نفسیاتی 0

خوف کا ہومیوپیتھک علاج

خوف کا ہومیوپیتھک علاج

٭-اگر مریض یہہ خوف محسوس کرے کہ وہ جلد مر جائے گا تو اس کو ہاف کپ نیم گرم پانی میں چھ گولیاں اکونائٹ 200ڈال کر سونے سے قبل استعمال کروائیں ۔
٭-ایسے لوگ جن کوکوئی بھی کام کرنے سے قبل خوف محسوس کریں جیسے انٹرویو،سفرپر جانے کا ،کھیل کا یا امتحان کا خوف ہو تو ان کو ارجنٹم نائٹریکم200 امتحان سے قبل صبح،شام تین دن تک استعمال کروائیں انشاءاللہ بہتر محسوس کریں گے۔
٭-اکیلے پن کا خوف ہو تو ایسی صورت میں چار گھنٹے قبلPhosphorus 200 کی ایک خوراک استعمال کروائیں۔
٭-اگر کسی میں فیصلہ کرنے کی کمی ہو اور خوف پایا جائے کہ وہ کامیاب نہیں ہوگاتو وہSILCEA 200کی ایک خوراک ہفتہ میں ایک بار چار ہفتہ تک دیں۔

ادویات کا آپس میں تضاد
خالد محمود اعوان
٭-جب ہم کسی مریض کا علاج کر رہے ہوتے ہیں اس وقت بعض اوقات مختلف ادویات استعما ل کرنی پڑتی ہیں۔بعض ادویات ایک دوسرے کی دشمن ہوتی ہیں۔ اُن کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔اس کی مکمل تفصیل توکتابوں میں موجود ہے۔لیکن چند ایک کا ذکر کر دیتا ہوں۔نائٹرک ایسڈ دشمن ہے لیکسس کی۔ایپس میلی فیکا دشمن ہے رسٹاکس کی۔ایسٹریاز روبنس دشمن ہے کافیا کروڈیا کی۔بیلاڈونا دشمن ہے ایسٹک ایسڈ کی۔کاربوویج دشمن ہے کریازوٹم کی۔کاکولس انڈیکا دشمن ہے کافیا کروڈا اور نکس وامیکاکی۔کالی بائیکرام دشمن ہے کلکیریا کارب کی ۔ لیکسس دشمن ہے نائٹرک ایسڈ اور ڈلکامارا کی۔لیڈم پلاسٹر دشمن ہے چائنا آفیشی نیلس کی۔ لائیکوپوڈیم دشمن ہے سلفر کی۔مرک سال دشمن ہے سلیشیا کی۔فاسفورس دشمن ہے کاسٹی کم کی۔اور سیپیا دشمن ہے برائی اونیااور لیکسس کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں