے کہ مجھے کسی لاعلاج مرض نے آگھیرا ہے۔
MAGNESIA CARBONICA
٭-میگنیشا کارب=کا لیکوریا سفید جس سے کف جیسی رطوبت گرے۔ اکثرتیزابی ہوتا ہے اور ماہواری کے بعد آتا ہے۔پھر پانی کی طرح کا کم مقدار میں۔ساتھ ناف میں چٹکی کاٹنے والی دردہوتی ہے ۔ زبان پر سفیدی کوٹ کی ہوئی،منہ سفید میوکس سے بھرا ہوا۔لیکوریا کی بو کھٹی،پاخانے مٹی کے رنگ کی طرح کے،سخت ،خشک چور اچورا۔چہرہ پیلا ، مومی ،پیلا پھولا ہوا۔اس کی مریضہ ہر وقت تھکی ہوئی محسوس کرتی ہے اورصبح کے وقت پُر سکون۔ماہواری سے قبل نزلہ ہوتا ہے ۔ ناک بند ہو جاتی ہے ۔ ماہواری کا خون صرف رات کو خارج ہوتا ہے۔خون گاڑھا تار کول جیسا سیاہ ،ماہواری تیزابی پیچ کی طرح کی ساتھ کاٹنے والی قولنجی دردیں،کھٹے ڈکار آتے ہیں اور گوشت کھانے کی خواہش پائی جاتی ہے
MERCURIUS CORROSIVUS
٭-مرکیوریس کاروسی وس=کا لیکوریا پھیکے رنگ کا ،پیلا،جس سے میٹھی بو آئے۔یہ لیکوریا خونی رنگ یا میوکس اور پانی کارنگ لئے ہوتاہے۔یہ بہت تیزانی ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جنسی اعضاءمیں شدیدگرمی اور جلن پائی جاتی ہو۔پمپلز،نوڈولز ،حتیٰ کہ زخم پائے جاتے ہیں۔سوازکی، سبزی مائل لیکوریا، ساتھ مثانے کے سوراخ میں مروڑکے ساتھ جلن ہوتی ہے۔ خونی پیشاب خونی جو قطروں کی صورت میں آئے ساتھ شدید درد اور مروڑ پایا جائے۔
MERCURIUS SOLUBILIS
مرکیوریس سولیوبلس= کا لیکوریا تیزابی یا نرم یا دونوں میں سے ایک ہوتا ہے ۔ یہ سفیدی مائل سبز ہو سکتا ہے۔اس سے میٹھی بو آتی ہے۔جب یہ پیپ کی طرح کا ہوگا اس میں جلن پیدا ہوتی ہے۔کچا پن، پمپلز اور بڑے ہونٹوں پر چھالے پائے جاتے ہیں ۔ اس کی خارش اور جلن کو ٹھنڈے پانی سے دھونے سے آرام آتا ہے۔تکالیف میں اضافہ شام کو اور رات کو ہوتا ہے ۔ منہ کی رال کاٹن کی طرح کی سرمئی رنگ کی ہوتی ہے۔ زبان عام طور پر بڑی اور پھولی ہوئی جس پر دانتوں کے نشان پائے جائیں ۔ذائقہ دھات کی طرح کا یا کڑوا،بدبودار،مسوڑھے نرم ، اسپنج کی طرح کے، دانتوں سے ہٹے ہوئے ان سے خون آسانی سے بہہ نکلے اس کے اخراجات پیپ والے بلغمی،پتلے،تیزابی لمفی ساتھ ماہواری کے دنوں میں چھاتیوں سے دودھ آئے۔بچہ دانی سے دھڑکن دار جلن ،بڑے ہونٹوں پرداغ دھبے ۔نیچے والے اعضاءمیں کمزوری اور تھکاوٹ ،جلد سوجی ہوئی دیکھنے میں یرقان کی طرح کی نظر آتی ہے۔
MUREX PURPUREA
٭-میوریکس پیورپیورا=اس دوا کا لیکوریا سبز یا خون ملی رطوبت والا ہوتا ہے۔ اس میں حد سے بڑھی ہوئی جنسی خواہش پائی جاتی ہے ۔ذرا سا چھوتے ہی شہوت بھڑک اُٹھتی ہے ۔رحم کے اندرونی ٹشوز میں سوزش سے ماہواری درد سے آتی ہے۔ ماہواری بے قاعدہ ،کھل کر ،مسلسل آتی ہے ساتھ خون کے بڑے سدے خارج ہوتے ہیں۔رحم ڈھلکی ہوئی،نیچے کی طرف دباﺅ،پیڑو کے ایک مقام پردرد ہوتاہے۔ درد کی وجہ سے ہلکاسا چھونابھی برداشت نہیں ہوتا۔یا لیٹنے سے تکلیف بڑھتی ہے ۔ ماہواری کے دوران گٹھلیوں کی وجہ سے پستانوں میں درد ہوتا ہے ۔ پیشاب رات کو مسلسل ہوتا ہے یادن کو پیشاب کرنے کی حاجت مسلسل بنی رہتی ہے۔بچہ دانی کے دائیں حصہ سے لے کر بائیں پستان تک دردہوتا ہے ۔خواتین زندہ دل،عاشق مزاج ۔عصبی مزاج والی ، لاغر بدن ، کمزور اورزنانہ امراض میں مبتلا ہوتی ہیں۔،ان کے جسم کمزور ،معدہ میں ایسی کمزوری کا احساس کہ جان نکل جائے گی ایک مفید ہے۔
NATRIUM MURIATICUM
٭-نٹرم میور=کالیکوریاگاڑھا،سفید یا ٹرانسپیرنٹ ہوتا ہے۔کھل کر آتا ہے۔تیزابی ،اندام نہانی میں مسلسل درد کرنے والا ہوتا ہے۔نیچے کی طرف بوجھ یا ایسا دباﺅ کہ ماہواری آ رہی ہو۔ یا پیشاب کرنے کے بعدمثانے سے پیشاب کے اخراج والی نالی میں کاٹنے والی دردیں ہوتی ہیں ۔ لیکوریا سبزی مائل آتا ہے جب مریضہ چل رہی ہو ۔ جنسی فعل سے بے رغبتی،بعد میں اس میں چڑچڑا پن آئے۔اُداس ، غمگین ، ٹھکرائی ہوئی ، مایوسی کی شکار، دلاسا اس کی تکلیف میں اور اضافہ کرے ۔ ماہواری کے دوران شدید اُداس،ہر صبح سر درد جیسے سر پھٹ جائے گا۔ آنکھوں میں ایسا احساس جیسے ریت پڑی ہوئی ہے ۔ یاآگ نکل رہی ہے۔آنکھوں کے آگے لہر دار چمک ۔ جلد بے رنگی،موم کی طرح کی،گریس والی، استسقائی ، ٹھنڈلگنے پر جلد ایسی جیسے رونگٹے کھڑے ہونے کی حالت میں جلد کی ہوتی ہے ۔ اعصابی کمزوری کے نتیجے میں ہاتھوں سے چیزیں گریں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پرغصے میں آ جائے ۔ زبان پر اکثر نقشے بنے ہوئے اور مریضہ میں دورانِ ماہواری تھوڑی اورمنہ پر کھجلی ، خارش ہوتی ہے۔یا دن کے دس سے بارہ بجے پتی اچھلتی ہے۔نٹرم میور میں پانی کی طرح کا لیکوریا اور خاص طور پررحم کی تکالیف میں جس کے ساتھ کمر درد ہو مفید ہے۔اس کی کمردرد میں بہتری کسی سخت چیز پر لیٹنے سے ہو تی ہے۔
NITRIC ACID
٭-نائٹرک ایسڈ=اس کا لیکوریا سائیکوٹک ہوتا ہے۔لیکوریا ماہواری کے بعد آتا ہے۔لیکوریا سبزی مائل ،بدبودار،جنسی اعضاءکی جلدیا میوکس جھلی پرسطحی زخم جو لیکوریااوراخراج ماہواری سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ساتھ انجیر نما موہکے ہوں تو ”نائٹرک ایسڈ“ دوا ہے ۔ اس کی رطوبت سبز ہوتی ہے یا اس کا بہاﺅ(للی ایم ٹگریم کی طرح) پانی کی طرح کا ہوتا ہے ۔ گوشت یا چیری کے رنگ کی طرح کاتیزابی لیکوریا ، ناگوار بو والا،قدرے سانوے رنگ کا سا بھورا پانی والا ۔ (سائیکوسس)۔یہ لیکوریا گاہے بگاہے تار کی طرح کا(کالی بائیکرام،ہائیڈارسٹس)۔سر میں درد ایسا جیسے کسی چیز سے سختی سے بندھا ہوا ہے۔بچہ دانی میں ٹانکہ لگنے والی،اندام نہانی میں مسلسل درد ساتھ نوچنے والی خارش ہوتی ہے۔ٹھنڈ ک آسانی سے لگ جاتی ہے جس سے لیکوریا اور خارش میں اضافہ ہو تا ہے ۔پیٹ کے نیچے والے حصے میں دباﺅ والا درد ہوتا ہے ۔ یہ علامت ایک مستقل علامت کے طور پر پائی جاتی ہے۔چہرہ کے رنگ پھیکا،پیلا یا قدرے سانولے رنگ کا بھور سا(سیپیا،لائیکوپوڈیم)۔منہ کے کونوں پر زخم بنتے ہیں۔گوشت اور ڈبل روٹی سے بے رغبتی۔اس کی مریضہ پسند کرتی ہے نمک لگی ہوئی مچھلی،ہیرا مچھلی،چاک اور کیلشیم کے نمکیات(کالی کارب)۔پیشاب بھورے رنگ کاتیزبدبودار (بینزوک ایسڈ کی طرح کا)۔ اس کی مریضائیں اکثر لمبی،گہرے رنگ والی،غذائیت سے خالی جن کی آنکھیں اور بال کالے ہوتے ہیں۔چبھن والی دردیں جن میں اضافہ رات کو ہوتا ہے ،دوران سفر کار میں یا گاڑی میں ۔یہ مرض ان مریضوں میں ہوتی ہے جن میں دوسرے یا تیسرے درجے کی سفلس یاسائیکو سفلس پائی جاتی ہو۔اس کی مریضہ میں زخم،موہکے اور غیرقدرتی افزائش پائی جاتی ہیں ۔جن سے خون آسانی بہے یا ٹپکے۔یہ پتلا پیلائٹ مائل سبز یا پانی کی طرح اخراجات پائے جاتے ہیں ۔ یہ ایسے زخموں میں بہتر کام کرتی ہے جو سفلس کی وجہ سے فاسد ہو گئے ہوں۔جیسے فاسفورس ٹیوبوکولر میں کام کرتی ہے،اسی طرح سائیکو سفلیٹک کے مریضوں میں ہوتا ہے۔
Ovi gallinae pellicula
٭-اووی گیلنا پیلی کیولا=(انڈے کے چھلکے کی اندرونی جھلی)اس کا لیکوریا دودھ کی طرح سفید ہوتا ہے۔یہ کھل کر آتا ہے اور ساتھ کمر کی ہڈی میں درد ہوتا ہے جیسے ہڈی ٹوٹ کر دوحصے ہو گئے ہوں ۔ مریضہ میں نقاہت،کمزوری اور تھکی ہوئی ہونے کا احساس ہوتا ہے۔مریضہ ٹھنڈی جس کو بیرونی گرمی پہنچانے سے آرام آتا ہے۔لیکوریا رحم کی گردن پریا اندام نہانی کی گزرگاہ پر خوفناک زخم کے نتیجے میں ہوتا ہے۔اس دوا کا استعمال 3x, 6x کرنا چاہیے۔
PSORINUM
٭-سورائینم= کا استعمال لیکوریا کا علاج کرتے وقت درمیان میں حائل رکاوٹ کو دور کرنے میں ہوتا ہے۔ہفتے میں ایک بار استعمال کرنی چاہیے۔اس کا لیکوریاناگوار بو والا،گانٹھ دار، ساتھ کمر میں درد اور شدید کمزوری پائی جاتی ہے۔مریضہ کا سانس دمہ کی طرح پھولتا ہے۔جلد پرپھوڑے اور پمپلز نکلتے ہیں ۔ یہ انگلیوں کے ارد گرد اور جوڑوں پر ہوتے ہیں ان میں خارش ہوتی ہے۔ان میں اضافہ بستر کی گرمی سے ہوتا ہے۔تیل کی طرح کاناگوار بو والا پسینہ آتا ہے۔ تکالیف میں اضافہ معمولی سی ٹھنڈک سے ،ہوا کے جھونکے سے ہوجاتا ہے۔مریضہ اپنے آپ کا لپیٹ کر رکھنے سے حتی کہ موسم گرم بھی ہوبہتر محسوس کرتی ہے۔اس دوا کو 200 سے نیچے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
PULSATILLA
٭-پلساٹیلا= کا لیکوریاسیڈو سورک اور ٹیوبرکولر ہوتا ہے۔یہ زیادہ تر سیڈو سورک میں استعمال ہونے والی دوا ہے۔اس کا لیکوریا گاڑھا،دودھ اور کریم کی طرح کاہوتا ہے ۔یہ جوان لڑکیوں میں بلوغت کے وقت یا خوف کے نتیجے میں یاٹھنڈ لگ جانے سے یا نمی میں ماہواری دب جاتی ہے۔اس کا لیکوریا گلانے والاہوتا ہے اور ماہواری میں جلن ہوتی ہے ۔ (جو ماہواری سے قبل ،درمیان میں اور بعد میں ) ہوتی ہے ۔ ساتھ کاٹنے والی دردیں جس میں اضافہ لیٹنے سے ہو، ساتھ اندام نہانی سوجی ہوئی ۔ جوان لڑکیوں میں یا بلوغت وقت کی ماہواری دیر سے آئے یا ماہواری رکی ہوئی ہو۔اس کی دردیں کریمز کی طرح کی،قولنجی نوعیت کی ساتھ ٹھنڈک پائی جائے ۔ ماہواری ٹھنڈ لگ جانے سے دب جائے یا ٹھنڈی ہو جانے سے، دماغی علامات پیدا ہوں،میں بدلنے والا مزاج،درد کی وجہ سے رونے والی،ماہواری سے قبل رونے والی ، اداس ، موڈی،مالیخولیا۔ ماہواری کے دوران جلدی ابھار (نٹرم میورکی طرح)،متلی اکثر اُلٹیاں جس کے ساتھ پیٹ میں بھاری پن اور دردیں ہوتی ہیں۔قولنج ساتھ اُلٹیاں،رنگ پھیکا پڑ جائے،غشی محسوس ہو۔ کانپے ایسے جیسے ٹھنڈک سے ۔ بغیر وجہ کے رو دینے والی زبان پر سفیدتہ چڑھی ہوئی ۔پیاس کے بغیر،سانس لینے میں دقت،سانس نہ لے سکے جب کمرے میں ہو ، کھڑکیاں کھولنی پڑیں جس سے اسے سکون ملے۔کمر میں دردیں پیٹ کی ایک طرف اور کمر کے مختصر حصے میں درد، پیٹ میں دباﺅ جیسے وہاں پتھر رکھا ہوا ہے۔پاخانے کرنے کی غیر مﺅثر حاجت (نکس وامیکا کی طرح) مان جانے والی ، خوش باش،نرم مزاج والی،سنہرے بالوں والی جلد گوری، مایوسی سے رونے والی۔گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ،لمفیٹک مزاج والی،ہلکے بال،نیلی آنکھیں جس کے ساتھ نزلاتی اخراجات اور لیکوریا پایا جاتا ہے۔آئس کریم کھانے کا جنون،مکھن اور مرغن غذاﺅں سے تکالیف میں اضافہ ۔دوران ماہواری پستانوں میں دودھ(مرک سال) دکھن ، ماہواری کے بہاﺅ کے ساتھ سختی ، ماہواری کے دوران دودھیالیکوریا ۔مریضہ ہاتھ کو سر پر رکھ کر سوتی ہے (پلاٹی نم) ۔ بائیں طرف سونہیں سکتی جس سے اس کی دل کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔مریضہ ٹھنڈی ، پیاس کا فقدان،نسیں پھیلی ہوئیں،ماہواری کے دوران چہرہ اور آنکھیں پھولی ہوئی۔گرمی سے ،شام کو اور حرکت کے شروع میں تکالیف بائیں طرف لیٹنے سے،مرغن غذاﺅں سے یا پیسٹریاں کھانے سے اضافہ ہوتا ہے۔گرم ٹکور سے ،آرام سے حرکت کرنے سے ، ٹھنڈی ہوا سے،ٹھنڈی چیزیں کھانے سے اور ٹھنڈی ٹکور سے بہتری آتی ہے۔
SABINA
٭-سبائنا=کا لیکوریا ماہواری کے بعد ہوتا ہے ۔ ماہواری کھل کر آتی ہے۔رنگ سرخ چمکدار ہوتا ہے ،یہ پیڑوکی سیلولائٹس(یہ بیماری وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔متاثرہ جلد سرخ اور سوجن کی وجہ سے چھونے سے درد کرتی ہے۔یہ عام طور ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے۔جلد میں کریک بیکٹیریا کے حملے کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ بیماری عام طور پر ایک فرد سے دوسرے میں منتقل نہیں ہوتی)،بیضہ دانیوں کی سوزش، رحم کے اندرونی ٹشوز کی مزمن سوزش اور اسقاط کے بعد ہوتی ہے۔لیکوریا بڑھی ہوئی جنسی خواہش کے نتیجے میں ہوتی ہے۔رحم کی دردنیچے رانوں میں اُترتی ہے یاتکونیہ ہڈی سے ناف اور بچہ دانی میں جاتی ہے ۔ عورتو ں میں اخراج خون ،یا کثرت حیض جس سے اسقاط آسانی سے ہو جاتا ہے ۔ اسقاط کے بعدبچہ دانیوں اور رحم میں سوزش۔سبائنا اسقاط حمل کے رجحان کو روکنے کے لئے حفظِ ما تقدم کے طور پربہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس تکلیف میں ”کولوفائلم“ بھی بہت موثر دوا ہے۔ ”سبائنا“ گوشت کے لوتھڑے جو اسقاط کے بعد رحم میں پیدا ہوتے ہیں کو خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔تکالیف میں اضافہ معمولی سی حرکت سے یا رحم کی ناطاقتی سے اور گرمی کے باعث ہوتا ہے۔ بہتری خنک تازہ ہوا میں ہوتی ہے ۔جوڑوں میں آرتھرائٹس دردیں ۔ہوا کی وجہ سے پیٹ پھولا ہوا،ذائقہ خراب پانی اور لیموں والے پانی کی پیاس پائی جاتی ہے۔اس دوا کا استعمال6, 30 طاقت میں کرنا چاہیے۔تیسرے ماہ کے حمل کے اسقاط کے بعد ہونے والا لیکوریا۔انجیر نما موہکے جس میں نوچنے والی خارش اور جلن پائی جاتی ہے۔اور جلن میں بہتری خنک کھلی ہوا میں آتی ہے۔موسیقی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔
SECALE CORNUTIM
٭-’سیکل کار“= کا لیکوریا ٹیوبرکولر ہوتا ہے۔یہ ایک اینٹی سورک دوا ہے لیکن یہ تینوں میازموں پر کام کرتی ہے۔اس کا لیکوریابھورے رنگ کاجارہانہ نوعیت کا یا جیلی کی طرح کا ہوتا ہے۔ حیض درد کے ساتھ آتا ہے۔خون کا رنگ گہرا۔آئندہ حیض آنے تک پانی جیسا پتلا خون ٹپکتا رہتا ہے۔ماہواری بے قاعدہ ،کثرت سے آتی ہے۔ ماہواری کا کثرت سے آنااور لیکوریا ادل بدل کر آتے ہیں۔کبھی کبھی یہ گہرے رنگ کا ،پیپ بھرا،بدبودارجیسا مہلک ہوتا ہے۔رحم کے کینسر یازخم میں اخراجات گہرے رنگ کے ، بدبودار ، خونی ساتھ ر حم میں جلن دار دردیں ہوتی ہیں۔اس کا لیکوریا کافی کی تلچھٹ جیسایاایسا خونی جیسے خون بد نظمی کا شکار ہو ۔(آرسینی کم البم،کونیم ، پائروجینم ) ۔ تیسرے مہینے کے حمل کا اسقاط (سبائنا کی طرح ) پایا جائے ۔ مریضہ کے پستان سکڑے ہوئے۔زچگی کے بعدان میں دودھ نہیں ہوتایا دودھ نہیں بھرتا۔مریضہ ٹھنڈی ،پھر بھی گرمی سے اس کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ مریضہ تھکی ماندی،کمزور،مرجھائی ہوئی ، خواتین کی ایک بیماری جو خرابی صحت غذائی قلت کو ظاہر کرتی ہے جس میں چہرہ بیماروں جیسالگتا ہے، اس کی جلد دیکھنے میں غیر صحت مندجھریاں پڑی ہوئی، پرپل ، نیلاہٹ مائل ہوتی ہے۔ مریضہ خوف سے بھری ہوئی ، مایوس،مالیخولیا ۔اس کی مریضہ کو سردی لگتی ہے لیکن کپڑا اوڑھنابرداشت نہیں ہوتا۔سیکل کار کے سب فتور سردی سے راحت پاتے ہیں۔جلد چھونے سے ٹھنڈی لیکن گرم اوڑھنے سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے اور سکون کھلی ہوا میں ہوتا ہے۔


SEPIA OFFICINALIS


٭-سیپیا آفیشی نیلس=اس کا مزاج ٹیوبرلولر ، سورک سیڈو سورک اورسائیکوٹک ہے۔یہ لیکوریا کی ایک زبردست دوا ہے۔مختلف اور تبدیل ہونے والی ۔ لیکن اکثر دودھ کی طرح اور سفید یا گاڑھا اور پیلا ہوتا ہے۔لینن پر دھبہ ڈالنے والا،کبھی کبھارسوزاک میں پیلاہٹ مائل سبز ہوتا ہے ۔بعض اوقات گانٹھ دار ہے یا بدبودار مہک والا ہوتا ہے۔آخری درجے میں تخم دان کی گردن پر سوئیاں چبھنے والی دردیں ہوتی ہیں اور تیزابی ہونے سے فرج کے بیرونی حصے پرمسلسل درد رہتا ہے۔اکثر اس میں نیچے کی طرف اور رحم کا اپنی جگہ سے ہٹا ہوا ہونا،یا جسم کے کسی حصے کا مناسب مقام پر نہ ہونے کا احساس پایا جاتا ہے۔ یہ اس کی نمایاں علامت ہے۔پیڑو کے اعضاءڈھیلے ۔ نیچے کی طرف دباو، اس احساس کے ساتھ جیسے ہر چیز اندام نہانی سے باہر نکل جائے گی ۔ مریضہ ٹانگوں کو کراس کر کے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔یا اندام نہانی کو دباکر رکھتی ہے۔ چہرے پرداغ اور دھبے نمایاں ہوتے ہیں۔اس کی مریضہ جسمانی طور پر کمزور،سیاہ آنکھیں،جلد عمدہ ساتھ سخت فائبر۔عام طور پر جنسی اعضاءمیں کمزوری ۔ تکالیف میں اضافہ بعد از دوپہراور شام کو ہوتا ہے ۔ شدید قسم کی ورزش سے سکون ملتا ہے۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ سیپیا کی مریضہ کو ڈانس کرنے سے سکون آتا ہے ۔یہ احساس کہ اندرونی اعضاءمیں گیند رکھا ہوا ہے ۔ جس کے نتیجے میں مریضہ محسوس کرتی ہے کہ ہر چیزبچہ دانی سے باہر نکل جائے گی۔سیپیا پیڑو کی تکالیف کی بہترین تصویر پیش کرتی ہے۔
SULPHUR
٭-سلفر=کا لیکوریا جس کے ساتھ کاٹنے والی اورچبھتی ہوئی دردیں ہوتی ہیں۔یہ دردیں ناف میں ہوتی ہیں۔یہ کم مقدار میں،تیزابی جو خراش ، جلن ، شدید درد میں مبتلا،اور اندام نہانی میں جلن پیدا کرنے پر آمادہ کرنے والا۔یہ لیکوریا گاڑھا ، پیلا، شدید درد میں مبتلا ،اچانک ڈنگ لگنے جیسا درد ہوتا ہے ۔سلفرکی مریضہ جب تک چلتی پھرتی رہے ٹھیک رہتی ہے، لیکن جونہی بستر میں لیٹ کر گرم ہو ان کی بہت سی بیماریاں عود کر آتی ہیں ۔ اس کی خارش میں اضافہ رات کو بسترمیں گرمی سے ہوتا ہے۔ سلفر کی مریضہ کے پاﺅں جلتے ہیں ساتھ شدید گرمی اور بے چینی ہوتی ہے،ٹھنڈی ہوا کی خواہش کرتی ہے ۔ کپڑے اُتار پھینکتی ہے۔لیکوریا کی مزمن شکایات میں ساتھ سورا نمایاں ہو یا سلفرسے تعلق رکھنے والی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔
SYPHILINUM
٭-سفلی نم=یہ اینٹی سفلیٹک ہے۔(یہ آتشک کے زہر سے تیار کی جانے والی نوسوڈ ہے)اس کا لیکوریا پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔کھل کر آتا ہے۔سوتی کپڑے کو گیلا کر کے نیچے اعضا ءکی طرف بہنے والا (ایلومینا) کی طرح کا۔ماہواری جلدی اور کھل کر آتی ہے۔یہ معمول کے بہاﺅ سے دو ہفتے قبل آتی ہے ۔ ماہواری سرخ چمکداراور کبھی کبھارگلابی مائل رنگ کی ہوتی ہے۔دوران ماہواری رحم بہت حساس ،رحم میں شوٹنگ پین اوربیضہ دانیوں میں برچھی لگنے والی دردیں ہوتی ہیں۔بائیں بیضہ میں تکلیف زیادہ ہوتی ہے ۔ دورانِ ماہواری پستانوں میں درد اور حساسیت ہوتی ہے۔اس کی تکالیف سورج ڈوبنے سے سورج نکلنے تک بڑھتی ہے۔دردیں بتدریج آتی ہیں اور بتدریج کم ہوتی ہیں۔ اور اس میں اضافہ اندھیرے میں اورصبح کے قریب ہوتا ہے۔مریضہ رات کو ہڈیوں اور ہڈیوں کی اوپر والی جھلی میں دردوں کی وجہ سے خوفزدہ رہتی تھی۔یادداشت کمزور (میڈورائینم ، نٹرم میور) تکلیف میں اضافہ صبح چار بجے (بیلاڈونا ، لائیکوپوڈیم ، کالی آئیوڈائیڈ) ۔ نیند کے بعد تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ورثہ میں ملی ہوئی یا اکتسابی سفلس۔گول یا بے قاعدہ شکل کے زخم جو ہرماہواری کے دنوں میں ہوں۔جس میں اضافہ رات کو ( نائٹرک ایسڈ،مرک سال)زخم جس کے ساتھ منہ میں رال ہو۔زخموں کے کنارے سور کی چربی کی طرح کے جس کے کنارے آگ کی طرح سرخ، زبان پردانتوں کے نشان ، ذائقہ بد بودار یا دھات کے ذائقہ والامنہ کے اورجگری خارش،الکحل کی طلب اور گوشت سے نفرت۔کمر میں شدید درد یا اعصابی دردیں جو چار بجے بعد از دوپہرسے شروع ہوں اور تمام رات کو جاری رہیں۔ماہواری کے ابتدا میں سوتی رہے۔رات کو تکالیف میں اضافہ،اکیلا رہنے سے خوفزدہ،دمہ یا کھانسی صرف موسم گرما میں ، پیڑو میں دردیں یااعضاءمیں خاص طور پرران کی بڑی ہڈی میں جس کو چھونے سے اضافہ ہو۔سفلیٹک خارش دورانِ ماہواری جاگ اُٹھتی ہے یا موسم گرما میں ہوتی ہے۔جس میں اضافہ رات کو،موسم کی تبدیلی سے،بستر کی گرمی سے۔تمام قسم کی دردیں اور امراض جن میں مبتلا ہوں اضافہ رات کو ہوتا ہے۔

ترتیب و تحقیق و پیشکش:
خالد محموداعوان
0332-2556942
0308-2486085

اپنا تبصرہ بھیجیں